شمسی توانائی لائیں آلودگی بھگائیں

شیام کمار
p-7کئی سال پہلے مایا وتی کا دور اقتدار ختم ہوا تھااور ملائم سنگھ وزیر اعلیٰ بن گئے تھے۔ مایاوتی کے کئی پیارے آفیسر اس وقت جِلا وطنی کی حالت میں ہوگئے تھے اور عام محکموں میں بھیج دیئے گئے تھے۔ انہیں باپو بھون کے فرسٹ فلور پر کمرے الاٹ ہوئے تھے۔ میں نے اس کا ذکر کرتے ہوئے اس وقت ’باپو بھون کی دکھیا منزل‘کے عنوان سے مضمون بھی لکھا تھا۔ اس وقت باپو بھون کی دکھیا منزل کے ایک کمرے میں گوپ بندھو پٹنائک بیٹھتے تھے اور ان کے پاس محکمہ متبادل توانائی ( الٹرنیٹیو انرجی ڈپارٹمنٹ ) تھا۔میں نے ان سے ایک سوال پوچھا تھا کہ ہمارے ملک میں جب شمسی توانائی لا محدود مقدار میں دستیاب ہے تو سرکار اس بے پناہ توانائی کے ذخائر کے استعمال کو بڑھاوا کیوں نہیں دے رہی ہے؟جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ شمسی توانائی کا استعمال بہت مہنگا پڑتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ شمسی توانائی کے لئے جو گرانٹ دی جاتی ہے ،اس سسٹم کو ختم کیا جارہا ہے، تاکہ لوگ اپنے بل بوتے پر شمسی توانائی کی طرف راغب ہوں۔
گزشتہ نصف صدی سے زیادہ ہو گئے، میرا یقین رہا ہے کہ ہمارے یہاں وافر مقدار میں شمسی توانائی دستیاب ہے، اس لئے حکومت کے ذریعہ اس کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے انتظام کئے جانے چاہئےں اور زیادہ سے زیادہ بڑھاوا دیا جانا چاہئے۔ شمسی توانائی ہمارے ملک میں ترقی کا حیرت انگیز انقلاب لاسکتی ہے اور اس کے بل پر مستقبل میں ہمارا ملک مزید ایڈوانس بن سکتا ہے،میں نے گوپ بندھو پٹنائک سے گزارش کی تھی کہ وہ کسی بھی حالت میں شمسی توانائی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کا پروگرام کریں۔ سرکارشروع میں ہی اگر تمام سرکاری عمارتوں، سرکاری کالونیوں، گاﺅں وغیرہ میں شمسی توانائی کا استعمال لازمی کر دیتی، تو اس سے ملک میں بجلی کا استعمال بہت کم کیا جاسکتا تھا۔گزشتہ دنوں میری ملاقات اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی چندر بھانو گپت کے ذریعہ قائم بھارت سیوا سنگھ کے تحت چلنے والا ’ نوچیتنا کیندر‘ کے ممبر انچارج ڈاکٹر جاگیشور ناتھ مشر سے ہوئی تو یہ جان کر بڑا اچھا لگا کہ وہ بھی شمسی توانائی کے زبردست حامی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے ملک کی خوش قسمتی ہے کہ قدرت کی مہربانی سے ہمارے یہاں اتنی بڑی مقدار میں شمسی توانائی دستیاب ہے کہ ہم اسے اپنے یہاں متبادل توانائی نہیں،بلکہ اسے اہم توانائی کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر جاگیشور ناتھ مشر نے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ شمسی توانائی کے استعمال میں فائدہ ہی فائدہ ہے اور اس سے ماحولیاتی آلودگی سے نجات پائی جاسکتی ہے۔ابھی ہمارے یہاں کوئلے کے استعمال کے ذریعہہیٹنگ پلانٹ سے اور پن بجلی منصوبوں کے ذریعہ بجلی پیدا کی جاتی ہے۔کوئلہ کا ذخیرہ محدود وقت تک ہی چلے گا اور پن بجلی منصوبوں سے ندیوں کے قدرتی بہاﺅ میں فرق پڑا ہے،لیکن شمسی توانائی کا ہمارے پاس ایسالامحدود ذریعہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر مشر نے یہ اہم بات بھی کہی کہ موجودہ وقت میں شمسی توانائی میں لاگت بہت زیادہ بیٹھ رہی ہے، لیکن جب اس کا بہت بڑے پیمانے پر استعمال ہوگا اور پیداوار ہونے لگے گی تو دھیرے دھیرے لاگت کم ہوتی جائے گی اور ایک وقت ایسا آئے گا، جب شمسی توانائی بہت سستی ہو جائے گی ۔ شمسی توانائی کو زیادہ سے زیادہ سستا بنانے کے لئے نئے سائنسی ذرائع بھی تلاش کرنے ہوں گے۔
ڈاکٹر مشر اچھے منتظم تو مانے ہی جاتے ہیں، ان کی حکمت و دانائی کی بھی تعریف ہوتی ہے۔ مختلف موضوعات میں ان کا گہرا مطالعہ ہے۔جس طرح وہ شمسی توانائی کے زبردست حامی ہیں، اسی طرح آلودگی سے نجات کی سمت میں بھی وہ لمبے وقت سے سرگرم عمل ہیں۔ کئی سال پہلے امریکہ میں نیو جرسی میں ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے پر ایککانفرنس ہوئی تھی، جس میں ڈاکٹر مشر نے اہم لیکچر دیا تھا۔انہوں نے اپنے لیکچر میں آگاہ کیاتھا کہ ماحولیاتی آلودگی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اگر دنیا نے اس پرابھی سے سنجیدگی سے دھیان نہیں دیا تو مستقبل میں انسانیت کے لئے بہت بڑا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ کئی سال پہلے جس خطرے کی طرف آگاہ کیا گیا تھا، وہ خطرہ اب سچ ثابت ہو رہا ہے۔ آلودگی کی وجہ سے طرح طرح کے برے نتائج سامنے آرہے ہیں اور مسائل پیدا ہوتے جارہے ہی۔ آلودگی کی وجہ سے بیماریاں بڑھ رہی ہیں اور لوگوں کی صحت پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں اتر پردیش کے چار شہر ہیں، جو ہمارے لئے تشویش کی بات ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تازہ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ اتر پردیش کے شہروں میں لگاتار ہوا کی سطح گر رہی ہے۔ سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں اتر پردیش کی راجدھانی لکھنو¿ ، کانپور،،فیروز آباد اور سنگم نگری الٰہ آباد جیسے شہر شمار ہو گئے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق کانپور اس لسٹ میں 15ویں مقام پر ہے جبکہ فیروز آباد اور لکھنو 17 اور 18ویں مقام پر ہیں۔ الٰہ آباد میں آلودگی کی صورت حال تو اور بھی خراب ہے۔ ریسرچ اینڈ ایڈوکیسی آرگنائزیشن کے ذریعہ کئے گئے ایک سروے کو دیکھیں تو اتر پردیش کے غازی آباد اور الٰہ آباد میں آلودگی کی سطح چونکانے والی ہے۔ الٰہ آباد اور غازی آباد میں فضائی آلودگی لکھنو¿ ، فیروز آباد، آگرہ، متھرا ، خورجہ اور گجرولہ سے تین گنا زیادہ ہے، جبکہ لکھنو¿اور کانپور کے بیچ موجود اُنّاﺅ میں فضا صحت کے لحاظ سے نسبتاً بہتر ہے۔ دلی کے سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ کے سروے کے مطابق غازی آباد ، الٰہ آباد، کانپور اور بریلی میں آلودگی کی سطح 10مائیکرون ہے۔ لکھنو¿ ، فیروزآباد، سہارن پور، متھرا، گجرولہ اور آگرہ میں فضائی آلودگی کی سطح مقررہ سطح سے قریب تین گنا زیادہ ہے۔ میرٹھ ، گورکھپور، غازی آباد اور کانپورمیں نائٹرو جن ڈائی آکسائڈ کی مقدار تیزی سے بڑھی ہے اور موجود وقت میں خطرناک سطح پر جا پہنچی ہے۔لکھنو¿ اور الٰہ آباد کے وسط میں واقع رائے بریلی میں اس گیس کی ماحول میں موجودگی سب سے کم ہے۔ خورجہ اور غازی آباد سلفر ڈائی آکسائڈ کے نقطہ نظر سے بھی خطرناک سطح پر پائے گئے ہیں۔ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنو¿ کے اہم علاقے مثلاً عالم باغ، اموسی، چوک، چار باغ وغیرہ آلودگی کے لحاظ سے سب سے متاثر پائے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو بھی کچھ وقت پہلے اس مسئلے کو لے کر بیداری لانے کی کوشش کرتے نظر آرہے تھے لیکن پھر سب کچھ ٹھنڈا ہی پڑ گیا۔ وزیر اعلیٰ کی بھی باتوں کا کوئی اثر ہوتا دکھائی نہیں دیا۔ اتر پردیش سرکار نے پولی تھین کے استعمال پر بھی پابندی لگا دی۔اس کے باوجود لوگ بڑی مقدار میں پولی تھین کا استعمال ہورہا ہے۔ ایسے میں یہ ناممکن ہے کہ اس کاکوئی حل نکل پائے گا۔
اگر یہی صورت حال بنی رہی تو لوگ شفاف ہوا کو ترس جائیں گے۔ ماحولیات کو شفاف بنانے کے لئے دیگر انتظامات کی پیروی تو کی ہی جانی چاہئے،لیکن سب سے بڑا کام ہے زیادہ سے زیادہ باغات لگانا۔ گزشتہ دہائیوں میں ہمارے یہاں پیڑوں کی اندھا دھند کٹائی ہوئی ہے اور جنگلات کم ہوتے جارہے ہیں۔ اسی وجہ سے موسم بھی غیر معتدل ہونے لگے ہیں۔ ہمیں باغات لگانے کے لئے جنگی پیمانے پر لگ جانا چاہئے اور جہاں جہاں بھی ممکن ہو، گوشے گوشے کو ہریالی سے بھر دینا چاہئے۔
(مضمون نگار یو پی کے سینئر صحافی ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *