سرکار کو مالی معاملات میں سمجھداری دکھانی چاہئے

کی جار ہی ہے کہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا دوسرا دور ثمر آور ثابت ہوگا۔ مرکزی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ حکومت اس سیشن میں بینکرپسی (دیوالیہ) بل پیش کر نے کی کوشش کررہی ہے۔ ا س کے ساتھ ہی وہ گڈس اینڈ سروسیز ٹیکس (جی ایس ٹی) بل کو بھی پارلیمنٹ سے پاس کرانے کی کوشش کرے گی۔ لیکن سیاسی واقعات اکثر نئے حالات پیدا کر دیتے ہیں، اس دفعہ بھی ایسا ہی ہو ا ہے ۔ جب تک کانگریس تعاون نہیں کرے گی،تب تک بی جی پی کو راجیہ سبھا سے کوئی بل پاس کروانا مشکل ہوگا ۔ یا پھر جب تک وہ کانگریس کے علاوہ دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل نہیں کرلے گی، تب تک کوئی بھی بل راجیہ سبھا میںپاس نہیںہوسکے گا۔بی جے پی کوراجیہ سبھامیںجی ایس ٹی بل کو پاس کرانے میںضرور دقت پیش آئے گی،لیکن بینکرپسی سمیت دیگر بلوں پر وہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میںکیامیاب ہوسکتی ہے۔
لیکن اہم مدعایہ ہے کہ سبرامنیم سوامی ، جنھیں حال ہی میںصدر نے راجیہ سبھاکے لےے نامزد کیا ہے، انھوںنے اگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے کا معاملہ اٹھایا ہے۔ یہ معاملہ کچھ دنوں پہلے ہی اجاگر ہوا تھا اور اس پر میڈیا میںبحث بھی ہوئی تھی۔ اب اس میںنیا بدلاو¿ یہ ہے کہ اٹلی کی ایک عدالت نے اس معاملے میںفیصلہ دیاہے کہ اس وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر سودے میںدھاندلی ہوئی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میںکچھ لوگوں کے نام لےے ہیں،جوہمیں نہیں معلوم۔ 1986 میںبوفورس سودے میںبھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ سب سے پہلے ایک سویڈش ریڈیو نے اس سودے کے بارے میںخبر نشر کی تھی۔ اس کے بعد پتہ چلا تھا کہ اس ڈیل میںپردے کے پیچھے بہت ساری سودے بازی ہوئی تھی۔ اقتصادی جرم اور اس کی جانچ کااپناالگ طریقہ ہوتا ہے۔یہ کہناکہ اٹلی کی عدالت نے ایسا کہا ہے ، یہ کہہ کر معاملے کو آسان کرنا ہے۔ ہندوستانی جانچ اور عدالت میں سنوائی کا الگ طریقہ ہے۔ بے شک سونیا گاندھی اور کانگریس پارٹی کی شبیہ خراب کرکے آپ اس کا سیاسی فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور شاید یہی کام سبرامنیم کرناچاہتے ہیں۔
اسی طرح سے پناما لیک کے کاغذات ہیں، جن میںبزنس اور فلمی دنیاکے جانے مانے لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ یہ لوگ حقیقت میں بہت دور تک گئے ہیں، کیونکہ پناما ایک ایسی جگہ ہے، جہاں کسی کو جانکاری دےے بغیر کمپنی قائم کی جاسکتی ہے۔ ان دستاویزوں سے صرف کمپنی اور اس سے جڑ ے لوگوں کے نام ظاہر ہوئے ہیں۔ ان میں کتنا پیسہ لگا ہے، ان کا بینک کھاتہ کہاں ہے، وہاں پیسہ کس طرح لے جایا گیا، اس کی جانچ کافی طویل عرصہ تک چلے گی۔ لیکن اپنے حریفوں کو نیچا دکھانے کے اس دور میں یہ ایک کھیل کی طرح ہے۔ جہاں تک سرکار کا سوال ہے، اسے پھر سے اپنا دھیان اس بات پر لگانا چاہےے کہ کیا اس کی دوسرے ملکوں سے پیسہ واپس لانے میں دلچسپی ہے۔ پہلے تو اس بات کی جانچ ہونی چاہےے کہ یہ معاملہ جانچ کے لائق ہے بھی یا نہیں۔ میڈیا میںجتنی بڑی رقم کی بات کی جارہی ہے، اگر واقعی میں ہندوستانیوں کی اتنی دولت غیر ممالک میں ہے، تو یہ ملک کے مفاد میں ہوگا کہ وہ پیسہ واپس آئے۔ ماریشس اور دوسرے چینلوںسے کچھ دولت ہندوستان میںضرور آئی ہوگی۔قانونی طور پر یا ڈرا دھمکا کر اس دولت کو واپس لانا ممکن نہیںہے۔ اگر آپ حقیقت میںاس پیسے کو واپس لانا چاہتے ہیں، تو آپ کو ایسا ماحول بنانا پڑے گا، جس میں لوگ خود ہی اپنے پیسے واپس لے آئیں۔ ہر بزنس مین یہ جانتا ہے کہ اگریہاں اسے فائدہ ہوگا،تو وہ اپنے پیسے ضرور واپس لائے گا۔ایسے میں آپ کو انھیںحوصلہ دیناہوگا،جو کہ بے شک ایک بحث کا موضوع ہے کہ ایسا کرکے کہیں غلط لوگوںکی حوصلہ افزائی تونہیںکی جارہی ہے؟
اسی طرح این پی اے کا معاملہ ہے۔ این پی اے کا مطلب ہوتا ہے نان پرفارمنگ ایسیٹس۔ یعنی کمپنیاں بینکوں کا سود ادا کرنے میں قاصر ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ پیسہ ڈوب گیا۔ بینکوں کو اس بات کی جانچ ضرور کرنی چاہےے کہ کیا انھیں ان کمپنیوں کا مینجمنٹ اپنے ہاتھوں میںلے لینا چاہےے یاجو پرموٹرس ہیں، انھیںان کے پیسے واپس دے دےے جائیں۔ وجے مالیا کے معاملے میںبینک یہ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ ان کے جہاز لیز پر تھے، جس میں بینک کچھ نہیں کرسکتے، لیکن ان کے ساتھ جیسا برتاو¿ کیا جارہا ہے،وہ ٹھیک نہیںہے۔ اگر آپ اپنے ہی لوگوں کے لےے اس طرح کا غیر یقینی ماحول بنائیںگے،تو آپ ایف ڈی آئی (براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری) کے آنے کی امید کیسے کرسکتے ہیں،جبکہ ڈاکٹر مالیا ایک رکن پارلیمنٹ بھی ہیں۔ اس لےے مجھے لگتا ہے کہ سرکار کو پورے ماحول کا جائزہ لینا چاہےے کہ ان سے پیسے واپس لینے کا سب سے بہتر کیا متبادل ہوسکتا ہے۔ موجودہ حالات میںمتبادل پِک اینڈ چوز (آپ کو جو اچھا لگ رہا ہے اسے چننا) کا ہے، جسے مغرب کے لوگ پسند نہیںکرتے ہیں۔ وہ رول آف لاءکو پسند کرتے ہیں، جو سب کے اوپر لاگو ہوتا ہے۔
اخبارات میں چھپی خبروں کے مطابق ڈاکٹر مالیا کے اوپر بینکوں کا 9 ہزار کروڑ روپے کا قرض ہے،لیکن اور بھی لوگ ہیں، جن پر تیس ہزار کروڑ روپے بینکوں کے بقایا ہیں۔ آپ اوپر سے شروع کرےے یا نیچے سے، لیکن ایسا نہیںہو رہا ہے۔ یہاںہم اپنی پسند کے مطابق کام کررہے ہیں۔ ایسا کیوںہورہا ہے یہ سرکار ہی بہتر طریقے سے جانتی ہے۔ ڈاکٹر مالیا یقینی طور پر سرکار کے پسندیدہ لوگوںکی فہرست سے باہر ہوگئے ہوںگے، اس لےے وہ جال میںپھنس گئے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح سہارا کے سبرت رائے کے ساتھ ہوا، جو کہ ایک عجیب و غریب معاملہ ہے۔ انھیںیوپی اے سرکار نے جیل میںڈالا، لیکن این ڈی اے سرکار نے انھیں جیل سے باہر نکالنے کے لےے کچھ بھی نہیںکیا۔ سپریم کورٹ کہہ رہا ہے کہ وہ سزایافتہ نہیںہےں۔ وہ ہمار ی حراست میں ہیں۔ مجھے نہیںلگتا ہے کہ یہ طریقے صحیح ہیں۔ ایسے میںجب بایاں بازو اور مجھ جیسے سماجوادی یہ سمجھتے ہیںکہ پبلک سیکٹر صحیح متبادل ہے، تو وہ ٹھیک ہے، کیونکہ آپ نے صنعتی دنیاکو اتنا بڑا ہونے کا موقع ہی کیوںدیا؟آپ نے اتناسارا پبلک سیکٹر کا پیسہ قرض کے طور پر دیا، لیکن اب آپ کومعلوم نہیں ہے کہ پیسے کی اگاہی کیسے کی جائے؟یہ سمجھداری کا کام نہیں ہے۔ میںیہاںیہ ضرور کہوںگا کہ یو پی اے اور پی چدمبرم نے کچھ معیارپر عمل ضرور کیا۔ ایسے معاملوں میں انھوںنے جلد بازی نہیںدکھائی۔ لیکن اگر یہ سرکار سوچتی ہے کہ وہ کارروائی کرکے،ڈر پھیلاکر یا دھمکاکر، کہ اگر آپ نے اپنی املاک کا خلاصہ نہیں کیا،توآپ کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، اس سے کچھ حاصل نہیںہوگا۔ ہندوستان میںہر کسی کو معلو م ہے کہ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ لوگوںکوسالوںسے ڈراتا دھمکاتا رہا ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا، کچھ نہیں۔ میکینزم اس وجہ سے لگاتار کمزور ہوتا گیااور اب اس میکینزم کی بنیاد پر کاروباری ان دھمکیوںکو سنجیدگی سے نہیںلےںگے۔یہ ایسا معاملہ ہے،جس کاکیبنٹ کی اقتصادی معا ملات کی کمیٹی کے ذریعہ مطالعہ کیاجانا چاہےے۔وزیر اعظم کو ایک میٹنگ بلانی چاہےے،جس میںوزیر خزانہ،دوسرے متعلقہ وزیراور ایسے لوگ جن کے پاس اقتصادی معاملات کا تجربہ ہو جیسے کہ ریزرو بینک کے گورنر رگھورام راجن، ریزرو بینک کے سابق گورنر سی رنگ راجن وغیرہ شامل ہوں۔ اس میٹنگ میںیہ سوال اٹھناچاہےے کہ چونکہ ہم نے لبرلائزیشن،مالی خسارہ وغیرہ کے لےے امریکی سسٹم کو اپنایا ہے،تو امریکہ ایسی حالت کاسامناکس طرح کرتا ہے، اس کی صلاح کرکے آپ کو بھی وہی طریقہ اپنانا چاہےے۔
2008میں امریکی بینک زمین بوس ہوگئے تھے۔امریکی سرکار نے انھیںڈوبنے سے بچانے کے لےے اپنا پیسہ لگایا۔یہ صحیح ہے یا غلط،یہ دوسری بات ہے ،لیکن یہی ایک عملی متبادل ہے۔ سرکار کو ان بینکوںکی میٹنگ بلانی چاہےے،جس کا پیسہ لگا ہوا ہے۔ بینکرس بہت ذہین ہوتے ہیں۔ وہ ہر چیز سے واقف ہوتے ہیں کہ پیسہ کیسے واپس آئے گا۔ فائننسیل ایسیٹس اینڈ انفورسمنٹ آف سیکورٹی انٹرسٹ ایکٹ 2002بینکوں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ بغیرکسی قانونی کارروائی کے جائیداد تحویل میں کرسکتے ہیں۔ آپ اس کا استعمال کیوںنہیں کرتے ہیں۔ بے شک آپ اسے استعمال میںنہیںلاسکتے، کیونکہ پیسہ واپس لینے کے لےے قرضداروں کے پاس کوئی جائیداد ہی نہیں ہے، تو آپ کیا کریںگے۔ آپ کو اس پیسے کو بھولنا ہوگا۔ آپ قانونی طورپر کسی کو پریشان کرسکتے ہیں، ا س کی بے عزتی کرسکتے ہیں،لیکن ہم پیسے کے بارے میں بات کررہے ہیں، ذلت کے بارے میںنہیں۔ وزیر خزانہ جتنی جلدی ہو، اس معاملے کو سلجھا لیں، اتناہی بہتر ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *