ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں

عبد اللہ منیر

واضح رہے کہ از روئے قرآن وحدیث وجمہور صحابہ کرام، تابعین وتبع تابعین، ائمہ مجتہدین بالخصوص چاروں ائمہ کرام امام اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل ان تمام حضرات کے نزدیک ایک ساتھ تین طلاق دینے سے تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
p-11”الطلاق الخ“ (بقرہ:239)اور اگلی آیت میں ہے:”فان الخ “ (بقرہ:230)یعنی دو طلاق دینے تک تو مرد کو رجوع کا اختیار ہے، لیکن جب تیسری طلاق بھی دے دی تو اب مرد کے لئے رجوع کا حق باقی نہیں رہتا، عورت اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے۔اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دے دی پھر اس نے دوسرے سے نکاح کرلیا، اس نے صحبت کئے بغیر طلاق دے دی، آپ علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ پہلے خاوند کے لئے یہ عورت حلال ہوئی؟ آپ علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا:” جب تک دوسرا شوہر صحبت نہ کرلے پہلے شوہر کے لئے حلال نہیں ہوگی“(بخاری شریف)۔اس حدیث میں ”طلق امراتہ ثلاثًا“ کا جملہ اس کا مقتضی ہے کہ تین طلاق اکھٹی اور دفعة دی گئیں۔ اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے تین طلاقیں اکٹھی واقع ہوجانے پر استدلال ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں:”وھی بایقاع الثلاث اعم من ان تکون مجمعةً او متفرقةً“(فتح الباری)۔ایک دوسری حدیث حضرت مجاہد روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں (کیا حکم ہے) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش ہوگئے (مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں) مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کی بیوی کو واپس لوٹانے والے ہیں پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ ان پر حماقت سوار ہوتی ہے، پھر میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے یا ابن عباس جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ اس کے لئے راستہ نکالتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ سے ڈر انہیں (اور بیک وقت تین طلاقیں دے دی) اس لئے قرآن کے مطابق تمہارے لئے کوئی راستہ نہیں پاتا ،تونے خدا کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم پر حرام ہوگئی ہے اور تم سے جدا ہوگئی ہے“۔ (سنن ابی داو¿د)اسی طرح ”محمود بن لبید سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ الصلاة و السلام کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دے دیں ہیں۔ آپ علیہ السلام نے غضبناک ہوکر تقریر فرمائی کہ کیا کتاب اللہ کے ساتھ کھیل کیا جارہا ہے، حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں، آنحضرت کا یہ غصہ دیکھ کر ایک صحابی کھڑے ہوگئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اسے قتل نہ کردوں“۔حدیث مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ تین طلاقیں مجتمعاً واقع ہوجاتی ہیں۔ اگر واقع نہ ہوتیں تو آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم غضبناک نہ ہوتے اور فرمادیتے کہ کوئی حرج نہیں رجوع کرلو۔اسی طرح مو¿طا کی ایک روایت میں ہے کہ ”ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں ہیں، اس کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تین طلاقوں سے تو عورت تجھ سے جدا ہوگئی اور بقیہ ستانوے طلاقوں سے تونے اللہ کی آیات کا تمسخر کیا ہے“۔اور اسی طرح طحاوی شریف میں ہے”حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایسا شخص لایا جاتا جس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاق دی ہوتیں تو آپ اس کو سزا دیتے اور دونوں میں تفریق کردیتے ۔تو قرآنی آیات وتفاسیر واحادیث سے روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دقعةً تین طلاقیں دینے سے تین ہی شمار ہوتی ہیں۔“
البتہ غیر مدخولہ عورت (شوہر سے نہ ملی ہوں)کے بارے میں ہے کہ اگر انہیں الگ الگ لفظوں میں اس طرح طلاق دی جائے۔ ”تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے“تو پہلے ہی لفظ سے وہ بائنہ ہوجاتی ہے یعنی نکاح سے نکل جاتی ہے اور ایسی عورت پر عدت بھی لازم نہیں ہوتی، جب یہ عورت پہلے ہی لفظ سے بائنہ ہوگی اور اس پر عدت بھی نہیں تو اس کے بعد وہ طلاق کا محل نہ رہی، اس بناءپر دوسری اور تیسری طلاق لغو ہوتی ہے، اسی اعتبار سے حدیث میں کہا گیا ہے کہ اگر تین طلاقیں دی جائیں تو ایک شمار ہوتی ہیں۔ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی سالوں میں غیر مدخولہ کو طلاق دینے کا یہی طریقہ تھا۔ مگر بعد میں لوگوں نے جلد بازی شروع کردی اور ایسی غیر مدخولہ کو ایک ساتھ ایک لفظ میں تین طلاق دینے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب تین طلاق ہی ہوں گی کہ انت طالق ثلاثا(تم کو تین طلاق) کہہ کر طلاق دی ہے اور یہ لفظ نکاح قائم ہونے کی حالت میں بولا ہے۔ (ابوداو¿د شریف ج:1)۔خلاصہ یہ کہ کسی ایک صحابی سے بھی یہ منقول نہیں ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کی موجودگی میں تین طلاق کا فیصلہ کیا، ان میں سے کسی ایک نے بھی حضرت عمررضی اللہ عنہ کے خلاف کیا ہو اور اس قدر بات اجماع کے لئے کافی ہے۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے بھی باوجود اس تشدد کے جوان کو اس مسئلہ میں تھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس فتویٰ ”ایک مجلس میں تین طلاقیں تین ہیں اور اس کے بعد رجعت جائز نہیں“ سے انکار نہیں کیا، بلکہ اس فتویٰ کے ثابت ہونے کا اقرار کیا ہے۔ چنانچہ اغاثة اللفہان میں فرماتے ہیں” تین طلاق دینے سے تینوں واقع ہوجاتی ہیں“۔چونکہ یہ مسئلہ حلال وحرام کے متعلق ہے، اگر واقعی تین کو ایک سمجھا جاتا تو اس کے راوی صرف حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی کیوں ہیں، ان کے علاوہ دوسرے صحابہ کرام سے اس کے بارے میں کوئی روایت نہیں ہے، جبکہ ان سے بڑے خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس کے برخلاف فیصلہ فرماتے ہیں اور یہ صحابہ کرام کے سامنے کی بات ہے اور ایک صحابی نے بھی اس حکم کے خلاف نہیں کیا جس سے اس مسئلہ پر ان کا اجماع معلوم ہوتا ہے۔الغرض تین طلاقیں شرعاً واقع ہوچکی ہیں، بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ سے حرام ہوگئی ہے، گمراہ لوگوں سے فتویٰ لے کر حرام کو حلال بنانے کی کوشش کرنا بدترین گناہ ہے، لہٰذا دونوں میں علاحدگی ضروری ہے، بصورت دیگر اگرایک ساتھ رہے تو حرام کے اندر مبتلا ہوں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *