نوجوانوں میں اردو زبان کے لئے دلچسپی بڑھ رہی ہے

p-11’جشن ادب ‘کے تحت لگاتار اردو شاعری اور بحث و مباحثہ کے پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں اور اس کا سہرا یقینا نوجوان شاعر کنور رنجیت سنگھ چوہان کو جاتا ہے جن کی مادری زبان ہندی ہے ،لیکن اردو سے بے پناہ لگاﺅ کی وجہ سے بے حد کامیاب پروگرام منعقد کراتے ہیں۔”چوتھی دنیا“ کے سینئر کورسپونڈنٹ وسیم احمد نے ان سے مختصر سی بات کی ۔پیش ہے اس کے اقتباسات۔

س: اردو زبان میں کیا خوبی نظر آئی کہ آپ نے دیگر زبانوں کی بہ نسبت اسی زبان کو کلام و بیان کے لئے اختیار کیا؟
ج: :زبان تو بہت سی ہیں لیکن اردو زبان بولنے اور سننے میں جتنی اچھی اور میٹھی لگتی ہے اور اس زبان کے ذریعہ آپ اپنے جذبات و احساسات کو جس بہتر طریقے پر ظاہر کرسکتے ہیں یہ خاصیت کسی اور زبان میں نہیں پائی جاتی ہے۔ چونکہ اردو زبان کئی زبانوں سے مل کر بنی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی روانی اور سلاست سب کو اپنی طرف راغب کرتی ہے اور انہی خوبیوں نے ہمیں اپنی طرف راغب کیا۔
س: ہر اہل زبان اپنی زبان کو میٹھی اور شیریں کہتے ہیں ۔پھر اس میں اردو کی کیا انفرادیت ہے؟
ج: اس کی انفرادیت یہ ہے کہ دوسری زبان بولنے والے بھی جانے و انجانے میں اپنی عام بول چال میں دھڑلے سے اردو الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔وہ اردو کا الفاظ استعمال کئے بنا اپنے احساس کو دوسروں تک پہنچا ہی نہیں سکتے ۔جبکہ یہ خوبی کسی اور زبان میں نہیں ملے گی۔
س: اگر اردو کو ہر زبا ن والے استعمال کرتے ہیں تو پھر اسے مسلمانوں کی زبان کیوں کہا جاتا ہے؟
ج: اس لئے تاکہ اس پر سیاست کی روٹی سینکی جاسکے۔ایسا کرنے والے یہ سمجھ نہیں پائے کہ وہ اردو کو ایک مخصوص طبقہ کی زبان کہہ کر اپنی زمین سے کٹ رہے ہیں۔حالانکہ ایسی سیاست کرنے والے اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں اور تمام طبقوں میں اردو خوب بولی جارہی ہے۔لیکن اس کا ایک منفی اثر یہ پڑا ہے کہ ظاہری طور پر ملک کے اندر زبانوں کے بیچ تفریق پیدا کردی گئی ہے۔اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ یہ طبقہ ہندی زبان بولتا ہے اور وہ طبقہ اردو زبان بول بولتا ہے۔لیکن اس تفریق کا تعلق لفظوں کی حد تک ہی ہے جیسے فلموں کو ہی لے لیں کہ بولنے کے لئے تو کہاجاتا ہے کہ ہندی فلم ہے مگر فلم کو دیکھیں تو اس میں استعمال ہونے والے بیشتر الفاظ اردو کے ہوتے ہیں۔
س: آپ ’جشن ادب‘ ہر سال منعقد کرتے ہیں۔ اس کا مقصد کیا ہے؟
ج:’ جشن ادب ‘ کا مقصد ہے نئی نسل کو زبان و تہذیب سے جوڑنا اور اس کے لئے اردو سب سے بہتر زبان ہے۔کیونکہ ابھی ہم نے کہا ہے کہ یہ زبان ہر طبقے میں بولی جاتی ہے اور جب آپ نئی نسل کو تہذیب سے جوڑنا چاہتے ہیں تو اسی زبان کا سہارا لینا پڑے گا جس سے آپ اپنی باتیں ان تک پہنچا سکیں ۔ جشن ادب کے بنیادی مقاصد میں نئی نسل میں تہذیب و کلچر کو ری اسٹبلش کرنا، نئے لٹریچر کو فروغ دینا، ادباءوشعراءکو متعارف کرانااور ان کے پیغام کو نئی نسل تک پہنچانا اور نئی نسل کو اردو سے جوڑنا اور اس زبان کی اصلیت اور حقائق سے آگاہ کرانا۔ان مقاصد کے تحت ’جشن ادب‘ کا انعقاد ہوتا ہے۔
س: جشن ادب ‘ پروگرام سے کیا فائدہ مل رہا ہے؟
ج: اس کا فائدہ یوں نظر آرہا ہے کہ اس وقت 40فیصد نوجوا ن جو اردو زبان کے بجائے دیگر شعبوں سے منسلک ہیں اب ان میں اردو سے دلچسپی بڑھ رہی ہے۔’جشن ادب ‘کے سائٹ کو پڑھنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
س: آپ کو ان پروگراموں کو منعقد کرنے کے لئے فنڈز کہاں سے ملتے ہیں؟
ج: اگر آپ اپنے کام میں مخلص ہیں تو فنڈ ز میں کبھی کمی نہ ہوگی۔ ’جشن ادب‘ کے لئے بڑی بڑی انڈسٹریز کی طرف سے پیشکش ہوتی ہے ۔مثال کے طور پر ہونڈا،پس یوز، ایف ڈی بی آئی،جیسی کمپنیاں تعاون کرتی ہیں۔ یہ سب اردو کے ادارے نہیں ہیں مگر اردو کے لئے وسائل فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں،بس ضرورت ہے محنت کرنے والوں کی۔
س: کیا مشاعروں سے اردو کی خدمت ہورہی ہے؟
ج: مشاعرہ ایک پرفارمنس آرٹ ہے۔اس سے اردو کی کوئی خاص خدمت نہیں ہورہی ہے ۔البتہ یہ اردو کی طرف راغب کرنے کا ایک ذریعہ کہا جاسکتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مشاعرے اب رسمی ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس میں کچھ سیاست داں اور دیگر شعبوں سے جڑے ہوئے لوگوں کو بلا لیا جاتا ہے۔وہ اپنے پرچے پڑھتے ہیں اور پھر پرچے میں جو باتیں کہی گئی ہیں وہ آئی گئی ہوجاتی ہے،تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ۔اس لئے موجودہ وقت میں جو مشاعرے ہورہے ہیں ان کا اردو کو فروغ دینے میں کوئی کردار باقی نہیں رہ گیا ہے۔البتہ اگر آپ مشاعرے میں نئی نسل کو مدعو کرتے ہیں۔ان کے لئے گلیمر پیش کرتے ہیں تو ان میں دلچسپی پیدا ہوگی اور ایسی صورت میں مشاعروں کی اردو کے فروغ میں حصہ داری ہوسکتی ہے۔
س:مشاعروں میں اشعار کوتحت اللفظ اور ترنم سے پڑھنے میں سے کسے آپ بہتر سمجھتے ہیں؟
ج: میں تحت اللفظ کو پسند کرتا ہوں ، اگر کوئی مجھ سے کہتاہے کہ ترنم سے اپنے اشعار پیش کروں تو منع کردیتاہوں
س: کیا اردو معاش سے جڑی ہوئی ہے؟
ج: بالکل معاش سے جڑی ہو ئی ہے لیکن اس کا سہرا کسی اور زبان کودیا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر فلم انڈسٹری میں کسی فلم کو بنانے میں بہت سے لوگوں کا معاش جڑا ہوتا ہے۔ آپ اس فلم میں قدم قدم پر اردو کا استعمال دیکھیں گے لیکن جب یہ فلم بن کر تیار ہوجاتی ہے اور مارکیٹ میں آتی ہے تو کہا جاتا ہے ’ہندی فلم‘ ۔مطلب یہ ہے کہ اردو نے معیشت کا راستہ ہموار کیا اور جب نتیجہ سامنے آرہاہے تو نام ہندی کا دے دیا گیا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اردو زبان پس پردہ معاش سے جڑی ہوئی ہے لیکن سامنے کوئی اور زبان ہے، اس صورت حال کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
س: آپ اچھے اشعار کہتے ہیں۔ان اشعار کو اردو رسم الخط میں لکھتے ہیں یا کسی اور؟
ج: احساسات کو بیان کرنے کے لئے رسم الخط کی زیادہ اہمیت نہیں ہوتی۔ جہاں تک میری بات ہے تو ہم اردو لفظوں کو ہندی رسم الخط میں لکھ کر اپنے احساسات کا اظہار کرتا ہوں۔
س: حالیہ دنوں فلم میں جس طرح کے گانے آرہے ہیں۔ کیا اس سے اردو کو فروغ مل رہا ہے؟
ج: اب گانوں میں بکواس زیادہ ہوتی ہے۔تو آپ ہی بتائیے ایسے گانوں سے اردو کو کیا فروغ ملے گا۔ میں نے مظفر علی سے ایک بار پوچھا تھا کہ بتائیے ان گانوں سے زبان کا کیا بھلا ہوگا جن میں ایسے الفاظ بولے جارہے ہیں جن کو بولتے بھی شرم آرہی ہے۔تو انہوں نے کہا کہ” یہ تو جذبات کا اظہار ہے“ ۔لیکن آپ سوچئے کہ بیڈ روم کے احساس کو باہر لانا کہاں تک مناسب ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *