نیشنل ویمن کمیشن اپنے کام کے تئیں کتنا سنجیدہ ہے

شفیق عالم
p-7گزشتہ سال نیشنل ویمن کمیشن کئی وجہوں سے سرخیوں میں تھا۔ این ڈی اے سرکار کے دور اقتدار میں ایک سال پورے ہونے کے موقع پرمرکزی وزیر برائے بہبود خواتین و اطفال مینکا گاندھی نے کہا تھا کہ ان کی وزارت نیشنل ویمن کمیشن کے طریقہ کار میں اہم بدلاﺅ کرنے کی کوشش کرے گی۔ دراصل وزیر کا عہدہ سنبھالتے ہی مینکا گاندھی نے نیشنل ویمن کمیشن کو مضبوط بنانے کے لئے نیشنل ویمن کمیشن ایکٹ 1990 میں ترمیم کئے جانے کا اعلان کیاتھا۔ اسی اعلان پر آگے کی کارروائی کرتے ہوئے گزشتہ سال اپریل کے مہینے میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی قیادت والی سات رکنی وزیروں کے گروپ ( گروپ آف منٹسرس) نے نیشنل ویمن کمیشن کو سول عدالت کا درجہ دیئے جانے کی سفارش کی تھی۔ اس کے علاوہ خواتین کمیشن سے جڑے دیگر کئی معاملے بھی سرخیوں میں تھے، ان میں سے ایک معاملہ دلی سرکار کے ذریعہ سواتی مالیوال کا دلی مہیلا کمیشن کی صدر مقرر کیا جانا تھا۔ اس تقرری کو لے کر دلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ اور وزیر اعلیٰ اروند کجریوال آمنے سامنے تھے۔
اسی پس منظر میں” چوتھی دنیا “نے کمیشن کے ذریعہ گزشتہ پانچ برسوں میں کئے گئے کاموں کی جانکاری حاصل کرنے کے لئے 19مئی 2015 کو ایک آر ٹی آئی داخل کی تھی۔ حالانکہ اس آر ٹی آئی کا جواب قانوناً گزشتہ سال جولائی کے آخری تک آجانا چاہئے تھا، لیکن کمیشن نے 16اپریل 2016 کو جواب بھیجا،یعنی کمیشن نے جواب بھیجنے میں ایک سال کا وقت لیا۔ جبکہ یہ جانکاری اسے 30دن کے اندر ہی فراہم کرانی چاہئے تھی۔جبکہ کمیشن سے ایسے سوال نہیں پوچھے گئے تھے جن کے جواب دینے میں اسے اتنا لمبا وقت لگ گیا۔ کمیشن نے اس تاخیر کی کوئی وجہ بھی نہیں بتایا۔قابل ذکر ہے کہ آر ٹی آئی ایکٹ میں یہ صاف صاف لکھا ہواہے کہ سرکاری آفیسر کو سارے ریکارڈ اس ڈھنگ سے رکھنے ہوں گے تاکہ اگر کوئی آدمی آر ٹی آئی کے تحت ان سے وہ جانکاری مانگے تو وہ متعلقہ جانکاری آسانی سے فراہم کرا سکیں۔ اگر پبلک انفارمیشن آفیسر مقررہ 30دن کے اندر جواب نہیں دیتے ہیں تو ان پر جرمانہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر کمیشن نے اپنے ریکارڈ صحیح ڈھنگ سے رکھے ہوتے تو ان معمولی سوالوں کے جواب دینے میں اسے اتنا وقت نہیں لگتا۔ کمیشن سے پوچھا گیا تھا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں نیشنل ویمن کمیشن کے سامنے کتنے معاملے سنوائی کے لئے آئے۔گزشتہ پانچ سالوں میں جو معاملے کمیشن کے سامنے آئے وہ کس طرح کے تھے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں کمیشن نے کتنے معاملوں کو نمٹا یا اور کتنے معاملے نافذ العمل نہیں ہوئے۔ پانچ سال کے عرصے میں کتنے معاملے ملتوی رہے یعنی کہ جن پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ساتھ میں یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ گزشتہ پانچ سال میں کمیشن نے تنخواہ، بھتوں،بلوں ،وغیرہ پر کتنے پیسے خرچ کئے؟۔
پہلے دو سوالوں کے جواب میں کمیشن نے کہا کہ مانگی گئی جانکاریاں کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ ساتھ میں ویب سائٹ کا پتہ بھی دیا گیا ہے،لیکن یہ پتہ کمیشن کے ویب سائٹ کے لیڈ پیج پر لے جاتا ہے،جہاں سے مانگی گئی جانکاریاں حاصل کرنا کم سے کم ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔ ان کے اس جواب سے یہ بھی نتیجہ نکالا جاسکتاہے کہ نیشنل ویمن کمیشن اپنے ریکارڈ کو اس طرح نہیں رکھتا ہے کہ اگر کوئی ان سے جواب مانگے تو یہ اسے فوراً اور صحیح جواب دے سکے۔ کمیشن کے خرچوں سے متعلق سوال کے جوب میں کہا گیا کہ مانگی گئی جانکاری متعلقہ شاخوں میں زیر غور ہے اور جلد ہی اس سے آپ کو آگاہ کرایا جائے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کمیشن اپنے پانچ سال کے اخراجات کا بیورا ایک سال میں بھی اکٹھا نہیں کر سکتا ہے تو اس کے طریقہ کار پر سوال اٹھنا تو لازمی ہے ۔خاص طور پبلک انفارمیشن آفیسر کو اس کے لئے کٹہرے میں تو کھڑا کیا ہی جا سکتا ہے۔
گزشتہ دنوں صوبوں کے وزراءاعلیٰ اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹسوں کے سمیلن میں ہندوستان کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے وزیر اعظم نریندر مودی سے عدالتوں میں ججوں کے خالی پڑے عہدوں کو بھرنے اور انہیں دوگنا کرنے کی جذباتی اپیل کی تھی۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ملک کی عدالتوں میں لگ بھگ تین کروڑ معاملے ملتوی پڑے ہوئے ہیں اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو جس رفتار سے مقدموں کی تعداد بڑھ رہی ہے، اس سے اگلے 30 برسوں میں ملک کی مختلف عداتوں میں ملتوی معاملوں کی تعداد تقریباً 15 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ اب ایک نظر نیشنل ویمن کمیشن کے سامنے سنوائی کے لئے آئے معاملوں پر ڈالتے ہیں۔ کمیشن کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں اس نے 52,010 معاملوں پر عمل درآمد کیا ۔ جبکہ اسی عرصے میں ایک لاکھ 16ہزار معاملے ملتوی تھے۔ یعنی جتنے معاملے نمٹائے گئے ،اس سے دوگنے معاملے ملتوی رہے۔ ظاہر ہے اگر اسی رفتار سے کام ہوا تو یہاں بھی ملک کی عدالتوں کی طرح معاملوں کا انبار لگ جائے گا اور خواتین کو کمیشن کی مدد پانے کے لئے برسوں تک انتظار کرنا پڑے گا۔
دراصل نیشنل ویمن کمیشن ایک بے دانت کا آئینی ادارہ ہے۔ عورتوں سے متعلق معاملوں میں کمیشن کا کردار محض صلاح کار کا ہوتا ہے۔ ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ منسٹری ،نیشنل ویمن کمیشن ایکٹ 1990 میں ضروری ترمیم کرکے اسے قومی انسانی حقوق کمیشن کی طرح سول عدالت کا درجہ دینے کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی قیادت والے گروپ آف منسٹرس نے گزشتہ سال ہی اس کے لئے بل ڈرافٹ کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ ظاہر ہے سرکار کا یہ قدم خواتین کو مضبوط بنانے کی راہ میں ایک اہم قدم ثابت ہو سکتاہے۔ ملک میں عورتیں اپنے حقوق کو لے کر بیدار ہو رہی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے ذاتی حقوق کے لئے لڑائی لڑرہی ہیں بلکہ اپنے سماجی حقوق کے تئیں بھی بیدار ہور ہی ہیں۔ ایسے میں نیشنل ویمن کمیشن کو اور زیادہ اختیار دے کر اسے سول عدالت کا درجہ دینا وقت کی مانگ ہے،لیکن جب خواتین کمیشن کو بالکل یقینی اور معمولی سوالوں کے جواب دینے میں ایک سال کا وقت لگ جاتاہے تو اس سے یہی نتیجہ نکالا جاسکتاہے کہ اگر کمیشن کو اور زیادہ اختیار دیا جانا ہے تو اس کے لئے سب سے پہلے اس کے طریقہ کار میں بنیادی سدھار کرنے ہوں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *