کسان منچ کی لکھنؤ سبھا میں نتیش کمار کی منادی اب یو پی میں بھی شراب بندی لاگو ہو

پربھات رنجن دین
p-1بہا رکے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اکھلیش سرکار کو اترپردیش میں شراب پرر وک لگانے کی چنوتی دی ہے۔ کسان منچ کی سرپرستی میں اترپردیش کی خواتین کے ذریعہ نتیش کو بلاکر یوپی میںبھی شراب بندی آندولن کا بگل بجانے کا پیغام یہی ہے کہ شراب بندی کا مسئلہ اب سماجی آندولن کی شکل میں ملک گیر ہورہا ہے۔ لکھنو¿ میں واقع رویندرالےہ آڈیٹوریم اور رویندرالےہ کیمپس میں کھچا کھچ بھری بھیڑ کے بیچ جب نتیش کمار نے کہا کہ اکھلیش جی ڈرےے نہیں، یوپی میں بھی شراب بندی لاگو کیجئے، تو لوگوں کی خوشی بھری آواز نے وسیع سماجی آندولن کی منادی دی۔ ہال میں مردوں کی سیٹ گھیر کر بیٹھنے کی وجہ سے خواتین کو کوریڈور، برآمدے اور رویندرالےہ کیمپس میں اِدھر اُدھر سایہ تلاش کر کے بیٹھنے کو مجبور ہونا پڑا۔ اس پر تقریباً سبھی مقررین نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ شراب بندی کی تحریک خواتین کے سبب ہی کامیاب ہورہی ہے، ان کے لےے کرسی سے لے کر دل تک میں جگہ دینی ہوگی۔ کسان منچ سے جڑی خواتین ممبر ملک بھر سے لکھنو¿ آئی تھیں، یہاںتک کہ ریل کا ریزرویشن نہ ملنے پر مہاراشٹر کسان منچ کی لیڈر کویتا دمبھرے کچھ دیگر خواتین ممبروں کے ساتھ کار ڈرائیو کرکے مہاراشٹر سے لکھنو¿ چلی آئیں۔ ان کے اس حوصلے کی نتیش کمار سمیت سبھی مقررین نے ستائش کی۔
بہار کی طرح اترپردیش میںبھی شراب بندی لاگو کرنے کی کسان منچ کی مانگ پر اترپردیش سمیت کئی دیگر ریاستوں کی خواتین کا اس قدر بھاری تعداد میں لکھنو پہنچنے کا سماجی اثر تو ہوا ہی، اس آمد نے سیاسی پارٹیوں کی بے چینی بھی خوب بڑھادی۔ خاص طور پر سماجوادی پارٹی میں آہٹ اور بوکھلاہٹ کچھ زیادہ ہی رہی۔ پروگرام کے مقام پر لوکل انٹیلی جنس یونٹ (ایل آئی یو) کے افسر اور ملازمین خاصی تعداد میںٹوہ لیتے دکھائی دیتے رہے۔ بہا رکے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے اس پروگرام میں آنے کولے کر ایس پی میں سرگرمی اتنی تھی کہ پارٹی نے پہلے سے ہی کُرمی ووٹروں کو متاثر کرنے کی قواعد شروع کردی او ر اس بے چینی کا فائدہ حاشےہ پر جاچکے کانگریسی لیڈر بینی پرساد ورما نے اٹھالیا۔ ملائم نے بینی کو نہ صرف پارٹی میں شامل کرایا بلکہ راجیہ سبھا تک پہنچا دیا۔ سیاسی مبصرین بینی کے اس فائدے کو نتیش کی لکھنو¿ میںدھمک کا سبب مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سماجوادی پارٹی نے نتیش کمار کو کرمی اثر سے جوڑ کر دیکھنے میں  تنگ نظری سے کام لیا، جبکہ نتیش کمار کی شخصیت ذات پات، پارٹی اور سیاسی کینچلی سے باہر نکل چکی ہے۔ کسان منچ کے انعقاد میں کئی اہم مقررین نے بھی یہ بات کی۔ ایس پی کے ترجمان اور اکھلیش سرکار کے کیبنٹ وزیر راجندر چودھری تو بوکھلاہٹ میں یہاں تک بول گئے کہ نتیش کمار اتر پردیش میں فرقہ پرست طاقتوں کو مضبوط کررہے ہیں۔ ایسے کئی بیان ایس پی کے ترجمان کے منہ سے نکلے، مثلاً نتیش، اب اویسی اور موہن بھاگوت کے زمرے میں آگئے ہیں، جو ریاست کے عوام کو گمراہ کرنے کے لےے دورہ کررہے ہیں۔ راجندر چودھری نے پھر کہا کہ نتیش نے شراب پر پابندی کی بات کی، لیکن ترقی کے بارے میں وہ ایک لفظ بھی نہیںبولے۔ ایس پی ترجمان نے بیان دینے سے پہلے اتنا بھی ہوم ورک نہیںکیا تھا کہ کسان منچ کا پروگرام شراب بندی پر ہی مرکوز تھا اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اس غیر سیاسی پروگرام میں بطور مہمان خصوصی آئے تھے۔ پروگرام سے پہلے ریاست اور ملک بھر کے اخباروں میں کسان منچ کے اس غیر سیاسی پروگرام کی خبریں تفصیل کے ساتھ شائع ہوئی تھیں۔ چودھری نے جذبات میں یہ بھی کہا کہ بہار میں آگ لگی ہوئی ہے اور وہاںکے لیڈر یوپی کی سیاحت میں محو ہیں۔ بہار میںجنگل را ج ہے اور نتیش شراب کے تذکرے میں لگے ہوئے ہیں۔ اسی سیاق و سباق میں سماجوادی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری پروفیسر رام گوپال یادو کے اس بیان کو بھی دیکھا جانا چاہےے، جس میںانھوںنے کہا تھا کہ شراب بندی کے بعد نتیش کمار کو ہاتھ میں کٹورا تھام کر گھومنا پڑے گا۔ رام گوپال کے اس بیان پر نتیش کمار نے چٹکی بھی لی اور کہا ، رام گوپال جی! ہم کٹورا لے کر نکلنے والے نہیں ہیں۔ شراب بندی لاگو کرنے کافیصلہ کافی سوچ سمجھ کرکیا ہے۔ مفاد عامہ کے کام مشکل تو ہوتے ہیں، لیکن شروع کردیں، تو کامیابی ملتی ہے۔ دیکھا نہیںکس طرح کیرل کے انتخاب میںشراب بندی اہم مدعا بنا۔ تامل ناڈو میں’ اے آئی اے ڈی ایم کے‘ او ر’ڈی ایم کے‘ کے ساتھ ساتھ دیگر پارٹیوں کو بھی شراب بندی کی یقین دہانی کراکر ہی الیکشن میں اترنا پڑا۔ کیا یہ سب کٹورا پکڑنے کے لےے ایسا کررہے ہیں؟ یہ وقت کی مانگ ہے، اسے سمجھئے، نہیں تو دیر ہوجائے گی۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہا رمیں شراب بندی سماجی تبدیلی کے آندولن کی طرح اثر کررہیہے۔ بہار میںسبھی اراکین اسمبلی نے شراب نہ پینے کا عہد کیا ہے۔ بہار کے چیف سکریٹری سے لے کر تمام افسران اور ملازمین تک اور ڈی جی پی سے لے کر سبھی افسران اور سپاہیوں تک نے یہی عہد کیا ہے۔ تھانوںسے بھی انڈرٹیکنگ لی گئی ہے کہ ان کے علاقوں میں شراب کا کاروبار قطعی نہیں ہوگا۔ شراب بندی کا بہا رکے سماج پر یہ اثر پڑا ہے کہ بہار کے1 کروڑ 19 لاکھ اسکولی بچوں نے اپنے اپنے سرپرستوں سے شراب نہ پینے کا حلف نامہ بھروایا۔
نتیش کمار نے اترپردیش سرکار کو یوپی میں شراب پر پابندی لگانے کے لےے کہا اور یہ بھی درخواست کی کہ بہار اور اترپردیش کی سرحد سے لگنے والے علاقوں میں پانچ کلو میٹر کے دائرے میں شراب کی دکانیںنہ کھلنے دی جائیں۔ نتیش کمار نے اس کے لےے اترپردیش آبکاری قانون کے پروویژن کا بھی تذکرہ کیا، جس میںکہا گیا ہے کہ جہاں دو ضلعوں کی سرحد ملتی ہے، اس کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں شراب کی دکان نہیںکھلے گی۔ نتیش نے کہا کہ اس پروویژن کو بہار سے ملحق یوپی کے ضلعوں میں لاگو کرانے کی درخواست کرتے ہوئے بہار کے چیف سکریٹری نے یوپی کے چیف سکریٹری کو خط لکھا تھا، لیکن کچھ نہیںہوا۔ نتیش بولے کہ وہ بہار میںشراب بندی لاگو کررہے ہیں اور یوپی اپنی سرحد پر زیادہ شراب بیچ رہا ہے۔ ہم نے ادھر دکانیںبند کیں، تو یوپی کے سرحدی علاقوں میںشراب کی اور زیادہ دکانیںکھل گئیں۔ اس بارے میں نتیش نے یوپی کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کو خط لکھ کر سرحدی علاقوں میںشراب کی فروخت محدود کرنے اور نگرانی رکھنے کی درخواست کی تھی۔ لیکن اکھلیش نے خط کا جواب دینے کا آداب بھی نہیںنبھایا۔ نتیش نے کہا کہ جواب تو دور خط پانے کی رسید تک نہیںملی۔
بہار میںشراب بندی کارگر طریقے سے لاگو کرنے میں نتیش سرکار کو کتنی مشقت کرنی پڑ رہی ہے، اسے سننے کے بعد سیاست کی دنیا کی کئی سینئر شخصیتوں نے کہا کہ اس نقطہ نظر سے دیکھیں، تو نتیش کے ذریعہ اترپردیش کی راجدھانی لکھنو¿ آ کر دی گئی شراب بندی کی چنوتی کے نہ صرف سماجی معنی ہیں، بلکہ اس کے گہرے سیاسی مضمرات بھی ہیں۔ نتیش کمار جب اکھلیش اور رام گوپال جیسے لیڈروں کو شراب بندی کی ایکونومکس سمجھاتے ہیں، تو اس کے پیچھے کے سیاسی معنی او ر اشارے سمجھ میں آتے ہیں۔ نتیش نے جب اکھلیش کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ یوپی میں بھی شراب بندی لاگو کرےے، تو انھیںاس کا ایکونومکس بھی بتایا۔ نتیش نے کہا کہ 16 ہزار کروڑ کے ریونیو کے لےے عوام کی گاڑھی کمائی کے 60 ہزار کروڑ روپے برباد مت کیجئے۔ شراب بندی نقصان کا نہیں، دوررس فائدے کا سودا ہے۔ یوپی میں16 سے 18 ہزار کروڑ روپے کا ریونیو کمانے کے لےے لوگوںکو 60 ہزار کروڑ سے زیادہ کی شرا ب پلائی جا رہی ہے۔ لوگ شراب پینا بند کر دیں، تو عوام کی گاڑھی کمائی کا 60 ہزار کروڑ روپیہ بازار میں لگے گا اور اچھے کاموںپر خرچ ہوگا۔ اس سے ٹیکس ریونیو تو بڑھے گا ہی، سماجی فائدے بھی سامنے دکھائی دیںگے، گھریلو تشدد میں کمی آئے گی، گاﺅو ں میں امن قائم رہے گا، خواتین کی زندگی اور خاندا ن کے دیگر ممبران کی زندگی خوشگوار ہوگی، سڑک حادثے کم ہوں گے اور جرائم کی وارداتوں میںکمی آئے گی۔ شراب بندی سے 60 ہزار کروڑ روپےہ بازار میں ہی آئے گا اور اس کے ٹیکس سے ریونیو کی کمی پوری ہو جائے گی۔ نتیش نے کہا کہ شراب کا دھندہ سماجی برائی ہے، یہ اخلاقی کاروبار نہیں ہے۔ سپریم کورٹ بھی یہ کہہ چکا ہے کہ شراب پینا اور اس کاکاروبار کرنا بنیادی حق کے تحت نہیں آتا۔
اترپردیش کی سماجوادی سرکار کے سامنے اخلاق کی کسوٹی رکھتے ہوئے نتیش نے کہا کہ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا جیسے عظیم لوگوں کا صرف نام ہی نہیں لینا چاہےے، بلکہ ا ن کے خیالات کے مطابق کام بھی کرنا چاہےے۔ نتیش بولے، ہمارا مذاق اڑا کر کتنے دن کام چلائےے گا۔ لوہیا کا نام لے کر سرکار چلاتے ہیں، لوہیا کا نا م لیتے ہیں، تو لوہیا کے کچھ کام بھی کیجئے۔ ان کے نا م پر شراب بندی ہی لاگو کردیجئے۔ ہم یہاںکسی کو پریشان کرنے یا تنگ کرنے نہیںآئے ہیں، ہم تو یہ کہنے آئے ہیں کہ جو ہم نے کیا، اسے آپ بھی کرےے، کیونکہ یہ سماج کی بھلائی کے لےے ضروری ہے۔ آمدنی کی فکر مت کرےے، یوپی میں بھی شراب بندی لاگو کیجئے۔ اس سے سرکاری خزانے کو جتنا خسارہ ہوگا، اس سے زیادہ فائدہ آپ کو ملے گا۔ نتیش نے اشاروں سے یہ ظاہر کیا کہ شراب بندی کے سماجی فائدے کے ساتھ ساتھ سیاسی فائدے کیا ہیں۔ انھوں نے اس کے لےے اکھلیش کا حوصلہ بڑھانے کی نیت سے کہا کہ ہمت تو کرےے، بہار میںبھی جب شراب بندی لاگو کی گئی تھی، تو پینے والوں سے لے کر دھندہ کرنے والوں اور انھیںتحفظ دینے والوںکو کچھ دن پریشانی ہوئی، لیکن اس کے بعد سب خاموش ہوگئے۔ نتیش نے شراب بندی کے بعد کے بہار اور آج کے یوپی کے سماج کا موازنہ کرنے کی بھی چنوتی دی اور کہا کہ موازنہ کرالیجئے، جانچ ٹیم بھیج دیجئے۔ شراب بندی کے بعد سے بہار کے لوگوںکو جو خوشی مل رہی ہے، وہ سامنے ہے۔ سڑک حادثوں سے لے کر جرائم تک میں کمی آئی ہے۔ نتیش نے کہا کہ شراب پی کر گھروں میں تنازع، جھگڑا اور گھریلو تشدد کرنے والے شوہر اب بدلی ہوئی حالت میں وقت پر گھر پہنچتے ہیں، خاندان کے ساتھ رہتے ہیں اور کھانا بنانے میں بیوی کا ہاتھ بھی بٹاتے ہیں۔ نتیش بولے کہ بہار میںشراب بندی کارگر کرنے میں خواتین کا اہم کردار ہے۔ نتیش نے کہا کہ 1915 کے بہار ایکسائز ایکٹ (آبکاری قانون) میںترمیم کرکے غیر قانونی شراب بنانے اور بیچنے والوں کوپھانسی اور شراب پی کر تباہی مچانے والوں کو دس سال تک کی سزا کا پروویژن کیا گیا ہے۔ سرکار کی طرف سے بہار کی خواتین سے کہا گیا ہے کہ کہیں بھی چوری چھپے ناجائز شراب کی بھٹی چلتی دیکھیں، تو اسے توڑ دیں، سرکاری مشینری ان کا ساتھ دے گی، کیونکہ مستقبل کی نسل کی خوشحالی کے لےے شراب بندی ضروری ہے۔ اب کوئی بھی ریاست اس سے بچ نہیںسکتی۔ اس لےے سب کو وقت رہتے جاگ جانا چاہےے۔ نتیش نے کہا کہ شراب بندی کو لے کر جیسی حمایت انھیں ان کی ریاست سے ملی، ویسی ہی حمایت انھیں اترپردیش اور دیگر ریاستوںسے بھی مل رہی ہے۔ انھوںنے امید جتائی کہ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی اس سماجی آندولن کو بڑے پیمانے پر نتیجہ خیز عوامی حمایت حاصل ہوگی۔
ملک کے سینئر صحافی اور ’چوتھی دنیا‘ کے چیف ایڈیٹر اور سابق ممبر پارلیمنٹ سنتوش بھارتیہ کی اپیل پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے یہ بھروسہ دیا کہ شراب بندی آندولن سے لے کر کسانوں کے مسئلے ، کانکنی او رزمین مافیاو¿ں کے خلاف چلنے والی لڑائی میں وہ ہر قدم پر ساتھ دیں گے۔ سنتوش بھارتیہ نے کہا بھی کہ میں یہاں صحافی کے ناتے یا’ چوتھی دنیا‘ کا ایڈیٹر ہونے کے ناتے نہیں، بلکہ کسان پریوار کاممبر ہونے کے ناطے درخواست کرنے آیا ہوں۔ کیونکہ نتیش جی سے کسانوں کی کیا امیدیں ہیں، اسے نتیش جی کو جاننا ضروری ہے۔ خواتین کے لےے انھوں نے تاریخی کام کیا ہے۔ خواتین کوانھوں نے گھر کی چہار دیواری سے نکال کر سیاست کی اگلی قطار میںکھڑا کردیا ہے۔ اس کے لےے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ سنتوش بھارتیہ نے کہا کہ نتیش کمار کا شراب بندی کا آندولن صرف شراب بندی کا آندولن نہیںہے، گاندھی جی کا شراب بندی کا آندولن صرف شراب بندی کے آندولن تک محدود نہیںتھا۔ گاندھی نے اس آندولن کے لےے خواتین کو آزادی کی لڑائی کے ساتھ جوڑ دیا۔ اسی طرح نتیش جی شراب بندی آندولن کے ذریعہ خواتین کو سماج کی تبدیلی اور سیاسی تبدیلی کی لڑائی کی اگلی قطار میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ خواتین اگر ترقی کے کام پر نظر رکھیںگی، تو صحیح اور بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ نتیش جی سے بات کرتے ہوئے مجھے یہ جھلک بھی ملی ہے کہ بہار میںترقی کے کام پر نگرانی رکھنے کی ذمہ داری بھی خواتین کو سونپی جا سکتی ہے۔ یہ کمال کا کام بہار کرنے جارہا ہے۔ یہ کام پورے ہندوستان میں ہونا چاہےے۔
سنتوش بھارتیہ نے کہاکہ تمام سیاسی لیڈروں پر نظر ڈالیں، جن کے اوپر ذمہ داری ہے سماجی تبدیلی کی، ان میں ایسا کوئی نہیں دکھائی دیتا، جو ہرآدمی سے بات چیت کر سکے، ہر آدمی سے لوگوں کے مسائل پرچرچا کر سکے۔ نتیش کمار اکیلے ایسے شخص دکھائی دیتے ہیں، جو ملک و سماج کی ترقی اور اتحاد کے لےے ملائم سے بھی بات کرسکتے ہیں، لالو یادو سے بھی بات کرسکتے ہیں، مایاوتی سے بھی بات کرسکتے ہیں اور نریندر مودی سے بھی بات کرسکتے ہیں۔ کن سوالوں پر۔۔۔ جو ملک کے سوال ہیں، ملک کے سوال کیا ہیں۔۔۔ ملک کا پہلا سوال شراب بندی ہے اور دوسرے سوال کسانوںکو ان کی فصلوں کا مناسب معاوضہ دلانا ہے، کسان کے بیٹوں کو نوکری دلانا ہے، گاﺅوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ یہ سوال نتیش کے سامنے قومی منصوبے کی مانند ہیں۔ اس منصوبے پر کوئی بات کر سکتا ہے، تو اکیلے نتیش کمار کر سکتے ہیں، یہ ہمیں دکھائی دے رہا ہے۔ نتیش کمار میںلوگوںکو وی پی سنگھ کی شبیہ دکھائی دیتی ہے۔ جیسا کہ شیکھر دیکشت نے کہا، صحیح کہا کہ وی پی سنگھ کی نرمی، لگن، ان کا تخیل ان میں نظر آتا ہے اور لوگوں کے لےے مرنا دکھائی دیتا ہے۔ اسے ہم کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں۔ وی پی سنگھ اپنے آخری دنوںمیں بھی اپنا خون ڈائیلیسس کراتے تھے اور سماج کے بیچ نکل پڑتے تھے۔ نتیش کمار کے سارے پروگرام لوگوں کے لےے ہوتے ہیں، لوگوں کے بیچ میں ہوتے ہیں، لوگوں کے لےے وہ گھوم رہے ہیں۔ کوئی دوسرا لیڈر ایسا نظر نہیں آتا، جو اس طرح کا ہو۔ ملک کے عام لوگوںکو بہت دھوکے ملے ہیں۔ ان کا بھروسہ نتیش کمار کے تئیںپھر سے جاگا ہے۔ ایسے میں نتیش کمار کو یہ وعدہ کرنا چاہےے کہ سماجی انصاف، عدم مساوات، کسانوں کی لڑائی او رشراب بندی کے ذریعہ خواتین کو سیاست میں لانے کی مہم آخری دم تک جاری رہے گی۔ نتیش کمار اب پارٹی کی حدود سے کافی تجاوزکر چکے ہیں، اب وہ ملک بھر کے لوگوں، خواتین، کسانوں او رنوجوانوں کے بیچ جاچکے ہیں۔ نتیش کمار اب جہاںجا رہے ہیں، وہاں امید کی لو جاگ رہی ہے۔ ان کی آنکھوں میں اب آنسو نہ آئیں، یہ وعدہ انھیں ملنا ہی چاہےے۔
یوپی میں شراب بند ی لاگو کرنے اور اس لڑائی کے ساتھ زمین مافیاو¿ں کے خلاف لڑائی کو جوڑنے کی مانگ پر کسان منچ کے ذریعہ منعقد پروگرام میں جے ڈی یو کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا ممبر کے سی تیاگی نے بہار میں شراب بندی لاگو کرنے کے لےے نتیش کو ’یُگ پُروش‘ بتایا اور کہا کہ مہاتما گاندھی سے لے کرملک میں جتنے بھی عظیم لوگ ہوئے ہیں، چاہے وہ ونوبا بھاوے ہوں یا جے پرکاش نارائن، مرار جی دیسائی ہوں یا چودھری چرن سنگھ یا کرپوری ٹھاکر، سب لوگوںکا یہی خواب تھا کہ ملک شراب سے پوری طرح پاک ہو، سماج میں دشمنی نہ ہو او رسب کوسب کاحق ملے۔ آج کے وقت میں ان لیڈروں کی اصلی نسل یا جانشین ہونے لائق اکیلے نتیش کمار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں ملک بھر کی محبت او رحمایت حاصل ہورہی ہے۔ اترپردیش سمیت ملک کی کئی ریاستوں کی مختلف خواتین تنظیمیں اور مہیلا مورچہ کی ممبر نتیش کمار کونواز رہی ہیں۔ اس کی شروعات جھارکھنڈ کے دھنباد سے ہوئی۔ اس کے بعد کسان منچ کے ذریعہ لکھنو¿ کے رویندرالےہ میںیہ بے مثال استقبال کیا جارہا ہے۔ اسی طرح کے کئی پروگرام راجستھان، اتراکھنڈ اور اڑیسہ و کچھ دیگر ریاستوں میں بھی ہونے جارہے ہیں۔ جے ڈی یو لیڈر نے کہا کہ بہار کی طرز پر اترپردیش سمیت دیگر ریاستوں میںبھی شراب بندی کو لے کربڑے پیمانے پر مہم چلائے جانے کی تیاری ہے۔ 16 فنکاروںکی ایک ٹیم اترپردیش میںجگہ جگہ جاکر نکّڑ ناٹک او ردیگر ذرائع سے لوگوںکو شراب کے تئیںبیدار کرے گی۔ تیاگی نے کہا کہ شراب بندی کے لےے آندولن کے ساتھ ساتھ یوپی میں کسانوں کو ان کی فصلوںکی قیمت ، کسانوں کی خودکشی، بھکمری، کانکنی اور زمین مافیاو¿ں کے خلاف کسان منچ کی مہم کو بھی تیز کیا جائے گا۔
خواتین کی طرف سے منعقد پروگرام میںکرسیوں پر قابض مردوں پر طنز کرتے ہوئے کے سی تیاگی نے بھی کہا کہ اصل میں یہ پروگرام خواتین کے لےے منعقد کیا گیا ہے، لیکن پدرسری سماج کی اگر اصلی شکل دیکھنی ہوتو اس پروگرام میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ خواتین کے لےے جو پروگرام منعقد کیا گیا، وہ اکثر باہر بیٹھی ہیں اور جن کے خلاف منعقد کیا گیا، وہ سب اندر بیٹھے ہیں۔ شراب مرد ہی زیادہ پیتے ہیں، تو شراب بندی کاآندولن خواتین کا ہی ہے۔ کسان منچ کی ستائش کرتے ہوئے تیاگی نے کہا کہ وی پی سنگھ کی قیادت والے کسان منچ نے دادری میں کوڑیوں کے مول ریلائنس کو دی گئی کسانوںکی زمین کی تحویل کے خلاف قانونی لڑائی سے لے کر سماجی لڑائی تک لڑی اور ریلائنس کو اس معاملے میں اپنے پیر پیچھے کھینچ لینے کو مجبور ہونا پڑا۔ وی پی سنگھ جس وقت ملک کے وزیر اعظم تھے، اس وقت نتیش کما رکابینہ کے ممبر تھے۔ اس وقت وہ اور سنتوش بھارتیہ دونوں ایم پی تھے۔ جے پرکاش آندولن میں بھی سب ساتھ رہے۔ تیاگی نے بہار میں شراب بندی کو بھی ویسا ہی عوامی آندولن بتایا، جس کی بلندی یہ ہے کہ کوئی شوہر شراب پیتا ہوا پایا جاتا ہے، تو اس کی بیوی تھانے میں اطلاع دے کر اپنے شوہر کو گرفتار کرا دیتی ہے۔ تیاگی نے گجرات کے کچھ کاروباریوں کے پٹنہ کے ہوٹل میںشراب پیتے پکڑے جانے کا واقعہ سنایا اور کہا کہ گرفتاری کی خبر گجرات میںاس طرح شائع کی گئی کہ جیسے نتیش نے سیاسی عناد میں گجرات کے کاروباریوں کو گرفتار کرایا ہو۔ اصلیت ایسے ظاہر ہوئی کہ کاروباری کی بیوی نے ہی کہا کہ نتیش کمار کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انھوںنے میرے شرابی شوہر کو پکڑا۔ ملک بھر میں بن رہے ایسے اثر کے سبب ہی پارٹیوں کو اور ریاستی سرکاروں کو پریشانی ہورہی ہے، لیکن وہ مطمئن رہیں، ہم ان کی روزی روٹی پر لات مارنے نہیں آئے ہیں۔ ہم تو صرف یہ سمجھانے آئے ہیں کہ شراب ایک سماجی برائی ہے۔ شراب کا دھندہ کرنے والوں کے ذریعہ نتیش کو کالا جھنڈا دکھانے کی چرچا کا حوالہ دیتے ہوئے تیاگی نے کہا، میںنے سنا کہ شراب کا دھندہ کرنے والے نتیش کو کالا جھنڈا دکھانے کی تیاری کررہے تھے۔ کالے جھنڈے تو گاندھی جی کو بھی دکھے، نہرو کو بھی دکھے، جے پرکاش کو بھی دکھے، وی پی سنگھ کو بھی دکھے۔ ایسے عظیم لوگوںکے لےے تو کالے جھنڈے نظر کا ٹیکا ہیں، یہ تو انتہائی مبارک اشارے ہیں۔ تیاگی نے کہا کہ اقتدار کسی کابھی ہو، نتیش نے جو آگ لگائی ہے، وہ پورے ملک میںپھیلے گی او روہ دن آنے والا ہے جب ووٹ اسے ہی ملے گا، جو شراب پر روک لگانے کا ٹھوس وعدہ کرکے الیکشن کے میدان میں اترے گا۔
کسان منچ کے قومی صدر ونود سنگھ نے ہال کی کرسیوںپر قابض مردوں پر حملے سے ہی اپنی بات شروع کی۔ انھوںنے کہا کہ یہ پروگرام بہار میںشراب بندی لاگو کرنے والے نتیش کمار جی کے ’سمّان‘ کے لےے خواتین کے ذریعہ منعقد کیا گیا ہے، لیکن دیکھئے خواتین کی کیا حالت ہے، کرسی پر مردوں نے قبضہ کررکھا ہے۔ خواتین گیلری میں، تو باہر پیڑ کے نیچے بیٹھی ہیں۔ لڑائی وہ لڑتی ہیں، شراب کے خلاف مہم وہ چلائیں گی، آپ کو ان کے ساتھ چلنا تھا، لیکن کہیں نہ کہیں آپ لوگ جو گھر میں کرتے ہیں، وہی اس پروگرام میں بھی کرکے دکھایا۔ ونود سنگھ نے آگاہ کیا کہ آگے سے ایسا نہ کریں۔ اگر خواتین کو عزت دیں گے، تو یقینی طور پر آپ کی یہ مہم آگے بڑھے گی۔ جب خواتین آگے نکلیں گی، خواتین مہم چلائیں گی ، تو آپ کی مہم شراب کے ساتھ کسانوںکے سوالوں کو لے کر آگے بڑھے گی۔ تب چلے گی مائننگ مافیا کے خلاف لڑائی، تب چلے گی کارپوریٹ گھرانوں کے خلاف لڑائی۔ لڑائی کو دھار دینے کے لےے خواتین کو آگے کرنا ہوگا۔ جس طرح سیاسی جماعتیں دکھاتی ہیں، اس طرح کام نہیںکرنا ہے۔ 50 فیصد خواتین کی حصہ داری کی بات کرتے ہیں، لیکن خواتین کو بیٹھنے کے لےے حصہ داری کیوں نہیں دکھاتے۔ کسان منچ کے پروگرام میں بھاری تعداد میںلوگوں کی شرکت سے پُرجو ش کسان منچ کے قومی صدر نے کہا کہ لکھنو¿ میں ایسا پروگرام کرنا پیسے کا کھیل ہوتا ہے۔ لیکن ایسی اندھی ریس کے دور میں کسان منچ کا پروگرام ایک مثال ہے۔ لوگ اپنے ذرائع سے آئے۔ خواتین اپنے ذرائع سے آئیں۔ ونود سنگھ نے اعلان کیاکہ کسان منچ شراب بندی کے حق میں اور مائننگ اور لینڈ مافیاکے خلاف مہم کو پورے اترپردیش میں او ر ملک بھر میں چلائے گا۔ ستمبر میں دیوریا سے دادری تک کی یاترا نکالی جائے گی۔ چھ مہینے کے اندر پوری طاقت کے ساتھ کسان منچ ابھرے گا اور آندولن طاقتور بنے گا۔ ونود سنگھ نے کہا کہ نتیش کمار میںوی پی سنگھ کا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ سماجی انصاف اور ایمانداری کی شبیہ دکھائی دیتی ہے۔ ملک میں ایک ہی چہرہ ہے نتیش کمار کا جسے کسانوں کا چہرہ بننا ہے، دبے کچلوں کا چہرہ بننا ہے، وی پی سنگھ کے اصولوں پر چلنے والے نتیش کمار نے شراب بند کرنے کا جوکھم اٹھایا۔ اب یوپی میںبھی شراب پر مکمل پابندی لگنی چاہےے۔ یوپی میںشراب کا دھندہ ایک پونٹی پریوار کے ہاتھوں میںمرکوز ہے۔ ونود سنگھ نے کہا کہ اب یہ لہر بہار سے اٹھی ہے، تو یوپی ہوتے ہوئے دلّی تک جائے گی۔
مہاراشٹر سے 12سوکلو میٹر گاڑی ڈرائیو کرکے لکھنو¿ پہنچیں ’کسان منچ ‘کی لیڈر کویتا دمبھرے نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ جوش وخروش کے ساتھ تب تک آندولن چلائیں جب تک کہ پورے ملک میں شراب بندی لاگو نہ ہو جائے۔ کویتا نے کہا کہ مہاراشٹر کے کئی ضلعوں میں شراب بندی کا آندولن چل رہا ہے۔ وردھا ضلع سے ہی شراب بندی کا آندولن شروع ہوا تھا، لیکن مہاتما گاندھی کے آدرش کو صرف وردھا تک ہی محدود کر دیا گیا۔ لیکن بعد میں مہاراشٹر کے نکسل متاثرہ ضلع گڑھ چرولی میں بھی شراب بندی کا آندولن کامیاب ہوا۔ چندر پور ضلع میں شراب بندی کے آندولن میں کویتا بھی شریک رہیں، اس آندولن کے سامنے مہاراشٹر سرکار کو جھکنا پڑا۔ چندر پور میں اب شراب مکمل طور پر بند ہے۔ کویتا بولیں کہ دن بھر کھیتی کرنے والی، روزگار کرنے والی عورتیں بھی آندولن میں شریک ہیں، ایسا ہی اتر پردیش میں بھی ہو سکتا ہے۔ پورے ملک کی عورتیں نتیش کمار کے ساتھ ہیں۔ کیونکہ شراب کی ٹریجڈی کا شکار عورتیں ہی ہوتی ہیں۔ عورتوں کو نتیش کمار کا تحفظ چاہئے، پورے ملک کی عورتیں نتیش کمار کی طرف امید سے دیکھ رہی ہیں۔ بنارس سے آئیں ڈاکٹر ریتو گرگ نے بھی بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح انہوں نے بہار کی عورتوں کو شراب کی ٹریجڈی سے نجات دلائی ہے، اسی طرح سے اترپردیش میں بھی عورتوں کا ساتھ دیں اور یہی آندولن پورے ملک میں پھیلے۔ پروگرام کا انعقاد ’کسان منچ اتر پردیش‘ کے صدر شیکھر دیکشت نے کیا۔ سابق وزیر اعظم وی پی سنگھ کے کافی قریبی رہے شیکھر نے بھی کئی بار وی پی سنگھ کو یاد کیا اور کہا کہ نتیش کمار جی کے ساتھ وہ جب گاڑی سے آرہے تھے تو ان کی باتیں سن کر انہیں وی پی سنگھ کی یاد آرہی تھی۔ شیکھر گاڑی ڈرائیو کرتے تھے اور وی پی سنگھ بغل میں بیٹھے ہوئے ملک و سماج کے بارے میں بتاتے رہتے تھے۔
’کسان منچ‘ کی یوپی انچارج ریچا چترویدی اور مہاراشٹر انچارج کویتا دمبھرے کی قیادت میں عورتوں نے مومنٹو دے کر نتیش کمار کی عزت افزائی کی۔ اس کے پہلے’ کسان منچ‘ کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں اموسی ایئر پورٹ پہنچ کر وہاں نتیش کمار کا استقبال کیا۔ وی وی آئی پی گیسٹ ہاﺅس میں بھی کئی خاتون وفود سے نتیش کمار کی ملاقات ہوئی۔ بہار میں صحافی راج دیو رنجن کے قتل کے سلسلے میں آئی ایف ڈبلیو جے کے وفد نے بھی نتیش سے مل کر میمو سونپا۔ نتیش لکھنو کے امبیڈکر مہا سبھا بھی گئے اور وہاں ڈاکٹر بھیم راﺅ امبیڈکر کے بون کلش پر اظہار عقیدت پیش کیا ۔نتیش کو وہاں بھی مومنٹو پیش کرکے عزت افزائی کی گئی۔
بی جے پی کی زیر قیادت ریاستوں میں شراب بندی لاگو کرائیں مودی
نتیش نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کے تحت آنے والی ریاستوں میں شراب بندی لاگو کرائیں۔نتیش نے دلیل دی کہ گجرات میں اس کے قیام کے زمانے سے ہی شراب بندی لاگو ہے۔ نریندر مودی نے گجرات کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے وہاں شراب بندی ختم نہیں کی، اس کا مطلب ہے کہ مودی بھی شراب بندی کے حق میں ہیں۔ تب تو انہیں بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں بھی شراب بندی فوراً لاگو کرانا چاہئے۔
شراب لابی کی طاقت جانتے ہیں نتیش
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ شراب لابی کی طاقت کو وہ اچھی طرح جانتے ہیں، لیکن وہ اس لابی کے آگے جھکنا نہیں جانتے۔ نتیش نے کہا کہ لکھنو آنے پر انہیں کچھ لوگوں نے جانکاری دی کہ شراب کے کاروبار سے جڑے کچھ لوگ انہیںکالے جھنڈے دکھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ نتیش نے کہا کہ پتہ نہیں کالا جھنڈا دکھایا یا نہیں۔ بہار میں تو شراب کا دھندہ کرنے والوں نے دھرنا تک دیا تھا۔ پہلے تو دباﺅ بنانے کا کام کیا، لیکن جھکنے کا سوال ہی کہاں تھا، تب خود جھکے اور کہا کہ شراب کی دکان بند ہو جائے گی تو ہم بے روزگار ہو جائیں گے۔ ہم نے ان سے کہا کہ شراب کا کام بند کرکے دودھ کا کارو بار شروع کر دیں۔ دھندہ کا دھندہ اور صحت کی صحت۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ شراب لابی کتنی مضبوط ہے اور وہ کیا کیا کرا سکتی ہے۔ ہم تو اب تال ٹھوک کر میدان میں اتر ہی چکے ہیں۔
’کسان منچ‘ کے لیڈروں کو دی جان سے مانے کی دھمکی
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ مل کر اتر پردیش میں بھی بہار کی طرز پر شراب بندی کی مہم چلانے کا اعلان کرنے سے پریشان عناصر نے ’کسان منچ ‘کے لیڈروں کو فون پر دھمکیاں دیں اور پروگرام سے الگ رہنے کو کہا۔ فون پر دھمکی دینے والوں نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو بھی گالیاں دیں اور کسان منچ کے لیڈر کو گولی مارنے کی دھمکی دی۔ کسان منچ کے قومی صدر ونود سنگھ نے اس کی باضابطہ توثیق کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی دھمکیوں کے ایک درجن سے زیادہ معاملے لکھنو¿، سروجنی نگر، بارہ بنکی سمیت کئی ضلعوں اور شہروں میںدرج کرائے گئے ہیں۔ لکھنو پولیس نے ایسے کئی فون نمبروں کی نگرانی کے بعد یہ پایا کہ ان میں سے کچھ بی جے پی لیڈروں کے نمبر تھے۔ معاملے کی تفتیش چل رہی ہے۔ کئی دھمکی دینے والوں نے اس مہم کو نہ چلانے کی وارننگ دیتے ہوئے انجام بھگت لینے کی بات کہی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں کو جلد ہی گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔
کالے جھنڈے دکھائے نہیں،لیکن اخباروں میں چھپ ضرور گئے
اتر پردیش میں بھی شراب بندی لاگو کرنے کی مانگ پر لکھنو¿ میں منعقد ’کسان منچ‘ کے پروگرام میں شریک ہونے والے نتیش کمار کو شراب کاروباریوں کے ذریعہ کالا جھنڈ ادکھانے کی تیاری کی چرچا تھی۔ نتیش کے آنے سے لے کر پروگرام ختم ہونے تک کالا جھنڈا تو کہیں نہیں دکھائی دیا، لیکن چرچا ضرور ہوتی رہی۔ یہ چرچا نتیش کے کانوں تک بھی پہنچی۔ انہوں نے بھی کہا کہ سنا تو ،لیکن کہیں دیکھا نہیں، لیکن اگلے دن کئی اخباروں میں دکھائی دیا۔ شراب کا دھندہ کرنے والے لوگوں کے ذریعہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو کالا جھنڈ ادکھانے کی خبریں اہمیت کے ساتھ چھپیں۔ ایک اہم انگریزی اخبار سمیت کئی دیگر ذاتی اخباروں میں یہ خبریں افسوسناک طریقے پر چپکی ہوئی ملیں اور شراب مافیاﺅں کی اصلی وقعت کا ایک اور پہلو اجاگر کر گئیں۔
ایل آئی یو کے ایک آفیسر نے کہا کہ شراب ایسو سی ایشن کے کارکنوں نے نتیش کو کالاجھنڈا دکھانے کی تیاریوں کا ہوّا کھڑا کیا تھا۔ کانپور روڈ کے پاس ان لوگوں نے ایسی جگہ پر نعرے لگانے اور کالا جھنڈا دکھانے کی تیاری کی جو نتیش کمار کے روٹ میں نہیں تھا۔ اخباروں میں اسی مضحکہ خیز تماشے کو خبر کا رنگ دے کر چھپوا لیا گیا۔
شراب نوشی کے خلاف گاندھی گیری
شراب بندی کو لے کر لکھنو میں نتیش کمار کی آمد کا کچھ ایسا اثر ہوا کہ کچھ دیگر سماجی ادارے بھی شراب کے خلاف سڑک پر اتر پڑے۔ شراب نوشی کے خلاف خاتون سماجی کارکنوں نے گاندھی گیری شروع کی۔ لکھنو کے منشی پلیا کے پاس ٹھیکہ پر شراب پینے والوںکو مالا پہنا کر خاتون سماجی کارکنوں نے انہیں شراب نہیں پینے کی نصیحت دی۔ مہم کا آغاز اسی دن دیر شام منشی پلیا چوراہا، اروہی آرکیڈ سے ہوئی، جس دن نتیش’ کسان منچ‘ کے پروگرام میں شریک ہونے لکھنو آئے تھے۔ وہاں ایک شراب کی دکان کے باہر شرابیوں کا گروپ شراب پیتا دکھائی دیا۔ مہم میں شامل لوگوں کے ہاتھ میں پھولوں کی مالا دیکھتے ہی شرابی وہاں سے بھاگ نکلے۔ پولیس نے کچھ کو پکڑ لیا اور ادارہ کے لوگوں نے مالا پہنا کر عوامی مقامات پر شراب نہ پینے کی انہیں قسم دلائی۔
خاتون سماجی کارکنوں نے کھلے عام شراب پی رہے پولیٹیکنک طالب علم کو بھی مالا پہنائی۔مالا پہنانے سے وہ ناراض ہو گیا۔ اس نے سماجی کارکنوں کے ساتھ ساتھ وہاں موجود پولیس والوں کو بھی ہڑکانے کی کوشش کی۔ لیکن پولیس نے جب اس کا چالان کاٹا تو پھر اس کے ہوش اڑ گئے۔ پاروتی پیلس میں ایک دکان کے اندر کئی لوگ شراب پیتے دکھائی دیئے، جس کی مقامی کاروباریوں نے مخالفت کی۔ اس کے بعد پولیس کی مداخلت پر وہاں شراب نوشی رکی۔
نتیش کی سماجی مہم بنام سیاسی مہم
سروج سنگھ
جنتا دل (یو) کے قومی صدر اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ’ سنگھ مکت بھارت ‘اور ’شراب مکت سماج ‘کے نعرے کے ساتھ اپنا مشن 2019 شروع کر دیا ہے۔ مشن 2019 کے پہلے اگنی پریکشا اتر پردیش میں ہونی ہے، لہٰذا انہوں نے اپنا پہلا پڑاﺅ ملک کی سب سے بڑی ریاست کو بنایا ہے۔ نتیش کمار نے وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ بنارس کے پنڈرا سے اپنے مشن کا آغاز کیا۔ اس کے بعد نتیش لکھنو¿ پہنچے۔ 12 مئی کو پنڈرا میں اور 15مئی کو لکھنو¿ میںنتیش نے بگل بجا دیا۔ اس مہم کو لے کر کچھ خاص باتیں ابھر کر سامنے آئیں ہیں جسے جنتا دل ( یو) سپریمو کی مو¿ثر سیاست کے اشارے کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ نتیش کمار کے’ شراب مکت سماج‘ کے نعرے کو زبردست حمایت ملتی دکھائی دے رہی ہے۔ خواتین کی دلچسپی بڑھنے سے یہ مہم رفتار پکڑ رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی یا بہوجن سماج پارٹی کو کھل کر للکارنے سے نتیش کمار اب تک بچتے رہے، لیکن لکھنو¿ میں شراب بندی کو لے کرانہوں نے سماج وادی پارٹی سرکار کو چنوتی دی۔ ان تمام سرگرمیوں کے بیچ کانگریس کو لے کر نتیش کا رخ ہندی پٹی میں نئے سیاسی اتحاد کی امیدوں کو جنم دے رہا ہے۔ ادھر بہار میں مہا گٹھ بندھن کے سب سے بڑے اتحادی راشٹریہ جنتا دل کے بڑے لیڈر رگھو ونش پرساد سنگھ کے بیان بھی کم اہمیت کے حامل نہیں مانے جارہے ہیں۔
اتر پردیش میں نتیش کمار کے دو پروگراموں میں سے ایک سیاسی تھا تو دوسرا بالکل غیر سیاسی۔ بنارس کے سیاسی پروگرام میں انہوں نے خاص طور پر نریندر مودی ، بی جے پی اور راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کو نشانے پر لیا اور گزشتہ پارلیمانی انتخابات کے دوران ملک سے کئے گئے ان کے وعدوں کو لے کر ان کی نیت پر کئی سوال کھڑے کئے۔ بی جے پی پر حملے کے بعد انہوں نے شراب بندی کا مسئلہ اٹھایا۔ بہار میں شراب بندی کے مل رہے مثبت نتیجوں کا انہوں نے ذکر کیا۔ اتر پردیش میں نتیش کمار کی مہم کو لے کر کچھ سوال نئے سرے سے اٹھ رہے ہیں۔ چودھری اجیت سنگھ کی راشٹریہ لوک دل (رالود) سے پہلے تو تال میل کی بات چلی، پھر جنتا دل ( یو ) میں اس کے الائنس کا چرچا چلا۔ لیکن یہ زمین کی سطح پر نہیں اترا۔ چودھری اجیت سنگھ کی فطری طور پر کچھ شرطیں ہوتی ہیں، جو سب جانتے ہیں، لہٰذا تال میل کیوں نہیں ہوا یہ سمجھ میں آتا ہے۔ حالانکہ نتیش کمار کہتے ہیں کہ چودھری کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ اسی طرح مشرقی اترپردیش کے کچھ ضلعوں میں سرگرم ایک علاقائی پارٹی سے بھی انتخابی تال میل کا چرچا ہے، لیکن زمین پر ابھی کچھ کہیںدکھائی نہیں دے رہا ہے۔ نتیش کمار نے پنڈرا کے اجلاس میں مشرقی اتر پردیش کی 127 اسمبلی سیٹوں کا خاص طور پر چرچا کیا اور پروانچل کو لے کر تیاریوں کا اشارہ دیا۔ ادھر، جھارکھنڈ کی حالت سے پارٹی میں اطمینان ہے۔ دھنباد میں شراب بندی کی مہم کے سلسلے میں منعقد ایک اجلاس میں نتیش کمار کے ساتھ اسٹیج پر ’جھارکھنڈ وکاس مورچہ‘ (جھویمو) کے سپریمو اور سابق وزیر اعلیٰ بابو لال مرانڈی بھی موجود تھے۔ مرانڈی کی موجودگی جنتا دل (یو) کے ساتھ ان کی نزدیکی ظاہر کرتی ہے اور مستقبل میں سیاسی شراکت داری کے اشارے دیتی ہے۔ نتیش کمار کے مشن 2019 اور مشن اتر پردیش کی راشٹریہ جنتا دل سپریمو لالو پرساد یادو نے عوامی طور پر حمایت کی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی پرساد یادو نے بھی اپنے وزیر اعلیٰ میں وزیر اعظم میٹریل پایا ہے، لیکن پرانے سماج وادی اور راشٹریہ جنتا دل کے بڑے لیڈر رگھو ونش پرساد سنگھ نے نتیش کمار کی اس مہم کو لے کر دو ٹوک باتیں کی ہیں۔ انہوں نے نتیش کمار کو نصیحت دی ہے کہ وہ بہار پر دھیان دیں، یہاں کی صورت حال بگڑ رہی ہے۔ چونکہ اسٹیرئنگ سیٹ پر نتیش کمار ہی ہیں تو سوال بھی انہی سے ہونا ہے اور جواب بھی انہی کو دینا ہے۔ اس کے کچھ دن بعد رگھو ونش بابو کا دوسرا بیان آیا کہ نتیش کمار کی ایسی سیاسی مہم سے ملک کی سیکولر سیاست کو نقصان ہوگا۔ کچھ دن پہلے انہوں نے کہا تھا کہ مہاگٹھ بندھن تو ہے ہی نہیں، کچھ لیڈر آپس میں مل گئے ہیں۔ رگھو ونش بابو کے ان بیانوں پر نتیش کمار اور ان کے خاص لیڈروں نے کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی پرساد یادو نے اسے رگھو ونش بابو کی ذاتی رائے کہا۔ راشٹریہ جنتا دل سپریمو اس پر خاموش ہیں۔ مہاگٹھ بندھن میں شریک کانگریس، نتیش میں پی ایم میٹریل نہیں دیکھتی۔ کانگریس گاندھی پریوار کو چھوڑ کر کسی اور کو بطور لیڈر پیش نہیں کر سکتی۔ گاندھی پریوار کی ساری امیدیں راہل گاندھی پر ٹکی ہوئی ہیں اور راہل تذبذب میں پڑے ہیں۔
نتیش کو اعظم کی نصیحت
سماج وادی پارٹی کے لیڈر اعظم خاں نے مسلم ووٹوں کی تقسیم کو لے کر نتیش کو نصیحت دی ہے۔ اعظم کا کہنا ہے کہ نتیش کمار مسلم ووٹوں کو بانٹنے کا کام نہ کریں۔ ایسا کرنے سے مخالفین کو فائدہ ملے گا۔ اگر انہیں اقلیتوں کابھلا کرنا ہے تو ساتھ مل کر کام کریں۔ اعظم نے کہا کہ اگر نتیش کمار مسلمانوں کی بھلائی چاہنے والے ہیں تو سماج وادی پارٹی کی حمایت کا اعلان کریں، جس سے اسمبلی انتخاب کے بعد سماج وادی پارٹی کی سرکار بننے میں آسانی ہو۔
سماج وادی پارٹی کی بے چینی کا بینی کو مل گیا انعام
دین بندھو کبیر
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے اتر پردیش میں دو پروگراموں کی آہٹ سے ہی سماج وادی پارٹی اتنی سرگرم ہوگئی کہ آناً فاناً کورمی ووٹ مینج کرنے کی تیاری ہونے لگی اور ملائم کو بینی پرساد ورما یاد آنے لگے۔ پارٹی نے تابڑ توڑ پریس کانفرنس بلائی اور میڈیا کے سامنے بینی کو پیش کر دیا۔ بینی کو سماج وادی پارٹی میں شریک کرایا اور اگلے ہی دن راجیہ سبھا بھیجے جانے والے لیڈروں کی لسٹ جاری ہو گئی جس میں بینی کا نام چسپاں ہو گیا۔ بینی کے ساتھ ساتھ امر سنگھ بھی راجیہ سبھا کے لئے سماج وادی کی پسند بنے، جس کا امکان پہلے سے تھا۔ امکان میں ایک چینل کے مالک کا نام پہلے سے چل رہا تھا، لیکن لسٹ جاری ہوتے ہی وہ چرچا تھم گیا۔ اسی رَو میں سماج وادی پارٹی نے متنازع بلڈر سنجے سیٹھ کو بھی راجیہ سبھا بھیجنے کا فیصلہ شامل کرلیا، جس کے اسمبلی کونسل بھیجنے پر گورنر رام نائک نے قانونی اعتراض ظاہر کیا تھا اور ریاستی سرکار گورنر کے خلاف کوئی جواب نہیں دے پائی تھی۔ اس کے بعد سنجے سیٹھ کے ٹھکانوں پر انکم ٹیکس اور انفورسٹمنٹ ڈپارٹمنٹ کے چھاپے بھی سرخیوں میں رہے۔ ان چھاپوں کے بعد اٹاوہ میں سنجے سیٹھ کے ذریعہ ملائم کو نذر کی گئی عالیشان کوٹھی بھی سرخیوں میں رہی۔ بدلے میں سنجے سیٹھ کو راجیہ سبھا کی سیٹ مل گئی اور قانون اپنی جگہ جھینپتا رہا۔ سماج وادی پارٹی کی طرف سے راجیہ سبھا کے لئے منتخب کئے گئے ناموں میں بینی پرساد ورما، امر سنگھ، سکھرام یادو، ریوتی رمن سنگھ، وشمبھر پرساد نشاد، اروند سنگھ اور سنجے سیٹھ شامل ہیں۔ سماج وادی پارٹی نے اسمبلی کونسل کے امیدواروں کے نام بھی ساتھ ساتھ اعلان کئے، جن میں ملائم کے محبوب خدمتگار رہے جگجیون پرساد بھی شامل ہیں۔ جگجیون کے علاوہ بلرام یادو، شترودر پرکاش ، یشونت سنگھ، بوکّل نواب، رام سندر داس نشاد اور گونڈا کے رنوجے سنگھ کے نام بھی شامل ہیں۔
راجیہ سبھا کی لسٹ فائنل کرنے میں سماج وادی قیادت نے قومی جنرل سکریٹری پروفیسر رام گوپال یادو اور اکھلیش سرکار کے سینئر وزیر، اعظم خاں کی ناراضگی کا قطعی خیال نہیں رکھا۔ اس سے یہ حتمی اشارہ ملا کہ آنے والے وقت میں خاص طور پر اسمبلی انتخاب کے وقت رام گوپال اور اعظم خاں کی کیا حیثیت رہنے والی ہے۔ رام گوپال اور اعظم دونوں نے ہی اپنے اپنے انداز میں پارٹی قیادت کی مخالفت کی، لیکن ملائم پر اس مخالفت کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ بینی اور امر کو راجیہ سبھا بھیجنے پرملائم بضد تھے اور سینئر لیڈر شیو پال سنگھ یادو ان کا ساتھ دے رہے تھے۔ رام گوپال اور اعظم کی وجہ سے ہی امر سنگھ پارٹی سے بے دخل ہوئے تھے اور پارٹی میں ان کی واپسی نہیں ہو پائی تھی۔ ملائم سنگھ یادو نے امر سنگھ کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ دے کر اعظم اور رام گوپال کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ ملائم سنگھ کی 75ویں سالگرہ عالیشان طریقے سے رام پور میں منانے والے اعظم خاں نے ان کی 76ویں سالگرہ کے موقع پر امر سنگھ کو دیکھ کر کہا تھا کہ جب طوفان آتا ہے تو کوڑا کرکٹ آہی جاتا ہے۔ ایسا کہہ کروہ سیفئی سے چلے گئے تھے، لیکن ان کی مخالفت کو نظر انداز کرکے ملائم نے امر سنگھ کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ دے ہی دیا۔ پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں پروفیسر رام گوپال نے مخالفت درج کرائی، لیکن ملائم نے ان کے نام پر مہر لگا دی، شیو پال سنگھ یادو نے کہا کہ جب نیتا جی چاہیں گے امر سنگھ کی پارٹی میں واپسی بھی ہو جائے گی۔ امر سنگھ کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ دیئے جانے سے ناراض اعظم خاں نے کہا ،نیتا جی سماج وادی پارٹی کے مالک ہیں، جسے چاہیں پارٹی میں رکھیں، ان کے فیصلے کو چیلنج دینا میرا حق نہیں ہے۔ حالانکہ یہ بہت افسوسناک قدم ہے۔
بینی پرساد ورما بھی امر سنگھ پر تیکھی تنقید کرتے رہے ہیں۔ بیٹے کو ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض ہوکر بینی 2007 میں پارٹی چھوڑ گئے تھے۔ بینی کے بیٹے راکیش ورما کو امر سنگھ کی وجہ سے ہی ٹکٹ نہیں ملا تھا۔ راجیہ سبھا کا ٹکٹ ملتے ہی بینی بولے کہ گزشتہ دو سال سے کانگریس پارٹی میں ان کا دم گھٹ رہا تھا۔ ملائم سنگھ یادو نے بینی پرساد کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ بینی ہمارے پرانے ساتھی ہیں۔ بینی نے ہی پارٹی کو سماج وادی نام دیا تھا۔ پارٹی بنانے میں ان کا بڑا تعاون ملا ہے۔ میرے سارے سیاسی فیصلے میں بینی پرساد ورما ہمارے ساتھ رہے۔ ان کے پارٹی میںشامل ہونے سے پورے ملک میں ایک پیغام جائے گا اور سماج وادی پارٹی لکھنو¿ کے ساتھ ساتھ دلی کی لڑائی بھی لڑے گی۔
بے معنی ہوئی دوربے وفائی کی باتیں
ڈاکٹر دلیپ اگنی ہوتری
یہ دلچسپ ہے کہ ملائم سنگھ یادو سے ناراض ہونے والے ان کے سبھی سابق ساتھی ایک جیسے الزام لگاتے ہیں، لیکن دوستی ہوتے ہی ان کے سُر بدل جاتے ہیں۔ پھر کوئی ملائم کی پارٹی میں آجاتا ہے، تو کوئی پارٹی میں رہ کر راجیہ سبھا کا ممبر ہونے کی قطار میں لگ جاتا ہے۔ کوئی بھی دورِ بے وفائی میں دیئے گئے بیانوں کو یاد نہیں کرنا چاہتا ۔ ایسا لگتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ ٹھیک بھی ہے، دشمنی کو دوستی میں بدلتے وقت پرانی کڑواہٹ کو بھلانا پڑتا ہے، لیکن ذاتی اور عوامی زندگی میں فرق بھی ہوتا ہے۔ عوامی زندگی میں سماج کے تئیں جوابدہی کی امید ہوتی ہے کیونکہ شان و شوکت، عہدہ اور ساکھ وغیرہ سبھی کچھ سماج کی طرف سے ہی ملتا ہے، ایسے میں سماج کو کچھ باتوں کا جواب بھی مانگنا چاہئے۔
دشمنی کے بعد دوستی پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ سیاست میں تو اسے اکثر عارضی عنصر مانا جاتا ہے۔موقع کے مطابق فیصلے ،فاصلے، رنگ اور پالے بدلتے رہتے ہیں۔ کم سے کم مشترکہ پروگرام کی بنیاد پر تال میل یا گٹھ بندھن بھی ہوتے ہیں۔ یہ بہتر طریقہ ہوتا ہے۔ عام آدمی کو معلوم ہوتا ہے کہ باہم مخالف پارٹیاں کن ایشوز پر ساتھ چلنے کو متفق ہوئی ہیں۔ اس سمت میں کم سے کم مشترکہ پروگرام ہی اہم ہوتا ہے۔ تب پہلے ایک دوسرے کے لئے متعلقہ پارٹیوں کے ذریعہ کیا کہا گیا، اس کی اہمیت نہیں رہ جاتی ۔ اگر کم سے کم مشترکہ پروگرام پر عمل مناسب نہ ہو تو بغیر کسی دشواری کے متعلقہ پارٹیاں الگ راہ پر لوٹ سکتی ہیں۔ دوبارہ ایک دوسرے کے خلاف مورچہ کھول سکتی ہیں۔ لیکن ذاتی فیصلے یا بیان اس دائرے میں نہیں آتے۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ باتیں بھولنی پڑتی ہیں لیکن بعض بیانوں کی وضاحت بھی ہونی چاہئے۔ یہ دو لیڈروں کے بیچ کا مسئلہ نہیں رہ جاتا ہے، اس میں سماج اور حکومت کے موضوع بھی شامل ہوتے ہیں۔ متعلقہ لیڈر عام آدمی کے تئیں اپنی اس جوابدہی سے بچ نہیں سکتے۔
اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اعظم خاں، بینی پرساد ورما اور امر سنگھ نے ناراضگی کے دور میں ملائم سنگھ یادو پر لگ بھگ ایک جیسے الزام لگائے تھے۔ فرق اتنا ہے کہ تیکھے الزام لگانے کے بعد بھی اعظم خاں نے نہ کوئی نئی پارٹی بنائی تھی، نہ کسی دیگر پارٹی میں وہ شامل ہوئے تھے۔ نئی پارٹی بنانے کا وہ جوکھم نہیں اٹھا سکتے تھے۔ کانگریس میں نہ جانے کا سبب رام پور اور وہاں کے نواب پریوار سے جڑا مسئلہ تھا۔ بہو جن سماج پارٹی کے بارے میں اعظم پہلے ہی اتنا بول چکے تھے کہ وہاں گنجائش کم تھی۔ اس کے علاوہ بہو جن سماج پارٹی میں جاتے تو ان کے بولنے پر لگام لگ جاتی۔ اعظم کے لئے یہ بہت پریشان کرنے والی سزا ہوتی۔ اسے برداشت کرنا ان کے لئے مشکل تھا۔ پھر بھی انہوں نے ملائم پر حملے میں کوئی رعایت نہیں کی تھی۔ انہوں نے ملائم پر راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ اور بی جے پی سے سانٹھ گانٹھ کرنے تک کا الزام لگایا تھا۔ اپنے اس الزام کو اعظم نے علامتی طور سے پیش کیا تھا۔ کہا تھا کہ ملائم دھوتی کے نیچے ہاف پینٹ پہنتے ہیں۔ مطلب سنگھ سے ان کا لگاﺅ ہے، لیکن وہ اسے چھپا کر رکھتے ہیں۔ الزام سنگین تھا۔ اس میں بابری مسجد ڈھانچے کا مسئلہ بھی شامل تھا۔ الزام لگانے والا ملائم سنگھ یادو کا لمبے وقت تک معاون رہ چکا تھا۔ ایسے میں الزام کو ہلکے میں نہیں لیا جاسکتا تھا۔ ایک ساتھ کام کرنے والوں کو اپنے ساتھی کی کافی جانکاری ہوتی ہے۔ ملائم اور اعظم کی دوستی کے بعد بھی اعظم کو الزام کی سچائی جاننے کا حق تھا۔ دو ہی متبادل تھے۔ ایک یہ کہ اعظم قبول کرتے کہ الزامات بے بنیاد تھے۔ دوسرا یہ کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں ثبوت دیتے، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ الزام آج بھی ریکارڈ میں ہے اور دوستی چل رہی ہے۔
بینی پرساد ورما نے بھی ملائم پر راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ سے سانٹھ گانٹھ کا الزام لگایا تھا۔ وہ کئی قدم آگے نکل گئے تھے اور ملائم پر دہشت گرد ہونے تک کا الزام لگایا تھا۔ کہا تھا کہ ملائم سنگھ یادو ملک کی سب سے خطرناک سیاسی مخلوق ہیں۔ کیا معلوم کب کس کو خوراک بنالیں۔ وہ موسولینی یعنی تاناشاہ ہیں۔ لوک سبھا انتخاب کے کچھ مہینے پہلے بینی نے کہا تھا کہ انڈین مجاہدین کو پیدا کرنے والے ملائم سنگھ یادو ہیں۔ ملائم نے ہی راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کو بڑھاوا دیا۔ اس بیان کے کچھ وقت بعد بینی نے کہا کہ ملائم اور اڈوانی نے ملی بھگت کرکے بابری مسجد گروائی۔ ملائم ہمیشہ فرقہ وارانہ طاقتوں کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔ وہ دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ بینی پرساد ورما نے ملائم سنگھ یادو پر سنگین الزام لگائے تھے۔ اس میں دہشت گردی، فرقہ واریت، بابری مسجد انہدام وغیرہ جیسے بڑے مسئلے شامل تھے۔ دوستی سے پہلے بینی اگر اتنا کہہ دیتے کہ ان کے ذریعہ لگائے گئے الزام بے بنیاد تھے تو غنیمت ہوتی۔ لگتا ہے کہ صاف دل سے دوستی ہو رہی ہے، لیکن اعظم کی ہی طرح بینی نے ملائم پر لگائے گئے الزامات پر کوئی افسوس ظاہر نہیں کیا،نہ کوئی صفائی دی۔ کیا اسی کو دوستی کہتے ہیں؟ سنگین الزامات تو اپنی جگہ پر ہیں۔ سبھی باتیں ریکارڈ پر ہیں۔ بینی اور اعظم کی پریشانی یہ ہے کہ وہ ملائم پر لگائے گئے الزامات کو جھوٹا بتائیں تو ان کی ساکھ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گی۔ مستقبل میں یہ کوئی بیان دیں گے تو اس پر لوگ آسانی سے بھروسہ نہیں کریں گے۔ یہ مانا جائے گا کہ یہ لیڈر اپنے ہی بیان سے پلٹ جائیں گے۔ مطلب صاف ہے کہ ان لیڈروں نے دوستی نہیں صرف مفاد کو اہمیت دی۔ جب کانگریس میں رہنے پر فائدہ لگا تو وہاں رہے، سونیا اور راہل کی تعریف کی۔ مرکز میں وزیر بھی بنے، لیکن اب انہیں مرکز یا ریاست میں کانگریس کا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا ہے تو سماج وادی پارٹی میں آ گئے۔ اپنی اور اپنے بیٹے کی فکر نے انہیں پالا بدلنے کو مجبور کر دیا۔ وہیں ملائم سنگھ یادو آج کہہ رہے ہیں کہ کہ اب بینی کے ساتھ دلی کی لڑائی لڑیں گے، جبکہ لوک سبھا چناﺅ کے وقت ملائم نے کہا تھا کہ بینی پرساد ورما اپنے بیٹے کی ضمانت تک نہیں بچا سکے، راہل کو وزیر اعظم کیا بنائیںگے۔ اب ملائم کو یہ بتانا چاہئے کہ بیٹے کی ضمات بچانے میں ناکام لیڈر کے ساتھ وہ دلی کی لڑائی کیسے لڑیں گے، لیکن بینی کی طرح ملائم بھی کوئی صفائی نہیں دے سکتے۔ سماج وادی پارٹی سرکار پر ایک خاص ذات کو ترجیح دینے کے الزام لگتے رہے ہیں۔ وہ بینی کو علامتی طور سے پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن اقتدار میں رہنے والوں کو چہرہ نہیں اپنے کاموں پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے۔ انتخاب میں اسی کا تجزیہ ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *