شاعرکی زندگی حقیقی زندگی ہوتی ہے،تنہائی میں کھو کر اس کا جنم ہوتا ہے:مہیش بھٹ

p-11bہندوستان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ مردہ پرستوں کا ملک ہے۔یہاں جیتے جی آپ کو عزت و شہرت نصیب نہیں ہوتی لیکن مرنے کے بعد آپ کے بت بنائے جاتے ہیں۔بڑے بڑے تعزیتی جلسے منعقد کئے جاتے ہیں اور مرنے والے کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں۔لیکن اردو ادب میں کچھ نام ایسے بھی ہیں جنہیں جیتے جی بے پناہ شہرت و عزت نصیب ہوئی ہے۔ان مٰں ایک نام راحت اندوری کابھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔راحت اندوری نے پوری دنیا میں اس وقت جو مقام حاصل کیا ہے ،وہ ان کا حق بھی ہے اور وہ اس کے لائق بھی ہیں۔ علمی ،ادبی و ثقافتی شہر پونے کی مشہور ادبی انجمن اے سی ایف سی ( اسلم چشتی فرینڈس سرکل،پونے)نے راحت اندوری کو وہ مقام دیا جس کے وہ حقدار ہیں اور ایک پوری شام ہی ان سے منسوب کردی اور اعظم کیمپس کے وسیع و عریض سجے سجائے ہال میں شاندار تقریب منعقد کی۔

اس مبارک موقع پر مہمان خصوصی بالی ووڈ کے مشہور و معروف فلمساز و ہدایت کار مہیش بھٹ کے علاوہ مہمانان ذی وقار مہاراشٹر اسٹیٹ اردو سائٹ اکادمی کے چیئرمین اے رﺅف خاں،ایڈووکیٹ شبینہ شیخ، ڈائریکٹرفلشا انٹرٹینمنٹ تھے۔ اجلاس اور مشاعرے کی صدارت منور پیر بھائی ’چیئرمین حاجی غلام محمدا عظم ’ ایجوکیشن ٹرسٹ پونے‘ نے کی۔پہلے اجلاس میں مہیش بھٹ ، ڈاکٹر راحت اندوری ،منور پیر بھائی، اے رﺅف خاں اور شبینہ شیخ کو اے سی ایف سی ایوارڈ سے نوازا گیا اور تمام مہمانان کی گل پوشی کی گئی ۔ڈاکٹر راحت اندوری کو شال ،پھول کے ساتھ ساتھ سپاس نامہ سے بھی نوازا گیا۔ سونیئر کی رسم اجرا مہیش بھٹ صاحب کے ہاتھوں عمل میں آئی، اس مبارک موقع پر فلم ساز و ہدایت کار مہیش بھٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاعر کی زندگی حقیقی زندگی ہوتی ہے۔ تنہائی میں کھوکر اس کا جنم ہوتا ہے، ان سے جو چاہو لکھوا لو ،لیکن شاعر تنہائی سے دامن نہیں چھڑا پاتا۔شاعر اپنے کلام کے ذریعہ حقیقی زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ نامور صحافی اور مشہور شاعرہ ڈاکٹر وسیم راشد نے مہیش بھٹ اور ڈاکٹر راحت اندوری کا تعارف بہت ہی خوش سلیقگی سے پیش کیا۔ مہیش بھٹ اور ڈاکٹر راحت اندوری ، منور پیر بھائی،اے رﺅف خاں ، ایڈوکیٹ شبینہ شیخ (ممبئی) نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شائقین کا دل جیت لیا۔ اس جشن کی خوبی یہ رہی کہ ہالمیں شہر کی معزز شخصیات اور شائقین کثیر تعداد میں آخر تک موجود رہے۔
مشاعرے کی شمع روشن کی روایت کے بعد مشاعرہ کا آغازراحت اندوری کے فرزند ستلج راحت نے اپنی خوشگوار شاعری کی ہلکی ہلکی پھوار سے کیا اور شاعر اسلم تنویر نے خوبصورت اشعار سنائے۔ مشہور شاعر رفیق جعفر نے سادہ سنجیدہ اسلوب میں اپنا کلام پیش کیا ۔”چوتھی دنیا“ کی ایڈیٹر ڈاکٹر وسیم راشد نے موجودہ دور میں مسلمانوں کو دھیان میں رکھ کر وا ویلا پھیلانے والوں کے تعلق کی شاعری سے ماحول کو دوبارہ گرمایا۔ شاعر راجیش ریڈی نے عمدہ شاعری کرکے شائقین سے دادو تحسین وصول کی ۔مشاعرے کی روح رواں اسلم چشتی نے گرمی کے احساس کو کم کرنے والی عاشقانہ شاعری کی۔اسی طرح مونیکا سنگھ کو بھی خوب سنا گیا ۔ڈاکٹر مہتاب عالم نے بھی خوبصورت کلام پیش کیا۔ مشہور شاعرہ ممتاز منور نے اپنے کلام کو ترنم میں پڑھ کر شائقین کو مسحور کردیا۔
شاعری کو زندگی بنانا اور زندگی کو شاعری بخشنے والے شاعر جوہر کانپوری نے اپنے کلام کے جوہر دکھاتے ہوئے شائقین کو لطف اندوز کردیا۔ لفظوں کی ادائیگی کا منفرد ،انداز شاعری میں باغی خیالات کے عمدہ اشعار پیش کرنے کے مخصوص انداز کے لئے مشہور ڈاکٹر راحت اندوری نے اشعار کی بارش شروع کی اور شائقین سے ہر ایک مصرعہ اور شعر پر بھرپور داد و تحسین حاصل کی۔ اس تاریخی مشاعرے کے ناطم ڈاکٹر کلیم قیصر نے اپنی سلیقہ مند نظامت سے دل کو چھولینے والی شاعری سے اہلیان پونے کا دل جیت لیا۔مشاعرہ رات کے آخری پہر میں اختتام کو پہنچا۔رفیق جعفر نے شکریہ کی رسم ادا کی۔
اس موقع پر پیش کئے گئے کچھ منتخب اشعار:
ہمارے سر کی پھٹی ٹوپیوں پہ طنز نہ کر
ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھتے ہیں
(راحت اندوری)
پھر زندگی کی فلم ادھوری ہی رہ گئی
وہ سین کٹ گئے جو کہانی کی جان تھی
(رفیق جعفر)
لہجے کی خوشبو سے گھایل ہوسکتا ہے
تم سے مل کر کوئی بھی پاگل ہوسکتا ہے
(اسلم چشتی)
یہ لوگ ہم کو گھول کے پی جائیں گے وسیم
لہجے میں احتجاج جو شامل نہیں مرا
(ڈاکٹر وسیم راشد)
دل بھی توڑا تو سلیقے سے نہ توڑا تم نے
بے وفائی کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
(ڈاکٹر مہتاب عالم )
وہ سوچتا تھا مل گئی منزل مگر یہ سچ نہیں
شرطیں رکھیں منزلوں نے،سن کے گھبراتا رہا
(مونیکا سنگھ)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *