تین طلاق کے مسئلے پر سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے

فرحت رضوی
p-11لوگ شاہ بانو کو بھولے نہیں ہیں۔انہیں یاد ہوگا کہ آج سے 31سال پہلے تین طلاق کی ذلت جھیل رہی اندور کی ایک ضعیفہ نے ملک کی عدالت عظمیٰ سے انصاف مانگا تھا۔ مطالبہ محض چند سو روپے کا تھا، متاثرہ خاتون کی عمر کا لحاظ رکھتے ہوئے جہاں نکاح ثانی کی گنجائش نہیں تھی، منصفوں کو اس پر رحم آگیا اور شاہ بانو کی عرضداشت سن لی گئی۔ لیکن مذہب اور شریعت کی حفاظت کا دم بھرنے والوں کو یہ گوارہ نہیں ہوا۔ کیونکہ طلاق شدہ عورت عدت کے دوران ہی شوہر سے نان و نفقہ پانے کی شرعی حقدار ہوتی ہے ،عدت کے بعد نہیں۔ان کے نزدیک یہ واضح طور پر اسلامی قانون میں مداخلت تھی، بھلے ہی ایک کمزور عورت کے لئے کچھ راحت کی بات رہی ہو۔ بہر حال ووٹ بینک خطرے میں تھا اس لئے حکومت کا نظریہ بدل گیا، تو عدالت کافیصلہ بھی بدل گیا اور بے گھر و بے در عورت کی آواز نقار خانے میں گم ہو کر رہ گئی۔ اس طرح شاہ بانو تو سیاست اور مذہب کی بھینٹ چڑھ گئی۔
تین دہائی کے بعد آج پھر وہی منظر نامہ ہے۔ اب شاہ بانو کی جگہ تین طلاق کی مار جھیل رہی سائرہ بانو ہے، جس نے سپریم کورٹ کے ذریعہ ملک میں نافذ شرعی ایکٹ کو چیلنج کرتے ہوئے ان طاقتوں کو بھی للکارا ہے جو لمبے عرصے سے تین طلاق پر پابندی کے مطالبے کو نظر انداز کرتی رہی ہیں۔ وہ چاہے ان کے غیر ذمہ دار شوہر ہوں، آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ (AMPLB) یا علماءکی جماعت ۔ ان حلقوں میں کھلبلی مچنا غیر متوقع نہیں ہے۔ سائرہ بانو کی عرضی پر سپریم کورٹ کا رخ دیکھتے ہوئے گزشتہ دنوں لکھنو میں منعقد آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کی میٹنگ ہوئی، جس کے بعد ملت کے رہنماﺅں کا رخ بھی صاف ہو گیا ہے۔ بورڈ نے واضح کر دیا ہے کہ شریعت میں کسی طرح کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی یعنی بورڈ اپنے 30سال پرانے موقف پر آج بھی قائم ہے اور وہ ایک میٹنگ میں طلاق (طلاق بدعت) پر پابندی کی مخالفت کرے گا۔ جبکہ عرضی پر سماعت کے لئے منظوری دیتے ہوئے دو ججوں کی بینچ نے اشارہ دے دیا ہے کہ تین طلاق پر پابندی لگانے کا وقت آ گیا ہے۔
عدالت اور موجودہ حکومت کا موڈ، سماجی تنظیمیں اور خود مسلمان خواتین کیا چاہتی ہیں اور تین طلاق پر پابندی اور قانون میں تبدیلی کے حامیوں کی کیا تیاری ہے۔ ان دو خیموں کی رسہ کشی اور تیاری پر بات کرنے سے قبل دو پہلو بہت اہم ہیں کہ طلاق کے متعلق قرآن کیا کہتا ہے اور نکاح و طلاق جیسے سنجیدہ اور حساس معاملے میں دوسرے اسلامی ممالک میں کون سا طریقہ کار رائج ہے۔
پہلی بات ، اسلام میں اندرونی کنبہ اور اندرون معاشرہ دونوں جگہ عورت کے حقوق، اقتصادی تحفظ اور عزت کا خاص دھیان رکھا گیا ہے۔ طلاق کے متعلق قرآن میں خدا کا حکم بہت واضح ہے۔ خدا کے رسول کی حدیث ہے کہ حلال چیزوں میں اللہ نے طلاق کو سب سے ناپسندیدہ چیز قرار دیا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ اگر طلاق کی نوبت آجائے تو مخصوص حالات میں مذہب طلاق کی اجازت کچھ شرطوں کے ساتھ دیتا ہے۔ بیوی بانجھ ہے، اپاہیج ہے، نابینا ہے یا مختلف مزاجوں کے سبب دونوں کا ساتھ رہنا ناممکن ہو گیا ہے تو طلاق کے ذریعہ فریقین الگ ہو سکتے ہیں۔
اسلامی دنیا میں طلاق کے دو طریقے رائج ہیں ۔ایک طلاق احسن اور دوسرا طلاق بدعت۔ طلاق احسن میں جس طرح گواہوں کی موجودگی میں نکاح منعقد ہوتا ہے، اسی طرح دونوں طرف کی باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں تین طلاق کا عمل تین حیض کی مدت (تقریبا تین ماہ ) کے دوران پورا ہوتا ہے۔ گواہوں کے سامنے طلاق دینے کی وجوہ بھی واضح ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ کے زمانے میں جب ایک ایسا معاملہ آیا تو انہوں نے بھی اسی طریقے سے طلاق دینے کی صلاح دی۔ کیونکہ اس میں اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ عمل پر دوبارہ غور و فکر کرنے اور میاں و بیوی کے مابین صلح کرانے کی پوری پوری گنجائش رہتی ہے۔ قرآن کریم میں طلاق احسن پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اسی لئے اس طریقہ کار پر سبھی مسلکوں میں اتفاق رائے ہے۔ قومی خواتین کمیشن کے تحت مسلمان عورتوں سے متعلق طلاق کے جو معاملے آتے ہیں ان میں بھی اسی پر عمل کیا جاتاہے۔
دوسرا طریقہ طلاق بدعت یعنی ایک میٹنگ میں تین طلاق ہے۔ گواہوں کی عدم موجودگی میں، رشتہ ازدواج ختم کرنے کی وجہ بتائے بغیر، کسی وقت کسی جگہ مرد اپنی مرضی سے جب چاہے بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ زبانی اور یکطرفہ طلاق بدعت میں عورت اور بچوں کے مستقبل کی بہتری کے لئے سوچنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ شادی جیسے مقدس رشتے کو ختم کرنے کے لئے بد قسمتی سے ہمارے ملک میں یہی طریقہ سب سے زیادہ عمل میں آرہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک میٹنگ میں تین طلاقوں کا ذکر قرآن مجید میں کہیں نہیں ہے نہ ہی اللہ کے رسول نے اس طریقے پر عمل کرنے کی مسلمانوں کو صلاح دی۔ جبکہ مسلمان عورتیں طلاق بدعت کی وجہ سے سب سے زیادہ نا انصافی اور استحصال کا شکار ہو رہی ہیں۔ زیادہ تر مرد غصے ، طیش اور کبھی کبھی نشے کی حالت میں عورت کو زبانی تین طلاق دے کر بے سہارا چھوڑ دیتے ہیںیا پھر دوسری شادی کرنے کے لئے خواہش مند مرد اس یکطرفہ طلاق کا فائدہ اٹھا کر یک لخت پہلی بیوی سے پلہ جھاڑ لیتے ہیں۔ طلاق بدعت میں مرد کے لئے پوری سہولت ہے۔ شاید اسی لئے مسلمان مردوں کی جانب سے طلاق بدعت کو قائم رکھنے کی ہر ممکن کوششیں ہورہی ہیں۔ اس وقت سارا تنازع طلاق بدعت اور اس سے پیدا دوسرے مسائل جیسے دوسری شادی یا حلالہ نکاح کو لے کر ہے۔ اس پر قانونی پابندی لگانے کے مطالبے کو لے کر حکومت عدالت ، مسلم ویمن پرسنل لا بورڈ سمیت خواتین کی دیگر سماجی تنظیموں اور خود مسلمان خواتین ایک طرف ہیں، تو رسہ کشی کے اس کھیل میں دوسری جانب ہیں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، علماءدین اور دیگر مذہبی ادارے۔ لہٰذا اس پاسداری کے لئے حمایت کرنے والوں کی طرف سے مدلل جوابدہی تو واجب ہے۔
واضح ہو کہ مسلمانوں میں شیعہ اور اہل حدیث مسلک میں طلاق بدعت رائج نہیں ہے۔ اس لئے یہ ان کا مسئلہ نہیں ہے۔ ملک میں حنفی فرقے کے ماننے والوں (یہ تعداد میں سب سے زیادہ ہیں) میں تین طلاق مروج ہے اور غیر قرآنی ہونے کے باوجود اس کا استعمال وہ اپنی سہولت کے لئے دھڑلے سے کرتے ہیں۔
جہاں تک دوسرے اسلامی ملکوں میں رائج طلاق کے طریقے کا سوال ہے، اس کے جواب میں تین طلاق پر پابندی کا مطالبہ کرنے والوں کے لئے راحت کی بات یہ ہے کہ تقریبا 22 ممالک ایسے ہیں جہاں رشتہ ازدواج کا احترام اور بچوں کے مستقبل کے مد نظر اسلامی فیملی لاء میں تبدیلی کرکے تین طلاق پر مکمل یا عمومی پابندی عائد ہے، اس فہرست میں پاکستان ، بنگلہ دیش، ایران، ترکی، ملیشیا، تیونس، الجیریا شامل ہیں۔
ہمارے پڑوسی اسلامی ممالک پاکستان اور بنگلہ دیش تک میں طلاق بدعت پر پابندی ہے۔ پاکستان میں 1955-56 میں ہی مسلم فیملی لا آرڈیننس کے تحت تین طلاق کو اس لئے ختم کیا گیا ،کیونکہ اس میں صلح کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ 1971 میں جب بنگلہ دیش وجود میں آیا تو اس نئے اسلامی ملک نے بھی پاکستان کے فیملی لا ءکو اپنایا ۔ترکی کے سابق حکمراں کمال مصطفیٰ اتاترک نے 1926 میں سویج سول کوڈ کو نافذ کیا۔ ترکی میں رائج سول کوڈ میں 1980 میں مجید ترمیم کی گئی۔ سری لنکا غیر اسلامی ملک ہے جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ سری لنکا میں مسلمانوں کی شادی و طلاق سے متعلق ایکٹ (1951) بھی ترمیم شدہ ہے۔ سری لنکا میں طلاق سے ایک ماہ قبل قاضی کو نوٹس دینا لازمی ہے۔ اس دوران قاضی فریقین میں صلح کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ صلح ممکن نہ ہو تو قاضی اور دو گواہوں کی موجودگی میں طلاق منعقد ہوتی ہے۔ پاکستان کی شرعی اکادمی، انٹرنیشنل یونیورسٹی ، اسلام آباد کے ڈائریکٹر اور قانون کے پروفیسر ڈاکٹر محمد متین نے ’تین طلاق اور اصلاح پاکستانی قانونی نظام‘ اپنی تحریر میں سری لنکا میں رائج قانون کو سب سے بہتر قرار دیا ہے۔ اسلامی ملک تیونس میں بھی سری لنکا کی طرح عدالت سے باہر یکطرفہ طلاق کو درست نہیں مانا گیا(Code of personal status )بلکہ صلح کرنے کی سعی اور ان وجوہات کو جاننے کی کوشش بھی طلاق کی کارروائی میں شامل ہے جس کے سبب نکاح ختم کیا جائے۔ الجزیرہ میں بھی یہی طریقہ کار مستعمل ہے۔
اگر ان ملکوں کے حوالے سے اسلامی فیملی لا ءکا جائزہ ایمانداری سے لے کر ترمیم کی جائے تو اپنے یہاں بہت بڑا تنازع ختم ہو سکتا ہے۔ بشرطیکہ پوری خلوص نیت کے ساتھ سیاسی چالوں سے بچتے ہوئے مسلم معاشرے کی اس خامی میں اصلاح ممکن ہے۔ جس ملک میں افطار پارٹیوں سے لے کر،سعودی عرب میں بھارت ماتا کی جے ،گیتا اور گائتری منتر کے ترجموں تک ہر جگہ سیاست حاوی ہے، وہاں اس معاملے میں بھی سیاست ہوتی رہی ہے اور ہو رہی ہے۔ ہمارا مقصد صرف اور صرف ازدواجی زندگی کے تقدس کو برقرار رکھنا ہونا چاہئے۔
ایسانہیں ہے کہ اس سلسلے میں غور و فکر نہیں ہوا۔ دلی سے لے کر اڑیسہ ، ممبئی، گوہاٹی تک ملک کی مختلف عدالتوں میں تین طلاق سے متعلق معاملوں کی بہت سی مثالیں ہیں جو میڈیا اور معاشرے میں موضوع بحث بنے۔ بورڈ کے سالانہ جلسوں میں بھی سب سے زیادہ یہی موضوع حاوی رہا۔ پرسنل لا بورڈ نے بھی تین طلاق پر پوری طرح پابندی لگانے کا حوصلہ تو نہیں دکھایا لیکن درمیانی راستے سے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش ضرور کی۔ کافی مشقت کے بعد 2008 میں مختلف اسلامی مسلک کے تقریبا 300 علماءکی رائے لینے کے بعد ایک ماڈل نکاح نامہ بورڈ نے پیش کیا تھا۔ اس وقت ماڈل نکاح نامہ کے ذریعہ تین طلاق پر کافی حد تک لگام لگانے، ملک گیر سطح پر مسلمانوں میں بیداری لانے اور اسے نافذ کرانے کا دعویٰ بورڈ نے ضرور کیا تھا،لیکن عملی طور پر نہ تو ماڈل نکاح نامہ مقبول ہوا اور نہ نافع ہو سکا اور نہ ہی کوئی مہم نظر آئی۔ پتہ نہیں کس مجبوری کے سبب طلاق بدعت کو پوری طرح ختم کرنے میں کیا قباحت تھی یا علماءیونیفارم سول کوڈ کے خوف سے آج تک ہمت نہیں کر پارہے ہیں۔ اس محنت پر پانی اس وقت پھر گیا جب کافی عرصہ پہلے AMPLB کی ویب سائٹ سے ماڈل نکاح نامہ غائب ہو گیا۔ بورڈ کے ترجمان ظفر یاب جیلانی نے اس پر میڈیا کوصفائی دی تھی کہ ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا گیا بلکہ ویب سائٹ اپ ڈیٹ کرتے وقت تکنیکی وجوہات سے نکاح نامہ ڈیلٹ ہو گیا۔ جبکہ ذرائع بتاتے ہیں کہ بریلی مسلک کے علما جو تین طلاق کے زبردست حامی ہیں، ان کے دباﺅ میں نکاح نامہ ویب سائٹ سے ہٹایا گیا تھا۔ بہر حال وجہ کچھ بھی رہی ہو آج ملک میں من مانی شرطوں کے ساتھ مختلف اداروں کے نکاح نامے استعمال ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے رہنماﺅں کے لئے لمحہ فکر یہ ہے ۔گزشتہ تین دہائی میں حالات بہت بدل چکے ہیں۔ علماءدین کے لئے بھی خواب غفلت سے بیدار ہونے کا وقت آگیا ہے۔ جہاں عدالت اس حساس موضوع پر سنجیدہ ہے، وہیں مسلمان خواتین آج شاہ بانو کے وقت کو بہت پیچھے چھوڑ آئی ہیں، با حجاب عورتیں اب انصاف کے لئے سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ مسلم ویمن پرسنل لا بورڈ سمیت، بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن،مسلم ویمن فورم، انہدو علاقائی سطح پر بہت سی تنظیموں اور سماجی کارکن اس نہج پر کام کر رہے ہیں، سروے ہو رہے ہیں، رپورٹیں شائع ہو رہی ہیں۔ بھارتیہ مہیلا آندولن نے راجستھان ، مہاراشٹر، تمل ناڈو، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال اور اڑیسہ کی حالت زار پر سروے کرایا ۔ اس کی رپورٹیں سامنے آچکی ہیں۔ مسلم فیملی لا پر بورڈ کی سست رفتار کارروائی اور نظریہ بھی مسلسل انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانس لیگ اسٹڈیز ، امیٹی یونیورسٹی دلی کے سربراہ ڈاکٹر طاہر محمود، سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو، ملی گزٹ کے ایڈیٹر ڈاکٹر ظفر الاسلام ، مسلم پالٹیکل کونسل آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر تسلیم رحمانی وغیرہ کے نشانے پر رہا ہے۔ 1985 میں شاہ بانو کیس سے لے کر میرٹھ کے منڈالی گاﺅں کی گڑیا کا حساس معاملہ ہو یا مظفر نگر کی عمرانہ کیس میں شرعی پیچیدگی ، جس پر مسجد کے اماموں کے فرمان اور دارالعلوم کے مفتیوں کے فتوﺅں نے ہمیں شرمسار کرایا ہے۔ قابل غور ہے کہ عدالت کے جن فیصلوں پر مسلم اداروں اور علماءنے اعتراض کیا،وہ سبھی خواتین کے حق میں دیئے گئے تھے۔
اس مرتبہ حکومت بھی پورے ہوم ورک کے ساتھ تیاری میں ہے۔ یو پی اے کے دور میں پنجاب یونیورسٹی کی پروفیسر رام راجپوت کی قیادت میں تشکیل 14رکنی کمیٹی کی رپورٹ بھی تین طلاق اور ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کے حق میں نہیں ہے اور اسی رپورٹ پر عدالت نے سرکار سے جواب مانگا ہے ۔ساتھ ہی اٹارنی جنرل کی بھی رائے مانگی ہے ۔لہٰذا اس بار مسلم پرسنل لاءبورڈ کا راستہ آسان نہیں ہوگا۔کیونکہ اب حکومت ،عدالت اور خود مسلمان عورتیں جواب طلب کرر ہی ہیں۔ میں اپنی بات اردو کی معروف شاعرہ عذرا پروین کے اس شعر پر ختم کرتی ہوں کہ
وہ میرے رستے میں آگ رکھ کے مجھے سفر سے ڈرا رہا ہے
میں آگ پہ ننگے پاﺅں چل کے اسے ڈرانا سکھا رہی ہوں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *