بی جے پی دلتوں کو رجھانے کی کوشش کررہی ہے

ایس آر داراپوری
دلتوں کو رجھانے کے لےے بی جے پی ایک طرف ڈاکٹر امبیڈکر کو اپنانے میں لگی ہے، تو اب وہ بھگوان بدھ کی پناہ میںبھی جانے کا دعویٰ کررہی ہے۔ استعلق سے بی جے پی نے حال ہی میں سارناتھ سے ایک دھم چکر یاترا نکالی، جسے مرکزی وزیر راجناتھ سنگھ نے ہر ی جھنڈی دکھائی تھی۔ اس میںایئر کنڈیشنڈ بسیں اور اینووا جیسی کاریں لگائی گئی ہیں ۔ اس یاترا کے مکھیا راجیہ سبھا کے سابق ممبر بھنتے ڈی دھمویریو ہیں، جو ماضی میںلالو پرساد یادو کے ساتھ تھے۔ لیکن اب برسر اقتدار پارٹی کے ساتھ آگئے ہیں۔اس یاترا میں ان کے ساتھ 70-80 بھنتے اور بھی ہیں۔یہ یاترا چار مرحلوں میںاترپردیش کے تقریباً 70 مراکز پر جائے گی اور ہر جگہ پر دو دن رکے گی۔ اس یاترا کے اہم محرک مایاوتی کے نزدیکی رہے سیتاپور کے سابق رکن پارلیمنٹ راجیش ورما ہیں،جو اب بی جے پی میںہیں۔
ویسے تو بی جے پی نے اس کا اصلی سیاسی مقصد چھپانے کے لےے اسے تھم چکر کا نام دیا ہے، لیکن اس کا اصلی کام اترپردیش میںدلتوں کے بیچ مودی کے امبیڈکر اور بودھ دھرم سے متعلق نظریات کی تشہیر کرنا ہے۔ دراصل یہ بی جے پی کی دلت ووٹروں میں اپنی رسائی بنانے کی زوردار کوشش ہے۔ اس کا اندازہ اسی سے لگایاجاسکتا ہے کہ اس یاترا کی مانیٹرنگ سیدھے وزیر اعظم کے دفتر سے کی جارہی ہے۔ اس یاترامیںلگائی گئی گاڑیوں پر مود ی کی ملکی اور غیر ملکی بودھ مقامات کے درشن سے متعلق تصاویر لگائی گئی ہیں۔یاتر اکے دوران رکنے والے ہر ایک مرکز کوایک ایک ٹی وی سیٹ دان دیا جائے گا اور وہاں پر ایک گھنٹے کی سی ڈی دکھائی جائے گی، جس میں مودی کے بودھ دھرم اور امبیڈکر سے متعلق خیالات کا ویڈیو دکھایا جائے گا۔ یہ یاترا 14 اکتوبر کو لکھنو¿ میں ختم ہوگی۔
اس یاترا کے بارے میں بی جے پی کے جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے مہم کے کنوینرز کے ساتھ آ ٹھ میٹنگیں کی تھیں او ریاترا کی مودی برانڈنگ کو مناسب ٹھہرایا تھا، کیونکہ وزیر اعظم نے ہی پارلیمنٹ میںڈاکٹر امبیڈکر پر چرچا کا سجھاو¿ دیا تھااورامبیڈکر کے نام پر ایک سکہ بھی جاری کیا گیا تھا۔لہٰذا عوام کویہ بتانا ضروری ہے کہ مود ی جی ڈاکٹر امبیڈکر کاکتنا احترام کرتے ہیں۔ ویسے بی جے پی کے بدھ پریم کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کافی سال پہلے جب راجناتھ سنگھ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ تھے،تو انھوں نے لکھنو¿ کے امبیڈکر مہا سبھا پرانگن میں ایک پروگرام کے دوران یہ اعلان کیا تھا کہ بامیان (افغانستان) میں طالبان کے ذریعہ منہدم کیے گئے بدھ کے مجسمے سے بھی اونچی مورتی لگائی جائے گی، لیکن وہاں پر آج تک ایک پتھر بھی نہیں لگا۔ اب راجناتھ سنگھ نے سارناتھ میںدوبارہ اعلان کیا ہے کہ کشی نگر میںبھی ویسی ہی مورتی لگائی جائے گی۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بی جے پی سیاسی فائدے کے لےے ہی سہی، بدھ کا استعمال کرناچاہتی ہے، تو سب سے پہلے بدھسٹ لٹریچر کی پالی زبان کو زیادہ سے زیادہ اسکولوں میںپڑھانے کا بندوبست کرے اور سول سروسز امتحان میںپالی لٹریچر کے موضوع کو بحال کرے، جیسے اسمرتی ایرانی آئی آئی ٹی اداروں میںسنسکرت پڑھانے کی وکالت کررہی ہیں۔ دوسرے پورے ملک میں بکھرے ہوئے بدھ مت کے ورثہ کی دیکھ بھال کے لےے مسلمانوں کے وقف بورڈ کی طرح’ بودھ دھروہر سنرکشن بورڈ‘ بنانے کی مانگ کو منظور کرے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ بی جے پی نے ڈاکٹر امبیڈکر کے نام پر دلت ووٹروں کو راغب کرنے کا فارمولہ دلت لیڈروں، رام ولاس پاسوان، اُدت راج، اٹھاو¿لے اورپرکاش امبیڈکر وغیرہ سے سیکھا ہے۔ ان لیڈروں نے ڈاکٹر امبیڈکر کی تعلیمات اور آدرشوں کونظرانداز کرکے اس کا استعمال صرف دلت ووٹ بینک کھینچنے کے لےے ہی کیاہے۔ اب بی جے پی،کانگریس، ایس پی اور دیگر پارٹیاں بھی وہی کررہی ہیں۔ دلت لیڈروں نے اگر ڈاکٹر امبیڈکر کی تعلیمات اور آدرشوں کو ایمانداری سے اپنایا ہوتا، تو آج ڈاکٹر امبیڈکر صرف ووٹ بٹورنے والے پوسٹر بوائے بن کر نہیں رہ جاتے۔ ان سبھی لیڈروں نے اب تک امبیڈکر کے نام پر ذاتی مفاد کی سیاست ہی کی ہے اور ڈاکٹر امبیڈکر کی آئیڈیالوجی کو دفنایا ہے۔
(مصنف سابق آئی پی ایس افسر ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *