طلاق حضورؐ کے نزدیک سب سے قابل نفرت عمل

رضوان عابد قریشی

p-11اللہ تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ سورہ النساءکی آیت نمبر35 میں بتایا ہے کہ اگر نوبت علیحدگی کی آگئی ہے تو خاندان کے بڑوں کو بلایا جائے۔ ایک حَکم لڑکی والوں کی طرف سے اور ایک لڑکے والوں کی طرف سے ہوا اور کوشش کی جائے کہ طلاق کی نوبت نہ آئے۔اللہ کی مرضی ہی ہے کہ ایک رشتہ بنا ہے تو وہ قائم رہے اور اگر سچے دل سے کوشش کی جائے گی تو اللہ کی تائید بھی اس میں شامل ہو جائے گی اور اس کا امکان ہے کہ وہ دونوں آپس میں صلح کرلیں۔ اگر اس میں بھی کامیابی نہ ہو تو اچھےڈھنگ سے علیحدگی اختیار کی جائے۔
مسلم سماج میں عام رواج ہے کہ ایک بار میں تین طلاق دے دیتے ہیں اور پھر مولویوں کے پاس بھاگتے پھرتے ہیں اور اوپر جو صلح کا طریقہ بتایا گیا ہے وہ تو عملی طور پر کہیں ہوتا ہی نہیں۔ ہمارے یہاں عام رواج یہ ہے کہ مرد کو غصہ آگیا یا اماں نے کہہ دیا کہ اپنی بیوی کو فارغ کرو تو مرد نے تین بار ایک دفعہ میں طلاق دے دی۔قرآن مجید ان لوگوں کو بتاتا ہے کہ آپ نے ایک سنجیدہ کام کیا تھا۔ آپ ایک خاتون کو بیاہ کر لائے تھے اور باعزت طریقے سے لائے تھے ۔آپ نے اس کو اپنے گھر کا حصہ بنایا تھا۔ چنانچہ قرآن مجید کے الفاظ ہیں کہ عزم طلاق یعنی ارادے کے ساتھ سوچ سمجھ کر طلاق دی جائے۔ پورے مسلمان سماج میں کہیں بھی گھر کو بچانے کے لئے قرآن کے بتائے ہوئے مراحل طے نہیں کئے جاتے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق تو کوئی فیصلہ بھی غصے میں کرنا نہیں چاہئے۔ ہمارے معاشرے میں یہ دونوں کی زندگی کا سوال ہے ۔خاص طور سے عورت کی زندگی کا، کیونکہ ہمارے معاشرے میں طلاق شدہ یا بیوہ عورت کی دوسری شادی ہو نا تقریبا ناممکن کے قریب ہے۔
تین مرتبہ طلاق کہہ دینا حرام ہے۔ حضور محمدﷺ کے سامنے جب ایک شخص نے یہ ہمت کی یعنی ایک ہی وقت میں تین مرتبہ طلاق دے دیا تو اللہ کے رسول محمد نے فرمایا کہ میں موجود ہوں اور میرے سامنے اللہ کی کتاب سے کھیل کھیلا جارہا ہے۔ہمارے مسلم سماج میں ایک وقت کی تین طلاق عام ہیں ۔پڑھے لکھے لوگ بزرگ لوگ، علماء،فقہاءاس میں سب شامل ہیں اور اس کو غلطی ماننے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ اس کا سد باب یہ ہے کہ جس طرح نکاح نامہ ہوتا ہے اسی طرح طلاق نامہ بھی اور اس پر دستخط کرنے کے بعد ہی طلاق ہو۔ اسلامی قانون کے مطابق آپ کو صرف ایک طلاق دینی ہے ،دو بھی نہیں ، صرف ایک طلاق دینی ہے۔ اس ایک طلاق دینے کے بعد تین ایام(حیض) کی مدت گزر جائے تو اپنے آپ طلاق ہوجائے گی۔ دوسری طلاق دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ سورہ بقرہ کی آیت 228 سے 231 تک اس کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ تین بار طلاق دینے کی ضرورت کیا ہے ۔اگر کسی آدمی نے استعفیٰ دیا ہے تو صرف ایک بار ہی تو دینا ہوگا یا کسی کو نوکری سے نکالنا ہے تو ایک بار ہی تو نکالا جائے گا۔
جب آدمی ایک طلاق دے دیتا ہے تو اس کے بعد دو احکامات ہیں ۔ایک تو یہ کہ تین مہینے میں آدمی کی رائے بدل گئی، یہ مدت اس لئے رکھی گئی ہے کہ اگر عورت حاملہ ہو تو تین مہینے میں پتہ چل جائے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ان تین مہینے میں مرد خوب اچھی طرح نشیب و فراز سوچ لے۔ اب اگر ان تین ایام یعنی تین مہینے سے پہلے مرد نے طلاق واپس لے لی اور رجوع کرلیا ۔دوسری صورت میں اگر تین ایام گزر گئے اور رجوع نہیں کیا تو طلاق خود بخود واقع ہو جائے گی۔ اگلے دن سے مرد بھی آزاد ہے ، عورت بھی آزاد ہے۔ اس کا ایک فائدہ اور ہے کہ اگر تین مہینے میں بھی عقل ٹھکانے نہیں آئی اور طلاق ہوگئی تو بعد میں کبھی بھی دوسری بار نکاح کیا جاسکتا ہے اور اسی عورت سے۔
اللہ کی ہدایت یہ ہے کہ ایک طلاق کے بعد تین مہینے عورت، شوہر کے گھر میں ہی رہے ،کیونکہ ساتھ رہنے میں صلح کے امکانات اور رجوع کرنے کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں ۔ لیکن پھر بھی عورت اپنے والدین کے گھر جانا چاہے تو جاسکتی ہے۔ مرد بیوی کو طلاق دینے کا اعلان کرنے کے بعد نکال نہیں سکتا ۔کیونکہ طلاق واقع تو تین مہینے کے بعد ہوگی۔ ایک طلاق دینے کے بعد تین ایام تک بیوی کو گھر سے نہیں نکالا جاسکتا اور خواتین کو بھی ہدایت ہے کہ وہ شوہر کا گھر چھوڑنے پر اصرار نہ کریں۔ کیونکہ گھر میں رہنا ہی ان کے لئے مفید ہے۔ کیا خبر کہ اللہ تعالیٰ موافقت کی کیا صورت پیدا کردیں۔ اگر یہ معلوم ہو جائے کہ یہ عورت حاملہ ہے تو یہ تین مہینے کی مدت بچے کے پیدا ہونے تک ہوجائے گی اور بچے کی پیدائش تک سارا خرچ مرد کو برداشت کرنا ہوگا اور طلاق واقع ہی بچے کی ولادت کے بعد ہوگی۔ اس سارے عرصے میں مرد کو سوچنے کا موقع ملے گا، ہوسکتا ہے کہ بچے کی پیدائش کی خوشی میں ہی مرد بیوی سے دوبارہ رجوع کرلے اور اپنے طلاق کا فیصلہ بدل دے اور اس پوری مدت میں بیوی پورے وقار کے ساتھ گھر میں رہے گی۔یہی قرآن کی ہدایت ہے۔
قرآن حکیم یہ بھی کہتا ہے کہ طلاق سے پہلے مرد بیوی کو جو کچھ بھی دے چکا ، اب اس کو واپس نہیں لے سکتا ۔ اگر مرد یہ کہہ دے کہ یہ بدکار عورت ہے اور اس کا ثبوت اور گواہ بھی پیش کردے اور یہ بات ثابت ہوجائے کہ عورت بدکار ہے صرف اسی شکل میں جو بھی چیز مرد نے عورت کو دی ہے وہ واپس لے سکتا ہے تو ایک بار طلاق دینے کے بعد تین مہینے میں مرد اپنا فیصلہ بدل سکتا ہے اور رجوع کرسکتا ہے اور تین مہینے گزر گئے تو طلاق خود بخود ہوجائے گی۔ اب ایک طلاق کے بعد رجوع کرلینے کے بعد کچھ عرصہ گزر گیا اور پھر طلاق کی نوبت آگئی تو اب دوری بار طلاق دی جاسکتی ہے ۔ اس کی بھی شرائط وہی ہوں گی جو پہلی طلاق کے وقت تھیں اور اگر دوسری بار طلاق دینے کے بعد رجوع نہ کیا اور طلاق ہوگئی تو اس طلاق کے بعد کبھی دوسری بار نکاح کیا جاسکتا ہے۔ یعنی ایک رشتہ ¿ نکاح میں تین بار طلاق دینے کا حق ہے۔
اب ان دو طلاقوں کے بعد دس پانچ سال بعد پھر طلاق دے دی ۔ اب یہ تیسری طلاق ہوگئی۔ اب اس تیسری طلاق کے بعد اسی عورت سے دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا۔ اب یہ دیکھئے کہ طلاق کتنی ناممکن کے قریب ہے ۔اگر ایک مرد اس طرح سے زندگی میں تین بار طلاق دے تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ کیا تم نے کھیل تماشہ سمجھ رکھا ہے اور پھر تیسری طلاق کے بعد اس عورت سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ اب ایک ہی مشکل ہے کہ اس عورت کا قدرتی طور سے کسی سے نکاح ہوجائے اور کسی وقت ان کی اپنی وجوہات سے طلاق ہوجائے یا وہ دوسرا شوہر انتقال کرجائے تب اس مرد سے دوبارہ نکاح ہوسکتاہے اور ایسا ہونا بھی بہت مشکل ہے۔ اس کاذکر سورہ بقرہ کی آیت 30 میں صاف الفاظ میں کردیا گیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے علماءکا نظریہ یہ ہے کہ سوتے میں آپ کے منہ سے تین بار طلاق نکل گیا تو طلاق ہوگئی ۔ عجیب بغاوت ہے یہ اللہ کے قانون سے۔
ہمارے سماج میں حلالہ کا رواج ہے۔ یہ حلالہ دراصل اللہ کے قانون سے کھلواڑ ہے۔ حلالہ کا تصور دراصل علماءکی سازش ہے۔ سرور کائنات محمد نے اس کے بارے میں فرمایا کہ جو آدمی اس طرح کا سازشی نکاح کرتا ہے ۔ اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو آدمی اپنے آپ کو حلالہ کے لئے پیش کرتا ہے وہ کرائے کا سانڈ ہے ۔ رسول اللہ محمد نے یہ الفاظ استعمال کئے ہیں اور حلالہ میں صرف نکاح ہی نہیں بلکہ باہمی تعلق بھی قائم ہونا چاہئے۔ یہ بات خاص طور سے عورت کے لئے کتنی ذلت کی بات ہے۔ اگر بہت ضروری ہوجائے تو ایک طلاق دیں ،کبھی دوسری طلاق کا نام بھی نہ لیں۔اگر ہر حالت میں علیحدگی اختیار کرنی ہی ہے تو ایک طلاق کے تین ایام (حیض ) کے بعد خود بخود طلاق ہوجائے گی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک وقت کی تین طلاق اور حلالہ جیسی لعنت ہمارے سماج میں آئی کہاں سے ہے۔ دراصل عورت کی حرمت و عزت ہمارے سماج میں ایک کھلونا ہے۔ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عورت کو ہم ایک استعمال کرنے کی چیز سمجھتے ہیں اور خاص طور سے علماءحضرات ۔ اللہ کا دین یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک رشتہ نکاح میں تین بار طلاق دینے کا حق دیا ہے۔ یہ طلاق احسن ہے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے کے مطابق طلاق دینے کا بہترین طریقہ ہے ۔
اب ایک قانونی سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے ایک وقت میں تین طلاق دے دی ۔ تو اب قانون کیا کرے گا۔ گوکہ ہے یہ قانون کی خلاف ورزی لیکن یہ سرزد ہوگئی تو اب کیا ہو؟ کیونکہ اس خلاف ورزی کے بعد اب یہ مسئلہ مذہب کا مسئلہ ہی نہیں رہا۔ اب یہ ایک قانونی مسئلہ ہوگیا ۔ قانون کبھی کوئی دوسری بات نہیں بتاتا۔ مثال کے طور پر ایک آدمی بغیر لائسنس کے گاڑی چلاتے ہوئے پکڑا گیا جب پولیس والے نے پکڑ لیا تو اب تین یا چار راستے ہیں ۔ایک تو یہ ہے کہ چالان کردے۔ دوسرا یہ ہے کہ اس سے کہا جائے کہ اپنے گھر سے لائسنس لے کر آﺅ اور دکھاﺅ ۔تیسرا یہ کہ اس کے کہنے پر یقین کرلے کہ لائسنس گھر پر ہے اور ایسے ہی جانے دے ۔چوتھا یہ کہ سو رپے لے کر جانے دے۔ قانون صرف اتنا ہے کہ بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے پر چالان ہوگا۔ قانون یہ نہیں بتاتا کہ اور کیا شکلیں ہوسکتی ہیں۔ اب اگر پولیس والے نے چالان نہیں کیا تو قانون کی خلاف ورزی کی۔
اسی طرح ایک مرد ایام حیض میں طلاق دے دی،عدت کا لحاظ کئے بغیر طلاق دے دی۔عورت حاملہ تھی اور اس نے طلاق دے دی۔یہ سب قانون کی خلاف ورزیاں ہیں۔ اس میں رسول اللہ کا طریقہ یہ تھا کہ اس آدمی سے پوچھتے تھے کہ تمہارا اب ارادہ کیا ہے۔ ایک بڑا مشہور واقعہ ہے کہ ایک شخص نے اسی طرح تین طلاق ایک ساتھ دے دی تو حضور محمد نے پوچھا کہ تم کیا کرنا چاہتے تھے تو اس نے کہا کہ میں طلاق کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ بس ایک کیفیت میں کہہ گیا۔ حضور محمد نے اس کے اس بیان کو قبول کرلیا اور کہا کہ کوئی حرج کی بات نہیں۔ اسی طرح حضرت عمر ؓکے صاحبزادے نے قانون طلاق کی خلاف ورزی کرکے ایام حیض میں طلاق دے دی۔تو آپ نے سختی کے ساتھ روکا اور کہا کہ اب تم اپنا فیصلہ واپس لو ،جب پاکی کا وقت آئے گا تب دیکھیں گے۔
اب اگر ایک عورت کو ایک ساتھ تین طلاق دے دی تو اس پر کیا گزرے گی ۔معاشرہ کیساہے ۔کیا وہ اپنے والدین کے گھر جاسکتی ہے یا دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔ اس کی آنے والی زندگی کیسے گزرے گی۔ہمارا سماج ایک طلاق شدہ عورت کو کس نگاہ سے دیکھتاہے۔ عرب کے سماج میں صورت حال بہت سادہ تھی۔ طلاق کے بعد دوسری شادی بہت آسانی سے ہوجاتی تھی۔ بیوہ کا دوسرا نکاح آسانی سے ہوجاتا تھا۔ عرب کی عورتوں کو اپنے والدین کے پاس جاکر ان پر بوجھ نہیں بننا پڑتا تھا۔ اب وہ معاشرہ نہیں ہے، ہماری وہ قدریں نہیں ہیں۔ ہمارے سماج میں تو کنوای لڑکی کی شادی ہونے میں بھی لوہے کے چنے چبانے پڑ جاتے ہیں اور کہاں طلاق شدہ یا بیوہ کی شادی۔ ہمارے سماج میں نکاح اور طلاق میں ہندو سماج کا پورا اثر موجود ہے، ان سب باتوں کا لحاظ رکھنا ہوگا۔
حضرت عمر ؓ کے زمانے میں لوگوں نے اسی طرح سے بیانات دینے شروع کئے کہ میرا تو طلاق کا کوئی ارادہ نہیں تھا تو انہوں نے ایک انتظامی حکم جاری کیا، شرعی نہیں کہ میں آئندہ یہ بیان قبول نہیں کروں گا کہ میری تو طلاق کی مرضی نہیں تھی، بس زبان سے نکل گیا۔ مسلمانوں میں اسی انتظامی حکم کو شریعت کا قانون بنادیا گیا۔
اسی طرح عورت بھی طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ سورہ بقرہ 229 آیت میں اس کا بیان ہے۔ اس کو خلع کہتے ہیں۔ خلع کے لئے عورت کو کسی تیسرے فریق کو بیچ میں ڈالنا ہوگا اور عورت کا صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ مجھے یہ مرد پسند نہیں ۔سورہ النساءآیت 128۔سورہ طلاق کی آیت نمبر 1 سے 3تک اس کا مکمل بیان ہے۔ ان سب باتوں کو مد نظر رکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ طلاق کتنا مشکل کام ہے اور اللہ تعالیٰ نے طلاق کے لئے کتنا سوچنے سمجھنے کا موقع دیا ہے۔ اس کے بعد بھی نباہ ہونا مشکل ہو تو پھر طلاق بہتر ہے۔ لیکن اس کے لئے سماج کا ایسا ہونا بھی ضروری ہے کہ طلاق شدہ عورت کا دوسرا نکاح آسانی سے ہوجائے جو ہمارے مسلم سماج میں ناممکن ہے۔ اس لئے شادی سے پہلے مرد و عورت کو ایک دوسرے کے حقوق و فرائض اور شرعی احکامات کی اچھی طرح واقفیت ہو، تاکہ طلاق کی نوبت ہی نہ آئے۔ اس کے لئے ادارے بنائے جائیں جو باقاعدہ طور پر مردو عورت کوباقاعدہ تعلیم دیں کہ نکاح اور طلاق کے قوانین کیا ہیں۔ مرد و زن کے حقوق و فرائض کیا ہیں۔ دونوں کے حدود کیا ہیں اور مرد و زن دونوں کو تعلیم دی جانی چاہئے کہ حدود کی خلاف ورزی نہ کریں ۔مرد کو بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے رہنا چاہئے ۔ سورہ النساءآیت نمبر 19 میں اس کا بیان ہے۔ صرف بالکل ہی نہ بن پارہی ہو تو طلاق دینا جائر ہے۔سورہ النساءکی آیت نمبر 130 میں اس کا بیان ہے۔
ان سب باتوں کو ملحوظ رکھا جائے تو شاید ہی کوئی مرد اپنی بیوی کو طلاق دے گا۔کبھی کبھی اس میں غلطی عورت کی بھی ہوتی ہے۔ زیادہ زبان دراز عورتیں بھی اس کا شکار ہوتی ہیں۔ کیونکہ ہمارے سماج میں طلاق شدہ عورت کی شادی مشکل ہے تو ہم سب کو کوشش کرنی چاہئے کہ کوئی طلاق نہ دے اور شوہر اور بیوی کی غلطیوں کو سدھارا جائے اور ثالثی کی جائے۔ بزرگ لوگ ثالثی کا کام انجام دیں اور اللہ کے قانون کو کھیل اور تماشہ نہ بنایا جائے۔ عورتوں کو چاہئے کہ حالات کے مد نظر مرد سے تعاون کریں ۔بیوی دراصل مرد کی معاون ہوتی ہے اور ہر حالت میں معاون ہوتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *