بنگلہ دیش میں نظامی کو پھانسی، انصاف یا سیاسی انتقام؟

بنگلہ دیش میں 2010 میں کرائم ٹریبونل کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس ٹریبونل نے جماعت اسلامی اور بی این پی کے کئی رہنماﺅں کو پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیا۔ ٹریبونل کے فیصلے پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے مگر حکومت تمام تشویشوں سے بے خبر ٹریبونل کے فیصلوں کو نافذ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ ابھی حال ہی میں جماعت اسلامی کے رہنما مطیع الرحمن نظامی کو پھانسی دی گئی ہے جس کی وجہ سے ملک کے اندر بے چینی کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ 

p-8وسیم احمد
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے 73 سالہ امیر مطیع الرحمن نظامی کو پھانسی دے دی گئی۔ انہیں خصوصی جنگی ٹربیونل نے سزائے موت سنائی تھی۔ سپریم کورٹ سے نظرثانی کی اپیل خارج ہونے اور صدر سے رحم کی اپیل نہ کرنے کے فیصلے کے بعد انہیں پھانسی دے دی گئی۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے 71 19میں پاکستان سے علیحدگی کی تحریک کے دوران پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا۔واضح رہے کہ 1971 میں بنگلا دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے دوران جماعت اسلامی نے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا جس پر تقریباً چار دہائی بعد وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے ایک جنگی ٹریبونل تشکیل دیا جس سے جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی( بی این پی) کے رہنماو¿ں کو سزائیں سنائی جا رہی ہیں۔ مطیع الرحمان نظامی 29 اگست 2010 کو جنگی جرائم کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے۔ ان پر نسل کشی، قتل, تشدد اور زیادتی سمیت 16 الزامات عائد کئے گئے تھے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ حسینہ واجد اس ٹریبونل کے ذریعہ سیاسی انتقام لے رہی ہیں اور چن چن کر اپنے مخالفین خاص طور پر جماعت اسلامی کے رہنماﺅں کو پھانسی کے پھندے پر پہنچا رہی ہیں۔ شیخ حسینہ کے اس عمل کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے کہ وہ اپنے والد شیخ مجیب الرحمن کے کئے ہوئے وعدوں کی خلاف ورزی کررہی ہیں۔ کیونکہ دہلی میں5اپریل سے 9اپریل 1974 میں پاکستان ،بنگلہ دیش اور ہندوستان کے وزراءخارجہ کے درمیان سہ فریقی معاہدہ طے پایا تھا اور اس میں شیخ مجیب الرحمن کی حکومت کے وزیرخارجہ کمال حسین نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ 1971کے واقعات کی بنا پر کسی کے خلاف بھی مقدمہ نہیں چلایا جائےگا۔ اس اعلان سے قبل بنگلہ دیش کی حکومت نے 195 پاکستانیوں کو جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال رکھا تھا۔سہ فریقی معاہدہ کے نتیجہ میں ہی بنگلہ دیش کی حکومت نے ان پاکستانیوں کو رہا کرکے دیگر قیدیوں کے ہمراہ وطن واپس بھیجا تھا۔ اس معاہدہ کے پیرا گراف نمبر14 میں بنگلہ دیش کے وزیراعظم شیخ مجیب الرحمن کے اس اعلان کو بھی نوٹ کیا گیا ہے جس میں انہوں نے اپنے عوام سے اپیل کی تھی کہ 1971 کی تباہیوں اور تلخیوں کو بھلا کر نئے سرے سے سفر کا آغاز کیا جائے۔لیکن حسینہ نے اپنے والد کی تمام باتوں کو بھلا دیا اور جماعت اسلامی کے رہنماﺅں سے سیاسی بدلہ لے رہی ہیں۔ اس معاہدہ کے پیرا گراف نمبر15میں پاکستانی وزیراعظم کی اپیل کا بھی ذکرہے جس میں انہوں نے بنگلہ دیش سے اپیل کی تھی کہ ماضی کو بھلاکر آگے بڑھا جائے ،اسکے جواب میں بنگلہ دیشی وزیرخارجہ نے اپنی حکومت کے اس فیصلے سے پاکستان اور ہندوستان کو آگاہ کیا تھاکہ 1971کے واقعات کی بنا پر کسی کے خلاف کوئی’مقدمہ نہیں چلایا جائیگا، لیکن 2010 میں ایک مقامی قانون کے ذریعے جنگی جرائم کا ” ٹربیونل“ قائم کیا گیا۔ اس کو عالمی جنگی جرائم کے ٹربیونل کا نام دیا گیا۔یہ ٹربیونل ثبو ت و شواہد کے بغیر اور انصاف کے عالمی تقاضوں کے برخلاف اندھا دھند سزائے موت کے حکم سنا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت جنگی جرائم کے ٹریبونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔اس ٹریبونل کی کاروائی عدالتی اصولوں سے واضح طور پر ہٹ کر ہے۔ اصول یہ ہے کہ الزام لگانے والا ثابت کرتا ہے کہ جس پروہ الزام لگا رہا ہے وہ واقعی میں مجرم ہے جبکہ اس دوران ملزم اپنا دفاع کرتا ہے۔ مگر اس ٹریبونل کے مقدمات میں جن ملزمان پر الزام لگایا گیاہے ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ ثابت کریں کہ وہ واقعی میں مجرم نہیں ہیں اور صرف یہ ثابت کرنا بھی کافی نہیں کہ وہ مجرم نہیں، بلکہ انہیں ثابت کرنا ہو گا کہ وہ ہر شک و شبہ سے بالاتر ہیں۔ظاہر ہے یہ سراسر عدالتی اصولوں سے انحراف اور انصاف کا کھلے عام مذاق ہے۔دوسری بات یہ کہ بنگلہ دیشی آئین چار بنیادی اصولوں پر قائم ہے، نیشنلزم ،سوشلزم ،جمہوریت ،اور سیکولر ازم۔ حالیہ عدالتی قتل ان چاروں اصولوں سے کھلم کھلا انحراف اور ہٹ کر ہے۔ اس کے علاوہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریقہ کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس ٹریبونل سے کسی کو پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے تو اس پر سخت عالمی رد عمل آتا ہے ۔مگر بنگلہ دیش کی حکومت کسی کی پرواہ کئے بنا اپنے سیاسی انتقام کو پورا کرنے میں لگی ہے۔
نظامی کی پھانسی پر ترکی نے احتجاج کرتے ہوئے ڈھاکا میں تعینات اپنا سفیر واپس بلالیاہے۔ترکی وزارت خارجہ کے مطابق بنگلہ دیش میں امیر جماعت اسلامی مطیع الرحمان نظامی کو پھانسی دینے کے معاملے پر ڈھاکا میں تعینات اپنے سفیر کو احتجاجاً واپس بلالیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش نظامی کی پھانسی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ترکی کا کہنا ہے کہ بزرگ سیاستدان کو اتنی بڑی سزا دینا قابل مذمت ہے۔ اس قسم کے واقعات سے ہمارے بنگلہ دیشی بھائیوں کے دلوں میں نفرت کی آگ بڑھے گی۔پاکستانی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی کا کہنا ہے کہ مطیع الرحمان نظامی کی پھانسی غیر انسانی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنماﺅں سے غیرانسانی سلوک کیاگیا۔ نظامی کی پھانسی پر جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما سراج الحق نے مطیع الرحمان کی پھانسی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بزرگ رہنما کو پاکستان سے محبت کی سزا دی گئی ہے۔ مطیع الرحمان کو پھانسی دے کر بنگلہ دیش حکومت نے ظلم کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے مطیع الرحمان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جو انہوں نے مسترد کر دیا تھا۔دوسری جانب بنگلہ دیش میںبرسرِ اقتدار جماعت ’عوامی لیگ‘ کا کہنا ہے ملک کے ماضی کو دفن کرنے کے لیے جنگی جرائم کی تفتیش ضروری ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمان نظامی 1971 میں جماعت اسلامی کی ایک ذیلی تنظیم سے منسلک تھے اور ان پر الزام تھا کہ انھوں نے ’البدر‘ نامی ملیشیا کے کمانڈر کی حیثیت سے آزادی پسند بنگالی کارکنوں کی نشاندہی کرنے اور انھیں ہلاک کرنے میں پاکستانی فوج کی اعانت کی تھی۔2010 میں قائم ہونے والے جنگی جرائم کے ٹربیونل نے مطیع الرحمان نظامی کے علاوہ جماعت اسلامی کے دیگر اہم رہنماﺅں کو بھی پھانسی کی سزا سنائی تھی جن میں سے عبدالقادر ملّا، قمر الزماں سمیت کئی افراد کو تختہ دار پر لٹکایا بھی جا چکا ہے۔
مطیع الرحمان نظامی کو ایسے وقت میں پھانسی دی گئی ہے جب ملک میں لبرل، سیکولر، غیرملکیوں اور مذہبی اقلیتوں کے قتل کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔اس کے علاوہ متعدد بلاگروں کو قتل کیا چکا ہے۔ا س سلسلے میں ”چوتھی دنیا“ اپنے گزشتہ شمارے میں تفصیل سے لکھ چکا ہے کہ کس طرح سے بلاگروں کا قتل ہورہا ہے اور حکومت اسے روکنے میں ناکام ہے۔نظامی کے قتل پر پوری دنیامیں خاص طور پر ہندوستان میں جیسے ہی سوشل میڈیا پر مذکورہ خبر عام ہوئی تو لوگوں نے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع کردیا۔ جماعت اسلامی اور اس کے افکار سے محبت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسی تحریک جس نے دعوت و تبلیغ کے ذریعہ ہمیشہ اسلامی پیغام کو عام کیا ہے، اس کے رہنما کو تختہ دار پر لٹکانا، دراصل اسلام سے کھلی دشمنی کا اعلان ہے۔فیس بک،ٹوئٹر ،واٹس ایپ پر جہاں عوامی لیگ کو نشانہ بنایا جارہا ہے ،وہیں یہ کہا جارہا کہ برسراقتدار حکومت ان تمام لوگوں کا خاتمہ چاہتی ہے جو اس کے افکار کے مخالف ہیں یا مستقبل میں جن سے خطرات کا اندیشہ ہے۔
حالانکہ پاکستان کے کچھ شدت پسند لوگوں کی طرف سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ پھانسی ہندوستان کے اشارے پر دی جارہی ہے، مگر ایسی سوچ پر حیرت اس لئے ہورہی ہے کہ 1974 میں جو معاہدے ہوئے تھے اور اس میں ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر باہمی اعتماد و محبت کے ساتھ آگے بڑھنے کی بات کہی گئی تھی، اس معاہدے کو عمل میں لانے میں ہندوستان کا بہت اہم رول رہا ہے۔ دراصل ہندوستان کی پالیسی یہ رہی ہے کہ جنوبی ایشیا میں دو ملک (پاکستان و بنگلہ دیش) باہم متصادم رہیں گے تو ایسی صورت میں پورے خطے کا ماحول خراب ہوگا، لہٰذ ادونوں ملکوں کو ماضی کی تلخیاں بھلاکر مستقبل کی طرف بڑھنے کے معاہدے کو انجام دینے میں ہندوستان تب بھی پیش پیش تھا اور آج بھی ہندوستان کی یہی پالیسی ہے کہ کوئی بھی ملک اپنے عوام سے سیاسی انتقام نہ لے۔ لہٰذا حالیہ واقعہ میں ہندوستان کے ملوث ہونے کا کوئی امکان باقی نہیں رہ جاتا ہے۔ البتہ ہندوستان اپنی روایت کے مطابق کسی بھی ملک کے اندرونی معاملوں میں دخل اندازی کو پسند نہیں کرتا ہے ،اس لئے وہ بنگلہ دیش کی حکومت سے سیاسی مخالفین کے ساتھ انصاف قائم کرنے کی اپیل تو کرسکتا ہے، لیکن اس کے اندرونی معاملوں میں مداخلت نہیں کرسکتا ہے ،اب اگر پاکستان کے کچھ سیاست دانوں نے اس واقعہ کی ذمہ داری ہندوستان پر ڈالنے کی کوشش کی ہے تو یہ ان کی فکری تنگی کی بات ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *