اترا کھنڈ میں سیاسی کھیل، مودی کی تاناشاہی کا چرچا

راجکمار شرما
p-10bبی جے پی کے ذریعہ ’کانگریس سے پاک ہندوستان‘ کے تحت اترا کھنڈ میں صدر راج نافذ کئے جانے کے بعد سیاسی گلیاروں میں مودی سرکار کی اس تانا شاہی کا چرچا ہے۔ مودی سرکار ثابت کرنا چاہتی ہے کہ سیاست میں نہ باتیں سیدھی ہوتی ہیں نہ چالیں۔ اس لئے اترا کھنڈ میں عوام کے ذریعہ منتخب ہریش راوت سرکار کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، کانگریس نے اسے بڑی ناانصافی کہا ہے۔ 27تاریخ کو صدر راج لگانے کا فیصلہ خود وزیر اعظم مودی کے اشارے پر لیا گیا، جبکہ 28مارچ کو گورنر ڈاکٹر کرشن کانت پال کے ذریعہ ہریش راوت کو اکثریت ثابت کرنے کو کہا گیا تھا۔ سیاسی تجزیہ کار اس نتیجہ پر پہنچ رہے ہیں کہ بی جے پی کے قدآوروں کو اس بات کا اندیشہ تھا کہ راوت سرکار اسمبلی میں اکثریت ثابت کر لے گی تو سیدھے مودی کی سیاسی دور اندیشی پر سوال اٹھے گا۔ یہ صحیح ہے کہ کانگریس کے 9ایم ایل اے کے باغی ہونے سے سرکار کی اکثریت پر خطرہ پیدا ہو گیا تھا، یہ کوئی ایسا سنگین آئینی بحران نہیں تھا کہ صدر راج لگانے کا اعلان کیا جاتا، وہ بھی اتنی جلد بازی سے۔ اسمبلی اسپیکر کے ذریعہ باغی 9ایم ایل اے کی ممبر شپ ختم کرنے کے بعد اسمبلی کا ارتھمیٹک پوری طرح سے ہریش راوت کے حق میں تھا۔ 70 میں سے 9ایم ایل اے کے کم ہونے کے بعد اسمبلی کی تعداد61 رہ گئی، کانگریس کے 27 اور پی ڈی ایف کے 6 ایم ایل اے کو ملا کر ہریش راوت کو کل 33ایم ایل اے کی حمایت حاصل ہے۔ کانگریس کے پاس ایک نامزد ایم ایل اے بھی ہے۔ بی جے پی نے شاید اسی ارتھمیٹک سے خوف کھاکر صدر راج لگانے کا فیصلہ لیا۔ ارونا چل پردیش میں کانگریس سرکار کے رخصت ہونے کے مہینے بھر بعد اترا کھنڈ سے اسے ختم کردیا گیا اور اب انتظار ہے کہ اگلی باری کون سے صوبے کی ہے، منی پور یا ہماچل پردیش۔ کانگریس نے اس فیصلے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ نینی تال ہائی کورٹ نے 31مارچ کو اسمبلی میں ٹرائل آف اسٹرینتھ کا حکم دیا۔ سنگل بینچ کے اس فیصلے کو دو ججوں کی بینچ نے اب 11اپریل تک ٹال دیا ہے۔ اترا کھنڈ سرکار کو پریشانی میں ڈالنے والے باغی ایم ایل اے کی قسمت کا فیصلہ اب نینی تال ہائی کورٹ میں 11اپریل کو ہوگا۔ ایک اپریل کو ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سنوائی کو ٹال دیا گیا۔ اس طرح سے دیکھا جائے تو جس مسئلے کا حل مودی سرکار سیاسی طریقے سے کر سکتی تھی، اسے جان بوجھ کر عدالتی پینچ میں پھنسا دیا گیا۔
لوک سبھا انتخاب میں بری طرح شکست کھانے کے بعد بھی کانگریس کے پاس کم سے کم 8صوبوں میں سرکار ہونے کا سہارا تھا اور اس بات کا سکون کہ راجیہ سبھا میں بی جے پی اکثریت میں نہیں ہے۔ اتراکھنڈ کے عوام میں بس ایک ہی بڑا سوال اٹھ کھڑا ہے کہ صرف 10ماہ میں اترا کھنڈ میں انتخاب ہونے تھے۔ تب تک انتظار کیا جاسکتا تھا ۔انتخاب میں عوام فیصلہ سنا ہی دیتی کہ اسے کس کی سرکار چاہئے۔ اترا کھنڈ کے عوام کے مزاج کو دیکھتے ہوئے یہ بات صاف دکھائی دینے لگی ہے کہ 2017 میں ہونے والے انتخاب میں یہ کھیل پوری طرح سے بی جے پی کے لئے نقصان کاسودا ثابت ہوگا۔ صوبے میں گھوم گھوم کر راوت کا یہ کہنا کہ مجھے عوام نے نہیں ہٹایا،میرا قتل جناب مودی جی نے کیا ہے۔ یہ بات عوام کو سوچنے کو مجبور کررہی ہے۔ اس سچائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ برسراقتدار ہونے کے بعد سے راوت کی سیاسی چال کے سامنے امیت شاہ کی ہر چال کو صوبے میں مات ہی مل رہی تھی۔ ہمالیائی پیداوار، اندرا اما کے سستے بھوجن سے راوت کے صوبے میں لگاتار مضبوط پکڑ کا بنانا بی جے پی کی بوکھلاہٹ کی وجہ بنا۔ صوبے میں بی جے پی اپنے قدآوروں کے آپسی اختلاف کو اب تک روک نہیں سکی جس کی وجہ سے مودی کابینہ میں اب تک صوبے سے پانچ کے پانچ ممبر پارلیمنٹ دینے والے ایک بھی ممبر پارلیمنٹ کو وزیر بننے کا موقع نہیں ملا۔
والد کے نقش قدم پر وجے بہو گنا نے غداری کی تاریخ لوٹادی
اتراکھنڈ کے سینئر کانگریسی لیڈر وجے بہو گنا نے ایک بار پھر کانگریس کو بڑی مشکل میں ڈال دیا۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کی اتفاق رائے سے اترا کھنڈ میں بغاوت کے محرک وجے بہو گنا کے بیٹے ساکیت بہو گنا کو فوری طور سے کانگریس سے 6 سال کے لئے باہر کا راستہ دکھا کر یہ پیغام دے دیا ہے کہ کانگریس مستقبل میں اب کسی بہو گنا فیملی کے ممبر کی مدد نہیں کرے گی ۔دوسری طرف جمہوری طریقے سے چنی ہوئی سرکاروں کے خلاف جو تلواریں چلائی جارہی ہیں وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے’ کانگریس سے پاک ہندوستان‘ کے عزائم کا ایک حصہ ہے۔ یہ بات کانگریس کے قومی سکریٹری دگ وجے سنگھ نے ہری دوار میں جے رام سنستھا کے بڑے برہمچاری کے جنم اتسو پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی کے اشارے پر ملک کو مذہبی لڑائی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ وزیر اعظم نے عوام سے جو وعدہ کیا تھا اس پر پوری طرح ان کا ناکام ہونا، ان کی اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے مذہب کو ڈھال بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے مودی سرکار کے ذریعہ سیکولرازم کی اصطلاح اور آئین کے برعکس طرز عمل پر گہری تشویش ظاہر کی اور کہا کہ جو لوگ شاہ، مودی کی سازش کے شکار ہوکر کانگریس کے بغاوت کی راہ پر ہیں،انہوں نے بی جے پی کی فرقہ وارانہ پالیسیوں ے خلاف ووٹ حاصل کیا تھا۔انہیں اپنا راستہ نہیں چھوڑنا چاہئے۔ انہوں نے صاف کہا کہ جو لوگ گھر واپس آنا چاہتے ہیں وہ بغاوت کا راستہ چھوڑ کر گھر آئیں، ان کے لئے کانگریس کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *