پرانی دہشت گردی ،نئی دہشت گردی

میگھاد دیسائی
مدن لال ڈھنگرا لندن میں شیام جی کرشن کے ذریعہ چلائے جانے والے ’انڈیا ہاﺅس ‘ میں ٹھہرے تھے، ساورکر بھی وہیں مقیم تھے۔ ڈھنگرا نے وایسرائے کے اے سی ڈی رہ چکے کرزن وائلی کا قتل کر دیا۔ لندن میں مقیم ہندوستانیوں کے ایک بڑے اجلاس میں ڈھنگرا کی مذمت کرنے کے لئے ایک تجویز پیش کی گئی۔ یہ تجویز متفقہ طور پر پاس ہوگئی ہوتی اگر ساورکر نے آگے آکر مداخلت نہ کی ہوتی اور ڈھنگرا کی انقلابی دہشت گردی کا بچاﺅ نہ کیا ہوتا۔ موہن داس گاندھی ،جو اس وقت تک مہاتما نہیں بنے تھے، نے ڈھنگرا کے ذریعہ کی گئی کارروائی کی مذمت کی تھی۔
کانگریس کے کراچی اجلاس میں مہاتما گاندھی نے کم و بیش یہی رخ بھگت سنگھ کے سلسلے میں بھی اختیار کر رکھا تھا۔ انہوں نے بھگت سنگھ کو سنائی گئی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کے لئے وایسرائے لارڈ ایرون سے بات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ آزادی¿ ہند کی لڑائی کے دوران نوجوانوں کے ذریعہ پُر تشدد کارروائی کی گاندھی اور کانگریس دونوں نے ہمیشہ مخالفت کی۔ تشدد کی مخالفت جہاں گاندھی کے لئے اصول کا معاملہ تھا، وہیں ان کے حامیوں کے لئے یہ صرف ایک حکمت عملی تھی۔ آزادی کے لئے لڑائی میں عدم تشدد کی راہ اپنا کر کامیابی کی امید کی جارہی تھی اور ایسا ہوا بھی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تشدد کے ذریعہ سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے لوگوں کی اہمیت کم ہو گئی۔ لہٰذا آزادی کی لڑائی کی تاریخ میں بھگت سنگھ جیسے لوگ حاشئے پر چلے گئے۔
بھلے ہی آزادی کی لڑائی میں کانگریس نے پُر تشدد کارروائی کی حمایت نہیں کی ہو، لیکن دہشت گردی سب کے لئے منفی لفظ نہیں تھا۔ برطانیہ میں لوگوں کو آئیرلینڈ کی آزادی کے لیے سرگرم تنظیموں سین فین اور آئی آر اے کی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ امریکہ میں مقیم آئریش لوگ ان گروہوں کی مالیمعاونت کرتے تھے۔ دراصل آئرش امریکن برطانیہ کے لوگوں سے نفرت کرتے تھے۔ خالصتان آندولن کے وقت ہندوستان نیشنلسٹٹیرورزم کا شکار بنا اور پھر شری لنکا میں تمل ایلام آندولن کے وقت بالواسطہ طور پر دہشت گردی کا شکار ہوا جس میں راجیو گاندھی کی جان گئی۔ یہ باتیں 1990 کی دہائی کے ابتدائی دور کی ہیں۔
دہشت گردی کو منفی روپ میں دیکھنے کا کا رواج 1990 کی دہائی کے آخر کچھ سالوں سے شروع ہوا جب پہلی بار امریکہ نے اس کا تجربہ کینیا میں اپنے سفارت خانے اور یو ایس ایس کول پر ہوئے حملے کی شکل کیا۔ اور نائن الیون کے حملہ بعد تو دہشت گردی امریکہ کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا۔ نتیجے میں یہ دنیا کا بھی سب سے بڑا مسئلہ بن گیا۔ آج کی طرح اس وقت بھی امریکہ اکلوتا سپر پاور ،یا جیسا کہ فرانسیسی کہتے ہیں ہائیپر پاور تھا، لہٰذا 21ویں صدی کے آغاز سے ہی کسی غیر سرکاری گروہ کے ذریعہ کسی بھی پُر تشدد سیاسی سرگرمی کو منفی نقطہ نظر سے دیکھا جانے لگا۔
القاعدہ نے دہشت گردی کی کارروائی اور دہشت گردی مطلب کو ہی بدل دیا۔ بہرحال، دہشت گردی کوئی سیاسی ہدف حاصل کرنے کی غیر سرکاری کارروائی ہوتی ہے۔ انوشیلن گروپ یا بھگت سنگھ کی لڑائی ان افسروں کے خلاف تھی جو سامراج وادی طاقتوں کی نمائندگی کرتے تھے۔ شروعات میں شمالی آئر لینڈ کی انقلابی جدوجہد کا بھی یہی طریقہ تھا۔ شمالی آئرلینڈ میں 20ویں صدی کے آخر میں دہشت گردانہ سرگرمیاں فرقہ وارانہ ہو گئیں اور عام لوگوں کو بھی اس کا نشانہ بنایاجانے لگا۔ لیکن، ایک بار جب امریکہ دہشت گردی کے خلاف ہو گیا تو اس نے شمالی آئر لینڈ کو دی جانے والی معاشی مدد پر روک لگا دی، جس کے بعد وہاں امن قائم کرنا آسان ہو گیا۔
جدید دہشت گردی ،خاص طور پر جہادی دہشت گردی میں شہری ٹھکانوں کو نشانہ بناتا ہے۔جس کا مقصد ہوتا ہے اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو یہ پیغام دینا کہ نظریاتی اور سیاسی جنگ جاری ہے۔ جہادی لڑائی کی نہ تو کوئی سرحد ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی آخری مقصد ہوتا ہے۔ سوائے اس کے کہ سب کو وہابی مسلمان بنا دیا جائے۔ لہٰذا یہ دوسرے ملکوں کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کو بھی اپنا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ نہ تو بات چیت کرناچاہتے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی آخری ہدف ہے۔ اب تشدد کی تکنیک میں ترقی نے دہشت گردوں کو شہری گوریلا کے طور پر ایک ہی کوشش میں کئی لوگوں کومار نے کی صلاحیت فراہم کر دی ہے۔
دراصل ،بھگت سنگھ کی انقلابی دہشت گردی ایک الگ دنیا کی چیز تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *