لگ بھگ پچاس ممبران پارلیمنٹ بینک کا ہزاروں کروڑ دبائے بیٹھے ہیں

پارلیمنٹ میں ایک ضابطہ کمیٹی ہوتی ہے، جسے اتھیکس کمیٹی کہتے ہیں۔ اس کمیٹی نے وجے مالیہ سے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے ممبر ہیں اور ان کے اوپر اس اس طرح کے الزام ہیں، جیسے وہ سات ہزار کروڑ روپے لے کر بیرون ملک چلے گئے ہیں، بینکوں کی ادائیگی ان کے اوپر باقی ہے، وہ ای ڈی کے بلانے پر بھی نہیں آرہے ہیں، تو کیوں نہ انہیں قصوروار مانا جائے۔ اس کے جواب میں وجے مالیہ نے راجیہ سبھا کے اسپیکر کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا اور لکھا کہ اس ضابطہ کمیٹی سے مجھے انصاف کی امید نہیں ہے، اس لئے میں آپ کو اپنا استعفیٰ بھیجتا ہوں۔ انہوں نے اس کمیٹی کو یہ خوش قسمتی حاصل نہیں ہونے دی کہ وہ انہیں راجیہ سبھا سے باہر نکالنے کی تجویز اسپیکر کو بھیجے اور راجیہ سبھا انہیں رکنیت ختم کرے۔ کیونکہ اسی راجیہ سبھا میں جنتا دل (یو) کے معطل رکن پارلیمنٹ انیل سہنی ہیں، جنہیں یاترا بھتہ گھوٹالے کے تعلق سے قصوروار پایا گیا ہے اور ان کے اوپر مقدمہ چلانے کی اجازت راجیہ سبھا کے اسپیکر نے دی ہے، لیکن وہ راجیہ سبھا کے ممبر بنے ہوئے ہیں۔
یہ باتیں میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ پارلیمنٹ، چاہے وہ لوک سبھا ہو یا راجیہ سبھا ہو، خود کتنی طرح کے مجرموں کو، چاہے وہ قتل کے مجرم ہوں، عصمت دری کے مجرم ہوں یا اقتصادی مجرم ہوں اپنے اندر سمیٹے بیٹھی ہے اور ہم اس سے توقع کر رہے ہیں کہ وہ ملک کے نظم و ضبط کو ٹھیک کرے گی۔کیا ہماری یہ توقع کبھی نتیجہ خیز ہو پائے گی؟
مجھے لگتا ہے، نہیں۔کیونکہ، جس پارلیمنٹ میں پچاس سے زیادہ ایسے ممبران ہوں،جن کے اوپر سو کروڑ روپے سے لے کر ہزار کروڑ تک کا بینکوں کا پیسہ باقی ہو، جنہوں نے اپنے قرض کو این پی اے بنا دیا ہو اور جن کی نیت کسی بھی قیمت پر بینکوں کا پیسہ چکانے کی نہیں ہو اور بینکوں میں یہ ہمت بھی نہ ہو کہ وہ ان ممبروں سے پیسے وصول کر سکےں اور اس کو نوٹس دےں، ایسی پارلیمنٹ ملک کا مستقبل کیسے سدھارے گی۔ پارلیمنٹ کے ممبر چاہے راجیہ سبھا کے ہوں یا لوک سبھا کے ہوں، جو سو کروڑ

یہ باتیں میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ پارلیمنٹ، چاہے وہ لوک سبھا ہو یا راجیہ سبھا ہو، خود کتنی طرح کے مجرموں کو، چاہے وہ قتل کے مجرم ہوں، عصمت دری کے مجرم ہوں یا اقتصادی مجرم ہوں اپنے اندر سمیٹے بیٹھی ہے اور ہم اس سے توقع کر رہے ہیں کہ وہ ملک کے نظم و ضبط کو ٹھیک کرے گی۔کیا ہماری یہ توقع کبھی نتیجہ خیز ہو پائے گی؟

روپے سے زیادہ کی حیثیت کے یا ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی حیثیت کے ہیں، وہ سبھی بینکوں سے پیسے لئے ہوئے ہیں۔ سرکار سے آسانی سے تعلق بنانے کی سہولت کی وجہ سے بینک ان کا کچھ نہیں بگاڑ پا رہے ہیں۔ یہ ممبران ،پارلیمنٹ میں رہ کر ملک کا کچھ بھلا نہیں کر رہے ہیں۔ یہ پارلیمنٹ میں رہتے ہوئے کاروباریوں کا کچھ بھلا نہیں کر رہے ۔ کارپوریٹ کا کچھ بھلا نہیں کررہے ہیں، بلکہ جو اقتصادی نظام میں گھوٹالہ کررہے ہیں یہ ان کے نمائندے کا کام کررہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کہیں تو انہوں نے عوام کے مفاد میں کام کرنے کے بجائے خود کے کاروبار اور اپنے دوستوں کے کارو بار میں سرکاری مدد دلانے کا کام بخوبی کیا ہے۔ کوئی ایکاد اس سے مستثنیٰ ہو تو ہو، ورنہ ایسے جتنے ممبران پارلیمنٹ ہیں، ان کے کھاتے میں نہ کوئی سوال ہے ،نہ بھاشن ہے،نہ کوئی فکرمندی ہے اور نہ کوئی انتباہ ہے۔ وہ بس پارلیمنٹ کے ممبر ہیں۔ ساری سہولتوں کا استعمال کرتے ہیں اور وزیرخزانہ ، وزیر اعظم سمیت سارے وزیروں کے یہاں نذرانہ دینے کا کام کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ اچھے رشتے بنانے کا کام کرتے ہیں اور ان سب کا کام کراتے ہیں، جن کا آخری مقصد پیسے کو واپس نہ لوٹانا ہے۔ کیا یہ ممبرا ن پارلیمنٹ اپنا پیسہ مقررہ مدت میں بینکوں کو لوٹائیں گے یا وجے مالیہ کی طرح یہ ملک چھوڑ کر چلے جائیںگے اور وہاں سے ایک استعفیٰ اپنے اپنے ایوانوں کے اسپیکر یا صدر کو بھیج دیں گے؟

یہ بات میں اس لئے لکھ رہا ہوں کیونکہ اگر وجے مالیہ کو پارلیمنٹ سے ہٹانے کی منشا اتھیکس کمیٹی کے دماغ میں تھی، جس کو دھیان میں رکھ کر نوٹس دیاتھا، تو ان باقی بچے ہوئے تقریباً پچاس ممبران کو اتھیلکس کمیٹی کیوں نوٹس نہیں دیتی۔ ملک کو سدھارنے کا کام پارلیمنٹ کو خود میں سدھار لاکر شروع کرنا چاہئے۔ جس ملک کی خود مختار پارلیمنٹ ایسے لوگوں کو اپنے اندر بیٹھائے ہوئے ہو، جو فیصلوں میں اثر ڈالتے ہوں، جن کے اوپر بینکوں کا بقایا ہو، جو اپنے قرض کو این پی اے بنا چکے ہوں، کیا اس طرح کی پارلیمنٹ اقتصادی نظام اور ملک کے سامنے آنے والی پریشانیوں کا حل دے پائے گی۔ مجھے تو نہیں لگتا۔
اسی لئے میں یہ گزارش پارلیمنٹ سے کر رہا ہوں کہ جب جارج فرنانڈیز کی ادارت میں نکلنے والے اخبار نے آپ کو ٹھگوں اور پنڈاریوں کا اڈہ کہا تو آپ نے بہت ہاتھ پیر پٹخے تھے۔ جب ممبران کے اوپر کسی بھی طرح کی بات ہو تو وہ آپ کے یہاں استحقاق کا مسئلہ بن جاتی ہے اور جب ہم ملک کو سامنے رکھ کر آپ کے اوپر سوال اٹھائےں تو ہمیں من ہی من میں اس بات کے لئے تیار ہو جانا پڑتا ہے کہ آپ ہمیں ایوان میں بلا کر، کونے میں کھڑا کرکے، ہمیں سزا سنا سکتے ہیں اور پندرہ دن سے ایک مہینے کے لیے جیل بھیج سکتے ہیں۔ لیکن کیا اس ڈر سے ہم صحیح بات کہنا چھوڑ دیں یا آپ سے یہ گزارش کرنا چھوڑ دیں کہ اگر آپ کو اپنی بھروسہ مندی ثابت کرنی ہے تو سب سے پہلے این پی اے میں آئے ہوئے ان پچاس ممبروں کو، جن کی کمپنیوں میں بینکوں کا پیسہ لگا ہے اور جن کی نیت پیسے کو واپس کرنے کی نہیں ہے، انہیں پارلیمنٹ کی رکنیت سے الگ کیجئے۔ انہیں الگ کرنا اس ملک میں پارلیمنٹ کو اپنے تئیں نئے سرے سے اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرنے جیسا ہے۔ ملک کے لوگوں کا آپ کے اوپر سے بھروسہ اٹھتا جا رہا ہے اور ہم یہ خبر ملک کو سب سے پہلے اس اداریہ کے ذریعہ ذمہ داری کے ساتھ دے رہے ہیں کہ لگ بھگ پچاس ممبران ایسے ہیں جن کی کمپنیوں میں سو کروڑ سے سے ہزار کروڑ تک کا بینکوں کا پیسہ ڈوبا ہوا ہے اور ان ممبروں کے من میں اس پیسے کو ادا کرنے کا کوئی خیال نہیں ہے۔ یہ وزارت مالیات سے، وزیر خزانہ سے، وزیر اعظم سے، دوسرے وزیروں سے سفارش کرواکر اس پیسے کو مکمل طور پر ہضم کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ کے معزز اراکین ، آپ کی تعداد بہت زیادہ ہے، لیکن لگ بھگ یہ پچاس ارکان آپ باقی ممبران کی بھروسہ مندی کے اوپر کالا دھبہ ہیں۔ ان پر اگر آپ آج کارروائی نہیں کریں گے تو کل یہ مانا جائے گا کہ پارلیمنٹ کے سارے ممبر اسی نظریہ کے ہیں اور ان کے کسی نہ کسی طرح مشکور یا زیر اثر ہیں، جو ملک کا پیسہ ہضم کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہیں۔ سال یہ ہے کہ اگر وجے مالیہ کو نوٹس دیا جا سکتا ہے تو ان باقی کے لگ بھگ پچاس ممبروں کو نوٹس کیوں نہیں جاسکتا۔ پارلیمنٹ کے معزز ارکان، پتہ کیجئے کہ آپ کے بیچ میں وہ کون سے ممبران ہیں جو ملک کا پیسہ ہضم کرنے کامنصوبہ بنا کر آپ کو اپنے ساتھ داغدار کررہے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *