عراق کی کابینہ میں ٹیکنو کریٹس کے شامل کئے جانے پر ہنگامہ

p-8bعراق اس وقت ایسی حالت میں نہیں ہے کہ کسی نئے ہنگامے ،احتجاج یا مظاہروں کا سامنا کرے،اس کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہے داعش سے نمٹنے کا۔ لیکن گزشتہ دنوں پارلیمنٹ کے سامنے گرین زون میں جو پُرتشدد احتجاج ہوا ،یہ عراق کے لئے اچھی علامت نہیں ہے۔احتجاج کرنے والے ایرانی نژاد مذہبی و سیاسی رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامی تھے۔ مظاہرین احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے اندر گھس گئے اور خوب توڑ پھوڑ مچائی۔ مظاہرین کی گرفتاری کے احکامات وزیراعظم حیدر العبادی نے جاری کر دیا ہے۔ وزیراعظم حیدر العبادی کا کہنا ہے کہ جنھوں نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ہے اور پولیس پر حملہ کیا انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔دراصل مقتدی الصدر کے حامی اس بات کا مطالبہ کررہے تھے کہ وزیر اعظم اپنے اصلاحات کے وعدے کو پورا کریں۔ وزیراعظم حیدر العبادی نے 2014 میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد ملک سے کرپشن اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا، اسی وعدے کے مطابق انہوں نے حال ہی میں سیاست دانوں کی جگہ ٹیکنو کریٹس پر مشتمل ایک نئی کابینہ تشکیل دی تھی، لیکن ممبران پارلیمنٹ نے ابھی تک اس کی منظوری نہیں دی ہے اور مختلف سیاسی دھڑوں میں اس نئی کابینہ کی حمایت کے حوالے سے سخت اختلافات پائے جارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک منصوبہ کے تحت مقتدیٰ الصدر، وزیراعظم حیدرالعبادی پر کابینہ کے کئی وزرا کو تبدیل کرکے ان کی جگہ نئے وزیر مقرر کرنے کا دباو¿ ڈال رہے ہیں۔لیکن پارلیمان کی کئی جماعتیں ان تبدیلیوں کی منظوری کے خلاف ہیں اور کئی ہفتوں سے یہ معاملہ تعطل کا شکار ہے۔ اس تعطل کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین پارلیمان کی عمارت کے باہر گرین زون میں دھرنا پر بیٹھ گئے۔واضح رہے کہ عراق میں 2003 میں امریکی فوج کے حملے کے بعد سے سیاسی جماعتوں اور فرقوں کے کوٹوں کی بنیاد پر حکومتیں تشکیل پارہی ہیں۔اس کے خلاف مختلف حلقے مظاہرے کرتے رہتے ہیں اور مطالبہ کررہے ہیں کہ یہ سسٹم اب ختم ہوجانا چاہیے۔ مظاہرین کا خیال ہے کہ ٹیکنوکریٹس کی نئی حکومت موجود کابینہ سے کم بدعنوان ہوگی، جو کہ سیاسی جماعتوں اور مذہبی وفاداریوں کی بنیاد پر قائم ہے۔مظاہرہ کرنے والے مقتدیٰ الصدر کے حامی بتائے جاتے ہیں۔
مقتدیٰ الصدر عراق میں مہدی آرمی نامی ملیشیا کے سربراہ ہیں جنھوں نے ملک میں امریکہ کے خلاف زبردست مہم شروع کر رکھی تھی۔ 2006 تا 2007 میں ان کی عسکری تنظیم پر ہزراوں سنیوں کو تشدد کر کے قتل کرنے کا بھی الزام ہے۔ اس دوران وہ ایران فرار ہوگئے تھے۔وہ 2011 میں ایران سے دوبارہ عراق واپس آ گئے تھے اور عراقیوں کو امن کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی تھی۔مظاہرین کی جانب سے یہ اقدام مقتدیٰ الصدر کے اس بیان کے بعد اٹھایا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سیاسی قوتیں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے کوٹہ سسٹم سے ہٹنے کو تیا ر نہیں ہیں۔
عراق اس وقت دنیا کے سب سے بڑے دہشت گروپ داعش کو ختم کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوا ہے۔ ایسے میں کسی دوسری طرف یہاں تک کہ تعلیم و صحت پر بھی ویسی توجہ نہیں دے پارہا ہے جو دینا چاہئے۔ ابھی حال ہی میں چوتھی دنیا میں شائع،،،،،،،،،کے انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ عراق کا فی الوقت سب سے بڑا مسئلہ داعش ہے اور اس کو ختم کرنا ملک کی اولین ترجیحات میں شامل ہے‘۔ ایسے موقع پرکابینہ میں ترمیم لازمی طور پر ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔لیکن اس وقت عراق میں جو ہنگامے ہورہے ہیں، کابینہ میں ترمیم کے لئے احتجاج کئے جارہے ہیں اور احتجاجی گرین زون کے علاقے میں گھس کر نعرے بازی کی۔اس سے حکومت کی داعش کو ختم کرنے کی راہ میں کی جانے ولای کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
گرین زون بغداد کا وہ علاقہ ہے جہاں سخت ترین سکیورٹی میں دنیا کے سفارتخانے، اہم دفاتر اور عمارتیں واقع ہیں۔اس حساس علاقہ میں انتہائی کشیدہ صورتحال کے بعد حکومت کی جانب سے ہنگامی حالات کا نفاذ کر دیا گیا ہے ۔
مقتدیٰ صدر کی عراق میں طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس دھرنے کو ختم کرنے والوں سے پارلیمنٹ کو اس وقت تک خالی نہیں کراسکی، جب تک کہ مقتدی الصدر کا اس سلسلے میں بیان نہیں آیا ۔ انہوں نے ایک طرف اپنے حامیوں کو احتجاج ختم کرنے کے لئے کہا تو دوسری انہوں نے حکومت کو دھمکی بھی دی ہے کہ اگر اصلاحات کا عمل انجام نہیں دیا گیا تو وہ دوبارہ احتجاج کریں گے۔ انہوں نے اپنے بیان میں وزیراعظم حیدر العبادی کے تمام وزراءسے مطالبہ کیا کہ وہ جلد ازجلد اپنے عہدے ٹیکنو کریٹس کے لیے خالی کر دیں۔نیز انہوں نے تین بڑے سیاسی اداروں کو خبردار کیا کہ وہ سیاسی گروپوں کی دبا ﺅ میں آئے بغیر عوام کے مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے ٹیکنو کریٹس پر مشتمل قومی حکومت کی تشکیل کا اعلان کریں، ورنہ وہ عوام کے ساتھ مل کر دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ وزیر اعظم حیدر العبادی نے بقیہ سیاسی امور کے حل کیلئے کم از کم 45 دن کی مہلت طلب کی ہے۔ انہوں نے مقتدیٰ الصدر کے بیان پر کوئی رد عمل ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔
خیال رہے کہ عراق کے سخت گیر موقف کے حامل شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے2014 میںسیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے یہ اعلان اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے تحریر شدہ پیغام میں کیاتھا۔ مقتدیٰ الصدر کے بیان کے مطابق وہ مستقبل میں نہ کوئی سرکاری عہدہ لیں گے اور نہ ہی ان کی پارلیمان میں کوئی نمائندگی ہوگی۔انھوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ اپنے تمام دفاتر بند کر رہے ہیں اور صرف فلاحی کاموں کے لیے چند دفاتر کو چلایا جائے گا لیکن حالیہ واقعہ سے محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے سیاست میں اپنی سرگرمیاں ترک نہیں کی ہیں۔ مقتدیٰ الصدر ایک شیعہ خاندان میں پیدا ہوئے اور 11 سال پہلے صدام حسین کی حکومت ختم ہونے کے بعد انھوں نے عوامی تقاریر اور انٹرویو میں امریکہ کے خلاف عوام کو متحد ہونے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2006 میں جب ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا تو ایران چلے گئے۔ دو سال بعد ان کی مہدی آرمی وزیرِاعظم نوری المالکی کی زیرِ سرپرستی عراقی فوج کے خلاف برسرِ پیکار ہوئی۔ اس دوران ان کی ملیشیا کے بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ،بعد میں مقتدیٰ الصدر نے وزیرِاعظم نوری المالکی کے ساتھ صلح کر لی اور 2010 میں دوبارہ وزیرِاعظم بننے میں ان کی مدد کی۔لیکن پھر ان کا اختلاف نورالمالکی سے ہوگیا ،لہٰذا انہوں نے وزارت عظمی کے عہدہ کے لئے 2014 میںحیدر العبادی کی حمایت کی اوراس طرح سے العبادی ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔ اب اگر العبادی نے ان کے مطالبے کو پورا نہیں کیا تو ممکن ہے نورالمالکی کی طرح العبادی سے بھی مقتدیٰ الصدر خود کو الگ کرلیں۔ ایسی صورت میں ان کا وزارت عظمیٰ پر برقرار کرنا مشکل ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *