الیکشن کمیشن کی ممتا کو پھٹکار، 19 مئی کا بے صبری سے انتظار

ونے بہاری سنگھ
p-4انتخاب ختم ہونے کو ہے اور لوگوں کی نگاہیں 19 مئی پر لگی ہیں،کیونکہ اسی دن کاﺅنٹگ ہوگی،لیکن اس درمیان الیکشن کمیشن اور ریاستی سرکار کے بیچ خوب تنا ﺅ رہا۔ کئی بار دلچسپ موڑ آئے،لیکن وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ان حالات کا سیاسی طریقے سے نمٹارا کیا اور دھاڑتی رہیں۔ اپوزیشن پارٹیاں بھی کمر کس کر ان پر خوب حملہ کرتی رہیں اور اب بھی کررہی ہیں۔
مارچ کے دوسرے ہفتہ میں الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال کے لگ بھگ 40 پولیس سپرنٹنڈینٹوں، ضلع افسروں وغیرہ کا تبادلہ کر دیا۔ تقریبا سبھی ضلعوں میں ایسا ہوا۔ اپریل میں ایک اور تبادلہ ہوا۔ دو مہینے پہلے تقرر کئے گئے کولکاتہ کے پولیس کمشنر راجیو کمار کا تبادلہ کر دیا۔ ان کی جگہ ایک دیگر سینئر پولیس آفیسر سومین متر کو پولیس کمشنر بنایا گیا۔ ظاہر ہے الیکشن کمیشن نے اتنی بڑی تعداد میں مغربی بنگال میں ایڈمنٹسریٹیو پھیر بدل کیا تو زیادہ تر لوگوں کا چونکنا فطری تھا۔ اس سے ریاستی سرکار اور الیکشن کمیشن میں تناﺅ بڑھتا گیا۔ ریاستی سرکار نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن اپوزیشن کی باتوں پر زیادہ بھروسہ کر رہا ہے۔
اپریل میں اپنی ایک پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ آسنسول کو ضلع بنائیں گی۔ فی الحال آسنسول بردوان ضلع میں ہے۔ آسنسول کو ضلع بنانے کی بات ریاستی سرکار بہت پہلے سے کہہ رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے اپنی اسی پرانی بات کو انتخاب کے دوران دوہرایا ۔ اس پر الیکشن کمیشن نے ان پر الیکشن کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا اور ان کے خلاف وجہ بتاﺅ نوٹس جاری کر دی۔ قانون ہے کہ انتخاب کے دوران وزیر اعلیٰ یاکوئی بھی وزیر عوام سے کوئی وعدہ نہیں کر سکتے ۔ یہ عوام کو لالچ دینا مانا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کی نوٹس پر ممتا بنرجی نے کہا کہ بنگالی سال نو (14اپریل) کے دن ہی الیکشن کمیشن نے انہیں وجہ بتاﺅ نوٹس دیا ہے۔میرے کچھ بنیادی اختیار ہیں۔ میں ایک ایک الزام کا جواب دوں گی۔
چونکہ یہ نوٹس ایک وزیر اعلیٰ کو دیا گیا تھا، اس لئے اس کا جواب صوبہ کے چیف سکریٹری واسو دیو چٹرجی نے دیا۔ الیکشن کمیشن کے افسروں نے کہا کہ یہ جواب قابل قبول نہیں ہے۔نوٹس کا جواب ممتا بنرجی خود دیں یا ان کے وکیل دیں۔ اس کے بعد ممتا بنرجی نے اس کا جواب دیا۔
اس کے بعد کولکاتہ میں اپوزیشن لیڈر ہر روز ناردا ٹیپ معاملہ اور ویویکا نند فلائی اوور کے گرنے کا ایشو اچھالنے لگے۔ مغربی بنگال میں اس بار کا انتخاب برسراقتدار پارٹی ترنمول کانگریس کے لئے اس لئے بھی تناﺅ سے بھرا رہا ،کیونکہ کولکاتہ ہائی کورٹ نے ناردا اسٹنگ آپریشن کے ٹیپوں کو فورنسک جانچ کے لئے اپنے پاس مانگ لئے ہیں۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر یہ ٹیپ صحیح ثابت ہوا تو یہ عوام کے نمائندوں کی شبیہ کو ہمیشہ کے لئے خراب کرنے والا ہوگا۔ یہ عام آدمی کے لئے ایک صدمہ اور تشویش کا سبب ہوگا۔ ادھر ممتا بنرجی نے خود کہا ہے کہ اگر یہ ناردا ٹیپ کچھ پہلے سامنے آتا تو وہ کچھ لیڈروں کو انتخاب لڑنے کے لئے ٹکٹ دینے کے تئیں محتاط ہو جاتیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ وہ خود ناردا ٹیپ کی اصلیت جاننا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ سب نے ٹی وی پر ویڈیو کلپ دیکھا ہوگا۔ میں چاہتی ہوں کہ سچائی سامنے آئے۔ میں اتنا کہہ سکتی ہوں کہ پارٹی کے کسی شخص نے ذاتی مفاد کے لئے کسی سے ایک پیسہ نہیں لیا ہے۔ کچھ لوگ ڈر پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ برائے مہربانی آپ لوگ ڈریں نہیں۔ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔ ترنمول کانگریس پھر اقتدار میں آرہی ہے۔
ممتابنرجی نے کہا کہ سبھی پارٹیاں انتخاب کے دوران پیسہ لیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس، بی جے پی اور سی پی ایم (مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی (مارکسوادی) ، مستثنیٰ نہیں ہے۔میرے پاس دستاویز ہیں جو بتاتے ہیں کہ کانگریس کا تقریباً82.5 فیصد انتخابی فنڈ نامعلوم ذرائع سے آتا ہے۔بی جے پی کا 73فیصد اور سی پی ایک کا 53.8 فیصد انتخابی خرچ بھی نامعلوم ذرائع سے آتا ہے۔ ترنمول کانگریس کے تقریباً ہر لیڈر کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار،مغربی بنگال میں خطرناک چال چل رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ لوگ ترقی کے ایشو پر ووٹ دیں گے۔ صوبہ میں ترقی ہوئی ہے اور لوگ اسے دیکھ رہے ہیں۔
ترنمول کانگریس کے لیڈر اور مرکز میں وزیر ریلوے رہ چکے دنیش تریویدی کو ممتا بنرجی نے انتخابی پرچار میں حصہ لینے سے روک دیا ہے اور انہیں گھر پر آرام کرنے کو کہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے میڈیا کے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ اگر میں وزیر اعلیٰ ہوتا تو ناردا معاملہ میں ملوث ٹی وی پر دکھائی دینے والے لیڈروں کو گھر بیٹھا دیتا ۔ میں کہتا کہ جب تک تم لوگ بے قصور ثابت نہیں ہو جاتے، گھر بیٹھو۔ انتخاب مت لڑو، گزشتہ دنوں دنیش تریویدی نے کہا کہ سیاست کے دو حصے ہیں۔ ایک آزادی کے پہلے کا اور دوسرا آزادی کے بعد کا۔ آزادی کے پہلے کے لیڈر ملک کے لئے اور ملک کے عوام کے لئے مر مٹنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ آزادی کے بعد کے لیڈروں کا قومی خدمت کے تئیں جوش و جذبہ نہیں رہا۔ وہ دولت پر مرکوز سیاست کرنے لگے ہیں۔
آئیے ایک بار لیفٹ کی طرف جھانکیں جو ممتا بنرجی کے اقتدار میں آنے کے پہلے 34 سال تک حکومت میں رہا۔ اس انتخاب میں لیفٹ کے اہم اتحادی سی پی ایم کا کیا حال ہے؟ سی پی ایم کے لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ بدھا دیو بھٹہ چاریہ نے اپریل کے تیسرے ہفتے میں سی پی ایم ، کانگریس کے امیدواروں کے حق میں قصبہ، جادو پور اور ٹالی گنج میں انتخابی پرچار کیا تو لوگوں میں بہت جوش دکھائی دیا۔ حال کے دنوں میں کمیونسٹ لیڈروں کی ریلی میں اتنا جوش نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ بھیڑ ووٹ میں تبدیل ہو جائے گی۔ لیکن ہاں سی پی ایم ، کانگریس گٹھ جوڑ کو پہلے کے مقابلے میں سیٹیں زیادہ ملیں گی۔ اس بار اس گٹھ جوڑ کو کم سے کم 100 سیٹیں ملنے کی امید ہے۔ اس سے زیادہ ہو تو حیرانی نہیں ہوگی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پہلے تو ناردا اسٹنگ آپریشن کا ٹیپ ٹی وی پر لوگوں کے سامنے آیا۔ ابھی اس پر ہر طرف سے الزامات لگ ہی رہے تھے کہ اسی دوران ویویکانند فلائی اوور، تعمیر کے وقت ہی گر پڑا۔ اس سے ممتا بنرجی کی شبیہ کو بہت دھکا تو لگا ہے ،پھر بھی ان کے اقتدار میں آنے کے دعوے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا ۔ ابھی بھی بہت سے لوگ ہیں جو ممتا بنرجی کو ایماندار لیڈر مانتے ہیں۔ متعدد لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکار انہی کی بنے گی۔ ہاں سیٹیں گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ کم ہو سکتی ہیں۔ کل 294 سیٹوں والی مغربی بنگال اسمبلی میں گزشتہ انتخاب میں ترنمول کانگریس کو 184سیٹیں ملی تھیں۔ اکیلے کانگریس کو 42سیٹیں ،اکیلے سی پی ایم کو 40 سیٹیں ملی تھیں۔ اس بار ترنمول کانگریس کو تھوڑی کم سیٹیں مل سکتی ہیں لیکن وہ سرکار بنانے کی حالت میں ہو سکتی ہے۔
ادھر سی پی ایم ، کانگریس گٹھ جوڑ کے وزیر اعلیٰ عہدہ کے امیدوار ماکپا کے ریاستی سکریٹری اور سابق وزیر صحت سوریہ کانت مشر ہیں۔ یقینا اس بار ممتا بنرجی کے لئے انتخاب کی لڑائی آسان نہیں ہے۔لیکن بی جے پی دوڑ میں کہیں نہیں ہے۔ بھلے ہی وزیر اعظم نریندر مودی مغربی بنگال میں بار بار آرہے ہیں اور اپنے جانے پہچانے انداز میں تقریر بھی کررہے ہیں،لیکن ان کا مغربی بنگال میں کوئی اثر نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ لوگ مرکزی سرکار کی پالیسی سے بالکل خوش نہیں ہیں۔ بی جے پی کو اسی لئے بہت امیدیں نہیں رکھنی چاہئے۔
مغربی بنگال کی 23 سیٹیں ایسی ہیں جہاں 1977 سے لے کر اب تک سی پی ایم کبھی بھی نہیں ہاری ہے۔ بھلے ہی ان میں سے کچھ سیٹوں پر کم ووٹوں سے جیتی ہو۔ یہ سیٹیں دھوم گوڑی( پسماندہ ذات) ، مال (انتہائی پسماندہ )، سوتھیا( درج فہرست ذات) ،حبیب پور(درج فہرست قبائل)، میوریشور، جالنگی، اوس گرام (درج فہرست ذات)، ،ڈومکل، جموڑیا، کریم پور، کھنڈگوش (درج فہرست ذات)، پلاشی پاڑہ، تال ڈانگرا، رائے پور(درج فہرست قبائل)، منگلا کوٹ، منتیشور، پنڈوا، بشیر ہاٹ جنوب، سندیش کھالی (درج فہرست قبائل) ،بردوان شمال، رائنا (درج فہرست ذات)، چندرکونا(درج فہرست ذات)، اور کھڑگپور ۔ اب سی پی ایم اور کانگریس کا گٹھ جوڑ کوشش میں ہے کہ ان سیٹوں کے بل پر دیگر اور بھی سیٹوں پر قبضہ کر لے۔لیکن چونکہ مغربی بنگال میں کانگریس کی شبیہ اب بھی خراب ہی ہے۔ اس لئے بھی ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کے اکثریت میں آنے کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ اسی لئے سب کی نگاہیں 19 تاریخ کی کاﺅنٹنگ پر لگی ہوئی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *