اگسٹا ہیلی کاپٹر معاملہ:چھتیس گڑھ اور راجستھان بھی پھنسے

روپیش گپتا

p-3یہ سیاست کی سب سے بڑی بد قسمتی ہے کہ بی جے پی اپنے جس وزیر اعلیٰ کو سب سے زیادہ ایماندار بتاتی تھی، وہ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ10 سال بعد بد عنوانی کے سب سے بڑے الزام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ نہ صرف رمن سنگھ پھنسے ہیں بلکہ ان کے بیٹے ابھیشیک سنگھ پر غیر ملکی بینکوں میں کالا دھن رکھنے کا سنگین الزام ہے۔ اس سے پہلے رمن سنگھ کی گزشتہ سال پی ڈی ایس گھوٹالے میں چو طرفہ فضیحت ہوئی تھی۔
اگسٹا ہیلی کاپٹر ڈیل میں جب بی جے پی نے سونیا گاندھی کو گھیرا تو جواب میں کانگریس نے چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ اور راجستھان کی وسندھرا راجے سرکار پر اگسٹا ڈیل میں گھوٹالے کا الزام لگایا ۔ کیگ نے 2011 کی اپنی رپورٹ میں اگسٹا اے 109 کی خرید پر دو اعتراض کیا تھا۔پہلا اعتراض اس کی خرید کے فیصلے میں ہوئی تاخیر کو لے کر تھا جس سے حکومت کو 65 لاکھ کا نقصان ہوا ۔دوسرا اعتراض ایک خاص قسم اور ماڈل کے ہیلی کاپٹر کے لئے ٹینڈر مدعو کرنے پر سوال اٹھایا۔ ریاستی کانگریس کا الزام ہے کہ دونوں ہی غیر قانونی کمیشن کی خاطر کیا گیا۔
حالانکہ بی جے پی نے دلی میں پریس کانفرنس کرکے اس معالے میں رمن سنگھ کو کلین چٹ دے دی۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی نے اپنی جانچ بند کر دی ہے، اس لئے رمن سنگھ بے قصور ہیں،لیکن اس دلیل کو سماجی کارکن ڈاکٹر اجیت آنند ڈیولیکر نے سرے سے خارج کر دیا۔ ان کا کہناہے کہ جس پارٹی کے وزیر اعلیٰ کے خلاف جانچ ہو رہی ہو، اس کے ایم ایل اے ان کے خلاف کیا جانچ کریں گے۔
اس معاملے میں ملک کی دونوں ہی پارٹیاں ایک دوسرے کے لیڈروں کو گھیرے ہوئی ہیں۔ اس لئے معاملہ کسی انجام تک پہنچے گا، اس کے آثار کم نظر آتے ہیں،لیکن رمن سنگھ کے لئے اصلی مصیبت ہے کالے دھن کا الزام۔ پانامہ لیکس معاملے کو اجاگر کرنے والے کھوجی صحافیوں کی دنیا کا سب سے بڑا ادارہ’ انٹر نیشنل کنسور ٹیم آف انوسٹی گیٹیو جنرلسٹ ‘ نے پناما لیکس سے پہلے کالے دھن غیر ملک میں رکھنے والوں کی جو لسٹ جاری کی تھی، اس میں وزیر اعلیٰ کے پتے پر ابھیشیک سنگھ کے نام سے آف شور اکاﺅنٹ دکھایا گیا تھا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ ابھیشیک سنگھ ہی رمن سنگھ کے بیٹے ہیں۔ سب سے پہلے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے اس معاملے میں ٹویٹ کرکے سنسی پھیلا ئی تھی۔ ابھیشیک سنگھ نے اس ٹویٹ کا جواب دیا۔ انہوں نے کسی غیر ملکی اکاﺅنٹ کی بات کو خارج کر دیا۔ ابھیشیک نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ان کی ساری کمائی اور جائیداد قانونی طریقے سے کمائی گئی ہے۔
اس کے بعد معاملہ ٹھنڈا رہا ،لیکن جب آئی سی آئی جے نے دوبارہ پناما لیکس کا خلاصہ کیا تو پھر سے معاملہ گرم ہوگیا۔ کانگریس کے ساتھ پرشانت بھوشن اور آپ نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا مودی جی اس پر کارروائی کریں گے۔ سرکار اب تک اس معاملے میں جواب سے بچتی رہی ہے۔ دراصل اس لسٹ میں ابھیشیک سنگھ کا جو کوردھا کا پتہ ہے وہی پتہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ اور ان کے بیٹے ابھیشیک سنگھ نے انتخابی حلف نامہ میں دیا ہے۔ تو کیا ابھیشیک سنگھ وہی ابھیشیک سنگھ ہیں؟ اگر ہاں تو کیا انہوں نے غیر ملک میں پیسہ لگایا ۔ یہ پیسہ کہاں کا تھا اور کس روٹ سے کہا ں گیا؟ یہ ایسے سوال ہیں جن کا جواب نہ تو رمن سنگھ خود دے رہے ہیں نہ ہی ان کی پارٹی۔
چرچا یہاں تک ہے کہ اس معاملہ کے سامنے آنے کے بعد جب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ سے اس پر سوال پوچھا گیا تو ڈی پی آر نے اگلے دن چینل کے مالک کو فون کرکے صحافی کو برخاست دیا۔ بعد میں کسی طرح بات چیت اور صلح کرکے صحافی واپس کام پر لوٹا۔
آئی سی آئی جے کی ویب سائٹ کے مطابق ابھیشیک سنگھ’ کویسٹ ھایٹس لمیٹیڈ‘ کے شیئر ہولڈر اور شیئر کورپ لمیٹیڈ کے نامزد شیئر ہولڈر ہیں۔ کویسٹ ھایٹس لمیٹیڈ کا پتہ ٹیکس چوری کے لئے زر خیز زمین مانی جانے والی جگہ برٹش ورجینیا آئی لینڈ ہے۔ یہاں کمپنی کھلوانے کے لئے کسی دستاویز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسمبلی میں کانگریس کے لیڈر ٹی ایس سنگھ دیو کا کہنا ہے کہ ابھیشیک سنگھ کو صاف کرنا چاہئے کہ آخر انہوں نے ایک کمپنی ایسی جگہ کیوں کھولی جہاں کمپنی کھولنا بے حد مشتبہ ہے؟ اس کے لئے پونجی کہاں سے آئی؟
اقتصادی معاملوں میں ٹیکس چوری کے خلاف کام کرنے والے جانکار مانتے ہیں کہ عام طور پر اس طرح کے طریقے بزنس ہاﺅسیز اور سیاست داں اپنے کالے دھن کو سفید بنانے کے لئے اپناتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ پناما یا برٹش ورجن آئی لینڈ جیسی کسی ایسی جگہ سرمایا کاری کرتے ہیں جہاں کمپنی کھولنے کے لئے کاغذی کارروائی نہیں ہوتی۔ پھر اس کمپنی کے ذریعہ الگ الگ ملکوں میں بینک اکاﺅنٹ کھول کر پیسہ ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجا جاتا ہے۔ ایک اکاﺅنٹ ماریشس جیسے ملک میں کھولا جاتا ہے جہاں سے ہندوستان کا معاہدہ ہے اور سرمایاکاری بغیر کسی روک ٹوک کے ہو سکتی ہے۔ حالانکہ ابھیشیک سنگھ کے اکاﺅنٹ کے بارے میں پختہ طور پر دعویٰ نہیں کیا جاسکتا ،لیکن ورجن آئی لینڈ میں سرمایا کاری، اس بات کا شک پیدا کرتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ پناما سے پہلے آئی سی آئی جے کے جس آف شور اکاﺅنٹ کی لسٹ میں ابھیشیک سنگھ کا نام ہے، اس کی معتبریت کئی ملکوں میں تسلیم شدہ ہے اور کئی ملکوں میں اس پر بڑی کارروائیاں ہوئی ہیں۔ آئی سی آئی جے دنیا میں کھوجی صحافیوں کا ایسا گروپ ہے جو سرحد پار جرائم اور ٹیکس چوری کے خلاف کام کر رہاہے۔ دنیاکے 65 سے زیادہ ملکوں کے تقریباً 200 سے زیادہ صحافی ایسی جانکاریوں پر کام کرتے ہیں۔ اس ادارے نے سرخیاں تب بٹوری جب اس نے سوئزر لینڈ میں ایچ ایس بی سی میں کالے دھن مالکوں کے ناموں کا خلاصہ کیا۔ اس لسٹ کو ہرو فالسیانی نے جینوا میں ایچ ایس بی سی میں کمپیوٹر ایکسپرٹ کی شکل میں کام کرتے ہوئے حاصل کیا۔ اس لسٹ کو جب آئی سی آئی جے نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کیا تو دنیا بھر میں ہنگامہ مچ گیا ۔ یوروپ کے کئی ملکوں میں اس کی بنیاد پر کارروئیاں ہوئیں۔ کروڑ وں، اربوں کے ٹیکس، کھاتہ ہولڈروں سے حاصل کئے گئے۔
یہ سوال بھی اسی سے جڑا ہوا ہے کہ کیا ابھیشیک سنگھ کا نام ایچ ایس بی سی لسٹ میں ہے یا پھر کوئی دوسری لسٹ ہے۔ غور طلب ہے کہ برٹش ورجینیا میں ابھیشیک کی کمپنی 2008 میں لسٹیڈ ہوئی جس وقت کے ایچ ایس بی سی کے ریکارڈ ہیں۔ اس لسٹ میں ایک اور نام چھتیس گڑھ کے تاجر کمل شارڈا اور رمن سنگھ کے تعلقات کا خوب چرچا ہوتا ہے۔ ان دونوں کھاتوں کا کوئی تعلق ہے یا نہیں، یہ جانچ کا موضوع ہے۔لیکن ایک سوال جو کانگریس اور پرشانت بھوشن بھی اٹھا رہے ہیں کہ جب آئی سی آئی جے کے پناما خلاصے پر جانچ ہو رہی ہے تو ابھیشیک سنگھ کی کیوں نہیں؟ غیر ملکی کھاتوں کو لے کر جو گھمسان مچا ہوا ہے اس میں آگے کیاہونا ہے ،کہنا مشکل ہے۔

اڑا نہیں لیکن ٹھیکرا پھوڑ ا گیا
p-3bاگسٹا معاملے میں مرکز میں بی جے پی، کانگریس پر حملہ آور ہے تو راجستھان میں کانگریس حملہ آور ہے۔ کانگری وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے کو اگسٹا معاملے میں گھسیٹ کر سیاست کی آگ میں گھی ڈال رہی ہے۔ کیگ کی رپورٹ کے مطابق 2005 میںراجستھان سرکار نے اگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر خرید کر عوام کے 1.14 کروڑ روپے کا نقصان کیا تھا۔ اگسٹا سے جو ہیلی کاپٹر خریدا گیا تھا، وہ اسٹیٹ ہینگر میں رکھا رکھا کباڑ میں بدل رہا ہے۔ ریاستی سرکار نے اس ہیلی کاپٹر کی خرید 2005 میں اس وقت کے وزیر علیٰ وسندھر اراجے کی منظوری کے بعد کی تھی۔ اب اس معاملے میں کانگریس نے چھتیس گڑھ اور راجستھان کے بی جے پی لیڈروں پر بد عنوانی کا الزام لگایا ہے۔ 2011 سے کھڑے اس ہیلی کاپٹر کے رکھ رکھاﺅ پر ہی سالانہ ڈیڑھ لاکھ روپے کا خرچہ آرہاہے، وہیں اس کی دیکھ ریکھ میں لگے ملازموں کی تنخواہ الگ سے ہے۔ سرکار اگسٹا کی فروخت پر کوئی فیصلہ نہیں لے سکی ہے۔ سول ایوی ایشن ڈپارٹمنٹ کے افسروں کا کہنا ہے کہ اگر اگسٹا کی جلدی نیلامی نہیں ہوتی ہے تو بعد میں ایک کروڑ روپے میں بھی نہیں فروخت ہوگا۔
20نومبر 2011 کو اس وقت کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت اسی ہیلی کاپٹر پر سوار تھے، جب یہ چورو کی چاند کوٹھی کے پاس حادثے کا شکار ہوا تھا، ہیلی کاپٹر کے پنکھے ٹوٹنے کی وجہ سے اسے ایک گاﺅں میں ایمر جینسی لینڈنگ کرنی پڑی تھی۔ معاملے کی جانچ ہندوستان سرکار کے ڈائریکٹر جنرل ٹاﺅن اینڈ ایوی ایشن کی طرف سے کی گئی تھی۔ ساتھ ہی راجستھان سرکار نے بھی اس حادثے کو لے کر جانچ کمیشن تشکیل کی تھی۔ بعد میں اس معاملے میں کوئی جانچ عوامی نہیں کی گئی۔ 2011 میں حادثہ ہونے کے بعد اگسٹا ہیلی کاپٹر کے رکھ رکھاﺅ پر سالانہ ڈیرھ لاکھ روپے کا خرچ آرہاہے، وہیں اس کی دیکھ ریکھ میں لگے ملازموں کی تنخواہ الگ سے ہے۔6 سال سے گودام میں کھڑا اگسٹا ہیلی کاپٹر دھیرے دھیرے کباڑ میں بدل رہا ہے۔ حالانکہ اسے خراب ہونے سے بچانے کے لئے ہر سال کیمیکل کی کوٹنگ کرئی جاتی ہے ،لیکن یہ کوٹنگ بھی زیادہ وقت تک نہیں چلے گی۔ ریاستی سرکار نے اگسٹا کی نیلامی کے لئے اس کی قیمت 12.40 کروڑ روپے رکھی ہے۔ سول ایوی ایشن ڈپارٹمنٹ کے آفیسر بتاتے ہیں کہ 2011 میں جب یہ ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا تھا، اگر اس وقت ٹوٹی بلیڈ کو ریپئر کرا لیا گیا ہوا تو ڈیڑھ کروڑ روپے ہی خرچ ہوتے، لیکن اب اس پر ساڑھے تین سے چار کروڑ روپے کا خرچہ بتایا جارہاہے۔
ریاست کے ہوائی بیڑے میں اگسٹا ہیلی کاپٹر کو شامل کرنے کے لئے ہوئی خرید میں لاپرواہی کی جانچ میں پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی نے ہیلی کاپٹر خرید کے بھاری خرچے سے پہلے پلاننگ،ہیومن پاور اور انفراسٹرکچر میں کمی سے ریاستی سرکار کو ہوئے 1.14 کروڑ روپے کے نقصان کی وصولی قصوروار افسروں سے کرنے کی سفارش کی تھی،لیکن کوئی وصولی نہیں ہوئی۔ 13مئی 2013 کو گلاب چند کٹاریہ کی صدارت والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں آڈیٹر جنرل کے ریمارکس کا ذکر کرتے ہوئے اسے خاص طور پر بیان کیا تھا۔ پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کی جانچ کا دائرہ صرف افسروں تک محدود ہے، وزیر اعلیٰ یا وزیروں کے خلاف جانچ کرنے کا اسے اختیار نہیں ہے۔ معلوم رہے کہ راجستھان سرکار نے وسندھرا راجے کے سابق دور اقتدار میں اہم ہستیوں کے لئے تقریباً 20کروڑ روپے کی لاگت سے ہیلی کاپٹر خریدا تھا۔ کانگریس ،بی جے پی سرکار کو اس الزام پر گھیرنے کی کوشش کررہی ہے کہ اگسٹا ہیلی کاپٹر ڈیل میں بد عنوانی اجاگر ہونے کے بعد مودی سرکار نے راجستھان کی وزیر علیٰ وسندھرا راجے یا چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *