پانی کو ترس رہے بندیل کھنڈ میں پانی کی طرح بہہ رہا ہے پیسہ

اسرار پٹھان

p-7ترقی کی توضیح کرنے کے لئے آج ہم جس جدید تکنیک کا حوالہ دیتے ہیں، اسی جدید تکنیک کو بنیاد بناکر جرائم پیشہ گروہ سماج کو سٹے کی سوغات دے رہے ہیں۔ ٹیلی ویژن ، انٹر نیٹ اور موبائل کے سہارے کھیلے جانے والے اس کھیل کا ویسے تو پورا ملک ہی شکار ہے،لیکن بندیل کھنڈ میں اس کی جڑیں کچھ زیادہ ہی گہرائی تک دھنس چکی ہیں۔گزشتہ دنوں جھانسی میں گینگ وار، اس میں ہوئی ایک سٹہ مافیا کی موت اور اس قتل میں شامل ملزموں کی ابو سلیم تک رسائی ہونے جیسا خلاصہ اس بات کے ثبوت کے لئے کافی ہے کہ صوبے کا سب سے پچھڑا ہوا یہ خطہ، اب سٹے بازوں کے چنگل میں ہے۔ سٹہ کاربار سے جڑے لوگ یہاں کی مفلسی کو کیش کرا رہے ہیں اور تنگ حالی کے شکار لوگوں کو راتوں رات لکھ پتی بنانے کا سبز باغ دکھا کر انہیں کنگال کررہے ہیں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اسمگلنگ میں جدید تکنیک کا اہم رول ہے، لیکن جرائم پیشہ عناصر نے سوشل میڈیا جیسی تکنیک کا سہارا لے کر جوئے اور سٹے کو نئی پہچان دے دی ہے۔ اس کی چمک میں پھنس کر لوگ اپنا سب کچھ گنوا رہے ہیں۔ جوئے کے بطن سے پیدا ہونے والے سٹہ کاروبار نے جس تیزی سے قدم آگے بڑھایا ہے ، وہ چونکانے والا ہے۔ دبئی اور ممئی سے چلا یہ سٹہ کاربار کب اور کیسے بندیل کھنڈ میں جڑیں جما گیا، کسی کو نہیں معلوم،لیکن آج بندیل کھنڈ میں سٹہ کاروبار کی ایک بڑی منڈی بن گئی ہے، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ جھانسی جیسے شہر سے لے کر چتر کوٹ کے بیہڑوں تک اس کھیل کا بول بالا ہے۔ یہ کھیل یہاں کس پیمانے پر کھیلا اور کھلایا جاتا ہے، اس کا خلاصہ تب ہوا جب گزشتہ 6 اپریل کو بندیل کھنڈ کا سٹہ کنگ ٹھاکر سندر مارا گیا۔ جھانسی شہر کے تھانہ پریم نگر کے تحت دھوبیان محلے میں ہوئے اس حادثہ کو ابتدا ئی جانچ میں آپسی رنجش بتا رہی پولیس تب حیران رہ گئی جب اس گینگ وار کے پیچھے سٹہ کارو بار اہم وجہ نکلی۔ مقامی پولیس کے اس وقت تو ہوش ہی اڑ گئے جب پکڑے گئے قاتلوں میں سے ایک نے انڈر ورلڈ ڈان داﺅد ابراہیم کے داہنے ہاتھ کہے جانے والے اور سٹہ کے جنم داتا بو سلیم سے خود کی نزدیکی کا خلاصہ کیا۔ بتاتے ہیں کہ ابو سلیم کا یہ قریبی توفیق احمد عرف عاشق عرف مراٹھا 2006 سے 2001 تک ممبئی میں اس کے لئے کام کرچکا ہے۔ موجودہ وقت میں جھانسی کے سلبٹ گنج میں رہ رہا مراٹھا ممبئی سے آنے کے بعد یہاں کے ایک سٹہ مافیا ذیشان خان کے ساتھ جڑ گیا۔ وہی ذیشان خان جو اس شہر کے سٹہ کنگ کہے جانے والے ٹھاکر سندر سنگھ کو پٹخنی دے کر خود جھانسی میں اس کارو بار پر اپنی دھاگ بیٹھا نا چاہتا تھا اور اس نے اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنا ہدف پورا کرلیا ۔
جھانسی میں ہوا یہ حادثہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بندیل میں سٹہ کاروبار کس پیمانے پر اپنے پیر پھیلا چکا ہے اور اس قتل میں برسراقتدار پارٹی کے ریاستی سکریٹری اوما شنکر یادو کے بھائی کشن یادو کی نزدیکی اور اب تک اس کا پکڑا نہیں جانا ثابت کرتا ہے کہ اس میں برسراقتدار لیڈروں کی سرپرستی اور رضامندی شامل ہے۔ لہٰذا اس دھندے کو پولیس کی شہہ ملنا بھی فطری بات ہے۔ پولیس کو اس کھیل کی آمدنی سے ایک بڑا حصہ دیا جاتاہے ۔ سٹے کے اس غیر قانونی کھیل کا دائرہ جھانسی تک ہی محدود نہیں ہے۔ للت پور، جالون، حمیر پور، چتر کوٹ، باندہ اور مہوبا ضلعوں میں بھی یہ کھیل بڑے پیمانے پر کھیلا اور کھلایا جارہا ہے۔ آج بندیل کھنڈ کے ہر شہر اور قصبے میں ڈھیروں سٹہ بوکی موجود ہیں۔ مہوبا ضلع میں تو کچھ بوکی باقاعدہ آفس کھول کر اپنے اس گھنونے کام کو انجام دے رہے ہیں۔ اس کھیل کی سمجھ رکھنے والے لوگوں کی مانیں تو سٹے باز گاڑیوں کی آمدو رفت کے وقت، راستے پر چلتے مسافروں کی نقل و حرکت پر اور کرکٹ پر جب جہاں جو موقع ملا ،اس پر داﺅ لگانے سے نہیں چوکتے۔ حالانکہ کرکٹ ان کی پہلی پسند ہے۔ سٹہ بوکی بتاتے ہیں کہ ایشیا کپ اور ٹی ٹوینٹی میں اکیلے بندیل کھنڈ سے لگ بھگ سو کروڑ کا سٹہ کارو بار ہو چکا ہے۔ موجودہ وقت میں چل رہے آئی پی ایل میں بھی اتنا ہی ہونے کی امید ہے۔ حالانکہ ان کے ذریعہ بتائے جانے والے یہ اعدادو شمار کوئی سرکاری ریکارڈ تو ہے نہیں،پھر بھی اس سے دھندے کے پھیلاﺅ کا اندازہ تو مل ہی جاتا ہے۔ جس بندیل کھنڈ میں تنگ حالی اور بھکمری اپنے عروج پر ہو، وہاں اس طرح کے کھیل کو بڑھاوا دیا جانا کیا صحیح ہے۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب صرف خاموشی ہے۔ عام آدمی میں اور اس کھیل میں پھنس کر تباہ ہو رہے نوجوانوں کے والدین میں بے چینی دیکھی جاسکتی ہے،لیکن مفاد پرست لیڈر اور خود غرض پولیس کے چہرے پر شرم کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بندیل کھنڈ میں سٹے کا کارو بار اب گینگ وار کی شکل اختیار کرنے لگا ہے۔

بڑے بڑے لگا رہے ہیں داﺅ
سٹہ ایسا کھیل ہے جس میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کے جیتنے کے امکانات کا فیصد بہت کم ہوتاہے۔ بوکی اور ان کے ایجنٹ پرانے اور تجربہ کار کھلاڑیوں کے مقابلے میں نئے لوگوں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ نئے کھلاڑی اندازے پر کھیلتے ہیں جبکہ پرانوں کی پینی نظر اس کھیل کے اعداد وشمار پر ہوتی ہے۔ سٹے کا شوق صرف بگڑے نوجوانوں کا نہیں بلکہ لیڈر، سرکاری بابووں،کاروباری اور گزیٹیڈ افسروں تک کو ہے جو اس کھیل میں بڑے بڑے داﺅ لگا رہے ہیں۔ بندیل کھنڈ میں قریب دو ہزار سے زیادہ بوکی اور پانچ ہزار سے بھی زیادہ ان کے ایجنٹ سرگرم ہیں جو لاکھوں لوگوں کو اپنا شکار بنا چکے ہیں۔ بوکیوں کا ہی اندازہ ہے کہ بندیل کھنڈ میں ہی فی ماہ دو سے تین کروڑ کے بیچ کا سٹہ کاروبار ہوتاہے۔

محنت کش فاقہ کشی میں ، کروڑ پتی ہو گئے شہدے
جی جان سے محنت کرنے والے اور ایمانداری سے کام کرنے والوں کے مقابلے میں جب شوہدوں کو آپ لگژری کاروں میں دیکھیں تو سمجھ لیں کہ وہ سٹہ کے دھندے سے جڑے ہیں۔ سٹہ کاروبار سے جڑے لوگوں کی بندیل کھنڈ میں یہی پہچان ہے۔ مہوبا، باندہ، چترکوٹ، حمیر پور، للت پور، جالون اور جھانسی میں ایئر کنڈیشنڈ اور لگژری کاروں میں گھومتے ایسے نہ جانے کتنے لوگ آسانی سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ جو کل تک دانے دانے کو محتاط تھے، لیکن آج شاندار عمارتوں کے مالک بن چکے ہیں۔ حیرت اس بات کی نہیں کہ یہ راتوں رات سرمایہ دار کیسے ہو گئے بلکہ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عام آدمی اور معمولی کاروباریوں کو آئین اور قانون کا سبق پڑھانے والے ایڈمنسٹریٹیو آفیسر ایسے دھندے بازوں پر نگاہ کیوں نہیں رکھتے۔ بندیل کھنڈ کے شہر اور قصبوں میں ایسی تمام مثالیں موجود ہیں جو انتظامیہ کے ملی بھگت کو کھلے عام ثابت کرتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *