سرکار خشک سالی کو قومی مسئلہ اعلان کرکے حل تلاش کرے

ابھی ابھی جب میں ایڈیٹوریل لکھنے بیٹھا ہوں تو خبر آئی کہ پنجاب میں چار کسانوں نے خود کشی کرلی ہے۔ خود کشی کی خبریں اتنی عام ہو گئی ہیں کہ ان کی پرواہ نہ ٹیلی ویژن کو ہے، نہ اخباروں کو ہے اور نہ پارلیمنٹ کو ہے۔ہماری پارلیمنٹ میں کسی بھی طرح کی بد عنوانی کے معاملے پر بی جے پی، کانگریس پر اور کانگریس، بی جے پی پر الزام تراشیاں کرتی ہیں، نتیجہ کچھ نہیں نکلتا، بس وقت نکل جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ پارلیمنٹ چاہے وہ لوک سبھا ہو یا راجیہ سبھا، ایک گھٹیا ٹیلی ویژن سیریل کا متبادل بن گئی ہے۔
مدھیہ پردیش میں گزشتہ ایک سال میں 900 کسانوں نے خود کشی کی۔مہاراشٹر سے، خاص طور پر مراٹھواڑہ سے، میرے پاس اکثر یعنی ہر چھٹے ساتویں دن ایک فوٹو گراف کوئی بھیج دیتا ہے، جس میں ایک کسان پھندہ لگا کر لٹکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ کرناٹک، آندھرا پردیش، اڑیسہ جیسے صوبے شمالی ہندوستان کے لئے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتے۔ یہاں پر چاہے خشک سالی ہو، نہ ہو،کسان خود کشی کرے، کسان تڑپ کر مر رہا ہو، کوئی آندولن ہو رہا ہو، شمالی ہند میں اسے کوئی جگہ نہیں ملتی اور پارلیمنٹ ہے کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہے۔
کیا مانیں ،پارلیمنٹ کے پاس اتنا بھی وقت نہیں ہے کہ وہ سرکار سے پوچھے اور سرکار کے پاس اتنی حیا نہیں ہے کہ وہ ملک کو بتائے کہ اس نے خشک سالی کا سامنا کرنے کے لئے کوئی بندوبست کئے بھی ہیں یا نہیں اور ان بندوبستوں میں اسے خشک سالی کی زد میں آئے علاقے کے لوگوں کا تعاون چاہئے یا نہیں۔ کیا سرکار کو ان چھوٹے یا بڑے علاقے کے لوگوں کو (جہاں خشک سالی نہیں ہوئی ہے) یہ نہیں بتانا چاہئے کہ ان علاقوں کے لوگوں کی مدد کرنا ان کا بھی فرض ہے جہاں بھیانک خشک سالی ہوئی ہے، پینے کا پانی نہیں ہے، سینچائی کی بات تو بہت دور کی ہے۔
پینے کا پانی کیسے پہنچایا جائے؟ فوری طور پر سرکار نے ریل سے پانی پہنچانا شروع کیا اور اسے اپنی بہت بڑی کامیابی مان رہی ہے۔ اپنی ذمہ داری نبھانے کو ہم اپنی کامیابی ماننے لگیں تو سمجھ جانا چاہئے کہ سرکاریں جب سارے کاموں سے فرصت پا لیتی ہیں اور عوام کے لئے کچھ کرتی ہیں تو یہ ان کی کامیابی ہوتی ہے۔ شاید یہی سچ بھی ہے کہ انہیں لوگوں کے زندہ رہنے کے لئے کچھ کرنے کا وقت تو ملا۔
جب ہم نے پتہ کیا کہ لمبے وقت سے چلی آرہی خشک سالی کے پیچھے وجہ کیا ہے، تو وہی ہمہ گیر جواب ملا ’بدعنوانی‘۔ ایک بڑے تالاب کو کھودنے کا پیسہ منظور ہوا ،لیکن اس میں لیڈر، ٹھیکہ دار، افسروں نے مل کر تین فٹ کا گڈھا کھود لیا اور اسے تین ہزار فٹ کا گڈھا بتا کر اس کا سارا پیسہ کھا لیا۔ یہ افسوسناک صورت حال ہر طرح کے کام میں ہے اور اس بد عنوانی کی کہیں کوئی سنوائی نہیں ہے۔ بھلے ہی لوگ بغیر پانی ملے تڑپ کر جسم میں پانی نہ ہونے کی بیماری سے مر جائیں یا کھیتی میں لگاتار ہوئے نقصان کی وجہ سے خود کشی کرلیں، کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شاید سرکاریں یہ پیغام دینے میں کامیاب رہی ہیں کہ عوام کی تکلیفوں سے اور خاص طور پر زندگی کی تکلیفوں سے اور ان تکلیفوں سے جن کا رشتہ زندگی اور موت سے فوری طور پر ہے، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا،لیکن اب تو پارلیمنٹ بھی یہی پیغام دے رہی ہے۔
ہمیں اناج کے لئے لوٹ کے منظر شاید تھوڑے دنوں بعد دیکھنے کو ملیں گے، لیکن پینے کے پانی کے سوال پر ایک دوسرے کی گردن کاٹنے والے منظر بہت جلدہی دیکھنے کو ملیں گے۔ جہاں پر پانی کو مسلح سپاہیوں کی دیکھ رکھ میں پہنچانا پڑے، اس ملک میں سرکار کسی مسئلے کا حل کرنے میں کتنی اہل ہے یا کتنی جدت پسند ہے، اسے آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ دراصل ہندوستان کی سرکار کو بغیر سیاست کا اب ج د سوچے پورے ملک کو ایک علاقہ مان کر، سائنس کا سہارا لے کر جہاں جہاں پینے کے پانی اور سینچائی کے پانی کی کمی ہے اس کے حل کے لئے ملک کے لوگوں کی مدد لینی چاہئے اور اپنی طرف سے مالی تعاون دینا چاہئے اور اگر اسے لگتا ہے کہ ملک کے لوگوں کے پاس دماغ نہیں ہے تو دنیا کے ان ملکوں کی مدد لینی چاہئے جنہوں نے اسی طرح کی صورت حال پر کامیابی حاصل کی ہو اور ایسے ملک ہیں ۔آج تکلیف اس لئے زیادہ ہو رہی ہے کیونکہ میرے جیسا آدمی بھی یہ مان بیٹھا تھا کہ نظریاتی اختلاف بھلے ہی ایک طرف ہوں، لیکن موجودہ وزیر اعظم ترجیحات کی لسٹ میں اس ملک کی اکثریت کے سامنے آنے والی تکلیفوں (جن میں سینچائی اور پینے کا پانی ، کھیتی کی پیداوار اور کسان کو کم سے کم لاگت ملے) اور مسائل کو اولین ترجیح دیں گے، لیکن ابھی تک ایسا ہوا نہیں ہے۔ وزیر اعظم جی آپ سے پھر میری مو¿دبانہ گزارش ہے، برائے مہربانی اسے اپنی اولین ترجیحات میں لائیے، ورنہ آپ تاریخ میں ایسے وزیر اعظم کے طور پر جانے جائیں گے جن کے دور میں اس ملک میں پانی اور اناج کو لے کر لوگوں نے ایک دوسرے کا سر پھوڑنا شروع کر دیا۔ آپ یقینی طور پر تاریخ میں ایسے وزیر اعظم کی شکل میں نہیں جانے جائیں، یہ ہماری بھی دلی تمنا ہے، لیکن اس کے لئے اپنا قیمتی وقت، اپنی پوری سرکار اور ماہرین کے ساتھ فوری غور و فکر کریں اور ان مسائل کو قومی مسئلہ مان کر ،جو کہ ہیں، ان کا فوری حل سوچیں ۔یہ گزارش آپ سے بار بار ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *