اگسٹاکا سچ کوئی نہیں جاننا چاہتا

کاسیشن چل رہاہے۔فائننس بل پاس ہونا ہے، جس کے بعد پارلیمنٹ ملتوی ہوجائے گی۔ وزیر خزانہ کو دو اوربل پاس کرانے ہیں۔بینکرپسی کوڈ اور جی ایس ٹی بل،جس کے لےے کانگریس کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔پارلیمنٹ میںاگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر خرید میںبے ضابطگیوںکو لے کر ایک بحث ہوئی۔ اس وقت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی نے اپنی بات رکھی۔ ایک تفصیلی جواب دیا۔ سارے واقعہ اور حقائق کو پارلیمنٹ میں رکھا اور کہا کہ موجودہ سرکار کو اس معاملے کی پوری جانچ کرانی چاہےے اور ایک حتمی نتیجہ تک پہنچنا چاہےے۔ ظاہر ہے ، پارلیمنٹ میںکسی کوبھی سچ کا پتہ لگانے میں دلچسپی نہیںہے، بلکہ وہ اس سے سیاسی فائدہ پانا چاہتے ہیں۔
لیکن، سوال یہ ہے کہ اس مدعے پر پہلے ہی بہت زیادہ بات ہوچکی ہے۔ سی بی آئی اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔ کانگریس کے لےے اصل میںشرم کی بات یہ ہے کہ اٹلی کی عدالت میںدےے گئے فیصلے میںکسی سگنورا گاندھی اور اے پی نام کا ذکر آیا ہے۔ لیکن یہ ثبوت نہیںہے۔ یہ محض سیاسی استعمال کے لےے ہے۔ میںنہیں سمجھتا کہ ایسے مدعوں پرعوام کا وقت برباد ہونا چاہےے۔ پارلیمنٹ عوام کے کام کے لےے ہوتی ہے۔ اس معاملے کی جانچ ہونے دیجئے اور اس کا فیصلہ آنے دیجئے۔ یہ کام جانچ ایجنسی اور عدلیہ کر لیں گی۔
اس بیچ ہندوستان کے چیف جسٹس ایک کانفرنس میں اپنی بات کہتے کہتے روہانسے ہوگئے۔ انھوںنے کہا کہ عدلیہ پر کام کا کافی دباو¿ ہے اور کام کرنے والے کی بھاری کمی ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتاکہ ججوں کی تقرری کا موجودہ اصول غلط ہے۔ لیکن یہ 1993 سے چل رہا ہے۔ پارلیمنٹ اس پر متفق نہیں ہوپارہی ہے ، تو اس میں سدھار کیا جا سکتا تھا۔ ادھر،اتراکھنڈ کے چیف جسٹس کا تبادلہ کےے جانے کی سفارش ہوئی۔ حال ہی میں انھوںنے اتراکھنڈ میں صدر راج کو لے کر ایک بہت ہی بولڈ ججمنٹ دیا تھا۔ ظاہر ہے اسے لے کر کچھ سیاسی سوال ہیں۔ لیکن، میں نہیں سمجھتا کہ سرکار کا اس تبادلے میںکوئی رول ہے اور جو ججمنٹ آنا تھا،وہ آچکا ہے۔ لیکن تبادلے کا وقت سوالوںکے گھیرے میں ہے۔ ان کا تبادلہ کچھ ہفتے بعد ہوتا،تو اچھا ہوتا۔ لیکن سپریم کورٹ، سپریم کورٹ ہوتا ہے۔ اس پر کوئی کمنٹ نہیں کرسکتا۔
محکمہ موسمیات کا اندازہ ہے کہ دو سال بعد اس سال مانسون اچھا ہونے والا ہے۔ یہ سرکار اور ہندوستان کے لوگوں کے لےے اچھی خبر ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وقت پر بارش ہوگی۔ بارش کی مقدار سے زیادہ اہم ہے وقت پر بارش، ہونا، یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔ میںنے راجستھان میں دیکھا ہے کہ وقت پر ہوئی دو دن کی بارش نے پوری صورت حال کو سنبھال لیا۔ ملک میںکئی سارے حساس علاقے ہیں اور ظاہر ہے کہ سرکار بہت کچھ نہیں کرسکتی۔ بارش تو بارش ہے اور یہ بھگوان کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن فصل کو بچانے کے لےے ہنگامی حالت میںپانی پہنچانے کا انتظام تو ہونا ہی چاہےے۔ مراٹھواڑہ میںشدید خشک سالی ہے۔ راحت پہنچانے کے علاوہ فی الحال کچھ نہیں کیا جاسکتاہے۔ جیسا کہ میںنے پہلے بھی کہا ہے کہ باڑھ کنٹرول اور خشک سالی سے راحت، دونوں اہم ہیں۔ ان دونوں پرفوری بنیاد پر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ سرکار کے پاس تین سال اور بچے ہیں، انتخاب میں جانے سے پہلے۔ اور میںاس بات کو لے کر مطمئن ہوں کہ وزیر اعظم نے کسانوں او رمیک ان انڈیا کو لے کر جو تشویش ظاہر کی ہے، اسے لے کر انھیں کچھ بہتر لوگوں کے گروپ بنانے چاہئیں، جو ان مدعوںپر کام کریں۔ ان مدعوںکا حل نکال سکیں۔
اس سال امریکہ کا انتخاب بہت دلچسپ ہے،کیونکہ رپبلیکن نامینی اپنے ساتھیوںسے کہیں آگے ہے۔ وہ ہمیشہ چونکانے والی اور خوفناک باتیںبولتے ہیں۔ ایسا بولنا بھی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے۔ میں نے اپنے جاننے والے لوگوںسے جو سنا ہے وہ یہ کہ وہ اسی طرح کی باتوںسے انتخاب جیتنا بھی چاہتے ہیں۔ وہ اوباما کے ’اَن ایونٹ فل‘ آٹھ سال کی مدت کار کو کیش کرانا چاہتے ہیں،جیسابی جے پی نے ہندوستان میںمنموہن سنگھ کے دس سال کی مدت کار کوکیش کرایا۔ ووٹر جذبات میںبہہ کربھی ووٹ کرتے ہیں۔ ایسا نہیںہے کہ اوباما نے اچھا کام نہیںکیا ۔ انھوںنے ہر مورچے پر بہتر کیا، لیکن عام لوگوں کو لگتاہے کہ کچھ خاص نہیں ہوا۔ ایسے میں ایک آدمی آتا ہے اور اس طرح کی نئی باتیں کرتا ہے، جواسے مقبول بنارہی ہیں ۔ حالانکہ آخری لڑائی اتنی بھی آسان نہیںہوگی۔ ڈیموکریٹس ابھی بھی آگے رہیں گے،بھلے ہی ان کا امیدوار کوئی ہو۔ چاہے وہ ہلیری ہو یا سینڈرس ہو۔ پھربھی ٹرمپ اور سینڈرس کے بیچ مقابلہ دلچسپ ہوگا۔ ٹرمپ دائیں بازو کے حمایتی ہیں اور سینڈرس بائیںبازوکے۔ ہلیری کے پاس 8 سال تک امریکہ کی خاتون اول اور 4 سال تک وزیر خارجہ ہونے کا تجربہ ہے۔ امریکی انتخاب پوری دنیا کے لےے دلچسپی کا موضوع ہوتا ہے، کیونکہ امریکہ کئی ذرائع سے دنیا کے کئی ممالک میں طاقت کے محور کو کنٹرول کرتا ہے۔ لیکن امریکہ میں جو بھی اقتدار میں آئے، اس سے ہندوستان کے تعلقات خراب نہیںہونے والے ہیں۔ دونوں ملکوںکے تعلقات اچھے رہیں گے۔ یقینی طور پر امریکہ کے پاکستان کو لے کر بڑے مفاد ہوسکتے ہیں،جسے ہمیںدیکھتے رہنا ہے۔ امید کرتے ہیںکہ اس انتخاب سے ہندوستان – امریکی تعلقات میںاور مضبوطی آئے گی اور استحکام آئے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *