اترپردیش کا توانائی محکمہ بدعنوانی کا مرکزسرکار کی کھلی چھوٹ

پربھات رنجن دین
p-4اتر پردیش سرکار میں بہت افراتفری ہے۔کوئی کسی کی نہیں سنتا۔محکمے کا سینئر آفیسر کچھ حکم دیتا ہے تو اس کے ہی ماتحت آفیسر کچھ اور تانا بانا بن دیتے ہیں۔ کروڑوں کی بد عنوانی کے معاملوں کی جانچ ٹھنڈے بستے میں اس لئے چلی جاتی ہے کیونکہ بد عنوانی کا ملزم جانچ کرنے والے آفیسر کو کھلے عام دھمکی دیتا ہے اور جانچ آفیسر ڈر کے مارے بغیر جانچ کئے ہی کلین چٹ جاری کر دیتا ہے۔ ایسی افراتفری کے کچھ نمونے دیکھئے:
سنجے اگروال محکمہ ¿ توانائی کے چیف سکریٹری ہیں۔ سنجے اگروال اس محکمہ کے چیف ہیں جس کے وزیر خود وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو ہیں۔ توانائی محکمہ کے چیف سکریٹری ہونے کے ناطے سنجے اگروال بجلی محکمے کے آٹھوں کارپوریشنوں کے چیئر میں بھی ہیں۔ اب سماج وادی پارٹی کی سرکار میں انتظامی بد نظمی کے درمیان سنجے اگروال جیسے سینئر آفیسروں کی سنتا کون ہے۔ چیف سکریٹری نے بدعنوانی کے دو سنگین معاملوں میں اعلیٰ سطحی جانچ کا حکم دیا۔ یو پی پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن لمیٹیڈ کے ڈائریکٹر پرمود گوپال راﺅ کھنڈالکر کو اس معاملے کی جانچ کرنے کو کہا گیا۔ اس میں ایک معاملہ جالون ضلع کے کالپی اور کونچ میں 139 کلو میٹر کے دو الکٹرک سب اسٹیشنوں اور جھانسی کے دونارا میں 220 کلو میٹر کے ایک الکٹرک سب اسٹیشن کے قیام میں کروڑوں کی بد عنوانی سے متعلق تھا۔ اس میں یو پی پاورٹترانسمیشن کارپوریشن لمیٹیڈ میں جھانسی اور آگرہ میں تعینات اس وقت کے ایگزیکٹیو انجینئر آر کے سنگھ اہم ملزم ہیں۔ بد عنوانی کے ملزم آر کے سنگھ اتر پردیش اسٹیٹ الکٹرک کونسل انجینئر یونین کے صدر بھی ہیں،اس ناطے سنگھ کے محکمے میں خوب چلتی ہے۔ دوسری مثال یوپی ہائیڈروپاور کارپوریشن لمیٹیڈ کے ایگزیکٹیو انجینئر سریش چندر بُنکر کی بدعنوانی کے تین درجن معاملوں کی جانچ سے متعلق ہے۔
کالپی، کونچ اور دونارا میں الکٹرک سب اسٹیشن کی تعمیر کے کام میں بڑی بد عنوانی کئے جانے کی انتظامیہ کو شکایت ملی تھی۔ محکمہ جاتی بد نظمی کا حال یہ تھا کہ ایگزیکٹیو انجینئر آر کے سنگھ نے الکٹرک سب اسٹیشنوں کی تعمیر کی ڈیزائن خود ہی تیار کر لی اور اسے سینئر آفیسروں سے پاس کرائے بغیر لاگو بھی کر دیا۔ جبکہ بعد میں اس ڈیزائن میں بڑی تکنیکی خامیاں پائی گئیں۔ اس کی ایک مثال سے آپ کو خوفناک صورت حال کا اندازہ مل جائے گا۔ آر کے سنگھ کے ذریعہ بنائی گئی ڈیزائن پر کالپی الکٹرک سب اسٹیشن کی تعمیر کے لئے بنے پائپ فاﺅنڈیشن (بنیاد کی تعمیر)کی گہرائی سات میٹر پائی گئی۔جبکہ کونچ کے الکٹرک سب اسٹیشن کی تعمیر کے لئے پائپ فاﺅنڈیشن کی گہرائی محض ساڑھے تین میٹر پائی گئی۔ ایسی بد نظمی کی انجینئروں کی کئی مثالیں سامنے آئیں اور ایسے اناپ شناپ فیصلوں پر ادائیگی بھی کی جاتی رہی۔محکمہ توانائی کے چیف سکریٹری سنجے اگروال کے حکم پر 18نومبر 2014 کو جانچ شروع ہوئی۔ یو پی پاورٹترانسمشین کارپوریشن لمیٹیڈ کے ڈائریکٹر پرمود گوپال راﺅ کھنڈالکر نے جانچ کے کام میں پائپ فاﺅنڈیشن کی گہرائی کی اسٹک تکنیک جانچ کے لئے دلی کے ماہر منوج برمن کو2 اپریل 2016 کو بک بھی کرلیا۔ لیکن بنیاد کی تعمیر کی گہرائی کی جانچ آخر کار نہیں ہو پائی۔ اس بیچ ایسا کچھ ہو گیا کہ 12اپریل 2016 کو ملزم آر کے سنگھ کا سائڈ لے کر بغیر جانچ کئے ہی انہیں کلین چٹ دے دی گئی۔ محکمہ توانائی کے آفیسر عہدیدار کہتے ملیں گے کہ جانچ آفیسر کھنڈالکر کو کھلے عام دھمکیاں دی گئیں جس سے جانچ رک گئی اور جبراً کلین چٹ دینی پڑی۔ اب انہی کو توانائی محکمے کے کسی برانچ میں ڈائریکٹر بنانے کی بھی تیاری چل رہی ہے۔
ایسا ہی حشر ایگزیکٹیو انجیئنرسریش چندر بُنکر کی بد عنوانی کے 36معاملوں کی جانچ کا بھی ہوا۔ ہائیڈروپاور کارپوریشن اور الکٹرک پروڈکٹ کارپوریشن کے مشترکہ چیف انجینئر ایس کے گوئل کو بُنکر کی بد عنوانی کا فیکٹر اسٹیٹ منٹ پیش کرنا تھا،لیکن انہوں نے اس حکم کو انجام نہیں دیا۔ گوئل سے اس بارے میں کوئی پوچھ تاچھ بھی نہیں کی گئی اور کھنڈالکر نے بُنکر کی بد عنوانی کی جانچ کو بھی پس پشت ڈال دیا۔ بنکر وہی ہیں جو الکٹرک پروڈکٹ سینٹر ماتاٹیلا (للت پور) میں آٹھ لاکھ 40ہزار پیڑ لگانے کی بد عنوانی میں مشہور ہو چکے ہیں۔ لاکھوں پیڑ کاغذ پر ہی لگا دیئے گئے اور سارے پیڑ کاغذ پر ہی خشک بھی ہو گئے۔ گھوٹالے کی جانچ بھی خشک ہوگئی۔
لب لبا ب یہ ہے کہ اتر پردیش کا توانائی محکمہ بد عنوانی کا مرکز ہے۔ توانائی محکمہ کے وہیسل بلور نندلال جائسوال کہتے ہیں کہ اربوں روپے کے گھوٹالوں کی جانچ کی جب ایسی تیسی کر دی جاتی ہے تو کروڑوں روپے کے گھوٹالوں کی اوقات ہی کیا ہے۔ انپرا،اُنّاﺅ الکٹرک ٹرانسمیشن لائن کے الکٹرک ٹاوروں کی پینٹنگ میں ہوئے 50ارب روپے کے گھوٹالے کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کی سفارش کے باوجود اس پر گہن لگا دیا گیا۔ انپرا بجلی گھر سے پروڈکٹ ہونے والی بجلی کو اناﺅ ٹرانسمیشن سب اسٹیشن تک پہنچانے کے لئے بنائے گئے ٹاوروں کی پائلنگ اور پینٹنگ میں اربوں کا گھوٹالہ کیا گیا تھا۔ جائسوال کہتے ہیں کہ توانائی کے سیکٹر میں گھوٹالے انتہا پر ہیں اور بجلی کی چوری بھی بے پناہ ہو رہی ہے، لیکن ریاستی سرکار اسے روکنے میں ناکام ثابت ہورہی ہے۔، کیونکہ سرکار سے جڑے لیڈر اور نوکر شاہ گھوٹالوں میں شامل ہیں۔ گھولوں کی وجہ سے ہی صوبہ کی بجلی کا نظم و نسق ٹھیک نہیں ہو پا رہا ہے۔ یو پی پاور کارپوریشن اور اس سے جڑے دوسرے کارپوریشنوں میں گزشتہ برسوں میں کھربوں روپے کے بڑے بڑے گھوٹالے ہوئے۔ گھوٹالوں کی جانچ کے لئے اتر پردیش سرکار ، مرکزی سرکار اور سی بی آئی سے جانچ کرانے کی مانگ ہوئی ،لیکن کچھ نہیں ہوا۔ اکھلیش سرکار کے آنے کے پہلے مایا وتی کے دور اقتدار میں اتر پردیش پاور کارپوریشن میں پانچ ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا تھا۔ اس کے پہلے ملائم سنگھ سرکار کے دور میںراجیو گاندھی گرامن الکٹری فیکیشن اسکیم میں 1,600کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا تھا۔ الکٹری سٹی ریگولیٹری کمیشن کی شہہ پر جے پی گروپ سمیت پرائیویٹ الکٹرک گھرانوں کو فائدہ پہنچانے میں 30ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا گیا۔ اسی طرح اسٹیٹ ہائیڈرو الکٹرک پاور کارپوریشن میں 750کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا گیا۔ اتر پردیش پاور کارپوریشن کے مدھیانچل الکٹری سٹی ڈسٹریبیوشن کارپوریشن کے ذریعہ تلنگانہ کی ویری گیٹ پروجیکٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ نام کی فرضی کمپنی کو ٹھیکہ دے کر ہزاروں کروڑ کا گھوٹالہ کیا گیا۔ اتر پردیش سرکا ر کے ذریعہ ہماچل پردیش کے کھودی میں ہائیڈرو الکٹرک ہاﺅس بنوانے اور اس کا مالکانہ حق چھوڑنے میں کم سے کم چھ ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا۔ لیکن ان میں سے کسی بھی معاملے میں سرکار نے کوئی کارروائی نہیں کی۔اگر غیر جانبدار جانچ ہوئی ہوتی تو اتر پردیش کے توانائی سیکٹر کا گھوٹالہ ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ ثابت ہوا ہوتا۔ جس میں لیڈر، نوکر شاہ، انجینئر، جج، سرکاری وکیل اور سی بی آئی کے عہدیدار سب ملوث پائے جاتے۔ گھوٹالے کی جانچ کرانے کے بجائے عدالت گھوٹالہ اجاگر کرنے والے وہسیل بلور نند لال جائسوال کے خلاف ہی عدالت کی توہین کا معاملہ چلا رہی ہے۔ جبکہ الٰہ آباد ہائی کوٹ کی ڈبل بینچ نے یہ فیصلہ دے رکھا ہے کہ پانچ ہزار کروڑ کے گھوٹالے کی جانچ کے بعد ہی توہین کے معاملے پر سنوائی کی جائے گی۔ لیکن اس حکم کو طاق پر رکھ کر کارروائی چلائی جا رہی ہے۔گھوٹالہ اور اس کی لیپا پوتی کرنے میں وہ تمام سیاسی پارٹیاں شامل ہیں جو صوبہ کے اقتدار میں رہی ہیں۔ اس میں بہو جن سماج پارٹی سرکار اور سماجوادی پارٹی سرکار کی برابر کی ملی بھگت ہے۔ بہو جن سماج پارٹی اور سماج وادی پارٹی ،دونوں ہی جب جب اقتدار میں آتی ہیں ،ایک دوسرے کے گھوٹالے دبانے کا کام کرتی ہیں، مخالفت اور مزاحمت سب دکھاوا ہے۔ بہو جن سماج پارٹی سرکار کے وقت 30ہزار کروڑ روپے کا بجلی گھوٹالہ ہوا تھا۔ مذکورہ گھوٹالے کے دستاویزی ثبوت لوک آیوکت این کے مہروترا کو دیئے گئے تھے،لوک آیوکت نے سے نوٹس میں بھی لیا، لیکن اقتدار کے زیر اثر کارروائی آگے نہیں بڑھ پائی۔ اتر پردیش پاور کارپوریشن نے پانچ پرائیویٹ پاور ٹریڈنگ کمپنیوں کے ساتھ سمجھوتہ کیا تھا۔ پاور کارپوریشن نے مذکورہ کمپنیوں سے مہنگے ریٹ پر پانچ ہزار کروڑ یونٹ بجلی خریدنے کا سمجھوتہ کیا تھا۔ اس معاہدے کی شرط تھی کہ سستی بجلی ملنے پر بھی پاور کارپوریشن کہیں اور سے بجلی نہیں خریدے گی۔ اس خرید سے اتر پردیش کو زبردست نقصان ہوا۔اس طرح کی عجیب و غریب خرید سماج وادی پارٹی کی سرکار میں بھی جاری ہے۔ بہو جن سماج پارٹی سرکار سے پہلے سماج وادی پارٹی کے دور اقتدار میں اجیو گاندھی گرامن الکٹری فیکیشن اسکیم میں 1,600 کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا تھا۔ اس وقت بھی صرف جانچ ہی چلی ،نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔اقتدار پر قابض ہونے کے بعد سماج وادی پارٹی سرکار کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا تھا کہ مایا وتی سرکار 25 ہزر کروڑ روپے کا نقصان چھوڑ کر گئی ہے۔ لیکن انہوں نے اس نقصان کی وجہ جاننے یا اس کی سرکاری جانچ کرانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ یہاں تک کہ اسٹیٹ الکٹری ریگولیٹری کمیشن کے صدر راجیش اوستھی کو ہائی کورٹ کے حکم سے برخاست ہونا پڑا، پھر بھی سرکار نے گھوٹالے کو لے کر کوئی قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھائی۔اسی طرح اتر پردیش ہائیڈرو الکٹرک کارپوریشن میں بھی 750 کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا،لیکن اس میں ملوث اس وقت سی ایم ڈی، آئی اے ایس آلوک ٹنڈن سمیت دیگر افسروں اور انجینئروں کا کچھ نہیں بگڑا ۔ سماج وادی پارٹی کے حالیہ دور اقتدار میں بجلی کے بلوں میں فرضی واڑہ کرکے ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ کئے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ گھوٹالے در گھوٹالے جاری ہیں۔ لیڈر پارٹی کی حدیں چھلانگ کر کما رہے ہیں اور کموا رہے ہیں۔

گھوٹالوں میں جب سرکار ہی شامل ہو
گھوٹالوں میں جب سرکار ہی شامل ہو تو کوئی کیا کر لے گا؟سرکار چاہے مایاوتی کی رہی ہو یا اس کے بعد اکھلیش یادو کی، کسی کو گھوٹالہ روکنے کی نہیں بلکہ گھوٹالے بازوں کو فائدہ پہنچا کر اپنا فائدہ حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی رہی ہے۔تبھی تو اکھلیش سرکار نے ایسی کمپنی کو اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا ٹھیکہ دے دیا جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ ”چوتھی دنیا“ نے گزشتہ دنوں یہ خلاصہ کیا تھاکہ اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا ٹھیکہ لینے والی کمپنی اومنس انفرا پاور لمیٹیڈ کے 2 ڈائریکٹر اترپردیش میں کان کنی کے گورکھ دھندے سے جڑے ہیں۔ کمپنی کے 2 ڈائریکٹروں میں سے ایک بندیل کھنڈ میں کان کنی مافیا چلانے والے بابو سنگھ کشواہا سے جڑا ہے،تو دوسرا سماج وادی پارٹی کا لیڈر ہے اور سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب بھی لڑ چکا ہے۔ ان طاقتور لوگوں کی کمپنی کو ٹھیکہ پہلے دے دیا گیا، کمپنیءبعد میں وجود میں آئی، اومنس انفرا پاور لمیٹید کے ڈائریکٹر دلیپ کمار سنگھ اور سیرج دھوج سنگھ باندا ،بندیل کھنڈ کے کان کنی مافیا ہیں۔ بابو سنگھ کشواہا کی کان کنی کی سلطنت یہی لوگ چلاتے ہیں۔ اقتدار چاہے بہو جن سماج پارٹی کا ہو یا سماج وادی پارٹی کا۔ چلتی انہی لوگوں کی ہے۔ بابو سنگھ کشواہا کے خاص آدمی سریج دھوج سنگھ سماجوادی پارٹی کے لیڈر ہیں اور سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر وہ باندہ سے 2007 کا اسمبلی انتخاب بھی لڑ چکے ہیں۔ اس خبر کا خلاصہ ہونے کے باوجود سماج وادی پارٹی سرکار میں کوئی احساس نہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *