اب شراب سیاسی موضوع کئی ریاستیں شراب بندی کے حق میں سیاسی مدعا بننے لگی شراب بندی

نوین چوہان
p-6جب سے بہا رمیں مکمل شراب بندی ہوئی ہے، تب سے ملک کی سیاست شراب بندی سے شرابور ہو گئی ہے۔ شراب بندی رفتہ رفتہ سماجی مدعے سے سیاسی مدعا بن گئی ہے۔نتیش کما ر نے بہار اسمبلی انتخاب کے دوران خواتین سے ریاست میںشراب بندی لاگو کرنے کا وعدہ کیا تھا، جب انھوں نے شراب بندی کی بات کہی،تب کچھ لوگوں نے اسے سیاسی چونچلے بازی کہا تھا۔ کچھ نے تو ان کے اس اعلان کی ٹائمنگ پر ہی سوال کھڑے کےے تھے۔ لیکن انتخاب میںجیت حاصل کرنے کے بعد نتیش کمار نے ایک اپریل سے ریاست میں شراب بندی لاگو کردی، اس کے بعد توگویا پورے ملک میں شراب بندی کا نشہ چڑھنے لگا۔ ملک کے الگ الگ حصوں میںشراب بندی کی مانگ ہونے لگی ہے۔ تامل ناڈو میں بھی یہ انتخابی مدعا بن گیا ہے۔
شراب بندی کے مسئلے پر لوگوں کوتعجب تب ہوا، جب اسمبلی انتخاب کے دور سے گزررہے تامل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جے للتا نے کہا کہ اگر ان کی پارٹی اس بار اسمبلی انتخاب میں جیت حاصل کرتی ہے، تووہ ریاست میںمرحلہ وار طریقے سے شراب بندی لاگو کریںگی۔ ان کے اس اعلان کے بعد ریاست میں برسراقتداراے آئی ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے درمیان رسہ کشی شروع ہوگئی ہے۔
ڈی ایم کے نے جے للتا پر ان کے شراب بندی کے مدعے کو چرانے کا الزام لگایا اور ان کی مرحلہ وار شراب بندی کے جواب میںمکمل شراب بندی کا وعدہ کر ڈالا۔ جے للتا نے کہا کہ 1971 میںڈی ایم کے سرکار کے دور حکومت میں ریاست میںشراب کی فروخت شروع ہوئی تھی، اس لےے ڈی ایم کے کو شراب بندی کے مسئلے پر بولنے کا کوئی حق نہیںہے۔ غور طلب ہے کہ تامل ناڈو میں1937میں انگریزوں کے دور حکومت کے دوران ہی شراب پر پابندی لگادی گئی تھی۔ آزادی کے بعد 30 جنوری 1948 کو اس پابندی کو بڑھا دیا گیاتھا۔ جے للتا اب انتخابی تشہیر کے دوران کہہ رہی ہیںکہ شراب پر پابندی کے لےے منصوبہ بند طریقے سے کام کرنا ہوگا۔ شروعات میںشراب کی دکانوں کے کھلنے کے وقت کو کم کیا جائے گا۔ اس کے بعد ان کی تعداد میںکمی کی جائے گی۔ شراب چھورنے والوں کے لےے بازآبادکاری مرکز کھولے جائیںگے۔ لیکن یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیںہے کہ تامل ناڈو سرکار کو شراب کی فروخت سے تقریباً 21,800 کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔
ایک طرف تو جے للتا شراب بندی کے خلاف بھاشن دے رہی ہیں، وہیںدوسری طرف گزشتہ یکم اپریل کوشراب بندی کے لے کر کام کررہی تنظیم مکّل ادھیکارم کے 6 لوگوں کو تروچراپلی میںگرفتار کرلیا گیا۔ ا ن کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ایسے ہی ایک واقعہ میں گزشتہ سال اکتوبر میں جے للتا نے ایک لوک گایک کوون کو غداری کے الزام میںگرفتار کیا تھا۔ کوون اپنے گانوں میںشراب بندی کی حمایت کرتے ہیں۔ جے للتا کے اس فیصلہ کو لے کران کی بہت تنقید ہوئی تھی اور سوال اٹھے تھے کہ ایک لوگ گایک جو شراب بندی کے خلاف گیت گاکر مہم چلاتا ہو،وہ غدارکیسے ہوگیا؟ اس نے لوگوں کو اپنے گیتوں سے سرکار کے خلاف اکسایا۔ شراب بندی کو لے کر یہ جے للتا کا دوہرا معیار ہے۔ لیکن بہار کی شراب بندی کا اثر تامل ناڈو میںدکھائی دینا اہمیت کا حامل ہے۔ شراب بندی کا انتخابی مدعا بننے کا سیدھا یہ مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ ملک کے ہرحصے میںلوگ اس مدعے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
شراب بندی کے حق میں یہ دلیلیںدی جاتی ہےں ، شراب کا لوگوں کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے، شراب کی وجہ سے گھریلو تشدد ہوتا ہے، گھریلو تشدد سے بچوں پر برا اثر پڑتا ہے، شراب بندی کے سبب گھٹیا یا کچی شراب کا استعمال بڑھتا ہے، جس کی وجہ سے ہر سال ہزاروںموتیںہوتی ہیں،شراب پی کر گاڑی چلانے کی وجہ سے سیکڑوںحادثے ہوتے ہیں اور ہزاروں لوگ ان حادثوں میںاپنی جان گنوادیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ وہیںشراب بندی کی مخالفت میں یہ دلیلیںدی جاتی ہیںکہ کھانے پینے پرروک نہیں ہونی چاہےے۔ اب تک کسی بھی ریاست ، ملک میںشراب بندی کارگر نہیں رہی ہے۔ پابندی کی وجہ شراب اسمگلنگ کے ذریعہ آتی ہے اور نقلی شراب کے آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ شراب بندی کی وجہ سے نشے کے عادی لوگ نشے کے دوسرے متبادل تلاش کرتے ہیں، جو شراب سے بھی زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ حالانکہ ملک میں گانجہ، افیم، چرس او ردیگر ڈرگس پر پابندی ہے،لیکن ملک کے زیادہ تر حصوں میںلوگوںکو نشے کی یہ اشیاءدستیاب ہوجاتی ہیں۔ ایسے میںشراب بندی کا مدعا کتنامو¿ثر ہوگا، اس کے بارے میں کچھ بھی واضح طور پر نہیںکہا جاسکتا۔
سال 2017 میں پنجاب میں اسمبلی ہونے ہیں۔ پنجاب کو ملک کی سب سے زیادہ نشے سے متاثرہ ریاست مانا جاتا ہے۔ حال ہی میںہوئے پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کا ڈرگس کی اسمگلنگ کا اینگل بھی سامنے آیا تھا۔پنجاب کی سیاست میںنشہ بہت ہی اہم مدعا ہے۔ پنجاب کا امیر شخص ہو یا غریب،عام ہویا خاص، وہاں کا ہر خاندان نوجوانوں کی نشے کی لت سے پریشان ہے۔ نشے کی عادت کا براہ راست یا بالواسطہ طور پر اثر پورے خاندان اور سماج پر پڑتا ہے۔ پنجاب بھلے ہی ملک کی خوشحال ریاستوں میں شمار ہو ، لیکن وہاں کی نوجوان نسل نشے کی لت کی وجہ سے کھوکھلی ہوتی جارہی ہے ۔ پنجاب الیکشن میںنشہ بندی مرکزی مدعا بننےجارہی ہے۔ اس کی جھلک مکتسر کے ماگھی میلے میںدہلی کے وزیر اعلیٰ کجریوال دے چکے ہیں۔ مکتسر ریلی میں انھوںنے پنجاب کی برسراقتدار بی جے پی اور اکالی سرکار کے ساتھ ساتھ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اورپنجاب کانگریسکے صدر کیپٹن امریندر سنگھ کے خلاف نشے کے کاروباریوں کو تحفظ دینے کا الزام لگایا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ دونوں ہی پارٹیاں پنجاب کو نشے کی دلدل سے باہر نہیںآنے دینا چاہتی ہےں۔ وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل کے قریبی رشتہ دار وکرم مجیٹھیا کی ڈرگس کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتاری ہوچکی ہے۔ ایسے میںپنجاب میںبہار کی شراب بندی کا اثر دکھائی دینے والا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ پنجاب انتخاب میںنتیش کمار عام آدمی پارٹی کے لےے انتخابی تشہیر کرتے دکھائی دیں۔ نتیش کمار پہلے سے ہی بی جے پی کے خلاف اپوزیشن کو متحد کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ فی الحال اور آنے والے وقت میںجن ریاستوں میںاسمبلی کے لےے انتخاب ہونے ہیں،ان ریاستوں میں صرف پنجاب میںاین ڈی اے کی سرکار ہے۔ اس سے پہلے دہلی اور بہار میںہوئے انتخابات میںبی جے پی کو پٹخنی دے چکے اروند کجریوال اور نتیش کمار کی جوڑی بی جے پی کو ایک بار پھر پٹخنی دینے کے لےے ایک ساتھ دکھائی دے سکتی ہے۔ نتیش کمار کی حلف برداری تقریب میںشرکت کرکے اروند کجریوال نے نئے سیاسی اشارے دے دےے تھے۔ اب اس ایکوئیشن کو عمل میںلانے کا وقت آرہا ہے۔ پنجاب میں اکالی – پنجاب سرکار کی ہار کو سیدھے طور پر نریندر مودی اور مرکزی سرکار کی ناکامی سے جوڑا جائے گا۔ جس کاسیدھا فائدہ مشن 2019 میں اپوزیشن جماعتوں کو ہوگا۔ حالانکہ پنجاب میںنشے کا مدعا عام آدمی پارٹی کے اہم ایجنڈے میں شامل ہے،لیکن فی الحال دہلی میں ایسا کرنے کی اس کی منشا نہیںہے، یہ بات دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کہہ چکے ہیں ۔
آندھرا پردیش، تامل ناڈو، میزورم اور ہریانہ میںشراب بندی کا استعمال ناکام ہوچکا ہے۔ بہار میں1977میں کرپوری ٹھاکر کی سرکارنے شراب بندی لاگو کی تھی۔ لیکن یہ مو¿ثر نہیںہوئی تھی، اس کے بعدپھر صورت حال جوں کی توں ہوگئی تھی۔ گجرات میں1960 سے شراب بندی لاگو ہے۔ گجرات میںشراب کی پیداوار، فروخت اور پینے پر پابندی ہے، لیکن پابندی کے باوجود یہاں شراب دستیاب ہوجاتی ہے۔ ناگالینڈ میں 1989 سے شراب پر روک ہے۔ یہاں اخبار میںشراب کے اشتہار پر بھی روک ہے۔ لیکن وہاںبھی شراب دستیاب ہے۔ آندھرا میںسابق وزیر اعظم چندربابو نائیڈو نے یہ کہہ کر شراب بندی ختم کردی تھی کہ اسے پوری طرح لاگو کرپانا ممکن نہیں ہے۔ہریانہ میں بنسی لال سرکار نے شراب بندی لاگو کی تھی۔ لیکن اس کے نتائج بہت خوفناک ہوئے تھے۔شراب بندی کے اکیس مہینوں میںہی اس سے جڑے قصوں کی شدید تضحیک نے اپنی تمام حدیں پھلانگ دی تھیں۔ طویل عرصہ بعد بنسی لال نے بھی یہی بات دوہرائی کہشراب بندی ممکن نہیں۔ حالانکہ انھوں نے کبھی کہا تھا، میں شراب پرسے پابندی ہٹانے کے بجائے گھاس کاٹ لوں گا۔
اس سال جنوری میں اڑیسہ میں شراب کے استعمال او ربنانے پر پوری طرح پابندی لگانے کو وہاںکی سرکار نے غیر حقیقی بتایا۔ اڑیسہ کے آبکاری وزیر دامودر راو¿ت نے اسمبلی میںکہا کہ ریاست میںشراب بندی لاگو کرنا حقیقت پسندانہ قدم نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اگر پوری طرح پابندی لگابھی دی جاتی ہے، تو شراب پینے والوں کا اس سے لگاو¿ ختم کرنا ناممکن ہے۔ انھوںنے کہا کہ شراب پر پابندی سے شراب کا ناجائز کاروبار بڑھے گا۔غیرقانونی شراب پینے سے لوگوںکے مرنے کے خدشے سے بھی انکار نہیںکیا جاسکتا۔ مکمل پابندی لگانے کے بجائے لوگوںکے بیچ بہترین شراب کی فروخت و تقسیم کا معمول بنانا مناسب قدم ہوگا۔ راو¿ت نے یہ بات بھی صاف کی کہ ریاستی سرکار کی اڑیسہ میںشراب کی فروخت سے ریونیو حاصل کرنے کی منشا بھی نہیںہے۔ غور طلب ہے کہ اڑیسہ سرکارنے گزشتہ سال نومبرکے آخر تک شراب سے 1139.83 کروڑ روپے کاریونیوحاصل کیا ہے۔
حالانکہ شراب بندی کاایک اور سماجی پہلو یہ بھی ہے کہ شراب بندی کاٹورزم انڈسٹری پر بھی اثر پڑتا ہے، جس سے ریاست کے ہزاروں لوگ براہ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ حالانکہ شراب بندی میںفائیو اسٹار ہوٹلوں کو شراب سرو کرنے کی چھوٹ ہوتی ہے، لیکن ان پانچ ستارہ ہوٹلوں میںبہت کم سیاح جاتے ہیں۔ شراب بندی کی وجہ سے بے روزگار ی میںاضافہ ہوتا ہے۔ شراب بندی کا پہلا اثر ڈسٹلریز کے بند ہونے کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس سے کئی لوگوںکاروزگار بھی چھن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹھیکوں، ہوٹلوں،ریستورانوں او رٹرانسپورٹ سے بھی کئی لوگوںکو روزگار ملتا ہے،شراب بندی کے سبب ان کا روزگار چھن جاتا ہے۔ ایسے بے روزگار اکثر غلط راہ بھی اپنا لیتے ہیں۔ ان سب کا اثر ریاست کی معیشت کے ساتھ ساتھ جرائم پر بھی پڑتا ہے۔
کل ملاکردیکھا جائے،تو شراب بندی کا فیصلہ اچھا ہے ، لیکن اس سے متعلق دیگر پہلوو¿ں کو بھی نظر انداز نہیںکرنا چاہےے۔اس سے جڑے لوگوں کے لےے روزگار کے متبادل ذرائع کا سرکار کو انتظام کرنا چاہےے۔ اس کے علاوہ سرکار کو صحت کی دیکھ بھال پر بھی زیادہ رقم خرچ کرنی چاہےے،تاکہ لوگ شراب چھوڑنے کی وجہ سے نہ ہلاک ہوں۔ لیکن شراب بندی کی وجہ سے ریاستوں کو جو مالی نقصان ہوگا، اس کی بھرپائی سرکاریںکیسے کریںگی،کیا اس کے لےے وہ ٹیکسوں میںاضافہ کریںگی یا کوئی دیگر قدم اٹھائیں گی،یہ دیکھنابے حد دلچسپ ہوگا۔
شراب پر منحصر ریاستوں کی معیشت
ہندوستان میںشراب بندی ایک ایسی کسرت ہے،جسے شروع کرنے کے بعد ہر ریاستی سرکار کا سانس پھولنے لگتا ہے۔ شراب کا کاروبار پورے ملک میںڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے سالانہکا عدد پار کرچکا ہے۔ ایسوچیم کے اندازے کے مطابق شراب کی انڈسٹری میںسالانہ 30 فیصد کی شرح سے اضافہ ہورہا ہے ۔یہ ایک ایسی انڈسٹری ہے، جو اس کے کاروباریوںکے ساتھ ساتھ ریاستی سرکاروں،لیڈروں، سیکورٹی اہلکاروں او رچند ٹھیکیداروں کو مالامال کردیتی ہے۔
شراب کے کاروبار میں ملک میںسب سے زیادہ پیسہ تامل ناڈو سرکار کما رہی ہے۔ تامل ناڈو سرکار کو شراپ پر ٹیکس سے ایک سال میں 21 ہزار 800 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ کوئی بھی سرکار اس کمائی کو کیسے چھوڑ سکتی ہے۔ حالانکہ سال 2014 میںکیرالہ میںشراب بندی لاگو کردی گئی ، جبکہ وہاںسرکار کی کمائی کا 20 فیصد حصہ شراب سے آرہا تھا۔ لیکن اس سے سرکار کی مالی حالت تو یقینی طور پر خراب ہوئی ہے۔کرناٹک سرکار تو خود شراب کے ہول سیل کاروبار میں شامل ہے،وہاں بھی سرکار کی کل آمدنی کا 20 فیصد حصہ شراب کی فروخت سے ہوئی آمدنی ہے۔
سال 2015 کے اختتام تک مدھیہ پردیش سرکار کی شراب کی فروخت سے ہونے والی آمدنی تقریباً آٹھ کروڑر وپے ہوگئی۔ موٹے طور پر پچھلے بارہ سالوں میںریاست میںشراب کی کھپت چار گنا اور شراب سے ہونے والی آمدنی میںدس گنا کا اضافہ ہوا ہے۔ راجستھان سرکار کی آبکاری پالیسی 2015-16 میںشراب سے سرکارکو6,130 کروڑ روپے کی آمدنی ہونے کا اندازہ ہے۔ وہیں سال 2016-17 میں سرکار نے شراب سے سات ہزار کروڑ روپے سے بھی زیادہ آمدنی کا ہدف رکھاہے۔ سرکار کی کمائی کا عالم یہ ہے کہ شراب کی دکانوں کے الاٹمنٹ کے لےے آنے والی درخواستوںکی فیس سے ہی پچھلے سال چھ سو کروڑر وپے سے زیادہ کی کمائی ہوگئی تھی۔ بنگال میںشراب کی فروخت کی مد میں1477.64 کروڑ روپے کی آمدنی ہے،جو کہ ملک کی دوسری ریاستوںکے مقابلے میں بے حد کم ہے۔شراب پوری طرح ریاستوں کا موضوع ہے،اس لےے اس پر الگ الگ ریاستی سرکاروں کی مرضی چلتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *