ناپاک سیاستدانوں کے سبب برباد ہوگئی بندیلوں کی مقدس زمین

اسرار پٹھان
p-5bنہ سیاست کا سلیقہ، نہ بولنے کی سمجھ، نہ قیادت والی خصوصیات اور نہ ہی نمک حلالی کی نیت۔ یہی لب لباب ہے بندیل کھنڈ کے سیاستدانوں کا۔انتخابات میںتو یہ بہت سے روپ اختیار کرکے عوام کو لبھاتے ہیں،لوٹتے ہیں اور انھیںرونے بلکنے کے لےے چھوڑ کر نکل جاتے ہیں۔بندیل کھنڈ کی سیاسی زمین ایسے ہی خون چوسنے والے لیڈروںسے بھری پڑی ہے۔ جھانسی سے لے کر چترکوٹ تک اور اقتدار سے لے کر اپوزیشن تک ہر جگہ اور کم و بیش ہر جماعت میں ایسے چہروں کی بھرمار ہے، جو مکھوٹے بدل بدل کر سالوں سے یہاںکے بھولے بھالے عوام کو چھلتے آئے اور آج پژمردہ حالت میں پڑے بندیل کھنڈکے لوگوں کی انھیںکوئی فکر نہیں۔
بندیل کھنڈ کی بدحالی کی ویسے توبے شمار وجوہات ہیں، لیکن جو وجہ سب سے اہم او ربڑی ہے، وہ ہے یہاں کی کمزور سیاست او رغیرذمہ دار لیڈر۔ ریاست میں جنگلات او رمعدنیات میںاول مقام رکھنے کے باوجود آج یہ علاقہ کاروباری ترقی کے معاملے میں صفر ہے۔ آج یہاںنہ کوئی بڑی صنعت ہے اور نہ ہی کوئی ایسا ذریعہ، جسے روزگار کے لحاظ سے مناسب کہا جاسکے۔حالت یہ ہوگئی ہے کہ قومی او ربین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان رکھنے والا بندیل کھنڈ آج اپنی بدحالی کے لےے جانا جارہا ہے۔ بندیل کھنڈ کی سیاست ہی یہاںکے لےے لعنت بن گئی ہے۔ انتخابی میلوںمیںعوام کے سامنے شیر کی طرح گرجنے والے لیڈران ایوان میںپہنچ کر بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔ آزادی سے اب تک اس علاقے کی نمائندگی کرنے والے لیڈروں میں سے کچھ ایک کواگر الگ کردیں، تو ریکارڈ اس بات کے گواہ ہیں کہ زیادہ تر نے اپنی پوری مدت کار میں ایوان کے اندر علاقے کی بہبود کے لےے منہ تک نہیں کھولا۔ اسمبلی ہو یا قانون ساز کونسل، راجیہ سبھاہو یا ملک کا اعلیٰ ترین ایوان، کم وبیش ہر جگہ پر بندیلوںکی نمائندگی کرنے والے لیڈروں کا کردار صفر ہی رہا ہے۔ اگر کسی دیگر ذرائع سے بندیل کھنڈ کو لے کر ایوانوںمیںکوئی مدعا گرم بھی ہوا، تو ان لاتعلق معززین کے ٹھنڈے روےے کے سبب وہ ٹھنڈے بستے میںچلاگیا۔
بندیل کھنڈ کے ان مبینہ معززین کی اہلیت کو آئینہ دکھاتی ہوئی ایسی بہت سی مثالیںموجود ہیں، جو ان کی نیت اور پالیسیوں پر سوال کھڑے کرتی ہیں۔ جھانسی سے موجودہ رکن پارلیمنٹ او رمرکزی سرکار میںبندیل کھنڈ کی نمائندگی کرنے والی آبی وسائل کی ترقی کی وزیر اوما بھارتی ہوں یا پھر پہلے کی مرکزی سرکار میں وزیر رہے پردیپ جین آدتیہ یا پھر گنگا چرن راجپوت، اشوک سنگھ چندیل، شیوکمار پٹیل، چندرپال یادو، بھیرو پرساد مشرا،راج نارائن بدھولیا اور پشپندر سنگھ جیسے رکن پارلیمنٹ ، کم و بیش یہ سبھی لیڈر اس علاقے کی بدحالی کے لےے ذمہ دار ہیں۔ وقتاً فوقتاً اس علاقے سے منتخب ہوتے آئے مرکز کی سیاست میںسرگرم ان سبھی عوامی نمائندوںکی ذات، ذہنیت اور جسمانی بناوٹ میںبھلے ہی فرق رہا ہو،لیکن ان کی نیت ایک جیسی رہی ہے۔ 1947 سے لے کر اب تک ہوئی اس علاقے کی بے اعتنائی ان مرکزی سیاست کے مٹھادھیشوں کی نیت اجاگر کرنے کے لےے کافی ہے۔ بی جے پی کی فائر برانڈ لیڈر اوما بھارتی اور کانگریس لیڈر پردیپ جین کو الگ کردیں، تو باقی سارے اراکین پارلیمنٹ لوک سبھا کی زینت تو بڑھاتے رہے، لیکن کسی میں کچھ بولنے کا مادہ نہیںدکھائی دیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کی مانیں، تو کچھ بندیلی ممبران پارلیمنٹ جہاں اپنی مجرمانہ تاریخ کوچھپانے کے لےے پوری مدت کار میںخاموشی اختیار کئے رہے،وہیںکچھ کو پانچ سال تک یہی نہیں معلوم چلا کہ ایوان میںکیسے او ر کب بولا جاتا ہے۔ عوام کو ترقی کا لالی پاپ دے کر لوک سبھا میںپہنچنے والے یہ ممبران پارلیمنٹ ایوان میںبھلے ہی کچھ نہ کرپائے ہوں،لیکن انھوںنے اپنے علاقے میںعوام کو فلیتہ لگانے میں خوب ریکارڈ قائم کیا۔ کہیںلوگوں کی زمین ہڑپی،تو کہیںغریب عوام کی ترقی کے لےے ملا فنڈ ہی ڈکار لیا۔
ایوان میںاپنی بات نہ رکھنے اور علاقے کی ترقی کولے کرغیر فعالیت برتنے جیسے معاملے میںممبران پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ ممبران اسمبلی بھی پیچھے نہیں رہے ہیں۔ گزشتہ تین دہائی کی تاریخ کھنگال کردیکھیںتو یہاںسے منتخب ممبران اسمبلی کی اصلیت اپنے آپ کھل جائے گی۔ اس عرصہ میں ایم ایل اے بنے زیادہ تر عوامی نمائندوںکی بس ایک ہی کوشش رہی، خود کی ترقی کی۔ جس طرح ان کے ذریعہ پیٹرول پمپ اور بڑی بڑی ایجنسیاںہتھیائی گئیں اور جس طرح بیش قیمتی زمینوںپر قبضہ کرکے اورغیر قانونی طور پر کان کنی کے سہارے ترقی حاصل کی گئی،وہ عوام کے تئیںان کی نمک حلالی ثابت کرنے کے لےے کافی ہے۔ ریاست میں کانگریس کی حکومت جانے کے بعد تویہ لوٹ اپنے انتہا پر پہنچ گئی ۔ اعداد وشمار بتاتے ہیںکہ جب جب ریاست میں ایس پی اور بی ایس پی اقتدار پر قابض ہوئی، اس کے مقامی نمائندوںنے دل کھول کر عوام کولوٹا۔ اسی عوام کا لہو پیا، جس نے انھیں اسمبلی تک پہنچایا۔ باندہ میںبی ایس پی کی مدت کار کی سرخیاں بن چکے بھگوان دین یادوکا زمینی تنازع رہا ہو یا پھر ایس پی کے زمانے میں چرچا بٹورتے جھانسی ضلع کے زمین مافیا، وہ دو معززین جو وزیراعلیٰ کے ہم ذات بھی ہیں، بتاتے ہیںکہ یہاںایس پی کی طرف سے نامزد کےے گئے راجیہ سبھا کے ممبر چندر پال یادو اور گروٹھا ایس پی کے رکن اسمبلی دیپ نارائن کو بندیل کھنڈ کے مائننگ مافیا کی پہچان ملی ہوئی ہے۔ گزشتہ دنوںسوشل میڈیا میں وائرل ہوا وہ آڈیو اس بیان کی تائید کرتا ہے، جس میں راجیہ سبھا ممبر گلاب سنگھ نامی افسر کوریت سے بھری گاڑی کو چھوڑ دینے کے لےے دھمکارہے تھے۔
عوام کے تئیں جوابدہی سے بچنے اور خود کی تجوریاںبھرنے میںیہاںکوئی کسی سے پیچھے نہیں۔ مہوبہ کی سیاست میں سرگرم اور کبھی ایس پی سرکار میں وزارت کے عہدے سے نوازے گئے سدھ گوپال ساہو کے بے شمار کریشر اور شاندار شوروم اور پارٹی بدلنے کے لےے مشہور گنگنا چرن راجپوت کی ڈھیر ساری ایجنسیاںان کی نیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ بندیل کھنڈ کے عوام کو لوٹنے کا ذکر ہواور نسیم الدین صدیقی،بادشاہ سنگھ،ددّو پرساد اور بابو سنگھ کشواہا کانام نہ آئے، یہ ممکن نہیں۔ کبھی اقتصادی طور پر بے حد معمولی دکھائی دینے والے ان لیڈروں نے جس تیزی سے کامیابی کی سیڑھیاںچڑھیں، اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیںہے ۔ حالانکہ جس بندیلی عوام کو چھل کریہ سیاست کی بلندی پر پہنچے، اسی عوام نے ان میں سے کئی کو حاشیہ پربھی لادیا۔ کبھی بندیل کھنڈ کی سیاست کے اہم کردار رہے کچھ لیڈر اب اس سیاسی زمین کوحاصل کرنے کے لےے پھر نت نئے ڈھونگ کررہے ہیں، جو انھوںنے اپنی کرتوتوں کے چلتے کھودی ہے۔ ایسے لیڈروںکی لسٹ تو بہت طویل ہے،لیکن جو سرخیوں میںبنے ہیں، ان میںسابق ایم پی گنگاچرن راجپوت،اشوک سنگھ چندیل، سابق وزیر بابو سنگھ کشواہا،ددّو پرساد اور بادشاہ سنگھ اہم ہیں۔ حالانکہ بابو سنگھ کشواہا کے پاس کچھ عوامی مقبولیت ابھی بھی باقی بتائی جاتی ہے، لیکن دیگر سبھی کی عوامی مقبولیت پوپلی ہوچکی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *