ایران و سعودی عرب تنازع: ایرانی شہری زیارت کعبہ سے محروم

p-8bسعودی عرب اور ایران کے درمیان خطے میں برتری کی جنگ جاری ہے۔ دونوں میں سے کوئی کسی کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔ اس اَنا کی جنگ میں نقصان عوام کا ہورہا ہے۔ سب سے بڑا نقصان ایرانی عازمین کا ہے کہ وہ امسال حج کا مبارک فریضہ انجام نہیں دے پائیں گے۔ کیونکہ دونوں ملکوں کے بیچ معاہدے پر دستخط نہیں ہوسکے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی روزبروز ابتر ہوتی صورتحال اورسعودی عرب اور ایران کی باہمی چپقلش نے وہاں کے عوام کے ہر شعبہ زندگی کو متاثر کیا ہے۔حالیہ کشیدگی نے دونوں ممالک کو اس حالت میں لاکھڑا کیا ہے کہ دونوں ممالک حج جیسے عظیم رکن اسلام پر ہونے والے مذاکرات میں بھی ایک موقف اختیار نہیں کرپائے جس کی وجہ سے رواں سال ایرانی حجاج فریضہ حج ادا نہیں کرسکیں گے۔اس تنازع کے تعلق سے ایرانی وزیر نے حاجیوں کے انتظامات کے معاہدے میں ناکامی کی تمام ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کی ہے ۔ ایران کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے مذاکرات میں سردمہری دکھائی اور اس کا رویہ غیر مناسب رہاہے جس کی وجہ سے ایرانی حجاج امسال بیت اللہ کی زیارت سے محروم ہوگئے ہیں جبکہ سعودی عرب کی کابینہ نے واضح کیا ہے کہ اس نے کسی مسلمان کو مقدس سرزمین میں حج اور عمرے کے لئے آنے سے نہیں روکا ہے۔بلکہ سعودی عرب اس امر کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہے کہ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے مسلمان حج و عمرہ کے لئے حجاز مقدس آئیں۔ سعودی کابینہ نے ایران کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی مملکت تمام قوموں سے تعلق رکھنے والے عازمین حج اور عمرہ کی خدمت کو اپنے لئے ایک اعزاز سمجھتی ہے اور ان کے خیر مقدم کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔ لیکن ایران کا جو رویہ رہا ہے اس کی وجہ سے ایرانی حاجیوں کو زیارت سے محرومی کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ سعودی عرب نے ایران کی جانب سے ایرانی حاجیوں کو سیکورٹی اور ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کی جو تجویز رکھی تھی وہ ناقابل قبول تھی ۔سعودی عرب سرکاری ٹیلی ویژن ’اخباریہ‘ پر نشر ہونے والے سعودی عرب کے وزیر حج کے بیان کے مطابق ایران کا مطالبہ غیر منطقی تھا جس کو قبول کرنا سعودی عرب کے لئے ممکن نہیں تھا۔ ایران کا یہ مطالبہ تھا کہ ایرانی شہریوں کو ایران میں ہی ویزہ جاری کیا جائے اور ان کے لیے ٹرانسپورٹ کے علیحدہ انتظامات کئے جائیں۔جبکہ سعودی عرب کے لئے یہ ممکن نہیں تھا۔ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ ایران حاجیوں کو سیکورٹی کے تعلق سے سعودی آئین کی حمایت نہیں کررہا ہے اور جو ضابطے ہیں اس کی پابندی سے انکار کررہا ہے ، جبکہ ان ضابطوں کا فالو کے بغیر ایرانی حاجیوں کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکی۔سعودی وزارت خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران ایرانی وفد نے عازمین حج کے انتظامات سے متعلق سمجھوتے کے مندرجات پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھااور ایرانی حکام نے ایرانی شہریوں کو حج کے لئے آنے سے روکنے کا از خود فیصلہ کیا ہے اور وہ اس پر اللہ تعالیٰ اور پوری دنیاکے سامنے جواب دہ ہوں گے ۔دراصل ایران اس مسئلے کو سیاسی بناکر صورت حال کا ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ دونوں ملکوں میں حاجیوں کو لے کر کیا اختلا ف ہے۔ دراصل تہران میں سعودی عرب کا سفارتی عملہ موجود نہیں ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ایرانی شہری حج کے لیے کسی تیسرے ملک سے ویزا کی درخواست دیں۔ لیکن ایران چاہتا ہے کہ سعودی عرب تہران میں قائم سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے کے ذریعے ویزے جاری کرے۔ تہران کے ساتھ ریاض کے تعلقات کے خاتمے کے بعد سوئس سفارتخانہ تہران میں سعودی معاملات کی نگرانی کر رہا ہے۔خیال رہے کہ ایران اور سعودی عرب خطے میں حریف ہیں اور دونوں کے درمیان شام اور یمن کے بحران پر تعلقات پہلے سے کشیدہ تھے اور ان میں مزید تلخی اس وقت آئی جب گزشتہ برس حج کے موقع پر بھگدڑ مچنے سے سینکڑوں حاجی ہلاک ہو گئے اور ان میں اکثریت ایرانی شہریوں کی تھی۔اس واقعہ پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ واقعے کی ذمہ داری قبول کرے اور معافی مانگے۔اس حادثے پر ایران نے شدید احتجاج بھی کیا تھا۔
جبکہ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ایران کے ناقابلِ قبول مطالبات کی وجہ سے دونوں ملکوں کے مابین حج انتظامات کے حوالے سے معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔سعودی عرب کے وزیر عمرہ و جج ڈاکٹر محمد صالح بنتن کا کہنا ہے کہ تہران واحد ملک ہے جس نے سعودی عرب سے اپنے شہریوں کے حج کی آمد کے حوالے سے معاہدہ کرنے سے انکار کیا۔جہاں تک بھگڈر کی بات ہے تو یہ حادثہ ایرانیوں کے بے ضابطہ عمل کی وجہ سے واقع ہوا تھا ۔وہ اس طرح کہ ایرانی حجاج نے رمی کے بعد جس طرف سے نکلنا چاہئے ادھر سے نکلنے کے بجائے واپس ادھر لوٹ گئے جدھر سے داخلہ تھا ۔اس سے بے ضابطگی پیدا ہوئی اور بھگڈر مچ گئی جس کے نتیجے میں سینکڑوں لوگوں کی جانیں گئیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری تھاکہ اتفاق سے اس واقعے کے بعد جنوری میں سعودی عرب میں شیعہ عالم دین شیخ نمر النمر کو پھانسی دیئے جانے کے بعد ایران میں مظاہرین نے سعودی عرب کے سفارت خانے پردھاوا بول دیا اور اس کے جواب میں سعودی عرب نے ایران سے اپنے سفارتی تعلقات توڑ دیئے۔اس طرح سے جو تلخیاں پس پردہ تھیں وہ ابھر کر سامنے آگئیں۔
دونوں ملکوں کی تلخیاں اور حج کے بائیکاٹ کرنے کا واقعہ کوئی پہلا نہیں ہے ۔اس سے پہلے 1987میں جب ایرانی حجاج کے مظاہرے کے بعد پولیس سے جھڑپوں میں 402افراد کی موت ہوئی تھی تو اس واقعہ کے بعد بھی ایران نے 1988اور1989میں شہریوں کو حج پر نہیں بھیجا تھا۔ایران کا کہنا تھا کہ سعودی پولیس نے ایرانیوں پر مشین گنیں چلائیں اور 600ایرانی جاں بحق ہوئے۔غرضیکہ دونوں ملکوں کے بیچ خطے میں برتری کی جنگ نے نقصان عوام کو پہنچایا ہے اوراسی اَنا کی جنگ میں ایران کے شہری اس سال حج کے مبارک فریضہ سے محروم ہوسکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *