ایک مجلس میں تین طلاق کمال فاروقی

(سابق چئرمین کمیشن برائے اقلیت)
p-11-tripple-talaqاس مسئلہ پر امّت کے درمیان عرصے سے اختلاف رہا ہے کہ آیا ایک مجلس میں تین طلاقیںدینے پر ایک طلاق واقع ہوتی ہے یا تین ۔
ابھی چند روز قبل سعودی حکومت نے ایک لفظ سے تین طلاق کے موضوع پر “لجنہ علمیہ”کا انعقاد کیا جس میں دنیا کے مختلف ممالک کے علماءنے شرکت کی اور اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی گئی اور اس سلسلہ میں جو اعتراضات نیز اختلافات تھے ان پر بھی تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی۔ ہندوستان سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‘ سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس بحث میں شرکت کی۔
اس بحث و مناقشہ کے بعد مجلس نے کہا کہ اگرچہ یہ عمل بہت بڑا گناہ ہے اور امت کو اس سلسلے میں معلومات فراہم کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن مجلس‘ ایک لفظ کے ذریعہ دی گئی تین طلاق کے تین واقع ہوجانے کے قول کو اختیار کرتی ہے ۔ کیوں کہ قرآنِ کریم میں صراحتا اس بات کا ذکر ہے کہ طلاق کے واقع ہونے میں مجلس معنی نہیں رکھتی بلک کلام معنی رکھتا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں ‘ الطلاق مرتا ن فامساک بمعروف او تسریح باحسان … فان طلقھا فلا تحل لہ من بعدحتی تنکح زوجا غیرہ (بقرہ(229-230 ترجمہ: ” طلاق دو بار ہے پھر بھلے طریقے پر روک لینا ہے یا بھلے طریقے پر چھوڑ دینا ‘ پھر اگر طلاق دے ہی دے تو وہ عورت اس وقت تک طلاق دینے والے مرد کے لئے حلال نہیںجب تک مطلقہ کسی اور مرد کے نکاح میں نہ جائے” ۔ اس آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ طلاق کی تعداد کا تعلق مجلس سے نہیں بلکہ اس بات سے ہے کہ کتنی بار طلاق دی جاتی ہے۔اگر دو بار طلاق دے تو دو طلاق واقع ہوں گی ‘ تین بار دے تو تین طلاق واقع ہوں گی‘ خود قرآنِ مجید میں دوسرے مواقع پر’ مرة’ (بار)بھی اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ لجنہ کے اس فیصلے کو نہ صرف سعودی علماءو مفتیان کرام نے درست قرار دیا بلکہ مصر کی جامعہ الازہر نے بھی اس پر اپنی مہر ثبت کردی ہے۔
ہمارے سماج میں چند لوگ ہیں جو امت مسلمہ کے اندر انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں امت کو آگاہ کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ تین طلاق سے بچا جائے کیوں کہ یہ گناہ کبیرہ ہے ۔ اور اگر حالات اتنے ناگزیر ہو جائیں کہ طلاق کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تو فریقین کی جانب سے چند لوگ مل بیٹھیں اور مسئلہ کا حل تلاش کریں یا پھر مسئلہ کو دارالقضاءکے ذریعے حل کرانے کی کوشش کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم پرسنل لا ءبورڈ کے ذریعہ تیار کردہ نکاح نامہ میں اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ شوہر اور بیوی سخت ترین حالات میں بھی شریک حیات کی ذمہ داری نبھائیں گے اور کبھی خدا نخو استہ اگر طلاق کی نوبت آئی توقرآنی آیات پر عمل کرتے ہوئے شرعی طریقے پرجدا ہوجائیںگے۔ نیز یہ کہ وہ دونوں ایک نشست میں تین طلاق دینے کو مکروہ مانتے ہیں اور باہر کے لوگوں کے ذریعہ اس نکاح نامہ میں مصالحت کا راستہ بھی کھولا گیاہے۔
کیوں کہ یہ قانون کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق شریعت سے ہے لہٰذا جن لوگوں کو شریعت سے واقفیت نہیں ان کو اس بارے میں بیان دینے سے گریز کرنا چاہئے۔ہمارے ملک کی ایک خاتون ممبر پارلیمنٹ نے حال ہی میں پارلیمنٹ کے اندر طلاق سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا کہ طلاق سے متعلق کوئی ٹھوس قانون بنائے جانے کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ لوگوں کو اس تعلق سے بہت زیادہ پریشانیاں اٹھانا پڑتی ہیںاور کورٹ کے چکر لگاتے ہوئے بیس بیس سال گذرجاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کو اسلام میں نکاح کے تعلق سے معلومات تو حاصل ہیںتوکیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ پارلیمنٹ کو یہ بھی بتاتیںکہ طلاق بھی اس مسئلہ کاایک حل ہے ا ور اسلام میں اس تعلق سے واضح ہدایات موجود ہیں ۔
مسلم تنظیموں سے وابستہ کچھ دانشوران سے بھی ہم گذارش کرتے ہیں کہ وہ اس مسئلہ پر اپنی رائے رکھنے سے پہلے غوروفکر کرلیں اور ایسی کسی بھی رائے سے انتہائی گریز کریں جسے مسلم پرسنل لا ءمیں مداخلت نیز یکساں سول کوڈ جیسے ناقابل قبول قانون بنائے جانے میں حکومت کے ساتھ تعاون سمجھا جائے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *