بہار: خستہ حال ہے کوشی کا فائر فائٹر مینجمنٹ

راجیش سنہا
p-9بہار کے تقریباً سب سے زیادہ پسماندہ علاقوں میں شمار ہونے والا علاقہ کوشی یعنی سہرسہ، مدھے پورا، سوپول، کھگڑیا گرمی کا موسم آتے ہی آگ میں جلنے لگتا ہے۔ ہر سال نہ صرف درجنوں آشیانے آگ کی نذر ہوجاتے ہیں بلکہ کئی لوگ اس آگ میں جھلس کر موت کے منہ میں پہنچ جاتے ہیں اور کتنوں کی زندگی اپاہج ہو جاتی ہے ۔ حادثہ کے بعد انتظامیہ کے عہدیدار جائے واردات پر پہنچتے ہیں اور ماتم پرسی اور اظہار ہمدردی کے چند الفاظ بولنے کے بعد اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سمجھ لیتے ہیں۔راحت کے نام پر متاثرہ خاندان کے لوگوں کے ہاتھوں میں چند روپے اور کچھ مٹھی اناج تھما دیئے جاتے ہیں ،لیکن فائر فائٹرزکے نظم و ضبط کو درست کرنے کے معاملے میں اپنے بے حس ہو چکے ہاتھوں سے کچھ بھی کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ اسے بد قسمتی ہی کہی جاسکتی ہے کہ7 ندیوں سے گھرے اس علاقے کے لوگ آتش زنی کے حادثہ کے وقت آگ پر قابو پانے کے لئے پانی کے لئے ترس جاتے ہیں۔گرمی کا موسم آتے ہی یہ بات لوگوں کی زبان پر جاری ہوجاتی ہے کہ یہاں کے لوگ بھگوان بھروسے جیتے اور مرتے ہیں۔ فائر فائٹرز ڈپارٹمنٹ کے انتظامی عمل سے دہشت زدہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کبھی بھیانک آگ لگنے کا حادثہ ہو جائے تو کھگڑیا کا سب کچھ جل کر خاک ہوسکتاہے۔کئی بار آگ کی بھیانک شکل کو دیکھ کر خوفزدہ ہونے والے لوگوں کا خوف ابھی سے بڑھ گیا ہے۔ عجیب طرح کی جغرافیائی بناوٹ کی وجہ سے ویسے بھی اس علاقے کے لوگ اپنی منزل تک وقت پر نہیں پہنچ پاتے ہیں، آگ کا حادثہ ہونے پر آگ پر قابو پانے والا محکمہ بھی بونا پڑ جاتاہے۔ایسا اس لئے کیونکہ کھگڑیا کا فائر فائٹرز ڈپارٹمنٹ بھگوان بھروسے چل رہا ہے۔ محکمہ کے پاس نہ ہی کافی مقدار میں دمکل گاڑیاں ہیں اور نہ ہی مناسب تعداد میں ملازمین۔ باوجود اس کے یہ الگ بات ہے کہ پورے ضلع کے لوگوں کو آگ کے غضب سے بچانے کا بھرپور دعویٰ اب تک کیا جاتا رہا ہے۔گزشتہ سال بھی انتظامیہ کے عہدیداران درست فائر فائٹرز نظام کا ڈھول پیٹتے رہے،لیکن درجنوں بستیاں جل کر راکھ ہو گئیں۔لاکھوں روپے کی جائیداد برباد ہوئی، بڑے پیمانے پر جان و مال کا نقصان بھی ہوا۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں یا تو پہنچیں ہی نہیں اور اگر پہنچیں بھی توتب تک گاﺅں کے گاﺅں جل کر خاک ہو چکے تھے۔ سبھی آگ حادثے کے وقت فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں پانی کی کمی تھی۔محکمہ کے عہدیدار سے جب بات کی گئی تو انہوں نے یہ کہہ کر پلہ جھاڑ لیا کہ ضلع میں محض ایک ہی پانی کی ٹنکی رہنے کی وجہ سے پانی کی کمی رہتی ہے۔باوجود اس کے محکمہ کے ملازمین کے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی ہیں۔نتیجتاً آج بھی فائر فائٹرز ڈپارٹمنٹ کا حال خستہ ہی بنا ہوا ہے۔ حالات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ آگ پر قابو پانے کے لئے کافی پانی کا انتظام بھی وقت پر نہیں ہو پاتا ہے۔ جب تک محکمہ کے لوگ پانی کا انتظام کر پانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں تب تک بستیاں جل کر خاک ہو جاتی ہیں۔ بار بار مل رہی شکایت کی سچائی کے لئے ” چوتھی دنیا “ کے ذریعہ محکمہ جاتی انتظام کا معائنہ کیا گیا ۔شہر سے تقریباً دو کلو میٹر دور مارکیٹ کمیٹی کے صحن میں ” فائر اسٹیشن کھگڑیا“ کا بورڈ لگا ہوا تھا اور دفتر کے باہر ایک چھوٹی فائربریگیڈ گاڑی سمیت تین دمکل گاڑیاں لگی تھیں۔ دمکل گاڑیوں کی حالت کے سلسلے میں پوچھے جانے پر بتایا گیا کہ تین گاڑیوں میں سے دو بہتر حالت میں ہےں جبکہ ایک گاڑی خراب پڑی ہے۔ بہت زیادہ خرابی کی وجہ سے گاڑی کی نیلامی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ سال 1991 میں قائم فائر فائٹرز دفتر کو اپنا کام کرنے کے لئے بلڈنگ بھی نہیں ہے۔خستہ حال کمرے میں چل رہے دفتر کی بلڈنگ کی حالت اتنی خراب پڑی ہے کہ رات میں آرام کرنا بھی دفتر کے انچارج سمیت دیگر ملازموں کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں محکمہ کے ملازموں کو 24گھنٹے چوکس رہنے کی ہدایت دینا ملازمین کے گال پر طمانچہ مارنے جیسا ہے۔کئی ماہ سے تنخواہ کے لئے پریشان ملازموں کا کہنا تھا کہ بھوکے پیٹ ہی صحیح محکمہ کے سبھی ملازمین آگ پر قابو پانے کے معاملے میں پیچھے نہیں ہٹتے۔،لیکن بغیر پانی کے آگ پر قابو پانا کتنی ٹیڑھی کھیر ہے، یہ بتانے کی شاید کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آفس انچارج آر این رجک نے بتایا کہ محض دو دمکل گاڑیوں کے دم پر دو دو سب ڈویژن اور سات بلاک کے لوگوں کو آگ سے ہونے والے جان و مال کے نقصان سے بچانا کتنا مشکل ہے۔ ویسے بھی اس مذکورہ عہدے پر متعلقہ ملازموں کی تقرری نہیں ہونے کی وجہ سے چار ہوم گارڈ سے مدد لی جارہی ہے۔ ان جوانوں کو جب تک تھوڑی بہت ٹریننگ دی جاتی ہے تب تک ان کا ٹرانسفر ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سب سے مشکل تب پیش آتی ہے جب ضرورت کے وقت پانی کا انتظام نہیں ہو پاتا ہے ۔کھگڑیا شہر میں ایک ہی پانی ٹنکی ہے۔ لگ بھگ اس کا نل خراب ہی رہتا ہے۔ گزشتہ تقریبا ًایک ماہ سے شہر کی پانی کی ٹنکی کا نل خراب پڑا تھا۔ متعلقہ محکمہ کے آفیسر سے جب نل ٹھیک کرانے کی گزارش کی گئی تو انہوں نے کہا کہ محکمہ کو اس کے لئے لکھا گیا ہے، فنڈ الاٹ ہوتے ہی نل ٹھیک کرا دیا جائے گا۔ حالانکہ جب اس بات کی جانکاری نو تقرر شدہ ضلع کلکٹر کو ملی تو انہوں نے فوری طور پر اسے ٹھیک کرایا۔ آفس انچارج رجک کا کہنا تھاکہ اگر ضلع کو آگ زنی کے غضب سے محفوظ رکھنا ہے تو سب سے پہلے گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے جگہ جگہ پانی کا انتظام کیا جانا چاہئے۔ اگر ممکن ہو تو دفتر کے احاطہ میں پانی کی ٹنکی کا انتظام کیا جائے تاکہ جب ضرورت پڑے پانی فراہم ہوجائے۔ بہر حال گرمی کے موسم میں پچھوائی ہوا کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ کے عہدیداروں کے ذریعہ فائر فائٹرز کے انتظام میں سدھار کیا جائے گا یا نہیں، یہ تو انتظامیہ کے عہدیداران ہی جانیں،لیکن اتنا طے ہے کہ اس سال بھی فائر فائٹرز انتظام میں سدھار نہیں کی گیا تو گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی کئی خاندان کے لوگ نہ صرف اپنا آشیانہ گنوانے کے لئے مجبور ہوں گے بلکہ کئی خاندان کے لوگ اپنوں کو کھونے کے غم میں آنسو بہاتے رہ جائیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *