دو ہزار انیس میں مودی کو پہلے سے زیادہ محنت کرنی ہوگی

پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج آگئے ہیں۔ یہ نتائج ویسے ہی ہیں، جیسی کہ امید کی گئی تھی۔ کیرل میں ہمیشہ سرکار بدلتی رہی ہے۔ ایک بار’ ایل ڈی ایف‘ تو دوسری بار’ یو ڈی ایف‘۔اسی روایت کے تحت یہاں کا انتخابی نتیجہ آیا ہے۔ اس لئے اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ تمل ناڈو میں بھی عام طور پر’ اے آئی اے ڈی ایم کے‘ اور’ ڈی ایم کے‘ کے درمیان اقتدار بدلتا رہا ہے، لیکن اس بار ’اے آئی اے ڈی ایم کے‘ دوبارہ بر سراقتدار آئی ہے۔ اس سے پرانی روایت ٹوٹ گئی ہے کہ کوئی ایک پارٹی دوبارہ تمل ناڈو میں اقتدار میں نہیں آتی۔ اس کے لئے جے للیتا کو کریڈٹ دینا چاہئے کہ انہوں نے تمام تنازعات کے بعد بھی ابھی تک لوگوں کے بھروسے کو قائم رکھا ہے۔ مغربی بنگال میں لوگوں نے سوچا تھا کہ ممتا بنرجی معمولی اکثریت پائیں گی، لیکن انہیں شاندار اکثریت ملی ہے۔ ان کا ووٹر بیس برقرار رہا۔ کانگریس اور لیفٹ کے ہاتھ ملانے سے بھی ممتا کے ووٹ بینک پر اثر نہیں پڑا۔ آسام میں 15 سال کے کانگریسی دور اقتدار کے بعد انٹی انکمبینسی (حکومت کے خلاف لہر) ہونی ہی تھی۔ اچھی بات یہ ہے کہ آسام کے ووٹروں میں کوئی بھرم نہیں رہا اور بی جے پی کو ایک حتمی اکثریت ملی۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج کل ووٹروں میں ایک رجحان شروع ہوا ہے کہ جب انتخاب نزدیک آتے ہیں تو وہ ایک طرف ہو جاتے ہیں۔ اب عوام انتخابی نتائج آنے کے بعد معلق ایوان یا ممبران کی خرید و فروخت نہیں چاہتے۔ جمہوریت کے لئے یہ اچھی علامت ہے۔

کل ملا کر ،میں یہ نہیں مانتا کہ تین سال بعد ہونے والے مرکزی انتخاب کے سلسلے میں ان ریاستوں کے انتخاب کا کوئی لینا دینا ہے۔ ان نتائج سے اگر کوئی اشارہ ملتا ہے تو یہ کہ مغربی بنگال میں ممتا اور کیرل میں لیفٹ فرنٹ کے جیتنے کے تین سال بعد لوک سبھا انتخاب میں نریندر مودی کو پہلے سے کہیں زیادہ محنت کرنی ہوگی۔ تین سال کا وقت ایک لمبا وقت ہے اور جہاں تک قومی منظر نامے کی بات ہے تو اس میں دو مسئلے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ جن لوگوں نے مودی کو ووٹ دیا تھا، وہ اب مایوس ہورہے ہیں۔ لوگوں نے جتنی امیدیں کی تھیں اور جس تیزی سے نتائج ملنے کی امیدیں کی تھیں، وہ پوری نہیں ہو رہی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ کانگریس اگلے انتخاب کے لئے پُر جوش نہیں دکھائی دے رہی ہے نہ ہی کوئی اگریسیو لیڈر شپ پیش کرتی نظر آرہی ہے۔ اس کا فائدہ بی جے پی کو ہی ملے گا۔ یقینی طور پر، تیسرا مورچہ اپنے اندرونی اختلاف کی وجہ سے وجود میں نہیں آپارہا ہے۔ اگر ملائم سنگھ، لالو یادو ، نتیش کمار اور دیگر لیڈر ساتھ آتے ہیں تو یہ ایک طاقتور مورچہ بن ہے، لیکن 2017 میں اتر پردیش کا انتخاب ہونا ہے اور تبھی معلوم ہوگا کہ یہ سب باتیں کہاں اور کس حالت میں ہیں۔ ابھی تک یہ لوگ مان رہے ہیں کہ مایا وتی جیتیں گی۔ ملائم سنگھ کی پارٹی کے پاس سوچنے اور غور و فکر کرنے کے لئے بہت سارے ایشوز ہیں۔ راجیہ سبھا میں ابھی ملائم سنگھ نے جن لوگوں کے ناموں کا انتخاب کیا ہے، ان میں بینی پرساد ورما ہیں۔ وہ کورمی ذات سے تعلق رکھتے ہیں، ریاست میں جس کی آبادی 12سے 13 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نشاد اور ریوتی رمن سنگھ کا انتخاب کیا ہے۔ ریوتی رمن سنگھ کا تعلق بھومیہار برادری سے ہے۔ سیاسی طور سے اہم لوگوں کی جگہ ملائم سنگھ نے اس بار اپنے پسندیدہ لوگوں کا انتخاب کیا ہے۔ اس لئے 2017 کو لے کر وہ کتنے سنجیدہ ہیں، اسے سمجھا جاسکتا ہے۔ اتر پردیش کا 2017 میں کیا نتیجہ آتا ہے، اس کے بعد ہی کوئی شخص 2019 کی پیشن گوئی کرسکتا ہے۔
یہ تمام باتیں تو انتخاب سے متعلق ہیں۔ عام طور پر ملک آگے چلتا رہتا ہے۔ حالانکہ سبرامنیم سوامی،جو کہ حال ہی میں راجیہ سبھا کے لئے نامزد ہوئے ہیں، نے کچھمدعے اٹھائے ہیں۔ جیسے وہ چاہتے ہیںکہمحکمہ قانون کے دو افسروں کو بدل دیا جائے، آر بی آئی کے گورنر کو بدل دیا جائے۔لیکن جس طرح سے وہ یہ بیان دے رہے ہیں،اس سے یہی لگتا ہے کہ انہیں اوپر سے اشارے مل رہا ہےں۔ بیشک یہ بہت سارے لوگوں کو معلوم ہے کہ رگھو رام راجن شکاگو ڈاکٹرین کی پالیسیوں کی تعمیل کرتے ہیں۔ ایس گرومورتی نے لکھا ہے کہ مالی خسارہ ایک بہتر چیز ہے جس میں کریڈٹ ایکسپنشن اور شرح مہنگائی وسیع شکل اختیارکرلیتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو آپ کو اقتصادی نظام میں پیسہ مہیا کرانے کے لئے اضافی مالیات کا نقصان ہوتاہے۔ بیشک یہ ایک ایسا موضوع ہے جسے ماہرین اقتصادیات ہی بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں یا پی ایم او اور وزارت خزانہ کے افسران اس پر اپنی رائے دے سکتے ہیں، لیکن یہ سچائی ہے کہ جب تک اقتصادی نظام میں پیسہ نہیں ڈالا جائے گا تب تک سرمایا کاری کے ماحول میں سدھار نہیں ہوگی۔ غیر ملکی سرمایا کاری میں ایک نارمل فلو برقرار ہے۔ اس میں کوئی بڑا بدلاﺅ نہیں ہورہاہے، بڑی سرمایا کاری نہیں ہورہی ہے۔ اگلے چھ ماہ سے ایک سال کے عرصے میں سرکار کو کچھ ایسے قدم ضرور اٹھانے چاہئےں تاکہ گھریلو یا غیر ملکی سرمایا کاری میں اضافہ ہو۔
آر بی آئی کے گورنر پر دو طرح کی رائے ہے۔ ان سے صنعتی شعبہ یا غیر ملکی سرمایا کار خوش نہیں ہیں، کیونکہ وہ انٹریسٹ ریٹ کم نہیں کر رہے ہیں، لیکن موجودہ وقت میں ان کی ساکھ بہتر ہے۔ایسے میں انڈسٹری یہ کہہ سکتی ہے کہ ان کے ہٹانے سے سرکار کی ساکھ کمزور ہوگی۔ ان ساری باتوں کے باوجود ، ہندستان جیسے وسیع ملک میں کسی ایک شخص کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں آئے گا۔ بہر حال سرکار کو غیر یقینی کی صورت حال کو صاف کرتے ہوئے یہ کہنا چاہئے کہ سرکار رگھو رام راجن کو ایک اور ایکسٹنشن دے رہی ہے یا پھر کسی کو آر بی آئی کا نیا گورنر مقرر کر رہی ہے۔ اس طرح کی بے یقینی اور ممبران پارلیمنٹ کے ذریعہ دیا گیا بیان، سرکار کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ دیکھتے ہیں، آگے کیا ہوتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *