جھارکھنڈ، چند قبائل کا وجود خطرے میں

کمار کرشنن
p-5جھارکھنڈ بنے ایک عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران کافی کچھ بدلا ہے ،لیکن جن آدیواسیوں کے نام پر الگ جھارکھنڈ صوبہ کی تشکیل ہوئی تھی ان کی تصویر آج بھی نہیں بدلی۔ سرکاری اسکیموں کے نفاذ میں لاپرواہی، لوٹ اور ملک کے اصلی شہری ہونے کے مفہوم سے دور ہونے کی وجہ سے درج فہرست قبائل ختم ہونے کے دہانے پر ہیں۔ صوبہ میں سب سے زیادہ موت کا اوسط ان کا ہے۔ ان کی تعداد بڑھنے کے بجاے کم ہورہی ہے۔ آدیواسیوں کی موت کا اوسط زیادہ ہونے کی وجہ ان میں غذائی قلت کا زوروں پر ہونا ہے اورجب ہم فوڈ سیکورٹی کی بات کرتے ہیں تو یہ اور زیادہ سوچنے کی بات ہوجاتی ہے۔
درج فہرست قبائل کے کم ہونے کی تصدیق ان اعدادو شمار سے بھی ہوتی ہے کہ 2001 میں ان قبائل کی آبادی 2,06,000لاکھ تھی جو 2011 میں کم ہوکر 1,72,425 رہ گئی ہے۔ جن درج فہرست قبائل کی آبادی کم ہورہی ہے ان میں مال پہاڑیا، پہاڑیا سبر، سوریا پہاڑیا اسور، بیر ہور، بیریجیا، کوربا اور کھڑیا ہیں۔ سوریا پہاڑیا اور ساور درج فہرست قبائل ختم ہونے کے دہانے پر ہیں ۔ انگریزوں کے خلاف لڑنے والے اسقبائلی کا وجود خطرے میں ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں 14,899 سوریا پہاڑیا اور 261 ساور ختم ہو گئے ہیں۔ یعنی دونوں کی آبادی میں بالترتیب 24.38اور 2.69 فیصد کی کمی آئی ہے۔ وہیں اس عرصے میں مرکز ی اور ریاستی سرکار کے ذریعہ درج فہرست قبائل کی سیکورٹی اور تحفظ پر 470کروڑ روپے سے زیادہ رقم خرچ کی جاچکی ہے۔
ہندوستان کی تاریخ میں پہاڑیا مہان یودھا تلکامانجھی، انگریزوں کے خلاف بغاوت کا بگل بجانے والے سب سے پہلے شخص تھے۔ تلکا مانجھی نے 1784 میں بھاگلپور کے ظالم انگریز کلکٹر آگسٹس کلیو لینڈ کا قتل کر کے انگریزی حکومت کی چولیں ہلا دی تھی۔ بعد میں پہاڑیا جنگجوﺅں نے پہاڑیا بٹالین کی تشکیل کر کے انگریزوں کے چھکے چھڑائے تھے۔ سینکڑوں سال پہلے پہاڑوں کے گوفوں میں رہنے والے پہاڑیا کی پوزیشن آج بھی وہی ہے۔
سرکار کے ذریعہ پہاڑیا قبائل کی ترقی کے لئے کئی طرح کی فلاحی اسکیمیں بنائی گئی ہیں، لیکن گوڈّا ضلع میں یہ اسکیمیں ضرورت مندوں تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ رہی ہیں۔ نتیجہ ضلع کے سندر پہاڑی بلاک میں رہنے والے پہاڑیا قبائلی کے بچے غذائی قلت کے شکار ہو رہے ہیں۔ ان کے بچوں کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ سرکار کے غذائی قلت سے پاک جھارکھنڈ کے خواب پر پانی پھرتا جارہا ہے۔ پہاڑیا قبائلی کے بچوں کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ سبھی بچے غذائی قلت کے شکار ہیں۔ طویل عرصہ سے ہی جنگلی پیداوار کھاکر ان کی زندگی گزررہی ہے۔ آج تک انہیں نہ تو بہتر صحت کی سہولتیں ملی ہیں اور نہ ہی تعلیم ۔ سریندر پہاڑیا اور چاندی پہاڑن کا کہنا ہے کہ سرکار کی کسی بھی اسکیم کا پورا فائدہ انہیں نہیں مل رہا ہے۔ ریاستی سرکار کے ذریعہ ختم ہورہے پہاڑیا قبائل کو بچانے کے لئے کئی طرح کی اسکیمیں چلائی جاتی ہیں۔ باوجود اس کے ان کے بچوں کو غذائی قلت ہونا، سرکاری کام کاج پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ویسے جنگلی علاقوں کے بارے میں لوگوں کاماننا ہے کہ جس علاقے میں آج بھی بھرپور جنگل ہیں، وہاں بھوک سے کوئی نہیں مر سکتا ہے،لیکن محکمہ جات اور قبائلی سرکاری ملازموں کی ملی بھگت اور پہاڑیا ں قبائل میں بیداری کی کمی کی وجہ سے آج پورے سنتھال پرگنہ میں جنگل مافیاﺅں کے ذریعہ جنگلوں کی غیر قانونی کٹائی جاری ہے جس سے نہ صرف ماحولیات کا توازن بگڑ رہا ہے بلکہ لوگ بیماری ، فاقہ کشی کے شکاری ہو رہے ہیں اورپانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہورہے ہیں۔
گوڈا کا سندر پہاڑی تو ایک مثال ہے۔یہی صورت حال پورے سنتھال پرگنہ کی ہے۔ سنتھال پرگنہ کے پانچ ضلعوں دمکا، گوڈا، صاحب گنج، پاکوڑ اور دیو گھر میں سوریا، پہاڑیا قبائلی کے لوگ رہتے ہیں۔ صحت کے نقطہ نظر سے سوریا پہاڑیا کی پوزیشن کافی قابل رحم ہے۔ اس قبائلی کے لگ بھگ 80فیصد لوگ کسی نہ کسی بیماری کی زد میں ہیں۔پورے سنتھال پرگنہ میں پاکوڑ کے صرف لٹی پاڑا بلاک میں 157 پہاڑیا گاﺅں ہیں جہاں کل 7ہزار خاندانوں کو ملا کر تقریبا 27ہزار پہاڑیا رہتے ہیں۔ ان قبائلیوں کے لئے آج بھی دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہے۔ جنگلی کھانا ، جنگلی دوا، جھرنا، نالا کا پانی پینے کو مجبور ان پہاڑیا کے بچے غذائی قلت کا سامنا پیدا ہوتے ہی کرتے ہیں اور جب تک زندہ رہتے ہیں زندگی کے لئے لڑائی جاری رکھتے ہیں۔ سڑک سے محروم پگڈنڈیوں کے سہارے یہ اگر کسی طرح پہاڑ سے اتر پائیں تو جھولا چھاپ ڈاکٹر انہیں لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔ آزادی کے تقریبا سات دہائی گزرنے کے بعد بھی ان پہاڑیا کی خبر لینے والا کوئی نہیں ہے۔ آج بھی لٹی پاڑا تعلیم ،صحت کے شعبے میں صوبے کا انتہائی پچھڑا خطہ بنا ہوا ہے۔ ان پہاڑیا کی وجہ سے علاقے کے عوامی نمائندے کی تقدیر تو بدلی ہے ،بس نہیں بدلی ہے تو ان پہاڑیا کی تقدیر۔ صحت کی سہولتوں کا عالم یہ ہے کہ دمکا ضلع کے کاٹھی کونڈ میں گزشتہ سال درج فہرست قبائلی پہاڑیا طبقہ کے معصوم کا مناسب علاج نہ ہونے سے برین ملیریا سے موت ہو گئی۔ دو سال کا یہ معصوم سوک لال دیہری کاٹھی کونڈ بلاک کے پوکھریا گاﺅں کا رہنے والا تھا۔ والد رام دہیری کے مطابق اس کا گاﺅں بلاک ہیڈ آفس سے تقریبا 16کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ اس کے بیٹے کو بخار ہوا تھا، ان لوگوں نے گاﺅں کے ہی جھولا چھاپ ڈاکٹر کو دکھایا ،معصوم کے معذور والد رام دیہری اور ماں شانتی دیوی اسے علاج کے لئے صدر اسپتال لے کر پہنچے، صدر اسپتال میں ڈاکٹر نے جانچ کے بعداسے مردہ قرار دے دیا۔
اس وقت حالت یہ ہے کہ درج فہرست قبائلیوں کو ہیلتھ سینٹر جانے کے لئے تین سے دس کلو میٹر کی دوری طے کرنی پڑتی ہے۔ پہاڑیا اور اسور قبائلی کے لوگ پہاڑوں پر رہتے ہیں۔ انہیں کم سے کم 10کلو میٹر تک کی دور ی طے کرنی پڑتی ہے۔ اس وجہ سے وہ ہیلتھ سینٹروں میں نہیں جا پاتے اور علاج نہیں کرا پاتے۔
گوڈا ضلع کے سندر پہاڑی بلاک کے پہاڑوں پررہنے والے ختم ہورہے پہاڑیا قبائل کے لوگوں کی رہائش کا خواب اب تک پورا نہیں ہوپایا ہے۔بلاک کے ڈہو بیڑا گاﺅں میں چار سال پہلے ان کے لئے’ِرسا آواس‘ کا تعمیری کام شروع کیا گیا تھا، جو آج تک پورا نہیں ہو پایا۔ نتیجہ آج بھی یہ لوگ ٹوٹی جھونپڑیوں میں رہ کر سردی و گرمی اور برسات کا موسم جھیل رہے ہی۔ ڈوہ بیڑا گاﺅں میں تقریبا چالیس گھر پہاڑیا قبائلی کے ہیں۔ سرکار کی لسٹ میں پہاڑیا کو ناپید ہونے والے قبائلیوں میں مانا گیا ہے۔ سرکار کے ذریعہ ان کے لئے کئی فلاحی اسکیمیں چلائی جارہی ہیں۔ ان اسکیموں میں سے ایک ہے’رسا آواس اسکیم‘۔ چار سال پہلے ان کے لئے یہ کام شروع کیا گیا تھا جو آج بھی پورا نہیں ہو پایا۔ وہاں رہنے والے چاندی پہاڑن کی مانیں تو گھر نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کافی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ یہی حال جماتاڑا کا ہے۔ جما تاڑا میں بھی اس اسکیم کے تحت ریزرو ذات کے لئے مکانات بن رہے ہیں،لیکن یہ اسکیم افسروں کی من مانی کی وجہ سے ملتوی ہے۔ یہ اسکیم سرکاری بابوﺅں کے لئے نہ ختم ہونے والا کام ثابت ہو رہا ہے جس کی مثال ہے جما تاڑا کے سون باد میں بن رہے ’برسا مونڈا آواس‘ جو ایک سال سے ادھورا پڑا ہے۔ یہ اسکیم یہاں کے ٹھیکہ داری سسٹم کے بھینٹ چڑھ گئی ہے ۔پہاڑیوں کے لئے یہاں لگ بھگ دس مکان بن رہے تھے لیکن مکان نہیں بن پانے کی وجہ سے یہاں کے یہ درج فہرست قبائل کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ درج فہرست قبائلی طبقہ کے پتاس مالتو کہتے ہیں کہ سرکار کے فلاحی منصوبوں کا فائدہ پہاڑیا طبقے کو نہیں مل پارہا ہے۔ پہاڑی علاقے میں پتھر کھدائی اور کروشر سے آلودگی کی وجہ سے بیمار پڑ رہے پہاڑیا طبقہ پر کسی کا دھیان نہیں ہے۔
سرکار کی طرف سے متعدد اعلانات ہوئے ہیں۔ ان اعلانات کو بیان کرتے ہوئے جھامومو ایم ایل اے کونال پڈنگی کہتے ہیں کہ صوبہ میں درج فہرست قبائلی کی تعداد 80 ہزار کے قریب ہے،لیکن سرکار کی اسکیم ان تک نہیں پہنچ رہی ہے۔ سرکار نے اعلان کیا تھا کہ دسویں پاس قبائلی کے لوگوں کو سیدھی تقرری کرے گی لیکن کسی کی بھی تقرری نہیں ہوئی ۔
پانی کی صورت حال بھی دیکھیں تو سنتھال پرگنہ کے علاقے میں گنگا ، بانس لوئی ،برہمانی ،اجے اور میورکشی جیسی کئی بڑی ندیاں ہیں تو کئی جھرنے بھی ہیں۔اس کے علاوہ ہر گاﺅں میں 1-2 بڑے پانی کے چشمے ہوا کرتے تھے، جس میں سالوں بھر کافی مقدار میں پانی رہتا تھا۔ گاﺅں کے بڑے بزرگ اور جانکار لوگ بتاتے ہیں کہ برسات کے دنوں میں برسنے والا پانی سال بھر پیڑ پودوں کی جڑوں کے ذریعہ سے زمین کے اندر جمع رہتا تھا اور یہی پانی برسات کے بعد دھیرے دھیرے رستا رہتا تھا جس سے گاﺅں والوں کو ندیوں اور تالابوں سے پانی اور کھیتوں کو سینچنے کے لئے کافی پانی مل جاتا تھا۔ گاﺅں پہاڑ کے ٹیلوں پر بسا ہو یا گھاٹی میں، کبھی بھی پینے کے پانی کا بحران لوگوں کو نہیں ہوتا تھا،لیکن آج جنگلوں کے کٹنے کے بعد ندیوں میں پانی کا رکنا مشکل ہو گیا ہے اور سبھی آبی ذرائع ختم ہوتے جارہے ہیں۔ اس سے جہاں ایک طرف کھیتی کے لئے مشکلیں پیدا ہوگئی ہیں، وہیں دوسری طرف پینے کے پانی کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ آج پینے کے پانی کا بحران جو خوفناک شکل اختیار کرلیاہے ویسا پہلے کبھی نہیں تھا۔ پہاڑ یا اونچی جگہوں پر رہنے والے آدیواسیوں کو تو سب سے زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج سے کئی سال پہلے ’جل ہے ،جان ہے‘ اسکیم کے تحت اس علاقے میں ہزاروں کنویں کھودے گئے۔ ساتھ ہی، ہینڈ پائپبھی لگائے گئے اور آج بھی ہر سال کم و بیش لگائے جارہے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان میں سے زیادہ تر ہینڈ پائپ آج خراب پڑے ہیں اور کنویں کا پانی پاتال میں چلا گیا ہے۔ ان دنوں شفاف پانی مہم کے تحت قابل استعمال پانی کے بحران سے نمٹنے کے لئے سرکار کے ذریعہ بلاک کی سطح پر کمپلین بوکس لگائے گئے ہیں، لیکن شکایت کرنے والوں کا ماننا ہے کہ 80فیصد شکایتوں پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔
آدیواسیوں کی ایک ذات کھڑیا ہے۔ ان کا ایک بڑا طبقہ اب بھی سمڈیگا ، گوملا، بوکارو اور رانچی کے پہاڑوں میں رہتا ہے۔ پہاڑوں کے اوپر ہی یہ لوگ مسطح جگہ بنا کر بانس اور پتوں سے بنائے گھر میں رہتے ہیں۔ دو دہائی پہلے بھی یہ پرولیٹیرین تھے اور اب بھی ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ اب آدھی آبادی ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ اسیرین قبائل کے لوگ گھنے جنگلوں میں رہتے ہیں، وہیں کوربا، پہاڑیا، سوریا پہاڑیا کی پوزیشن قابل رحم ہے۔ ان میں توہم پرستی بہت زیادہ ہے۔ یہ اپنے آپ کو جادوئی طاقت کے حامل مانتے ہیں اور شیطانی اثرات دور کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ سبئی گھاس سے رسی بنا کر اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ تمام قبائلیوں کی ایک سی حالت ہے۔
درج فہرست قبائل کو بیماری اورقحط کی وجہ سے موت سے بچانے کی کوششوں کے تحت ریاستی سرکار ان کی رہائشی جگہوں پر ہیلتھ سینٹر کھولنے کا بھی فیصلہ لیا ہے۔اس سمت میں محکمہ صحت نے تیاری لگ بھگ پوری کرلی ہے۔ ان ہیلتھ سینٹروں میں این ایم ایم، ایک پارا میڈیکل ملازم اور ایک معاون ہوں گے۔سرکا ر کی سوچ ہے کہ صوبہ کے قبائلی کا وقت رہتے علاج ہو سکے ،ساتھ ہی ان کی آبادی بچائی جا سکے ۔بگودر ، کوڈرما اور ہزاری باغ میں ڈسپنسری کے نہ ہونے کی صورت میں بیر ہور قبائلی کے لوگوں کی قحط کی وجہ سے موت کی خبریں آتی رہی ہیں۔ 2014 میں لوتیہار میں 11بیمار بچوں کی موت ہو چکی ہے۔ وہیں پر 2015 میں دس بچوں کی نامعلوم بیماری سے موت ہوئی ہے۔
حالانکہ ریاستی سرکار نے اس بار کے بجٹ میں درج فہرست قبائل کے لئے ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی تشکیل کی تجویز رکھی ہے، ساتھ ہی قبائلی کے تعلق سے ’برسا آواس نرمان یوجنا‘ کی تجویز اور وزیر اعلیٰ فوڈ سیکورٹی اسکیم کے تحت ان کے سبھی خاندانوں کو فی ماہ 35کلو اشیائے خوردنی مفت دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہیں سرکاری اسکیموں کا فائدہ تبھی ملے گا جب اس پر عمل درآمد ایمانداری سے ہو ،ورنہ ان کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *