موت بھی ایک آزادی ہے،آخرت میں سہمی سہمی سی لذت ہے: جوگندر پال

p-11bملک زادہ منظور احمد کا غم ابھی تازہ ہی تھا کہ اردو ادب کا ایک اور بڑا فکشن نگار داغ مفارقت دے گیا۔کوئی تین سال قبل ” چوتھی دنیا “ انٹرنیٹ ٹی وی کے لئے ان کا انٹرویو کیا تھا۔ اس وقت بھی وہ بے حد نحیف و نزار لگ رہے تھے، لیکن دماغی طور پر بالکل چاق وچوبند تھے۔ انہوں نے خود ہی بتایا کہ وہ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ بے حد غریب خاندان سے ان کا تعلق تھا ،بعد میں وہ انبالہ چلے گئے۔ان کی مادری زبان پنجابی تھی،لیکن انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم اردو میڈیم سے حاصل کی۔ انگریزی میں ایم اے کیا اور ریٹائر ہونے تک مہاراشٹر کے پوسٹ گریجویٹ کالج میں انگریزی پڑھاتے رہے، لیکن تخلیقی عمل کے لئے انہوں نے اردو زبان کا ہی انتخاب کیا۔ ترقی پسند تحریک سے وابستگی نے ان کی تحریروں کو زندگی سے قریب تر کردیا۔”چوتھی دنیا“کے انٹرویو میں انہوں نے بڑے ہی جذبے کے ساتھ اپنی شادی کی کہانی سنائی تھی، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ان کی شادی 1948 میں کینیا کی ہندوستانی دوشیزہ کرشنا سے ہوئی اور وہ خود بھی شادی کے بعد کافی عرصے کینیا میں رہے،لیکن پھر 1963 میں ہندوستان واپس آگئے ۔

1964 میں سرسوتی بھون پوسٹ گریجویٹ کالج اورنگ آباد سے انگریزی کے پروفیسر اور صدر شعبہ پھر ایک سال بعد کالج کے پرنسپل مقرر ہوگئے۔ 1978 میں جوگندر پال نوکری چھوڑ کر دلی آگئے اور پھردلی والوں کے رنگ میں ہی رنگ گئے۔ ترقی پسند تحریک کے حامی جوگندر پال 1995سے 1999 تک کل ہند انجمن ترقی ہند مصنفین کے صدر بھی رہے۔ ان کی پہلی کہانی ’تعبیر‘ 1944 میں اور پہلی مطبوعہ کہانی ’تیاگ سے پہلے‘ 1945 میں ماہنامہ ساقی دہلی میں شائع ہوئی۔
جوگندر پال نے ادبی سفر میں افسانے ، ناول، افسانچے، سبھی کچھ لکھے۔ ”دھرتی کا لعل، میں ِ کیوں سوچوں، رسائی، مٹی کا ادراک،خدا بابا کا مقبرہ،بستیاں“ یہ سبھی ان کے مختصرافسانوں کے مجموعے ہیں۔’ آمدو رفت ‘اور ’بیانات‘ ناول ہیں۔ اس کے علاوہ بے محاورہ، بے ارادہ، نادید، خواب رو وغیرہ بھی بے حد مشہور ہیں۔
اب سے تین سال قبل جب ” چوتھی دنیا“ نے ان کا انٹرویو کیا تھا تب بھی وہ بڑی ہی خوبصورت باتیں کررہے تھے۔ ان سے ہم نے پوچھا تھاکہ اب تو ان کی شادی کی سلور جوبلی ،گولڈن جوبلی ہوچکی ہوں گی ،تب ان کا جواب اس قدر شاندار اور باہمت تھا کہ دل چاہتا ہے کہ آپ کو سنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اب تو آخری جوبلی ہے ،جس کا انتظار نہیں ہوتا ،اس کا انتظار ہے۔وہ بھی ایک آزادگی ہے،آخرت سے ڈر ضرور لگتا ہے لیکن اس میں ایک سہمی سہمی سی لذت بھی ہے۔ آخری پڑاﺅ کا ڈر اگر کرے بھی انسان تو کیا کرلے گا،اللہ میاں سب سے بڑا تخلیق کار ہے ،خاموشی سے انسان چلا جائے، پتہ بھی نہ چلے،اللہ زندگی آپ کی مرضی سے نہیں دیتا ،موت بھی مرضی سے نہیں دیتا۔چلتے چلتے آپ چلے جاتے ہیں، آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا۔آپ کہاں ہیں ،کہاں نہیں ہیں۔ یہ نہ ہونا بھی زندگی میں آپ کو آزاد کردیتا ہے۔آپ کے دکھ سکھ سارے اس وقت تک ہیں جب تک آپ ہیں، تو خدا نے آپ کو آزادگی کا یہ موقع جو دیا ہے تو آپ کو پتہ ہی نہیں ہے کہ آپ ہیں یا نہیں ہیں تو پھر تکلیف کس بات کی ہے۔
زندگی کا ایسا فلسفہ دینے والا عظیم فکشن نگار خاموشی سے چلا گیا اور صرف چھوڑ گیا وہ بے جان ایوارڈز، شیلڈز جو غالب انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے غالب ایوارڈ اور دلی اردو اکادمی کی جانب سے بہادر شاہ ظفر ایوارڈ کی صورت میں ملے۔اس کے علاوہ بھی بے شمار اعزازات اور ایوارڈز ہیں، لیکن زندہ وجاوید رہ جانے والی ا ن کی کہانیاں ناول اور ان کی تخلیقات آج بھی ان کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *