اڑیسہ: ویدانتا نے اپنا گڑھا خود ہی کھودا

p-10اڑیسہ مائننگ کارپوریشن (او ایم سی) نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کرکے نیمگری میں پھر سے گرام سبھا بلانے کی مانگ کی تھی، تاکہ وہ ڈونگریا کوندھوںکو اپنے حق میں کرکے ویدانتا ریسورسیز کے ساتھ مل کر مقدس سمجھے جانے والی نیمگری کی پہاڑیوں میں مائننگ کرسکے۔ وہیں دوسری طرف مائننگ مخالف سماجی کارکنوں کو نکسلوادی قرار دے کرانھیںہر طرح سے پریشان کیا جارہا ہے۔ بھالیاپدر کے دسارو کڈکرا کو نکسلودی بتاکر ان کی گرفتاری سب سے حال کا واقعہ ہے۔ اب ڈونگریا فہرست قبائل کے لوگ ایک نئی لڑائی کی تیاری کررہی ہےں۔ نیمگری سیکورٹی کمیٹی کے سیکڑوں کارکن اپنے روایتی ہتھیاروں سے لیس ہوکر ”بے قصور“دسارو کو رہا کرنے کے لےے سڑک جام کررہے ہیں۔
وہیںدوسری طرف نیمگری سے کچھ فاصلے پر واقع کوراپُٹ میں ریاستی سرکار نے ویدانتا گروپ کی کمپنی سیسااسٹر لائٹ کو مائننگ کرنے کے لےے لائسنس دے دیا ہے۔ کمپنی کو لیٹرائٹ مائننگ کے نام پر ڈنگا دیولا پہاڑیوں کے باکسائٹ ریزرو علاقے کی 150 ایکڑ زمین دے دی گئی ہے۔ اس علاقے کے لوگوں نے او ایم سی کے اس کھیل کی مخالفت میں ’دھرنا پردرشن‘ شروع کردیا ہے۔ دراصل ویدانتا کی باکسائٹ حاصل کرنے کی کوشش نے نیمگری میں باکسائٹ جنگ کی شروعات کردی ہے۔
اڑیسہ کے کالاہانڈی ضلع کے لانجی گڑھ میںریاستی سرکار نے باکسائٹ کی کمی سے جوجھ رہے ویدانتا گروپ کے ساتھ مل کر آدیواسیوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف مورچہ کھول رکھا ہے۔ یہاں داو¿ں پر ہے لانجی گڑھ میںواقع ایلومینا ریفائنری پلانٹ، جس میںکچے مال کے طور پر استعمال ہونے والے باکسائٹ کی کمی ہوگئی ہے۔ جیسے جیسے یہ لڑائی اپنے انجام کی طرف گامزن ہورہی ہے، لندن کی بنیاد پرکمپنی ویدانتا ریسورس پی ایل سی اور اڑیسہ سرکار ساتھ مل کر اپنا مقصد پورا کرنے کے لےے نئے نئے طریقے اپنا رہے ہیں۔ دراصل اس میںقانونی داو¿پیچ کے ساتھ ساتھ مقامی غنڈوں کا بھی سہارا لیا جا رہا ہے۔
ریاستی سرکار اور ویدانتا کی حکمت عملی کے دو پہلو ہیں۔پہلا یہ کہ او ایم سی نے اس سال سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ نیمگری کی گرام سبھا کی میٹنگ دوبارہ بلانے کا حکم دے۔جس کا مقصد ہے نیم گری میں مائننگ کرنے کے لےے دوبارہ گرام سبھا کی رائے لی جائے۔ 2013 میںسپریم کورٹ کے حکم پر بلائی گئی گرام سبھانے مائننگ کی مخالفت میںاپنی واضح رائے دی تھی۔ اب ویدانتا اور اڑیسہ سرکار سمجھتے ہیں کہ نیم گری میںمائننگ کو لے کر لوگوں کی رائے بدل چکی ہے۔
پچھلے دو سال سے اس معاملے میںچھل کپٹ سے کام لےا جارہا ہے۔ نیم گری میں مائننگ کے لےے انوائرنمنٹ کلیئرنس (منظوری) آسانی سے حاصل کرنے کے لےے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ باکسائٹ کے زخیرے کو لیٹرائٹ کا ذخیرہ بتادیا جائے اور اس کی شروعات ہوبھی گئی ہے۔لیٹرائٹ مائننگ کے لےے مرکزی سرکار کے ذریعہ لاگو انوائرنمنٹ کلیئرنس کی شرائط بالکل بدل جاتی ہیں۔
ویدانتا کی باکسائٹ کی مانگ کو پورا کرنے کے لےے ریاستی سرکار نے ویدانتا گروپ کی کمپنی سیسا اسٹرلائٹ کو ڈنگا دیولا پہاڑیوں میںلیٹرائٹ مائننگ کے لےے لائسنس 2014 میں ہی دے دیا تھا۔یہ لائسنس دو سال کے لےے دیا گیا ہے۔ لیکن اگر سیسا اسٹر لائٹ یہاں لیٹرائٹ تلاش کرنے میںکامیاب ہو گئی ،تو پھر اسے 20 سال کا لیز دے دیا جائے گا۔ چونکہ لیٹرائٹ اُتنی اہم دھات نہیں ہے، اس لےے ریاستی سرکار بھی اس کا لائسنس دے سکتی ہے۔ لیکن اگر باکسائٹ کی مقدار محض آدھی پائی گئی، تو سیسا اسٹرلائٹ کو باکسائٹ مائننگ کی لیز حاصل کرنی پڑے گی اور نیلامی کے موجودہ عمل کو دیکھتے ہوئے یہ یقین کے ساتھ نہیںکہا جاسکتا ہے کہ ویدانتا یا او ایم سی میںسے کسی کے لےے بھی لیز حاصل کرنا آسان ہوگا۔
ریٹائرڈ چیف انجینئر نرسنگھ پانگرہی کہتے ہیں کہ ڈنگ دیولا میںباکسائٹ کی مائننگ سے کوراپُٹ شہر، اس کے آس پاس کے علاقوں اور اوپری کولاب آبی مرکز کے ماحول کو زبردست نقصان پہنچا پائے گا۔ ایسا مانا جارہا ہے کہ باکسائٹ مائننگ سے اس آبی ذخیرے میںسلٹیشن (تلچھٹ) کا عمل اور تیز ہو جائے گا۔کولاب آبی ذخائر سے جے پور اور کوراپٹ شہروں کو پینے کا پانی ملتا ہے۔ ساتھ میں ٹوٹل ساو¿تھ ویسٹ اڑیسہ کو آبپاشی کا پانی اور بجلی کا ذریعہ اسی آبی مرکز سے فراہم ہوتا ہے۔ تاریخی یادگار جیسے کیچلا جین پیٹھ اور شری جگن ناتھ مندر ، کوراپُٹ اور دُمُریپُٹ کے ہنومان مندر کو بھی آلودگی کی وجہ سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ڈنگ دیولا کے آس پاس کے گاووں کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اس پہاڑی سے پانی کی کئی واٹر اسٹریم نکلتی ہیں جو خشک ہو سکتی ہیں اور نتیجے میں انھیںپینے اور آبپاشی کے لےے پانی نہیںملے گا۔ لہٰذا اس پہاڑی کے قریب بسے 10 گاووں کے لوگ او ایم سی اور سیسا اسٹرلائٹ کے ذریعہ اس سائٹ کے سروے کی مخالفت کررہے ہیں اور وہاںتک جانے والے راستے میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ ان گاو¿ں والوں نے ملیم منڈا – کنہائی کمیٹی (ایم کے ایچ ایس ایس) تشکیل کی ہے۔ کیونکہ ڈنگ دیوال کی پہاڑی ملیم منڈا اور کنہائی پہاڑیوں کے بیچ واقع ہے۔ بہرحال 14 دیگر گاو¿ ں کے آدیواسی سنگٹھنوں نے اس لڑائی میں ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی مانگیں پوری نہیںہوتی ہیں، تو وہ انتظامیہ کے خلاف دھرنے پر بیٹھیں گے۔
لیٹرائٹ مائننگ کے لےے دئے گئے لائسنس میںکئی غلطیاں ہیں۔ کبھی کبھی لیٹرائٹ میں25-35 فیصد تک باکسائٹ کی مقدار رہتی ہے، لیکن اگر اتنی مقدار میںبھی باکسائٹ یہاںسے ملتا ہے،تو بھی وہ ایلومینا ریفائنری کے لےے کافی نہیں ہوگا، تو پھر اڑیسہ سرکار کے پاس حل کیا ہے؟ کیا یہ باکسائٹ مائننگ کی لیز ہے، جسے لیٹرائٹ مائننگ کی لیز کے پردے میںدیا گیا ہے؟ ریاست کے اسٹیل اور مائننگ وزیر پرفل ملک کہتے ہیں کہ اب ہمارے سامنے ڈنگ دیولا مائننگ کا کوئی منصوبہ نہیںہے۔ لوگوں کی شکایت بے بنیاد ہے۔ موجودہ مائننگ پالیسی کے مطابق بغیر نیلامی کے کوئی مائننگ نہیں کرسکتا۔ فائدہ کمانے والی ایک کمپنی کے طور پر ویدانتا کے پریشانی تو سمجھ میںآتی ہے، لیکن ریاستی سرکار اس کمپنی کو کچا مال سپلائی کے لےے غلط راستہ کیوں اپنا رہی ہےَ؟ یہ نہ صرف سمجھ سے باہر ہے، بلکہ آسانی سے گلے سے نیچے بھی نہیںاترتا۔
ویدانتا کی مشکلیں
لانجی گڑھ میں ویدانتا ریفائنری کو ہر سال 10 لاکھ ٹن المونیم تیار کرنے کے لےے 33 لاکھ ٹن باکسائٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ فی الحال کمپنی کے پاس کیپٹو باکسائٹ مائن کی کوئی لیز نہیںہے، لہٰذا یہ ریفائنری کچے مال کے لےے پوری طرح سے باہری سپلائی پر منحصر ہے۔ اڑیسہ میںباکسائٹ کے مناسب ذرائع کی کمی سے یہ ریفائنری اپنی باکسائٹ کی مانگ چھتیس گڑھ، آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور نیو گنی سے درآمد باکسائٹ سے پورا کرتی ہے۔
ویدانتا کے نیمگری پہاڑیوں میںباکسائٹ مائن کے منصوبے پر اس وقت بریک لگ گیا جب ڈونگریا کوندھ قبائل نے اس کی مخالفت کرنی شروع کی تھی۔ یہ عقیدہ ہے کہ نیمگری ان کے دیوتا نیم راجہ کا مسکن ہے۔ اپنے تاریخی فیصلے میںسپریم کورٹ نے اس مائننگ منصوبے پر متاثرہ علاقے کی گرام سبھاو¿ںکی رائے لے کر ہی کوئی فیصلہ لینے کے لےے کہا تھا۔ جولائی اگست 2013 میںاس علاقے کی سبھی 12 گرام سبھاو¿ں نے مائننگ لیز کے خلاف فیصلہ لیا تھا، جس نے اس پروجیکٹ کے مستقبل کو طے کردیا تھا۔
گرام سبھاو¿ں کے انکار کے بعد ویدانتا نے 33 بار متبادل باکسائٹ ذخائر کی لیز کے لےے درخواست دی ، لیکن ان کی کوئی درخواست منظور نہیںہوئی۔جہاںتک نیمگری میںمائننگ کا سوال ہے، تو اسے مقامی لوگوں اور سول رائٹ کارکنوں کی زبردست مزاحمت کا سامنا ہے۔ انوائرنمنٹل ریگولیشن بھی ایک بڑی رکاوٹ کے کردار میںہے۔ لانجی گڑھ میںاپنی یونٹ کو بند کرنے کی بات کرکے کمپنی ریاستی سرکار پر دباو¿ ڈال رہی ہے۔ اس یونٹ کی وجہ سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر دس ہزار لوگوں کو روزگار ملا ہوا ہے۔ اگر ریفائنری بند کرنے کی نوبت آئی، تو پھر اس کے ملازم احتجاج شروع کردیں گے۔
ویدانتا نے سب سے پہلے 5 دسمبر 2012 کو باکسائٹ فراہم کی کمی کے سبب عارضی طور پر اپنی یونٹ بند کی تھی، لیکن پھرجولائی 2013 میں اسے چالو کردیا تھا۔ اگست 2015 میں ایک بار پھر کمپنی نے پروڈکشن بند کرنے کی دھمکی دی۔ احتیاط کے ساتھ دیے گئے ایک بیان میںکمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر کے کے دوے نے کہا کہ ہم نے تمام طرح کی پریشانیوں کے باوجود ایک دہائی تک اس یونٹ کوچلایا، لیکن بازار کی موجودہ گراوٹ (باکسائٹ کی بین الاقوامی قیمتوں میںگراوٹ) اور ریاست سے باکسائٹ نہیں ملنے کی وجہ سے یہ یونٹ یومیہ تین کروڑ روپے کے خسارے کے ساتھ چل رہی ہے، لہٰذا ہم ا سے قسطوارطور پر بند کرنے کو مجبور ہیں۔ بہرحال اس اعلان کے کچھ ہی ہفتے بعد کمپنی نے ریاستی سرکار میںایک بار پھر اپنا اعتماد جتایا ہے کہ وہ باکسائٹ کی فراہمی میںاس کی مدد کرے گی اور لانجی گڑھ ریفائنری بند نہیں ہوگی۔
ویدانتا نے اپنا گڑھا خود ہی کھودا
کچے مال کی کمی اور موجودہ بحران ویدانتا نے خود پیدا کیا ہے۔ شروعات میں ساری چیزیں کمپنی کے حق میںتھیں۔ ریاستی سرکار اتنے بڑے اور اتنے اثر دار سرمایہ کار کو خوش کرنے کے لےے تیار تھی۔ کمپنی کو یہ بھی معلوم تھا کہ ہندوستانی نوکرشاہی میںاپنی رسائی کیسے بنائی جاتی ہے۔لیکن یہ منطقی طور پر آگے نہیں بڑھی۔ کیونکہ عملی علم کی بنیاد پر کوئی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ الیومینیم کی پیداوار میںسب سے پہلے باکسائٹ مائنس کی لیز حاصل کرکے کچے مال کا بندوبست کرنا ہوتا ہے اور پھر ریفائنری اور اسمیلٹنگ پلانٹ قائم کےے جاتے ہیں۔
لیکن ویدانتا نے اپنی شروعات 1997 میںجھارسوگوڈا کے قریب بھرکامنڈا میںاسمیلٹنگ پلانٹ قائم کرنے کی کوشش سے کی۔ اس کے بعد لانجی گڑھ میںایلومینا ریفائنری کے لےے سرمایہ کاری کی باری آئی ۔ کمپنی کے اثر ورسوخ کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنایک کی منظوری سے پہلے ہی پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا تھا۔ اس موقع پر جب صحافیوں نے باکسائٹ کے ذرائع کے بارے میںجانکاری حاصل کرنے کی کوشش کی، تو سختی سے کہا گیا کہ ہمیں باکسائٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ ان سبھی حقائق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کمپنی چلانے والے یہ سوچ رہے تھے کہ ایک بار اگر اسمیلٹر پلانٹ قائم ہوگیا، تو اس کی وجہ سے انھیںریفائنری اور مائننگ لیز بھی مل جائے گی۔ ویدانتا اس میںکامیاب ہوگئی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے اس کے راستے میں رکاوٹ پیدا کردی۔ اور اب جب ویدانتا یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے اڑیسہ میںاسمیلٹر پلانٹ، تھرمل پاور پروجیکٹ اور ایلومینا ریفائنری پر 50 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی اور اسے غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے، تو اس کا دعویٰ کھوکھلا ثابت ہوتا ہے۔
جدوجہد جاری ہے
او ایم سی کے ذریعہ سپریم کورٹ میںدائر عرضی کم دلچسپ اور شک پیدا کرنے والی نہیں ہے۔ یہ عرضی تین سال بعد نیمگری میںایک بار پھر گرام سبھا بلانے کی اپیل کررہی ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان تین سال میں زمینی سطح پر وہاں کون سی تبدیلی آگئی ہے؟
ڈونگریا لوگ آج اپنی زندگی کی سب سے مشکل لڑائی لڑرہے ہیں، کیونکہ تلاشی مہم کے نام پر ان کوستایا جارہا ہے۔ ان میںسے کچھ فرضی انکاو¿نٹر میںمارے گئے ہیں، کچھ جیل میںبند ہیں۔ جو گرفتار ہوئے ہیں،انھیںبے شک رہا کردیا جائے گا، لیکن جب تک نیمگری میں منعقد دوسری گرام سبھا اپنا فیصلہ سنا نہیں دیتی۔ لوک شکتی ابھیان کے پرفل سامنتارے نے کہا کہ نیمگری میںپولیس کا ظلم روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ جو بے گناہ آدیواسی ویدانتا کمپنی کی مخالفت کررہے ہیں، انھیںپریشان کیا جارہا ہے، انھیں موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے یا ماو¿وادی سرگرمیوں میںملوث بتاکر انھیںجیل میںڈالا جارہا ہے۔ پرفل سامنتارے آگے کہتے ہیں کہ جب میں آدیواسیوں او ران کے حامیوں سے ملنے بھوانی پٹنہ، کوراپُٹ، رائےگڈا جیسے شہروں میںجاتا ہوں، تو کمپنی کے کرایہ کے غنڈے دہشت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور حملہ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔
شاید اڑیسہ سرکار اور ویدانتا یہ سوچ رہے ہیں کہ آدیواسی مائننگ کی حمایت میں اپنا پرانا فیصلہ بدل دیں گے۔ لیکن اگر ایسا ہوا، تو اس طرح کے دوسرے معاملوں کی باڑھ نہیںآجائے گی؟ خاص طور پر ایسے معاملات کی، جس میں لوگوں نے لاعلمی میںیا دباو¿ کی وجہ سے مائننگ کرنے اور انڈسٹری کے لےے رضامندی دے دی تھی۔ اگر لوگ اپنے پہلے کے فیصلے کو منسوخ کرکے چل رہے انٹرپرائز کو بند کرانے کی مانگ کرنے میں لگیں، تو اسے کیسے نمٹا جائے گا؟
اس معاملے کی باریکیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کی وجہ سے اڑیسہ میںصنعت کاری کے لےے تشویشناک پیغام جا رہا ہے۔ ہم صرف عقل مندی کی خواہش کرسکتے ہیں۔

یوپی: داروغہ کی غنڈہ گردی، نابالغ بتا کر شادی رکوادی
سنتوش دیو گری
p-10bایک طرف اتر پردیش کی سماج وادی پارٹی کی سرکار صوبہ میں پھر سے اقتدار پر برقرار رہنے کی تیاری میں زور و شور سے لگی ہے،سرکار کی کامیابیوں کی تعریفوں کے پل باندھے جارہے ہیں اور سماج وادی پارٹی کے کارکن اور لیڈر سائیکل سے ’جن سندیش یاترا‘ نکال کر پسینہ بہا رہے ہیں،لیکن پارٹی سے ہی جڑے عام کارکنوں کے وقار کو سرعام روندا جارہاہے، اس پر پارٹی کے بڑے لیڈروں کا کوئی دھیان نہیں ہے۔یہ واقعہ مرزا پور ضلع میں پڈری تھانہ کے بیلون گاﺅں کا ہے۔ گاﺅں کے رہنے والے اور سماج وادی پارٹی کے بزرگ لیڈر گریش چندر پانڈے کی بیٹی کی شادی 29اپریل کو ہونی تھی۔بارات آچکی تھی۔ سب لوگ باراتیوں کے استقبال میں لگے تھے کہپڈ ری تھانے کا داروغہ دیو چندر دو سپاہیوں کے ساتھ شادی کی جگہ پر آگیا اور یہ کہتے ہوئے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا کہ گریش پانڈے کی بیٹی نابالغ ہے۔ داروغہ نے سماج وادی پارٹی کے لیڈر کی بیٹی کو تھانہ لے جانے کی ضد ٹھان لی۔ سماج وادی پارٹی لیڈر نے داروغہ کو لڑکی کی رجسٹرڈ عمر اور سماجی روایت کا حوالہ دیا، لیکن داروغہ ماننے کو تیار نہیں تھا۔لڑکی کی عمر کی تصدیق کے طور پر ہائی اسکول کاسرٹیفکیٹ دکھایا گیا۔ سرٹیفکیٹ دیکھنے کے باوجود دروغہ نے گریش چندر پانڈے اور ان کے خاندان کے وقار کا ملیا میٹ کردیا۔داروغہ نے رات میں ہی اسکول کھلوایا ،جہاں سے لڑکی نے تعلیم حاصل کی تھی۔ تمام ریکارڈ چیک کئے گئے۔ اسکول میں تمام ریکارڈ درست پائے جانے کے بعد ہی داروغہ واپس لوٹا۔لیکن داروغہ جو ایجنڈا لے کر آیا تھا،اسے پورا کر گیا۔ داروغہ کی اس عوامی غنڈہ گردی کے خلاف کوئی کاررروائی نہیں ہوئی۔
پولیس نے اتنا ہی بتایاکہ کسی نے فون پر لڑکی کے نابالغ ہونے کی اطلاع دی تھی۔ اسی پر داروغہ دبنگئی کے تیور میں آگئے۔ اس واقعہ سے مقامی لوگ حیران ہیں۔انہیں صوبہ کے قانون و نظام کے ایسے نمونے کی کوئی امید نہیں تھی۔سماج وادی پارٹی کے لیڈر نے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو ، اگریکلچر وزیر منوج پانڈے، نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے صدر کے ساتھ ساتھ مرزا پور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اور سماج وادی پارٹی کے ضلع صدر کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔لیکن چھوٹے لیڈر کی اوقات ہی کیا ہوتی ہے۔پولیس سپرنٹنڈنٹ اروند سین بے لگام جھوٹ بولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ معاملہ ان کے نوٹس میں ہی نہیں ہے،پھر کہتے ہیں کہ جانچ کرائی جارہی ہے۔ قانون کے اس صورت حال سے عاجز اور پریشان سماج وادی پارٹی لیڈر نے خود کو ختم کرلینے کی دھمکی دی ہے۔ گریش چندر پانڈے کہتے ہیں کہ انہیں سوچی سمجھی سازش کا شکار بنایا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پولیس نے غلط اطلاع دینے والے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ پانڈے کہتے ہیں کہ انصاف نہیں ملا تو میں پارٹی دفتر کے سامنے ہی جان دے دوں گا۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *