ہندومسلم خواتین کے حقوق کی لڑائی ملک کا آئین بھی ساتھ

شفیق عالم
p-3مہاراشٹر کے احمد نگر میں واقع شنگنا پور مندر گزشتہ دنوںاُس وقت سرخیوں میںآیا، جب ایک عورت صدیوں پرانے روایت و رواج کو توڑتے ہوئے مندر کے اُس حصہ میں داخل ہوئی، جہاں مورتی قائم ہے اور جہاں عورتوں کا جانا ممنوع تھا۔ دوسرے معاملے میں کیرالہ کے سبری مالا مندر کے گربھ گرہ میں 10 سال سے 50 سال کی عورتوں کے داخلے پر لگی پابندی ہٹانے سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین جنسی مساوات کا حق دیتا ہے اور مذکورہ عمر کی خواتین کے مندر میں داخلہ پر پابندی کو مندر انتظامیہ کے ذریعہ مذہبی معاملوں کے انتظام کے حق کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ ممبئی میں کچھ مسلم عورتوں نے حاجی علی درگاہ کے اس حصے میں عورتوں کے داخلے کی مانگ کو لے کر احتجاج کیا، جہاں عورتوں کا جانا ممنوع ہے۔ عورتوںسے متعلق ایک اور معاملہ جو سرخیوں میںہے، وہ ہے نینی تال کی سائرہ بانو کا، جنھیںان کے شوہر نے خط میںتین بار طلاق طلاق طلاق لکھ کر ان سے اپنا رشتہ ختم کرلیا۔ اس معاملے کو لے کر سائرہ بانو نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاہے۔ مندرجہ بالا سبھی معاملے مذہبی اقدار سے متعلق ہیں اور ان معاملوں نے ملک میںعورتوں کے تعلق سے غور و فکر کو ایک بار پھر سے بحث کے مرکز میں کھڑا کردیا ہے۔
مذہبی مقامات میں خواتین کا داخلہ
گزشتہ سال 29 نومبر کو شنی شنگناپور مندر میں بھوماتا بریگیڈ کی ایک عورت نے شنی دیو کے چبوترے پر تیل چڑھاکر پوجا کی او راس مندر کی 400 سال پرانی روایت کو توڑدیا۔ اتنی پرانی روایت کے ٹوٹنے پر ہنگامہ ہونا غیر متوقع بات نہیں تھی۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے برق مندر کے اُن سات سیکورٹی گارڈز پر گری، جو مندر میںڈیوٹی پرتھے۔ ان سات سیکورٹی گارڈز کو مندر انتظامیہ نے فوراً معطل کردیا۔ بعد میںگاو¿ں میں پنچایت بلاکر مندر کے احاطے کا دودھ ابھشیک (دودھ سے صاف) کیا گیا اور اس واقعہ کی مخالفت میں بندکا اہتمام کیا گیا۔ دراصل اس مندرمیںخواتین کے داخلہ کی یہ پہلی کوشش نہیں تھی،آج سے پندرہ سال پہلے بھی عورتوںنے مندر میںداخلے کے لےے اپنی آواز بلندکی تھی۔ اس مہم میں فلم اداکار او رتھیٹر ایکٹر شری رام لاگو بھی جڑے تھے۔ اس سال یوم جمہوریہ کے موقع پرترپتی دیسائی کی قیادت میں بھوماتا بریگیڈ نے 400 خواتین حامیوں کے ساتھ پوجا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد میں مندر میں داخلہ کی کوشش میں ترپتی اور ان کے حامیوں کو کئی بار حراست میں بھی لیا گیا۔ بہرحال ، بعد میں بومبے ہائی کورٹ کی ہدایت کو دھیان میں رکھتے ہوئے شنی شنگناپور ٹرسٹ نے کچھ شرائط کے ساتھ مندر کے گربھ گرہ میں خواتین کے داخلے کی اجازت دے دی۔
مندر میں خواتین کے داخلے پر پابندی کا دوسرا معاملہ کیرالہ کے سبری مالا مندر کا ہے، جہاں حیض کی عمر ( 10 سے 50سال کی عمر)کی خواتین کا داخلہ ممنوع ہے۔ مندر کا عقیدہ یہ ہے کہ چونکہ بھگوان ایّپّا کنوارے تھے، اس لےے ان کے مندر میں حیض کی عمر کی خواتین کا داخلہ ممنوع ہے۔ لیکن خواتین تنظیم اس مندر میں داخلہ کے حق کو لے کر اپنی آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ غورطلب ہے کہ سبری مالا کے گربھ گرہ میں خواتین کے داخلے کا تنازع بہت پرانا ہے۔ اس سلسلے میںایک دلچسپ معاملہ کنّڑ اداکارہ جے مالا کا ہے۔ جے مالا نے سال 2006 میںیہ دعویٰ کیا تھا کہ انھوںنے 1986 میں بھگوان ایّپّاکی مورتی کے پیر چھوئے تھے۔ اس کے بعد پولیس نے ان کے خلاف مقامی عدالت میںایک چارج شیٹ داخل کی تھی۔ حالانکہ بعد میںعدالت نے اس معاملے کو خارج کردیا تھا۔
بہرحال سبری مالا مندرمیںخواتین کے داخلے کو لے کرایک نیا موڑ تب آیا، جب پچھلے سال نومبر میں تراونکور دیواشوم بورڈ کے نئے صدر پریار گوپال کرشنن نے ایک قابل اعتراض بیان دیا۔اپنے بیان میںانھوںنے مبینہ طور پر کہا کہ خواتین کو سبری مالا مندر میں داخلے کی اجازت تبھی دی جائے گی، جب ان کی درستگی کی جانچ کرنے والی مشین ایجاد ہوجائے گی۔ حالانکہ بعدمیںانھوںنے ا س طرح کے بیان دےے جانے سے انکار کیا، لیکن پچھلے کچھ سالوںکے دوران خواتین کے حیض کو لے کر پھیلی غلط فہمیوںاور توہم پرستی کے خلاف خواتین نے سوشل میڈیا اورفیس بک پرBleed to happy مہم شروع کی۔ اس مہم کوکو ہر طرف سے حمایت ملی۔ بعدمیں’بلیڈ ٹو ہیپی‘ سے جڑی طالبات نے سپریم کورٹ میںایک عرضی دائر کرکے پوچھا کہ ماہواری جیسی صحت اور سائنسی وجوہات سے کسی کے ساتھ کیسے امتیاز برتا جاسکتا ہے اور کیسے انھیںپوجا کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔بہرحال سپریم کورٹ میں اس معا ملے پر سماعت چل رہی ہے۔معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے صاف صاف کہا کہ عدالت اپنا فیصلہ آئین کی تجاویز کے مطابق دے گی، نہ کے عقیدے کی بنیاد پر۔ کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ہندو دھرم میںعورت اور مرد الگ الگ مذہبی گروپ کیسے ہوسکتے ہیں؟
مسلم خواتین تنظیموںنے بھی اپنے حقوق کو لے کراب آواز اٹھانے شروع کردی ہے۔ اس سلسلے میںبھارتیہ مسلم مہیلا آندولن نے بامبے ہائی کورٹ میںایک عرضی دائر کرکے ممبئی کے مشہور حاجی علی کے مزار تک عورتوںکے جانے پر لگی پابندی کو چیلنج کیا ہے۔ اس سے پہلے خواتین نے اس مزار میںداخلہ کے تعلق سے احتجاج بھی کیا تھا۔کورٹ میںاپنا موقف رکھتے ہوئے مہاراشٹر سرکار نے درگاہ میں خواتین کے داخلے پر پابندی کو غیر آئینی بتایا ہے۔ بہرحال، ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اس معاملے پر کوئی فیصلہ سنانے سے پہلے وہ کیرالہ کے سبری مالا مندر میں خواتین کے داخلے کو لے کر سپریم کورٹ کے فیصلے تک انتظار کرے گا۔
خواتین کے مذہبی مقام میں داخلے کو لے کر ایک تبصرہ یہ ہے کہ اگر مندر یا مذہبی مقام اپنی روایت کے مطابق کسی کواندر داخل ہونے کی اجازت نہیںدیتا،تو پھر ایسے مذہبی مقام پر جانے کی ضرورت کیا ہے؟ دراصل یہ معاملہ جتنا مذہبی ہے،ا ُتنا ہی علامتی بھی ہے،کیونکہ جب ملک کا آئین جنس،ذات اور زبان کی بنیاد پر کسی طرح کا امتیاز نہیںکرتا، تو پھر یہ سوال اٹھتاہے کہ آدھی آبادی کے ساتھ جنس کی بنیاد پر یہ امتیاز کیوں؟ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کا یہ تبصرہ بھی کافی اہم ہے کہ ہندو دھرم میںعورت اور مرد الگ الگ مذہبی گروپ کیسے ہوسکتے ہیں؟ یعنی جب مرد کوپوجا کرنے کی اجازت ہے،تو عورت کوکیوں نہیں ہونی چاہےے۔اس بارے میںیہ بھی سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ جو عورتیںمذہبی مقامات میںداخلے کی وکالت کررہی ہیں، انھیںمذہب سے کم ہی لینا دیناہے۔ اس دلیل میں بھی کوئی دم نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ملک کا آئین برابری پر مبنی سماج کی تعمیر کی بات کرتا ہے،تو اس طرح کے امتیاز کو مٹانا ہوگا۔ کہتے ہیں کہ مانگے بنا تو بھگوان بھی نہیں دیتا، تو پھرانسانوں کی کون کہے۔ اگر ملک میںستی پرتھا،بال ویواہ جیسی برائیوںکے خلاف کسی نے آواز نہیںاٹھائی ہوتی، تو روایت کے نام پر یہ آج بھی جاری رہتی۔ دراصل اہم یہ نہیں ہے کہ کون آواز اٹھارہا ہے، اہم یہ ہے کہ کیا آواز اٹھارہا ہے۔
تین طلاق اور مسلم خواتین کے مسائل
قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ،ماہر قانون اور مسلم پرسنل لاءکے معاملوںکے ماہر پروفیسر طاہر محمود کہتے ہیںکہ بائی طاہرہ، فضل النبی، زہرہ خاتون، شاہ بانو، شمیم آرا،اقبال بانو، خاتون نسائ، شبانہ بانو، شمیم فاروقی،یہ وکی پیڈیا سے اٹھائے ہوئے مسلم نام نہیںہیں،بلکہ مسلم قانون کے تین طلاق کے پروویژن کے مجبور شکار ہیں، جنھوں نے اپنے گزارے کی معمولی رقم کے لےے 1976 میںسپریم کورٹ تک کی قانونی لڑائیاںلڑی ہیں۔ ان کی دکھ بھری کہانیاںقانون کی رپورٹوں میں دفن ہےں۔ دراصل پروفیسر طاہر محمود مسلم پرسنل لاءمیںایک ساتھ تین طلاق دے کر شادی کے رشتے کو ختم کرنے والے پروویژن کی بات کررہے تھے۔
تین طلاق کا تازہ معاملہ نینی تال کی سائرہ بانو سے جڑا ہوا ہے۔ الہ آبادکے رضوان نے اپنی بیوی سائرہ بانوکے نام ایک خط میںتین بار طلاق لکھ کر اپنے بیچ کے شوہر بیوی کے رشتے کو ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ لیکن سائرہ خاموش نہیں رہی او راس معاملے کو لے کروہ سپریم کورٹ تک پہنچ گئی۔ لیکن ایک فرق کے ساتھ انھوں نے اپنے شوہر سے رکھ رکھاو¿ کی مانگ کے بجائے تین طلاق کے پروویژن کو چنوتی دینے کا فیصلہ کیا۔ دراصل آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ تین طلاق کے پروویژن کوختم کرنے کی کسی بھی تجویز کی مخالفت کرتا ہے۔
دراصل قرآن کے مطابق اللہ حلال چیزوںمیں طلاق کو سب سے زیادہ ناپسند کرتا ہے۔ پروفیسر طاہر محمود کا ماننا ہے کہ نکاح کی طرح محض طلاق بولنے سے شادی ختم نہیں ہوتی۔ صرف صحیح عمل اپناکر ہی شادی ختم کی جاسکتی ہے۔ بدقسمتی سے اسلامی قانون کی روایتی تشریح نے ایک ساتھ تین طلاق کے پروویژن کو قائم کردیا، جو صحیح اسلامی قانون کے بالکل خلاف ہے اور جسے طلاق البدعت کہتے ہیں۔ ان کے لحاظ سے تین طلاق گناہ ہے،لیکن لاگو ہے۔ ا س مسئلے پر’ چوتھی دنیا ‘ کے پچھلے شمارے میں یوسف انصاری نے تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ لیکن مسئلہ یہاںپر یہ ہے کہ اگر طلاق اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میںسب سے ناپسندیدہ کام ہے، تو پھر بدعت کو اپنائے رکھنے پر اتنا زور کیوں؟ ایسا نہیںہے کہ اس کی مانگ جو خواتین کررہی ہیں، وہ کوئی انوکھی بات کررہی ہیں۔ کئی مسلم ممالک میں تین طلاق کا پروویژن ختم کردیا گیا ہے۔ایسے ممالک میںپاکستان اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں۔ترکی اور سائپرس نے سیکولر سول قانون اپنارکھا ہے۔ تنیشیا، الجیریا اور ملیشیا عدالت سے باہر دی ہوئی طلاق کومنظوری نہیںدیتے۔ایران میںشیعہ قانون تین طلاق کو قانونی حیثیت نہیںدیتا۔ مصر ایسا پہلا ملک تھا،جس نے تین طلاق کے پروویژن کو 1929 میں ختم کیا تھا۔ سوڈان دوسراملک تھا، جس نے اس نظام کو ختم کیا۔ بعد میں عراق،اردن،شام اور انڈونیشیا نے بھی ایک بار میںتین طلاق کے پروویژن کو ختم کیا۔ تنیشیا نے ایک قدم آگے جاتے ہوئے ایک قانون بنایا ،جس کے لحا ظ سے عدالت کے باہر دی گئی طلاق کو خارج کردیا۔ یہاںتک کہ پاکستان نے ایک آرڈیننس کے ذریعہ تین طلاق کے نظام کو ختم کردیا، جسے بنگلہ دیش نے بعدمیں بھی قائم رکھا۔
تین طلاق سے جڑا ایک مسئلہ ہے،جسے حلالہ کہتے ہیں۔ حلالہ یعنی اگر شوہر طلاق دےدے اور بعد میںاسے خیال آئے کہ اس نے جلد بازی میںطلاق دی ہے اور طلاق شدہ بیوی سے پھر سے نکاح کرلینا چاہےے، تو وہ حلالہ کا استعمال کرتا ہے۔حلالہ کے تحت سابق بیوی ایک دوسرے مرد کے ساتھ شادی کرلے اور وہ دونوں میاں بیوی کی طرح رہ لیں اور پھر دوسرا شوہر اس عورت کو طلاق دےدے،تو پہلے شوہر سے نکاح ہوجاتا ہے۔ پروفیسر طاہرمحمود لکھتے ہیں، جس حلالہ کا ہندوستان میںچلن ہے وہ ملک کے شہریوںکے بنیادی فرض کے برعکس ہے۔ آئین کی دفعہ 51خواتین کے وقار کوذلیل کرنے والی رسم کے ترک کی بات کرتی ہے۔
اب سوال یہ اٹھتاہے کہ جب اتنے سارے مسلم ملکوںنے اپنے سول قانون سے تین طلاق کے پروویژن کو ختم کردیا، تو پھر ہندوستان میں اس پروویژن کے جاری رکھنے کا کیا جواز ہے؟ ایسا نہیںہے کہ طلاق ایک دوسرے طریقے ، جس میں تین طلاق کو تین الگ الگ وقت میںدیا جاتا ہے، سے اسلامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ دوسرا یہ کہ جب اللہ کے نزدیک طلاق سب سے بری چیز ہے، تو پھر اس کے استعمال کا جو بہتر طریقہ ہے، اسے اپنانے میں کیا برائی ہے؟ آل انڈیامسلم ویمن پرسنل لاءبورڈ کی چیئر پرسن شائستہ عنبرکہتی ہیں، اس معاملے میں اسلام کا رخ بالکل سیدھاہے بالکل دو اور دو چار کی طرح ہے،آپ اگر مگر میںالجھائےںنہیں۔ اللہ رحیم و کریم ہے، وہ اپنے بندوں کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو معاف کردیتا ہے،تو علماءکوشوہر اور بیوی کے چھوٹے چھوٹے جھگڑوںکو صلح کرانے کے لےے آگے آنا چاہےے اور جس طرح قرآن میںطلاق کا پروویژن ہے، آپ اسے مانیںاسے الجھائےںنہیں۔ ایک شخص خط کے ذریعہ طلاق لکھ کرکسی کے ساتھ اپنے رشتے کیسے ختم کرسکتا ہے۔ صلح کی کچھ نہ کچھ تو گنجائش ہونی چاہےے۔
ہندوستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد اس تین طلاق کے پروویژن کے خلاف اپنی آواز بلندکرنے لگی ہے او رمسلم خواتین سے متعلق دوسرے معاملات مثلاً وراثت کا معاملہ بھی بحث کا مدعا بننے لگا ہے۔ دراصل آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کو اس معاملے میںدوسرے مسلم ملکوںکے سول قانون کا مطالعہ کرنا چاہےے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *