صادق خان کی کامیابی میںمسلم نوجوانوں کے لئے سبق ہے

وسیم احمد
p-8ایک مسلمان صادق خاں کالندن کامیئر بن جانا فخر کی بات ہے۔ان کی کامیابی سے ہندو پاک میں خوشی کی لہر ہے۔ ہندو پاک میں خوشی اس لئے ہے کہ صادق خاں کے باپ دادا اصلاً ہندوستانی ہی تھے لیکن تقسیم کے وقت ان کے والدین ہجرت کرکے پاکستان اور پھر وہاں سے لندن چلے گئے تھے جہاں 1970 میں صادق خاں کی پیدائش ہوئی۔
صادق خاں نے اس بلند رتبے کو اپنی محنت و مشقت سے حاصل کیا ہے۔وہ ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد امان اللہ خاں ایک بس ڈرائیور تھے لیکن والدین کی غربت کبھی بھی ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنی اور اس طرح سے ایک ڈرائیور کا بیٹا آج لندن کا میئر ہے۔ صادق خان برطانوی پارلیمنٹ میں ٹوٹنگ علاقے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔یہ الیکشن اس لئے بھی اہم ہوجاتا ہے کہ ان کا مقابلہ کنزرویٹو پارٹی کے ایک ارب پتی امیدوار زیک گولڈ اسمتھ سے تھا۔ گولڈ اسمتھ پاکستانی سیاست داں عمراں خاں کی سابقہ بیوی جمائیا خاں کے بھائی ہیں۔اس الیکشن میں کل 12 امیدوار تھے جن میں سے اصل مقابلہ لیبر پارٹی کے صادق خان اور کنزرویٹو پارٹی کے زیک گولڈ سمتھ کے درمیان تھا۔صادق خاں نے اپنے مینی فیسٹو میں لندن میں رہائش کو خاص طور پر موضوع بنایا تھا۔اس موضوع پر وہ اپنے مد مقابل زیک گولڈ سمتھ کے ساتھ انتخابی مہم کے دوران کئی مرتبہ بحث کر چکے ہیں۔ ان کے خیال میں لندن میں ہر سال 80 ہزار نئے مکانات یا ہاو¿زنگ یونٹس تعمیر کیے جانے چاہئیں اور ان میں 50 فیصد کی قیمت ایسی ہونی چاہیے جو عام آدمی کی پہنچ میں ہو۔ان کا یہ نظریہ عوام کو بہت پسند آیا اور اس طرح سے وہاں کے عوام نے ذات برادری کی سطح سے اوپر اٹھ کر ان کو اپنا میئر بنالیا ۔اس انتخاب میں صادق خان کو 13 لاکھ دس ہزار 143 ووٹ ملے تھے جبکہ ان کے مخالف زیک گولڈسمتھ کو9 لاکھ 94 ہزار 614 ووٹ ملے۔
لندن میں میئر کو کئی اہم اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔لندن کے میئر کو ٹرانسپورٹ، پولیس، ماحولیات، ہاو¿سنگ اور پلاننگ جیسے اہم شعبوں میں مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے اور لندن اسمبلی کے ارکان میئر کی پالیسیوں پر نظر رکھتے ہیں۔ لندن اتھارٹی کے بجٹ کی منظوری میں بھی اس کا اہم کردار ہوتا ہے۔ میئر کی پالیسیوں کو لندن اسمبلی مسترد بھی کر سکتی ہے اور مجوزہ بجٹ میں ترمیم کا بھی اختیار رکھتی ہے لیکن اس کے لیے اس کے دو تہائی ارکان کی منظوری درکار ہوتی ہے۔
ان کی اس جیت کو پوری دنیا میں بڑی اہمیت دی جارہی ہے۔ یوروپ کے اخباروں کے علاوہ عرب ممالک نے بھی اس خبر کو اہم سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ امریکہ کے ممکنہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ جو کہ اس وقت دیگر تمام امیدواروں پر بھاری ہیں اور ابھی سے ہی امریکہ میں مسلمانوں کی انٹری پر سخت پابندی لگائے جانے کے حق میں ہے ۔انہوں نے صادق خاں کی اس جیت کے بعد انہیں امریکہ دورہ کا اشارہ دیا ہے۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ لندن کے نو منتخب میئر صادق خان امریکا آسکتے ہیں، ان کو مسلمانوں پر واشنگٹن میں داخلے کی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ صادق خان کے لندن کے میئر منتخب ہونے پر انہیں خوشی ہوئی ہے اور صادق خان ایک اچھے مسلمان کی بہترین مثال ہیں اور مثالی کارکردگی دکھانے والوں کیلئے امریکا کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا میں اسلام کے خلاف لہر ہے ۔ایک مسلمان کا میئر بن جانا بڑی بات ہے۔ ان کی جیت سے پوری دنیا کے مسلمانوں میں یہ پیغام جائے گا کہ آج بھی دنیا میں زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو ذات برادری کی سطح سے اوپر اٹھ کر مثبت سیاست کرنے والوں کو ترجیح دیتے ہیں۔خود صادق خاں نے جیت حاصل کرنے کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کو ملنے والی جیت سے مسلمان اصل دھارے کی سیاست کی طرف مائل ہوں گے اور وہ خود کو سول سوسائٹی کے ساتھ وابستہ کریں گے۔ان کی جیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف افواہ پھیلائے جانے کے باوجود لندن کے لوگ آج بھی سیکولر ہیں۔آج پوری دنیا میں مسلمانوں کے تئیں جو تاثر پیدا کیا گیا ہے اور ان کا دائرہ تنگ کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔امریکہ میں ٹرمپ مسلمانوں کی انٹری پر پابندی لگانے کی بات کرتے ہیں تو جرمنی میں نماز پڑھنے والوں پر نظر رکھی جاتی ہے ار فرانس میں نقاب کو ممنوع قرار دیا جارہا ہے اور چین میں مسجدوں سے نفرت کرنا تو عام ہوگیا ہے۔امریکہ کے طیارے سے عربی بولنے کی وجہ سے ایک مسافر کو اتار دیا جاتا ہے تو اوزبکستان میں مسلم نام رکھنے پر پابندی لگا ئی جاتی ہے۔تمام یوروپین ممالک مسلم ملکوں پر دباﺅ کی سیاست کررہے ہیں ایسے وقت میں لندن کے عوام کا کسی مسلمان کو اپنا میئر چن لینا یقینا ان کے سیکولر ہونے کی گواہی دیتا ہے۔البتہ ان کے حریف اسمتھ نے مسلم دشمنی کارڈ کھیلنے کی پوری کوشش کی۔ انہوں نے لندن میں موجود سکھ اور ہندوﺅں کا ووٹ پانے کے لئے سکھ فسادات اور ہندوستان کی موجودہ سیاست کی خوب تشہیر کی۔ان کے اس کردار کا اعتراف لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربن کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گولڈ اسمتھ نے صادق خاں کے خلاف کردار کشی کی مہم شروع کی تھی اور انہیں شدت پسندوں سے جوڑنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی، لیکن لندن کے ووٹروں نے بلا تفریق مذہب و ملت صادق کو اپنا میئر چن لیا۔ جو اس بات کی علامت ہے کہ ارادے پکے ہوں اور حوصلہ بلند ہو تو ایک ڈرائیور کا بیٹا میئر بن سکتا ہے چاہے اس کے راستے میں ذات برادری کے کانٹے بچھائے جائیں مگر وہ ہر ایک کو روند کر اپنی منزل پالیتا ہے۔ خود صادق خاں نے حلف برداری کے بعد اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ کبھی تصور نہیں کرسکتے ہیں کہ ان کے جیسا آدمی لندن کا میئر منتخب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ انتخاب تنازع سے خالی نہیں تھا ،لیکن لندن کے لوگوں نے خوف کے بجائے امید کا انتخاب کیااور میں لندن میں خوف کو داخل نہیں ہونے دوں گا۔
لندن میں صادق خاں کی جیت ایشیائی ووٹروں کے لئے عبرت کا مقام ہے ۔ہم اپنے ووٹ کا استعمال ذات برادری اور مذہب و علاقائیت کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کسی بھی امیدوار کا انتخاب یہ دیکھ کر کیا جاتا ہے کہ وہاں کے ووٹروں کی اکثریت کا تعلق کس ذات برادری سے ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہورہاہے کہ ہم کام کرنے والے اور مناسب امیدوار کا تعین نہیں کرپاتے ہیں ،نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ امیدوار جیتنے کے بعد اپنے حلقے کی صحیح نمائندگی نہیں کرپاتے ہیں۔ہمیں لندن سے سبق لینا چاہئے اور ذات برادری، علاقائیت اور مذہب سے اوپر اٹھ کر کام کرنے والے نمائندے کا انتخاب کرنا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *