شمال مشرقی ہند ترقی کی راہ میں بندوق کے کانٹے

ایس بجین سنگھ
p-10مودی سرکار بھلے ہی شمال مشرقی ہندوستان کو ترقی کی دوڑ میںشامل کرانے کی کوشش کررہی ہو، ترقی کے بہت سارے منصوبے شروع کررہی ہو،لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہاں کے شدت پسندگروہوں کو ترقی کی یہ راہ راس نہیںآرہی ہے۔ اس لےے وہ وقتاً فوقتاً سرکار کی مخالفت کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ 13 اپریل کو منی پور کے تمینگلونگ ضلع کے نونگبا سب ڈویژن کے لینگلونگ میں منی پوری نگا شدت پسند تنظیم زیلیانگ رونگ یونائیٹڈ فرنٹ (زیڈ یو ایف) اور ہندوستانی فوج کے بیچ ہوئی مڈبھیڑ میںمیجر امت دیسوال شہید ہوگئے۔ امت دیسوال ہریانہ کے جھجر کے رہنے والے تھے۔ وہ امپھال میںواقع فوج کی 21 ویں پیرا (اسپیشل فورس) میں تعینات تھے۔ گزشتہ دنوں خبر آئی کہ تمینگلونگ ضلع کے نونگبا سب ڈویژن کے لینگلوگ میں ہتھیار بند شدت پسند گروہ جمع ہورہے ہیں۔ اس سلسلے میںمیجر امت دیسوال کی قیادت میں21 ویںپیرا کی ایک ٹیم کو لینگلونگ بھیجا گیا۔ یہ ٹیم لینگلونگ پہنچنے ہی والی تھی، لیکن وہاںپہلے سے چھپے جدید ترین ہتھیاروںسے لیس شدت پسندوں نے اندھادھند گولی باری شروع کردی۔ اس مڈبھیڑ میں میجر دیسوال کو گولیاںلگیں اور وہ موقعہ واردات پر ہی شہید ہوگئے۔ اس واقعہ میں میجر دیسوال کے علاوہ دیگر لوگوں کی بھی موت ہوگئی، جن میںسے ایک مقامی شخص اور دوسرا شدت پسند گروہ کا ممبر تھا۔
دوسرا واقعہ 14 اپریل کا ہے، جب ایسٹ امپھال کے منوتھونگ میںواقع آسام رائفلز کے ٹرانزٹ کیمپ میں رات میںبم پھینکا گیا۔ اس واقعہ میں32 سالہ جوان گوکل چند یادو شہید ہوگیا اور تین جوان زخمی ہوئے۔ اس واقعہ کی ذمہ داری یونائیٹڈ نیشنل لبریشنفرنٹ (یو این ایل ایف) کی فوج ایم پی اے نے لی۔ راجستھان کے سیکر ضلع کے نیم کاتھانہ سالاولی گاو¿ں کے رہنے والے گوکل چند آسام رائفلز میں تعینات تھے۔ گوکل ہولی کی چھٹیاں گزار کر اپنی یونٹ میںواپس لوٹے تھے۔ اس سے پہلے 31 مارچ کی رات لیلونگ میں واقع 40 آسام رائفلز کے کیمپ میں بم پھینکا گیا تھا۔ اس واقعہ میںکوئی ہلاک نہیںہوا۔ اس واقعہ کی ذمہ داری پیپلز ریوولیوشنری پارٹی آف کنگلے پاک نے لی تھی۔
منی پور کی شدت پسند تنظیموں کا مانناہے کہ منی پور کبھی بھی ہندوستان کا حصہ نہیں رہا ہے، اسے زبردستی ہندوستان میں شامل کیا گیا ہے۔ منی پور مرجر ایگریمنٹ 1949- کے تحت منی پورکے راجہ بودھ چندر سنگھ سے بند کمرے میں بندوق کی نوک پر دستخط کرائے گئے تھے۔ اس کی مخالفت میں تب سے لے کر آج تک منی پور میںمسلح آندولن چل رہا ہے۔ ان لوگوں کا ماننا ہے کہ انھیں جب تک ہندوستان سے آزادی نہیں ملے گی،تب تک ان کا آندولن جاری رہے گا۔ اسی وجہ سے وقتاً فوقتاً شدت پسند گروہ ہندوستانی فوج یا نیم فوجی دستوں کے جوانوں اور ان کے کیمپ پرحملہ کرکے اپنی مخالفت درج کراتے رہتے ہیں۔ ایسے حملوں میں میجر دیسوال جیسے کئی جوان شہید ہوچکے ہیں۔
منی پور سمیت شمال مشرقی ہند کی دیگر ریاستوں میںکئی شدت پسند مسلح گروہ سرگرم ہیں۔ شمال مشرقی ہندکی ریاست سلیگوڑی گلیارے یا چکنس نیک سے ریسٹ آف انڈیاسے جڑے ہیں۔ یہاں کے کئی شدت پسند گروہ وقتاً فوقتاً الگ الگ ریاست کی مانگ کرتے رہے ہیں۔ کچھ گروہوں کو علاقائی مختاری چاہےے،تو کچھ انتہاپسندگروپو ں کو مکمل آزادی۔ شمال مشرقی ہند کی ریاستوں، مقامی آدیواسی کمیونٹیز اور باہری لوگوں کے بیچ کشیدگی اور جھگڑا بہت پہلے سے چلا آرہا ہے۔ حالانکہ سال 2013 میںاس جھگڑے میںتھوڑی کمی دیکھنے کو ملی تھی، لیکن سال 2014 میں یہ کشیدگی ایک بار پھر سے بڑھ گئی اور آدیواسی کمیونٹی کے لوگوں کے ذریعہ باہری لوگوں پر حملے کےے جانے کے واقعات میں اضافہ درج کیا گیا۔اس طرح کے حملے آسام، منی پور، ناگالینڈ اور تریپورہ میںسب سے زیادہ ہوئے۔شمال مشرقی ریاستوں میںسب سے کم شدت پسند گروہ ارونا چل پردیش اور میزورم میں ہیں۔ میزورم میں تو شدت پسندنہ کے برابرہیں۔ ان دونوںریاستوںمیںفطری طور پر انتہا پسندی کے واقعات بھی بہت کم ہوتے ہیں۔
2014 میں ہوئے پارلیمانی انتخابات میںشمال مشرقی ریاستوں میں 80 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی۔ اس کے بعد مختلف سیاسی ماہرین نے کہا کہ ووٹنگ کی شرح یہ بتاتی ہے کہ ہندوستان کے لوگوں کا ہندوستان کی جمہوریت میں اعتماد بڑھا ہے۔ لیکن 2015 میںاین ایس سی این (کے) کے مشترکہ طور پر یونائیٹڈ نیشن لبریشن فرنٹ آف ویسی (یو این ایل ایف ڈبلیو) کی تشکیل کا اعلان کیا۔ یہ تنظیم شمال مشرقی ہند کی ویسٹرن ساو¿تھ ایسٹ ایشیا کے طور پر منظوری چاہتی ہے۔ ان شدت پسند گروہوں کے آپس میںملنے اور نئی تنظیم کی تشکیل کرنے کی وجہ سے شمال مشرقی ہندمیںبد امنی کاماحول بن گیا۔ نئی تنظیم کی تشکیل کے بعد منی پور کے چاندیل کے واقعے کو انجام دیا گیا تھا، جس میں ہندوستانی فوج کے 18 فوجی شہید ہوئے تھے۔ اس کے بعد ہندوستانی فوج نے میانمار میں ان کے کیمپ پر جوابی حملہ بھی کیا تھا۔
آرمڈ فورسیز اسپیشل پاور ایکٹ 1958- (افسپا) شمال مشرقی ہند کی شورش زدہ ریاستوں اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالے، میزورم او رناگالینڈ میں لاگوہے۔ پچھلے سال تریپورہ سے اس قانون کو ہٹایا گیا تھا۔ یہ قانون شورش زدہ علاقوں میں فوج کو استحقاق دیتا ہے، تاکہ شدت پسند تنظیموں کے خلاف مو¿ثر طریقے سے کارروائی کی جاسکے۔ افسپا کے لاگو ہونے کے بعد پورے شمال مشرقی ہند میں فرضی مڈبھیڑ، عصمت دری، لوٹ اور قتل جیسے واقعات کا سیلاب آگیا۔ جب 1958 میں افسپا بنا تھا، تب یہ قانون ریاستی سرکار کے ماتحت تھا، لیکن سال 1972 میں اس قانون میںہوئی ترمیم کے بعد اسے مرکزی سرکار نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ ترمیم کے مطابق ملک کے کسی بھی علاقے کو ڈسٹرب ایریا ڈکلیئر کرکے وہاں افسپا لاگو کیا جاسکتا ہے۔ اس قانون کے خلاف کئی لوگ وقتاً فوقتاً احتجاجی مظاہرے کرتے رہے ہیں۔ منی پور کی آئرن لیڈی کے نام سے مشہور ایرو م شر میلا گزشتہ پندرہ سالوںسے اس قانون کو ختم کرنے کے خلاف آمرن انشن کررہی ہیں۔ غورطلب ہے کہ جیون ریڈی کمیٹی نے بھی سرکار کو یہ اشارہ دیا تھا کہ یہ قانون ناقص ہے اور اس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ لیکن مذکورہ واقعات میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہورہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں سے افسپا ہٹاناکتنا جائز ہوگا۔ حالانکہ لوگ افسپا کے خلاف تو ہیں، لیکن شدت پسند تنظیموں کے ذریعہ لگاتار شمال مشرقی فوج اور نیم فوجی دستوں کے خلاف ہورہے حملے کو دیکھ کر مرکزی سرکار کے ذریعہ افسپا لگانے کا فیصلہ منطقی لگتا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے منصوبہ ایکٹ ایسٹ پالیسی کے تحت منی پور کی 84 کلومیٹر لمبی جریبام-توپل ریلوے لائن کا کام بھی ان شدت پسند تنظیموں کی مخالفت کی وجہ سے معینہ وقت سے پیچھے چل رہا ہے۔ اس ریلوے لائن کی تعمیر میں چھ بڑے پل، 112چھوٹے پل، تین سڑک اووربرج بننے ہیں۔ پہلے مرحلہ میں39,401 میٹر لمبی 34 سرنگیں بنانی ہیں۔ اس کام کوسال 2016 کے اختتام تک مکمل ہونا تھا۔ مرکزی سرکار اس پالیسی کے تحت جنوب- مشرق اور مشرق- ایشیا کی معیشت سے جوڑنے کام کررہی ہے۔ نگا شدت پسند گروہ زیلیانگرونگ یونائیٹڈ فرنٹ (زیڈ یو ایف) نے کئی ہفتے تک تعمیری کام میں رکاوٹ ڈالی۔ اس ریل منصوبہ کے پروجیکٹ منیجر کا اس سال جنوری میںاغوا کرلیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی دیگر کئی تنظیمیں ہیں، جو اس منصوبہ کے کام میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ ریاستی سرکار بھی سیکورٹی کے نام پر کچھ نہیں کرپارہی ہے۔ زیڈیوایف کے پیچھے نگا شدت پسند گروہ این ایس سی این (آئی ایم) مدد کررہا ہے۔ این ایس سی این (آئی ایم) کی مرکزی سرکار کے ساتھ با ت چیت چل رہی ہے۔ اس کے باوجود وہ زیڈ یو ایف کے ساتھ مل کر نیشنل ہائی وے 37- میں دن دہاڑے لوٹ پاٹ کے واقعے کو انجام دے رہا ہے۔ بہرحال،سرکاری اعدادوشمار تو یہ بتاتے ہیںکہ شمال مشرقی ہند کے شدت پسند گروہ امن کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ اس کے باوجود اس طر ح کے واقعات پر لگام کیوں نہیںلگ پارہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *