ملائم کے فیصلے کو خارج کریں گے اکھلیش

شیوداس
p-9اترپردیش میںصنعت کاروں او رسرمایہ داروں کا سیاسی اتحاد نیا رنگ لینے لگا ہے۔ سرمایہ داروں اور سرکار کی تازہ ایکوئیشن کا ہی نتیجہ ہے کہ اکھلیش یادو اپنے والد ملائم سنگھ یادو کے دور اقتدار میںلےے گئے فیصلے کو خارج کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ جے پی گروپ کو دی گئی 2500 ایکڑ فاریسٹ لینڈ واپس لینے کے لےے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے حال ہی میں اعلان کیا ہے۔ اس بارے میںانھوںنے اسے نوٹس جاری کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔ ریاستی سرکار اس معاملے کی جانچ کے لےے چار محکموںکےچیف سکریٹریز کی جانچ کمیٹی بنا رہی ہے، جو جے پی گروپ کو غلط ڈھنگ سے 2500 ایکڑ جنگلاتی زمین دینے کے معاملے کی جانچ کرے گی اور اس کے لےے قصوروار افسروں کے خلاف کارروائی کی منظوری بھی کرے گی۔ سون بھدر میں جے پی گروپ کی اتحادی کمپنی جے پرکاش ایسوسی ایٹس لمیٹڈ (جے اے ایل) کو غلط ڈھنگ سے قریب 2500 ایکڑ جنگل کی زمین الاٹ کرنے کے معاملے میں ریاست کی اکھلیش سرکار کی اس مستعدی کے گہرے مضمرات ہیں۔ سب جانتے ہیںکہ ایسے معاملوں میںسرمایہ کاروں کا سیاسی اتحاد کام کرتا ہے۔ اس معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے۔ اسے سمجھنے کے لےے جے پی گروپ کی اتحادی کمپنی جے پرکاش ایسوسی ایٹس لمیٹڈ اور آدتیہ بڑلا گروپ کی اتحادی کمپنی الٹراٹیک سیمنٹ لمیٹڈ کے بیچ ہوئے حالیہ معاہدوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ہندوستان کی سب سے بڑی سیمنٹ کمپنی کا دعویٰ کرنے والی الٹراٹیک سیمنٹ لمیٹڈ کمپنی کے سکریٹری ایس کے چٹرجی نے 28 فروری 2016 کو بی ایس ای لمیٹڈ کو خط لکھ کر اطلاع دی ہے کہ کمپنی نے اترپردیش، مدھیہ پردیش، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، آندھراپردیش اور کرناٹک میں 22.4 ایم ٹی پی اے (ملین ٹن سالانہ) صلاحیت والی جے پرکاش ایسوسی ایٹس لمیٹڈ (جے پی سیمنٹ اور جے پی پاور وینچرس لمیٹڈ سمیت) کی کل 12سیمنٹ اکائیوںکے حصول کے سمجھوتے (اےم او یو) پر دستخط کےے ہیں۔ اس میںسون بھدر کے ڈالا میںواقع جے پرکاش ایسوسی ایٹس لمیٹڈ کی 2.1ایم ٹی پی اے کلنکر اور 0.5 ایم ٹی پی اے کلنکر پیداوار کی صلاحیت والی سپر انٹی گریٹڈ ڈالا یونٹ کے ساتھ 2.3 ایم ٹی پی اے کلنکر صلاحیت والی جے پی سپر یونٹ (پیداوار نہیں) بھی شامل ہے۔ جے پی گروپ کی جنرل منیجر (کارپوریٹ کمیونکیشن) مدھو پلئی نے بھی مذکورہ تاریخ کو جاری اپنی پریس ریلیز میںاس بات کی تصدیق کی ہے۔ محترمہ پلئی نے لکھا ہے کہ اترپردیش، مدھیہ پردیش، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، آندھرا پردیش اور کرناٹک میںکمپنی کی 18.40 ایم ٹی پی اے صلاحیت والی اکائیوںکے لےے الٹراٹیک سیمنٹ لمیٹڈ سے کل 16,500 کروڑ روپے میں قرار ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اترپردیش میں نفاذ کے عمل میں پھنسی ایک گرائنڈنگ یونٹ کا معاملہ حل ہونے پر 470 کروڑ روپے الگ سے کمپنی کو دے گی۔ اس یونٹ کا معاملہ معدنیات کی کانکنی کے پٹوں کی منتقلی کے ضابطوں کی پیچیدگی کی وجہ سے لٹکا پڑا ہے،جس میںمرکزی سرکار ترمیم کرنے کی تیاری میں ہے۔
مندرجہ بالا سمجھوتے میں ہی ریاست کی اکھلیش سرکار کی مستعدی کا راز پنہاں ہے۔ حالانکہ وہ سپریم کورٹ اور نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کے دباو¿ اور جے پی گروپ کے ذریعہ غیرقانونی کانکنی کرنے کا حوالہ دے کر اس سیاسی راز کو دبائے رکھنا چاہتی ہے۔ اس کی جانچ کی آڑ میںایک طرف جے پی گروپ کا قبضہ پورا ہونے تک فائدہ پہنچانا چاہتی ہے، تو دوسری طرف بڑلا گروپ سے اتر پردیش میںاپنا سیاسی اتحاد سادھنا چاہتی ہے۔
اگر رریاستی سرکار اپنے دعوے کے مطابق جے اے ایل سے کانکنی لیز والی کل 2500 ایکڑ جنگلاتی زمین واپس لے لیتی ہے، تو اس کی یہ کارروائی بڑلا گروپ کی الٹراٹیک سیمنٹ لمیٹڈ کے لےے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔ الٹراٹیک کو لائم اسٹون کے لےے دیگر ریاستوں کا رخ کرنا پڑ سکتا ہے یا پھر اسے ان کانکنی کے پٹوں کو ریاستی سرکار سے نئی شرائط کے ساتھ حاصل کرنا پڑے گا، جو آسان نہیںہوگا۔ انھیںحاصل کرنے کے لےے اسے سپریم کورٹ کے ساتھ ساتھ این جی ٹی اور مرکزی ماحولیات اور جنگلات کی وزارت سے اجازت لینی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی اسے این پی وی کی شکل میں ریاستی سرکار کو اربو ں روپے دینے ہوں گے ۔
دراصل یہ پورا معاملہ اترپردیش اسٹیٹ سیمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (یو پی ایس سی سی ایل) کے ماتحت رہ چکیں چُرک، ڈالا اور چُنار سیمنٹ فیکٹریوں کی فروخت اور اس کی جائیداد کےحصول سے جڑا ہوا ہے، جو مرزاپور- سون بھدر کے جنگلی اور پہاڑی علاقوں میں واقع ہےں۔ 1990 کی دہائی میں کمپنی کو کروڑوں روپے کا خسارہ ہوا تھا۔ معاملہ ہائی کورٹ پہنچا۔ اس کے حکم پر 8 دسمبر 1999کو تینوں فیکٹریوں کو بند کردیا گیا اور ان کی سیل کے لےے آفیشیل لکویڈیٹر کی تعیناتی کردی گئی۔ سال 2006 میںیو پی ایس سی سی ایل کی املاک کے عالمی ٹینڈر میںجے پرکاش ایسوسی ایٹس لمیٹڈ نے 459 کروڑ روپے کی سب سے بڑی بولی لگا کراس کی املاک کوخرید لیا۔ ہائی کورٹ کے حکم کی آڑ میںاس نے ریاست کے اقتدار پر قابض نمائندوں او رضلع انتظامیہ کی ملی بھگت سے جنگلاتی زمین پر اترپردیش راجیہ سیمنٹ نگم کے نام سے الاٹ کانکنی کے پٹّوں کو غلط ڈھنگ سے اپنے نام کرالیا اور اس پر قبضہ کرکے کانکنی کرنے لگا۔
صنعت کاروں او رسیاستدانوں کے اس سیاسی پینترے کو اور بہتر ڈھنگ سے سمجھنے کے لےے سابقہ ایس پی سرکار کے دوران جے اے ایل کو غلط ڈھنگ سے الاٹ کی گئی 1083.231 ہیکٹیئر (قریب 2500 ایکڑ) جنگلاتی زمین کی پچھلی جانچ رپورٹوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ وندھیا چل منڈل کے اس وقت کے منڈل کمشنر ستیہ جیت ٹھاکر کی طرف سے تشکیل جانچ کمیٹی اورمرکزی ماحولیات اور جنگلات وزارت کے علاقائی آفس (سینٹرل ریجن)، لکھنو¿ کے اس وقت کے جنگلات کے محافظ وائی کے سنگھ چوہان کی جانچ رپورٹیں بھی مذکورہ الزامات کی تصدیق کرتی ہیں۔
اترپردیش سرکار کے ریونیو محکمے کے چیف سکریٹری کی ہدایت پر وندھیانچل منڈل کے اس وقت کے کمشنر ستیہ جیت ٹھاکر نے سال 2007 میںاس معاملے کی جانچ کے لےے وندھیاچل منڈل کے اس وقت کے ایڈیشنل کمشنر (انتظامیہ) ڈاکٹر ڈی آر ترپاٹھی جنگلات کے محافظ آر این پانڈے اور جوائنٹ ڈپٹی کمشنر ایس ایس مشرا کی جوائنٹ جانچ ٹیم تشکیل کی تھی۔ ٹیم نے 16 جون 2008 کو اپنی جانچ رپورٹ منڈل کمشنر کو سونپ دی۔ ا س میںصاف لکھا ہے کہ سون بھدر کے مکری باری، کوٹہ، پڑرچھ او ر پناری گاووں کے سات معاملوں میں انڈین فاریسٹ ایکٹ کی دفعہ 4- کے تحت نوٹیفائڈ 1083.231 ہیکٹیئر جنگلاتی زمین کو جے اے ایل کے حق میںمنتقل کرنے کا اوبرا جنگلی علاقے کے اس وقت کے جنگلات کے بندوبست افسر وی کے شریواستو کا حکم غیر قانونی اور غلط ہے۔ اس کے لےے وہ قصوروار ہیں۔ جانچ رپورٹ میںٹیم نے ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس بارے میں وندھیاچل منڈل کے اس دور کے ایڈیشنل کمشنر جی ڈی آریہ نے علاقے کے چیف کنزرویٹر آف فاریسٹس کو خط لکھ کر وی کے شریواستو کے خلاف چارج شیٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی، لیکن مجرم افسر کے خلاف آج تک کارروائی نہیںہوئی۔
مرکزی ماحولیات اور جنگلات وزارت کے اس دور کے جنگلات کے محافظ (سینٹرل ریجن) وائی کے سنگھ چوہان نے بھی اس معاملے میںاس وقت کے منڈل کمشنر کی جانچ رپورٹ کو صحیح ٹھہرایا ہے۔ انھوںنے سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل سینٹرل امپاورڈ کمیٹی (سی ای سی) کے اس وقت کے ممبر سکریٹری ایم کے جیوراجکا کو بھیجے خط میںلکھا ہے کہ اس وقت کے جنگلات بندوبست افسر وی کے شریواستو نے سپریم کورٹ کے احکامات کے خلاف ریونیو ریکارڈس میںانڈین فاریسٹ ایکٹ 1927- کی دفعہ 4-کے تحتنوٹیفائڈ پروٹیکٹڈ فاریسٹ ایریا کی زمین کی لیگل فارم کو ہی بدل دیا۔ اس کے لےے انھوں نے سپریم کورٹ کے ایک حکم میں درج حصہ کا حوالہ بھی دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس وقت کے جسٹس جے ایس ورما اور بی این کرپال کی بینچ نے 12دسمبر 1996 کو ٹی این گوڈاورمن تھروملکپاد بنام حکومت ہند کے معاملے میںصاف کہا ہے:
”فاریسٹ پروٹیکشن ایکٹ 1980- ،مستقبل میں جنگلات کی کٹائی ،جو ماحولیاتی عدم توازن پیدا کرتی ہے، کوروکنے کے نقطہ نظر سے لاگو کیا گیا تھا۔ اس لےے جنگلات کا تحفظ اور اس سے متعلق معاملات کے لےے اس قانون کے تحت بنائے گئے پروویژ نس کو ملکیت کی نوعیت یا اس کی درجہ بندی کی پرواہ کےے بغیرلاگو کیا جاناچاہےے۔’ جنگل‘لفظ کو لغت میںدرج اس کے معنی کے مطابق ہی سمجھنا جانا چاہےے۔ یہ تشریح قانونی طور پرتسلیم شدہ سبھی جنگلات پر لاگو ہوتی ہے چاہے وہ پروٹیکٹڈ اینڈ سیکور ہوں یا پھرفاریسٹ پروٹیکشن ایکٹ کے کلاز2- (1) کے تحت ہوں۔ کلاز2- میں درج ’فاریسٹ لینڈ ‘ میںڈکشنری میںدرج ’فاریسٹ‘ہی شامل نہیںہوگا، بلکہ اس میںملکیت کی پرواہ کےے بغیر سرکاری دستاویزات میںجنگل کے طور پر درج کوئی بھی علاقہ شامل ہوگا۔“
وائی کے سنگھ چوہان نے اپنی جانچ رپورٹ میںلکھا ہے کہ اس طرح غیر جنگلاتی زمین میںبدلے جانے کے بعد بھی محفوظ فاریسٹ لینڈ کی قانونی شکل نہیںبدلے گی۔لیکن وی کے شریواستو نے ریونیو ریکارڈزمیںکوٹہ، پڑرچھ اور مکری باری گاووں میں واقع محفوظ جنگلاتی علاقے کی زمین کی قانونی شکل کو تبدیل کردیا ہے۔ ریونیو ریکارڈز میںفاریسٹ لینڈ کی قانونی شکل کی تبدیلی مرکزی ماحولیات اور جنگلات وزارت کے اس حکم کی بھی خلاف ورزی ہے،جو اس نے 17 فروری 2005 کو جاری کیا تھا۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ ”مرکزی سرکار سے پہلے سے منظوری لےے بغیر ریونیو ریکارڈ ز میںجنگل، جھاڑ کے طور پر درج زمین کی غیر قانونی شکل میںتبدیلی غیر قانونی او رفاریسٹ پروٹیکشن ایکٹ کے پروویژنس کی خلاف ورزی ہے۔ متعلقہ محکمہ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر جنگل، جھاڑ، فاریسٹ لیڈکی قانونی شکل کو بحال کریں۔“
اتنا ہی نہیں جے اے ایل، ریاست کے اقتدار پر قابض سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں اور ضلع انتظامیہ کی اعلیٰ حکمرانوںکی ملی بھگت سے محفوظ جنگلاتی علاقے کے ساتھ ساتھ کیمورونیہ جیو وہار کے علاقوں میں اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کو انجام دیتا رہا۔ نیشنل بورڈ آف وائلڈ لائف نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ مرکزی ماحولیات اور جنگلات وزارت کے نیشنل بورڈ آف وائلڈ لائف کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے جے اے ایل کی کیپٹو تھرمل پاور پلانٹ کی چاروں یونٹوں کو نو آبجکشن سرٹیفکیٹ دینے کے قابل نہیں پایا ہے۔ کمیٹی کے اس وقت کے ممبرسکریٹری پریرنا بندرا نے جے اے ایل کے پاور پلانٹ کے پروپوزل کو فاریسٹ پروٹیکشن ایکٹ کے پروویژنس اور انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایکٹ اوروائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے پروویژنس کی خلاف ورزی بتایا ہے۔ پاور پلانٹ کی یونٹوں کے کنسٹرکشن اینڈ آپریشن کے لےے مرکزی ماحولیات اور جنگلات وزارت نے ابھی تک نو آبجکشن سرٹیفکیٹ بھی جاری نہیںکیا ہے۔ اس کے باوجود جے پرکاش ایسوسی ایٹس لمیٹڈ تعمیر ی کاموںکو جاری رکھے ہوئے ہے او رضلع انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار نبھا رہا ہے۔جے اے ایل کے ذریعہ پچھلے آٹھ سالوں سے قریب 2500 ایکڑ محفوظ جنگلاتی زمین پر غیر کانکنی اور غیر جنگلاتی سرگرمیاںچلائی جارہی ہیں، جس کی تصدیق مختلف جانچ رپورٹوں میں بھی ہوچکی ہے۔ اس کے باوجود ریاست میںگزشتہ چار سال سے قابض اکھلیش سرکار نے اس معاملے میں کوئی مستعدی نہیں دکھائی اور نہ ہی اس نے منڈل کمشنر او ر مرکزی ماحولیات اور جنگلات کی وزارت کی رپورٹوں پر کارروائی کی۔جب جے پی گروپ نے ڈالا سیمنٹ فیکٹری، جس کےتابع متنازعہ قریب 2500 ایکڑ جنگلاتی زمین والی کانکنی پٹّے آتے ہیں، کو آدتیہ بڑلا گروپ کی الٹراٹیک سیمنٹ کمپنی کو بیچ دیا، تو ریاستی سرکار اس فاریسٹ لینڈ کو واپس لینے کی کارروائی پر زور دے رہی ہے۔ آل انڈیا پیپلز فرنٹ (آئی پی اے ایف) کے کنوینر اکھلیندر پرتاپ سنگھ کہتے ہیں کہ جے پی گروپ اور سماجوادی پارٹی کی نزدیکیاں جگ ظاہر ہیں۔ ریاستی سرکار کے اس فیصلے میں ایمانداری ظاہر نہیں ہورہی ہے۔ پھر بھی سرکار جے پی گروپ سے زمین واپس لینا چاہتی ہے،تواسے جلد سے جلد واپس لے لینا چاہےے اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہےے۔ لیکن جس طرح سے جانچ کمیٹی تشکیل کےے جانے کی خبریںسامنے آئی ہیں،وہ یہی ظاہر کرتی ہےں کہ اس معاملے میںریاستی سرکار کی منشا صاف نہیںہے۔جے اے ایل کی غیر قانونی سرگرمیوںکے خلاف قریب 128 دن تک انشن کرنے والے بھارتیہ سماجک نیائے مورچہ کے صدر چودھری یشونت سنگھ نے کہا کہ ریاستی سرکار یہ قد م این جی ٹی اور سی ای سی کے دباو¿ میںاٹھارہی ہے۔ چیف سکریٹری کے پاس اس کا کوئی جواب نہیںہے۔ انھوں نے سپریم کورٹ سے معافی مانگی ہے۔ اس میں ریاست کی ایس پی اور بی ایس پی سرکار کے چیف کے ساتھ ساتھ کئی چیف سکریٹریز مجرم ہیں۔ ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہےے۔ اب اس معاملے میںجانچ کا کوئی جواز نہیںہے۔ منڈل کمشنر اور سی ای سی کی رپورٹ کے مطابق افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہےے۔

 

اُجّول : وزیر اعظم مودی اور وزیر علیٰ اکھلیش کی غریبوں کے ووٹ کی سیاست شروع

پربھات رنجن دین
p-9b'بلیا میں’ اُجّول یوجنا‘کے ذریعہ غریب لوگوں کو گیس کنکشن دینے کے بہانے انتخابی کنکشن جوڑنے کی وزیر اعظم نریندر مودی کی مہم کے اگلے ہی دن اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو بھی بلیا پہنچ گئے اور اعلان کر دیا کہ 2017 میں سماج وادی پارٹی کی سرکار بننے پر ہر غریب عورت کو پانچ سو روپے سماج وادی پنشن کے طور پر ملیں گے، جس سے وہ گیس سلنڈر خرید سکیں گی۔’اجولا اسکیم‘ شروع کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کا یہ اعلان انتخابی نہیں ہے،لیکن وزیر اعلیٰ نے صاف صاف کہا کہ انتخاب جتاﺅ اور پنشن پاﺅ۔ مودی نے ’مزدور دیوس‘ پر اپنے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں ای رکشہ اور ای بوٹ بانٹے تو اکھلیش نے مزدوروں کے لئے 10 روپے میں مکمل کھانا کی اسکیم شروع کر کے اسے برابر کرنے کی کوشش کی۔
بلیا میں غریب خاندانوں کے لئے مفت ایل پی جی کنکشن ’اجول یوجنا ‘شروع کرتے ہوئے مودی نے اس کا سہرا ان سوا کروڑ خاندانوں کو دیا جنہوں نے گیس سبسڈی چھوڑ کر غریبوں کے گھر میں ایل پی جی پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں 1955 سے رسوئی گیس دینے کا کام چل رہاہے۔ اتنے سال میں صرف 13کروڑ خاندانوں کو گیس کنکشن ملا، جبکہ بی جے پی کی سرکار نے محض ایک سال میں تین کروڑ خاندانوں کو رسوئی گیس کا کنکشن دیا ہے۔ مودی نے خود کو ملک کا نمبر ون مزدور بتایا اور کہا کہ 21ویں صدی کا منتر ہونا چاہئے، دنیا کے مزدوروں آﺅ ہم دنیا کو ایک کریں،دنیا کو جوڑنے کے لئے اگر کوئی رسائن ہے تو وہ ہے مزدور کا پسینہ ۔مودی نے کہا کہ وہ بلیا سے اتر پردیش میں انتخابی بگل بجانے نہیں آئے ہیں۔ انتخاب کا بگل تو ووٹر بجاتے ہیں۔انہوں نے بلیا کو اس لئے چنا کیونکہ یہاں غریبی ریکھا سے نیچے جینے والے 100میں سے صرف 8 خاندانوں کے گھر میں ہی رسوئی گیس جاتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں ای رکشہ بانٹ کر غریبوں کو تکنیک سے جوڑنے کی بات کہی۔ وزیر اعظم نے ملاحوں کو بھی ای بوٹ دیئے۔مودی نے کہا کہ ملک کی بد قسمتی ہے کہ جو بھی سرکاریں رہیں، وہ ووٹ بینک دیکھ کر اسکیمیں بناتی رہیں،لیکن بی جے پی سرکار غریب ، دلت اور کسانوں کے مفاد میں اسکیمیں بنارہی ہیں۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اگلے ہی دن بلیا پہنچ کر کہا کہ مرکزی سرکار نے سلنڈر دیا تو سماج وادی پارٹی سرکار گیس خریدنے کے لئے پیسے کا انتظام کرے گی۔ انہوں نے اپنے اس بیان کو سیدھے سیدھے انتخاب سے جوڑا اور کہا کہ 2017 میں پھر سے سماج وادی پارٹی کی سرکار بنی تو ہر غریب عورت کو پانچ سو روپے کی پنشن ملے گی، جس سے ہر مہینے گیس کا انتظام ہو جائے گا۔ اکھلیش یادو نے مودی کو یہ بھی سنایا کہ’ نیتی آیوگ‘ بننے سے صوبہ کے فائدوں کا نقصان ہو رہا ہے اور آیوگ یو پی کو کم پیسہ دے کر بھید بھاﺅ کر رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے ’مزدور دیوس‘ پر لکھنو میں سکریٹریٹ بلڈنگ میں کام کر رہے مزدوروں کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھاکر مڈ دے میل اسکیم کی شروعات کی۔اس اسکیم کے تحت لیبر ڈپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ مزدوروں کے لئے 10روپے میں دوپہر کا کھانا مہیا کرایا جائے گا۔ اس سے پہلے اکھلیش نے لیبر محکمہ کے پروگرام میں مزدوروں کے لئے پنشن اسکیم اور دس روپے میں مڈ دے میل اسکیم کی شروعات کی۔ اس موقع پر 100مزدوروں کو پنشن کے چیک اور 1000 مزدوروں کو سائیکلیں بھی دی گئیں۔
لیبر ڈپارٹمنٹ کے آفیسر نے بتایا کہ کھانا دینے سے ایک دن پہلے مزدوروں سے دس روپے لئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں ایک ٹوکن دے دیا جاتا ہے۔ اسی ٹوکن کی بنیاد پر انہیں اگلے دن کھانا دیا جاتاہے۔ ضلع میں تقریباً 80 ہزار مزدور رجسٹرڈ ہیں۔ آنے والے دنوں میں کچھ بڑی سڑک تعمیر ہونی ہے۔ ان جگہوں پر کیمپ لگا کر مزدوروں کا پہلے رجسٹریشن کیا جائے گا۔ کھانا اسکیم کے تحت کام کی جگہ پر دوپہر کے کھانا میں مزدوروں کو روٹی والے ٹفن میں 10-12 روٹی ، دو سبزی ، دال ، سلاد اور گڑ ملے گا۔ چاول والے ٹفن میں 400گرام چاول ، دال ، سبزی ، چھولا ، سلاد اور گڑ ہوگا۔ لیبر منسٹر شاہد منظور کہتے ہیں کہ ایک ٹفن کی قیمت 41روپے ہے ،لیکن مزدوروں کو یہ دس روپے میں دیا جا رہاہے۔ باقی 31روپے کی ادائیگی سرکار دیگر ذرائع سے کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت رائے بریلی روڈ پر این سی سی اودھ وہار، ہمالین انکلیو، حضرت گنج میں سچیوالے وہار اور لکھنو میٹرو بھی شامل ہے۔

چودھری جی ! اپنا بیان خود پڑھتے ہیں کہ نہیں ؟
سماج وادی پارٹی کے ریاستی ترجمان اور اکھلیش سرکار میں وزیر راجندر چودھری کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا تھا کہ 2016-17 سازش کا سال ہوگا ۔وہ سچ بن کر اجاگر ہو رہا ہے۔ ابھی اسمبلی انتخاب میں تقریباً ایک سال باقی ہے، لیکن دھوکے کی سیاست کرنے والوں کی سرگرمی صوبہ میں بڑھ گئی ہے۔ راجندر چودھری وزیر اعلیٰ کے بیان کا حوالہ اور دھوکے کی سیاست کے بیان کو ثابت کرنے والی کوئی مثال نہیں دے پاتے۔ کون سازش کررہا ہے یا کون دھوکے کی سیاست کر رہا ہے؟ اس سوال کا کوئی جواب نہیں مل پاتا ہے۔ جس سوال کا راجندر چودھری جواب نہیں دے پاتے، اسے وہ خود ہیکیوں اٹھاتے؟ یہ سوال پارٹی میں کوئی ان سے پوچھتا بھی نہیں ہے۔ اپنے سرکاری بیان میں چودھری آگے صرف اتنا ہی کہہ پاتے ہیں کہ کانگریس ، بی جے پی اور بہو جن سماج پارٹی کی سابقہ سرکاروں نے ترقی پر کام مسائل بڑھانے کا زیادہ کام کیا ہے۔ چودھری کے اس سرکاری بیان میں سازش کا سال اور دھوکے کی سیاست کے حقائق کا سِرا ڈھونڈ پانا ناممکن ہے، کیونکہ آگے کے بیان میں وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی اسکیموں کی چرچا ہے اور اس کی تعریف ہورہی ہے۔ جیسا کہ چودھری ہمیشہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے بیان میں سازش کا سال اور دھوکے کی سیاست کا حوالہ کہیں نہیں ہے۔ راجندر چودھری بیان تیار کرتے وقت اور اسے جاری کرتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ اس کا سِرا دلائل و حقائق سے جڑ بھی پارہاہے کہ نہیں ۔ اس سے سماج وادی پارٹی کے ترجمان کے بیان کو اخباروں میں برے ہی مضحکہ خیز طریقے سے لیا جارہاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *