یوپی میںبی جے پی سب کو ساتھ لے کرچلے گی، مسلمانوں کو بھی رام مندر بی جے پی کا انتخابی مدعا نہیں

اترپردیش میں اسمبلی انتخاب کا ماحول دھیرے دھیرے گرم ہوتا جارہا ہے۔ دہلی اور بہار اسمبلی انتخابات میںملی ہار کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی اترپردیش کے اسمبلی انتخاب میں اترنے سے پہلے پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے۔ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ بی جے پی نظریاتی تبدیلی کے عمل میں ہے۔ کئی برننگ ایشو ہیں، جن پر بی جے پی کے خیالات پہلے کچھ اور تھے اور اب کچھ اور ہیں۔ ایسے کئی مدعوں پر بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کے خاص دوت اور اترپردیش بی جے پی کے جنرل سکریٹری (سنگٹھن) سنیل بنسل سے پربھات رنجن دین کی گزشتہ دنوںتفصیل سے بات چیت ہوئی۔ پیش ہیں اس بات چیت کے اہم اقتباسات۔۔۔
p-5-interviewسوال: بی جے پی اپنے ہی مدعوںسے الگ ہٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ رام مندر کا مسئلہ ہو یا یونیفارم سول کوڈکا یا دفعہ 370 کا۔ مذہبی نقطہ سے الگ ہٹ کروسیع نسلی اتحاد کودرست کرنے پر بی جے پی کا زیادہ دھیان ہے ۔پارٹی پر جن لوگوں یا کمیونٹیز کا روایتی دبدبہ رہا ہے، وہ تیزی سے ٹوٹ رہا ہے۔ انتخاب کے حساس وقت میں اس کا منفی اثر بھی پڑے گا۔ اس سے کیسے نمٹیں گے؟ کیا بی جے پی مکمل نظریاتی بدلاو کے عمل میں ہے؟
بنسل: دیکھئے میرا ایسا ماننا ہے کہ سالوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی ، میرا جو تجزیہ ہے کہ ہم 20 فیصد کی سیاست کرتے رہے ہیں، چاہے وہ برہمن ہو، ٹھاکر ہو یا ویشیہ ہو۔یہ بڑی کمیونٹی بی جے پی کی روایتی طاقت کے طور پر رہی۔ رام مندر آندولن کے سبب برہمن طبقہ بھی بڑی تعداد میں بی جے پی کے ساتھ جڑا، لیکن ہم اسی 20 فیصد کے بیچ کی ہی سیاست کرتے رہے۔ ہم نے 40فیصد پچھڑوں او ر20 فیصد دلتوں کی طرف دھیان نہیں دیا،یہ 60 فیصد طبقہ ہم سے چھوٹتا چلا گیا۔ گزشتہ کئی سال سے بی جے پی پر ایک ٹیگ لگا کہ شہری لوگوں کی پارٹی ہے،بی جے پی اعلیٰ ذات کے لوگوںکی پارٹی ہے، بی جے پی امیر لوگوں کی پارٹی ہے۔ ایسے ٹیگ لگاتے تھے لوگ۔ اس میںکچھ سچ بھی تھا۔ انتخابات میںہم شہروں میں زیادہ جیتتے تھے اور دیہی علاقوں میںکم جیتتے تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ تو شہریوں کی پارٹی ہے۔ جیتنے والوں میںپچھڑے اور دلت کم ہوتے تھے اور اعلیٰ ذات کے زیادہ ہوتے تھے۔ اترپردیش میںبی جے پی کو آگے برھانے کے لےے سو فیصد کی سیاست کرنی ہوگی۔ 20 فیصد کی بنیاد پر آپ سنگٹھن تو چلا سکتے ہیں، لیکن سرکار نہیں بناسکتے۔ وسیع سیاست کے لےے ہمیں سو فیصد کی سیاست کرنی ہوگی۔ اگر بی جے پی کو ریاست میںسرکار بنانی ہے، تو سبھی کو ساتھ لے کر چلنا پڑے گا، جو ہمارا اپنا بھی ہے، اسے بھی اور جو ہم سے دور چلا گیا ہے، اسے بھی،جیسے کلیان سنگھ جی کے دور میںبہت سارے لوگ ساتھ تھے، بعد میں دور چلے گئے، انھیںپھر سے ساتھ لایا جارہا ہے۔ سب کو ساتھ لانا ہی ہوگا۔ اگر بی جے پی کو اترپردیش میں سرکار بنانے کی سمت میںبڑھنا ہے، تو ہمیں سب کوساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ سب کو مطلب ،میں 20 فیصد مسلمانوں کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی بات کررہا ہوں۔ ہمیں20 فیصد مسلمانوں کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔ ہم یہ نہیںکر سکتے کہ مسلم سماج کو نظر انداز کرکے سیاست کریں ۔ انھیں الگ کرکے نہیںدیکھا جاسکتا۔ ہم ووٹوں کو بانٹ کر سیاست نہیںکرسکتے کہ یہ ووٹ مسلمانوں کا ہے یا یہ ووٹ مایاوتی کا ہے، یہ ووٹ اِن کا ہے یا اُن کا ہے۔ یعنی سب کو دور کرکے اور اپنے ہی غار میں محدود رہ کر ہم وسیع سیاست نہیںکرسکتے۔ ہم نے جب تجربہ شروع کیا، تو اس کی بہترین مثال سامنے آئی۔ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے ریاست کے انچارج ہونے کے ناتے پارلیمانی انتخاب سے پہلے ایک سال تک گہرائی سے مطالعہ کیا اور اسے دیکھتے ہوئے ہی پارلیمانی انتخاب میں سماجی، سب کو چھونے، سب لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی، جس کا نتیجہ پارلیمانی انتخاب میںہم73 سیٹیںجیت کر آئے۔ دلت اور پسماندہ سماج کے سبھی طبقوں کے بیچ اتنے اچھے ٹکٹ تقسیم ہوئے کہ چھوٹے چھوٹے سماج کے لوگ، جو بی جے پی سے الگ تھے یا اپنا نہیں مانتے تھے، وہ سب بھی جیتے اور بی جے پی سے جڑے۔ یادو کمیونٹی کا ووٹ بھی ہمیں ملا۔ جاٹو سماج کابھی ووٹ ملا۔ ہم نے جاٹو سماج کے لوگوں کو بھی لڑایا اور جتایا۔ اس کا مطلب کیا ہے کہ سماج تیار ہے، لوگ تیار ہیں، ہم انھیںاپنا تو کہیں اور اپنا تو مانیں۔ اس بنیاد پر منصوبہ بنایا گیا، تو نتیجہ اچھاآگیا۔ میرا ماننا بھی یہی ہے کہ اتر پردیش میںجو ہمارے ہیں، وہ تو ہیں ہی، انھیںساتھ لے کر چلناہے، ان کی فکر کرنی ہے،ان کو اہمیت ملنی چاہئے، کیونکہ پارٹی تو انھوںنے کھڑی کی، زندگی تو انھوں نے لگائی، اس لےے ان سب کی بھی فکر کرنی ہے، لیکن سیاست میں آگے بڑھنا ہے، تو سب کوساتھ لے کر چلنا ہی ہوگا۔ جو آپ نے کہا ٹھیک ہے، کچھ ایسے لوگ ہیں، جو اپنا دبدبہ ٹوٹتا دیکھ کر منفی گفتگو کرتے ہیں، یا نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں،لیکن ہم جس طرح کے منصوبے بنارہے ہیں، اس میں بی جے پی میں سبھی لوگ ساتھ میںرہیں گے۔
سوال: رام مندر کی تعمیر کا مسئلہ بی جے پی کے لےے ترجیح کے طورپر نہیں رہا۔ سو فیصد کو ساتھ لے کر چلنے کی دلیل میں یونیفارم سول کوڈ اور دفعہ 370 کے مسئلے سے بچنے کا طریقہ تلاش کرتا ہوا بی جے پی کا چہرہ نظر آتا ہے۔ اترپردیش میں انتخاب سامنے ہیں،اسے لے کر آپ لوگوں کو کیا جواب دیں گے؟ رام مندر انتخاب کا مسئلہ بنے گا یا نہیں؟
بنسل: دیکھئے ہمارے قومی صدر امت شاہ جی نے واضح طور پر کہا ہے کہ رام مندر ہمارے لےے انتخاب کا مسئلہ نہیںہے، یہ ہماری آستھا کا مسئلہ ہے۔ جب بھی انتخاب آتا ہے، تو رام مندر کاتذکرہ شروع ہو جاتا ہے۔ سنہستھ کمبھ میںبھی سادھو سنتوںنے یہ مانگ کی۔ چلے گا یہ سب، اس طرح کی باتیںتو چلتی ہی رہیںگی۔ لیکن یہ واضح ہے کہ رام مندر بی جے پی کا انتخابی مدعا نہیںہے۔ہم رام مندر کے مدعے پر انتخاب نہیںلڑنا چاہتے، رام مندر ہمارا پولیٹکل ایجنڈا نہیں ہے۔
سوال: ابھی کچھ دنوں پہلے رام مندر کا چرچا خوب تیز ہوا۔ سبرامنیم سوامی تو یہاںتک بول گئے کہ ایک مہینے کے اندر ہی مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار ہوجائے گا۔ لیکن پھر بی جے پی نے اچانک خاموشی اختیار کر لی۔ بی جے پی نے ا چانک اپنا پینترا کیوں بدل لیا؟
بنسل: دیکھئے رام مندر کو لے کر ہم نے کوئی پینترا یا حکمت عملی نہیں بدلی۔ ہمارا واضح طور پر ماننا ہے کہ یہ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ رام مندر انتخابی مسئلہ نہیں ہے، یہ آستھا کا موضوع ہے۔ ہمارا کمٹمنٹ ہے کہ رام مندر بنے،لیکن اس کوانتخابی ایشو بناکر، ایجنڈا بنا کر کرنے کا کوئی فائدہ نہیںہے۔
سوال:نئے ریاستی صدر کیشو موریہ جس ذات سے آتے ہیں، اسے مو¿ثر سیاسی فیکٹر کے طور پر کبھی نہیں دیکھاگیا۔ آپ اس کا کیا فائدہ دیکھتے ہیں؟ پسماندہ طبقے کی دیگر دبنگ ذاتیں جیسے کُرمی کمیونٹی کے ووٹروں کی ایک مشت حمایت پانے کی منشا کے تحت سینئر لیڈر بینی پرساد ورما کو بی جے پی میں لانے یا بی ایس پی کے سینئر لیڈر سوامی پرساد موریہ کو پارٹی میںشریک کرانے کی اندرونی تیاریاںمیز پر کب آرہی ہیں، کیونکہ وقت تو اب اسے ظاہر کرنے کا آچکا ہے؟
بنسل: ایسا ہے کہ میںنے پہلے بھی کہا کہ اب سو فیصد سب کو ساتھ لے کر چلنے کے منصوبے پر پارٹی گامزن ہے۔ ہم کسی بھی سینئر لیڈر کا اپنی پارٹی میں احترام و عزت کے ساتھ خیر مقدم کرنے کو تیار ہیں۔ جہاںتک کیشو موریہ کے صدر بنائے جانے کا مسئلہ ہے، وہ پارٹی کے پرانے وقف کارکن ہیں، سنگٹھن کے سسٹم سے نکلے ہوئے ہیں اور دوسرے یہ کہ وہ جس کمیونٹی سے آتے ہیں، اس میںبھی بہت جوش ہے اور وہ پارٹی سے بڑے پیمانے پر جڑ رہے ہیں۔ پارلیمانی انتخاب کے بعد اترپردیش کاسوشل کمبی نیشن بدلا ہے۔ فطری طور پر اب لوگ بی جے پی کے ساتھ جڑرہے ہیں۔ اس طرح کا اب آرام دہ اور پرسکون فطری ماحول بن رہا ہے۔ میںابھی بینی پرساد ورما جی یا سوامی پرساد موریہ جی کا نام واضح طور پر نہیںلے رہا،لیکن ایسے بڑے لیڈر جو کانگریس میںہوں یا بی ایس پی میںہوں یا سماجوادی پارٹی میںہوں اور وہاںخود کونظر انداز محسوس کررہے ہوں یا پریشان ہوں، تو بی جے پی ان کا خیر مقدم کرے گی اور عزت دے گی۔ دیکھئے پولیٹکس میںایسی کئی باتیںہوتی ہیں، کیا ہوتا ہے، کیا فیصلہ ہوگا، آخری وقت تک پتہ نہیں ہوتا۔ جہاں تک بی جے پی کی لیڈرشپ کا سیاق و سباق ہے، تو میںیہ کہہ سکتا ہوںکہ پارلیمانی انتخاب کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی میں ہر ذات اور ہر کمیونٹی کا مو¿ثر لیڈر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
سوال: اس بار اترپردیش میںالیکشن لڑنے کے لےے بھارتیہ جنتا پارٹی زون وائز الیکشن لڑنے کی حکمت عملی بنا رہی ہے۔ زون کو اہم ذمہ داری دے کر اور اسے نتیجہ خیز بناکر الیکشن لڑنے کی حکمت عملی کیا پارٹی کے لےے عملی ثابت ہوگی؟ یا یہ فارمولہ کاو¿نٹر پروڈکٹو ثابت ہوگا؟
بنسل: ایسا ہے کہ بی جے پی میں پہلے سے زون بنے ہوئے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ریاست میں آٹھ زون ہیں، ان کے صدور ہیں، مجلس عاملہ ہے، باقاعدہ پوری ٹیم ہے۔ یہ زون اسٹیٹ کی فنکشنگ کا حصہ ہیں، جو ضلع اور ریاست کے بیچ میں کڑی کی طرح کام کرتے ہیں۔ اب آٹھ زون کو کم کرکے چھ زونوں میںتبدیل کیا جارہا ہے۔ اترپردیش اتنی بڑی ریاست ہے کہ الیکشن مینجمنٹ کو کارگر طریقے سے نتیجہ خیز بنانے کے لےے چھ زونوں کا مو¿ثر بنایا جانا ضروری ہے۔ چھ زون اتنے طاقتور ہوں کہ انتخابی تشہیر مہم سے لے کردوسرے انتظامات سب کارگر طریقے سے ہو سکیں اور اس کی صحیح مانیٹرنگ کی جاسکے، یہ اکیلے لکھنو¿ سے ممکن نہیں۔
سوال: اتر پردیش کی ساری سیاسی پارٹیوں میں انتخابی سرگرمیاں اور تیاریاں دکھائی دے رہی ہیں، لیکن بی جے پی کی تیاری میز پر کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔ یہ حکمت عملی کا حصہ ہے یا تیاری کا فقدان ہے؟
بنسل: بی جے پی کی تیاری تو پچھلے چھ مہینے سے چل رہی ہے۔ بوتھوں کی تشکیل کاکام چل رہا ہے۔ ایک لاکھ 40 ہزار بوتھوں میں سے ایک لاکھ 13 ہزار بوتھوں کی تشکیل ہوچکی ہے۔مئی کے مہینے تک بوتھوں کی تشکیل کا باقی کام بھی پورا ہوجائے گا۔ بوتھوںکی تشکیل کے کام کو ساتھ ساتھ ویریفائڈ بھی کیا جارہا ہے، ووٹر لسٹ اور دوسری دستاویزات کے ذریعے۔کل بوتھ ہیںایک لاکھ 40 ہزار۔ گرامودے سے ہندوستان اُدے پروگرام کے تحت 56 ہزار گرام پنچایتوں میں سے قریب 36 ہزار گرام پنچایتوں میںبی جے پی کے کارکن گئے اور مودی سرکار کے کام کاج اور کامیابیوںکولوگوںکو بتایا۔ گاووں میںچھوٹی چھوٹی چوپالیں لگاکر لوگوںسے بات چیت کی۔ ہم لوگ 56 ہزار گرام پنچایتوں میں جائیںگے۔ الیکشن کی تیاریاں تو ہماری چل رہی ہیں،لیکن بہت ہی سائلینٹلی گراو¿نڈ لیول پر چل رہی ہےں۔ یہ حکمت عملی ہے،یہ گراو¿نڈ لیول پر ہماری کیمپین ہے،جس کا اثر الیکشن میں دکھائی دے گا۔
سوال: ریاستی صدر چننے میں دیر کیوںہوئی؟ ابھی تمام کمیٹیاںبنانی باقی ہیں، ریاستی مجلس عاملہ کی بھی تشکیل ہونا ابھی باقی ہی ہے، تو پارٹی الیکشن کب لڑے گی؟
بنسل: ریاستی صدر بننے میں تقریباً ایک ماہ کی تاخیر ہوئی۔یہ مانتاہوںدیر تو ہوئی،لیکن درست ہوئی۔ اس کا ایک پولیٹکل امپیکٹ بھی پورے اترپردیش میںگیا ہے۔ اس لےے اس نظر سے باقی ہوم ورک پورا کرکے رکھا ہوا تھا۔ مئی تک تنظیمی کام پوراکر لیا جائے گا۔ ضلع صدور کے سلیکشن کا کام تقریباً پورا کرلیا گیا ہے۔ مئی میںہی ضلع کمیٹیاںبن جائیںگی اور ریاستی مجلس عاملہ بھی تشکیل کرلی جائے گی۔ نیا تنظیمی ڈھانچہ کھڑا کرنے کاکام مئی کے مہینے میںمکمل ہوجائے گا، یعنی اس سے زیادہ تاخیر ہم اور نہیںکریںگے اور اس کے بعد ہم سب انتخابی عمل میںاترجائیںگے۔
سوال: نئے صدر کو اپنے مطابق ٹیم چننے کا کوئی موقع نہیںملا۔ صدر چنے جانے سے پہلے ہی تقریباً50 ضلع صدور چن لےے گئے تھے، یہ کون سا جمہوری عمل ہے؟
بنسل: بی جے پی میں تنظیم کے انتخاب کا ایک عمل ہے، جسے ہر تین سال کے وقفہ میںمکمل کرلیا جاتا ہے، بوتھ سے لے کر قومی صدرتک۔ سب سے پہلا کام بوتھ اکائی کا صدر چننا، اس کے بعد ان کے ذریعہ منڈل صدر چننا او رمنڈل کے صدور کے ذریعے ضلع صدور کا انتخاب کرانا۔ اس کے بعد ضلع صدور ہی ریاست کے صدر کوچنتے ہیں۔ اس عمل کے لحاظ سے یہ تو ضروری ہے نہ کہ ریاستی صدر سے پہلے ضلع صدور چن لےے جائیں۔
سوال: اول تو اترپردیش میں ضلع صدور کا سلیکشن انتخاب کے عمل سے ہوا ہی نہیں۔ الیکشن کے عمل کے درمیان اختلاف، گٹ بازی اور تشدد جیسے کئی واقعات سطح پر آئے۔ بعد میںسارا فیصلہ بند کمرے میں ہی لینا پڑا۔ ریاستی صدر چنے جانے سے پہلے تقریباً 50 ضلع صدور چنے گئے۔ آپ کہتے ہیںکہ ضلع صدور مل کر نیا ضلع صدر چنتے ہیں، تو سارے ضلع صدور پہلے ہی کیوں نہیں چن لےے گئے، 25 چھوڑ کیوںدےے گئے؟ ضلع صدور کو اپنا ریاستی صدر چننے کا موقع کیوںنہیں دیا گیا؟ قومی صدر نے اپنے من اور اپنے من پسند کا ریاستی صدر کیسے نامزد کردیا؟ اس سے کیا جمہوری عمل میںخلل نہیںپڑا؟
بنسل: عام طور پر الیکشن کا مطلب یہ نہیںہے کہ ووٹ ڈالے جائیں۔ الیکشن کا مطلب یہ بھی ہے کہ اتفاق رائے سے سب لوگ مل کر چن لیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میںہم نے اس عمل کو اپنایاکہ سب مل کر چن لیں، اس سے تنظیم کا اجتماعی فیصلہ ابھر کرسامنے آتا ہے۔ اس بار کے ضلع صدور کے انتخاب میںاجتماعی فیصلے کی بنیاد پر ہی، یعنی الیکشن آفیسر گئے، منڈل صدور سے رائے لی، سینئر رہنماو¿ںسے بات کی اور اس بنیاد پر جو پینل بنا اس کی بنیاد پر ہی ضلع صدر چنے گئے۔ اس بار اپنائے گئے اس عمل میںکہیںسے بھی کوئی مخالفت سامنے نہیں آئی۔ ضلع صدر ایک ایسا نمائندہ چنا جاتا ہے،جو ریاستی صدر کے انتخاب میںووٹر ہوتا ہے، وہی ریاستی صدر کا انتخاب کرتا ہے۔ اس طرح ریاستی صدر چنے جانے کا باقاعدہ ایک عملہوتاہے۔
سوال: یعنی کاغذ پر سارے عمل اپنائے جاتے ہیں۔ کیشو جی کا انتخاب تو اس عمل سے ہوا نہیں ۔کیشو جی کا انتخاب تو قومی صدر کی نا مزدگی سے ہوا؟
بنسل: کیشو جی کا انتخاب نہیںہوا، ان کا نامنیشن ہوا۔ 50 فیصد اگر ضلع صدور چن لےے گئے ہوں، تو ریاستی صدر کا انتخاب ہوسکتا ہے۔ اسی طرح 50 فیصد اگر ریاستی صدر چن لےے گئے ہوں، تو قومی صدر چنے جاسکتے ہیں۔ قومی صدر کا انتخاب ہوجانے کے بعد انتخاب کا عمل ختم ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد جو ہوگا، وہ قومی صدر کے نامنیشن سے ہی ہوگا۔ قومی صدر کے ذریعہ کیشو جی ریاستی صدر نامزد کردےے گئے۔ اب کیشو جی بچے ہوئے ضلع صدور کو نامزد کررہے ہیں۔
سوال: بڑے بڑے لیڈروںکے چھوٹے چھوٹے مفاد، جو پارٹی کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اس سے نمٹنے کی کوئی حکمت عملی ہے کہ نہیں؟
بنسل: سینئروں کاپارٹی میں احترام رہنا چاہےے۔ دیکھئے ہمارا ماننا ہے کہ بی جے پی میں جو بھی ہمارے ایسے ساتھی ہیں، ان کا بھی توخواب ہے کہ بی جے پی ریاست میں پھر سے طاقتور بنے۔ بی جے پی اگر آگے نہیںبڑھے گی، تو میں کیسے آگے بڑھوں گا۔ اگر بی جے پی کی سرکار نہیںبنتی ہے، تو میں بھی چھوٹا ہی نیتا بنا رہوںگا۔ پارٹیبڑھے گی، تو سب کا قد بڑھے گا۔ اس لےے سب لوگوں کا تنظیم میںاستعمال کرتے ہوئے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی حکمت عملی ہم بنا رہے ہیں، اس سے کوئی اپنے آپ کوالگ نہیں سمجھے۔ سب کو ساتھ لے کرچلنے سے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم پرانے لوگوںکو چھوڑ دیں اور نئے لوگوںکو لے کر آگے چلیں۔
سوال: ہر صبح ایک چرچا ہوتا ہے کہ بنسل تو آج رہے ہیں، اس کا فیڈ بیک آپ کوبھی ملتا ہوگا۔ اس کا کیڈر میںمنفی اثر جارہا ہے۔ یہ بات بہت ہی منظم طریقے سے پھیلائی جارہی ہے ۔ اس طرح کے منفی تذکرے پارٹی کے ان کارکنوںکاحوصلہ توڑ تے ہیں کہ نہیں، جو نئے نظام میںعزم کے ساتھ منسلک ہیں؟ آپ ان حالات سے نمٹنے کے لےے کیا کررہے ہیں؟
بنسل: میرا کافی لمبا عرصہ ہوگیا سماجی زندگی میںکام کرتے ہوئے، تقریباً 26 سال لگ گئے سماجی کام میں۔ ایسے معاملوںمیںمیرا ماننا ہے کہ اپنا کام ایمانداری سے کرتے چلنا ہے۔ اسی مول منتر پر چلنے کے سبب میںنہ پریشان ہوتاہوں اور نہ ہی مایوس ہوتا ہوں۔ میرا کام ہے کرنا، اسی وجہ سے دھیرے دھیرے جو ایسے لوگ ہیں، وہ اپنے آپ تنظیم میںآئسولیٹ ہورہے ہیں۔ اپنے آپ ہورہا ہے یہ سب۔ ان کے لےے ایسا الگ سے کرنے کی ضرورت نہیںہے ۔ کیونکہ ایک بڑا طبقہ ہے جس کے دل میںبہت جوش ہے۔ کارکن گراو¿نڈ پر چاہتا ہے کہ بی جے پی کھڑی ہو ،تبھی تو وہ موٹیویٹ ہوکر اترپردیش میںدوکروڑ تین لاکھ ممبر بنا لیتا ہے، جبکہ ہم لوگوں نے ڈیڑھ کروڑ کا ہدف رکھا تھا۔ یہ کچھ لوگ نہیںہےں، بلکہ بی جے پی کے لاکھوںکارکن ہیں،جو زمینی سطح پر کام کرتے ہیں۔ بی جے پی کا کارکن 50 لاکھ فارم بھرواکر لے آتا ہے، اسے آپ کیا کہیںگے۔ دو کروڑ تین لاکھ ممبران کا پورا ڈاٹا پارٹی کے پاس ہے، ضلع وار، بوتھوار اور ودھان سبھا وار۔ جنھیںلگتا ہے کہ ان کی مونوپولی ختم ہورہی ہے، یہ در اصل قصور کسی شخص خاص کا نہیںہے،یہ مائنڈ سیٹ بن گیا ہے ایک طویل عرصہ کے درمیان۔ ان کے دماغ میںیہ ہے کہ بی جے پی میں گٹ بازی ہوگی،نسل پرستی ہوگی،طواف ہوگا، لیڈروں کے آگے پیچھے گھومو، لوگوں نے سالوں سے یہی سیاست کی ہے۔ جو دیکھا اسی کی نقل پر چلتے رہے اور پوری پارٹی طواف اور مٹھائی کے پیکٹ پر چلتی رہی۔یہی بڑے لیڈروں نے دکھایا، بتایا اور سب نے یہی سیکھا۔ لیکن جب ہم لوگوں نے زمینی سطح پر کام شروع کیا، تو یہ میسج گیا کہ کام کرو، تبھی پار ٹی میں آگے بڑھ سکوگے۔
سوال:نئے نظام کے تحت اب تنظیمی میٹنگوں میںتقریری مقابلوںکا بورنگ چلن ختم ہوا ہے۔ اب چنے ہوئے لوگ ہی بولتے ہیں اور پروڈکٹو میٹنگیںہوتی ہیں۔ اس سے بات بہادر نیتا ناخوش ہیں، اسے آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
بنسل: اس میںکئی مسائل تھے۔ پہلے تو چھ مہینے میںنے کئی باتیںآبزرو کیں۔ میٹنگ میںاسٹیج پر پیچھے سے کرسیاں اٹھ اٹھ کر آتی رہتی تھیں اور دھیرے دھیرے اسٹیج لیڈروںسے بھرجاتا تھا۔پھر استقبال کا سلسلہ چلتا تھا۔ پھر تقاریر کا سلسلہ شروع ہوتا تھا۔ سامنے بیٹھا کارکن اوبتا تھا، اونگھتا تھا۔ اس کی مجبوری تھی کہ وہ لیڈروں کی تقریر سننا ڈیوٹی سمجھتا تھا۔ پھر میںنے سمجھا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ میٹنگ میںآنے کی رسم پوری کرنے کے چلن کو میںنے روکا۔ میٹنگ کو پروڈکٹو بنایا۔ اب میٹنگیںہوتی ہیںاور ان میںوقت کاکریٹو استعمال ہوتا ہے۔ اب میںنے پورے سسٹم کو ٹو- وے کردیا ہے، تاکہ کارکن بھی اپنا سیدھا جڑاو¿ محسوس کرسکیں۔ بغیر انوالومنٹ کے کامیابی نہیں مل سکتی۔
سوال©: چلتے چلتے یہ سوال بھی۔۔۔ ملک کے خلاف اب کھلے عام نعرے لگ رہے ہیں، آئین اور قانون کے خوف کا احاطہ جیسے ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ آپ کی راشٹروادی سرکار اس سے نمٹنے میں ڈرتی کیوںہے؟ کیا صرف بھارت ماتا کی جے کہنے سے کام چل جائے گا؟
بنسل: ایسا لگتا ہے کہ اور سخت قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ ملک کے سا تھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہےے۔ ایسے قانون جن کا سہارا لے کر ایسے عناصر بچ جاتے ہیں، انھیںروکنے کے لےے اور سخت قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ اس مسئلے پر سماج مین بیداری پیدا ہوئی ہے،یہ مثبت اشارہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *