کولکتا فلائی اوورکا سچ، لیڈروں نے آپس میں ہی بانٹ لئے تھے سارے ٹھیکے

ونے بہاری سنگھ

p-4کولکتا کے بڑا بازار علاقے کے ویویکانند روڈ پر بن رہے فلائی اوور کا ڈیڑھ سو میٹر کا حصہ گزشتہ 31 مارچ کو دن کے 12بج کر 32منٹ پر اچانک منہدم ہوگیا۔ بے حد خطرناک ڈھنگ سے گرنے والے فلائی اوور کے نیچے لوگوں سے بھری ایک بس ، تین ٹیکسیاں، تین پرائیویٹ کاریں، ایک ٹرک، دو موٹر سائیکلیں،دو ہاتھ سے کھینچے جانے والے رکشے اور ایک رکشہ وین دب کر پس گئے۔ اس حادثے میں جیسا کہ اعلان کیا گیا کہ 27لوگوں کی موت ہوئی ہے۔لیکن وہاں موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 50لوگ بری طرح زخمی ہو گئے جو مختلف اسپتالوں میں بھرتی ہیں۔ اس پل کو’ آئی وی آر سی ایل لمیٹیڈ‘ نام کی حیدرآباد کی کمپنی بنا رہی ہے۔ اس کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے۔ حادثہ کے اگلے ہی دن کولکتا ہائی کورٹ میں اس حادثہ کے خلاف ایک عوامی مفاد میں عرضی بھی داخل ہو گئی۔ عرضی کے داخل ہوتے ہی ریاستی سرکار نے اپنی ہی ایجنسی کولکتا میٹروپولٹین ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ایم ڈی اے) کے خلاف جانچ کا حکم دے دیا۔ اس کے دو انجینئروں سے پوچھ تاچھ ہوئی ہے۔ اس فلائی اوور کی تعمیر کے لئے سب کانٹریکٹ ان کمپنیوں کو دیا گیا ہے جو چھوٹی ہیں اور انہیں فلائی اوور بنانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔الزام ہے کہ سب کانٹریکٹ حاصل کرنے والی کمپنیاں برسراقتدار پارٹی کے لیڈروں یا ان کے رشتہ داروں کی ہیں۔
کے ایم ڈی اے کے چیئر مین صوبہ کے شہری ڈیولپمنٹ وزیر فرہاد حکیم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکہ تو سیدھے دیا نہیں جاتا،اب تو آن لائن ہو گیا ہے،اس لئے بد عنوانی کا سوال ہی نہیں اٹھتا،پل کے گرنے کے لئے مین کنسٹرکشن کمپنی ہی ذمہ دار ہے ۔اس حادثے پر آئی وی آر سی ایل کے ایک سینئر آفیسر نے جو کہا اس سے ملک نہیں پوری دنیا کے لوگ حیرت میں پڑ گئے،کمپنی کے گروپ ہیڈ(ایچ آر اور ایڈمنسٹریشن) کے پانڈورنگا رائو نے کہا کہ ’یہ بھگوان کا کام ہے(دس از ایکٹ آف گاڈ)‘۔ہم 27 سال سے کام کر رہے ہیں، آج تک ایسا حادثہ نہیں ہوا،لوگ حیرانی اور غم سے ڈوبے ہوئے اس آدمی کی باتیں سن رہے تھے۔ ادھر کے ایم ڈی اے کے لیبر یونین کے ایک سابق لیڈر (اپنا نام خفیہ رکھنا چاہتے ہیں) نے کہا کہ جب سے فرہاد حکیم کے ایم ڈی اے کے چیئرمین ہوئے ہیں، اس آفس کا سارا اختیار انہی کے پاس چلا گیا ہے۔ چھوٹی باتوں کا بھی فیصلہ وہی کرتے ہیں، یہاں افسران کچھ نہیں کرسکتے۔ انہی کا حکم کے ایم ڈی اے کا قانون ہے۔ ایک ٹینڈر کو کئی ٹکڑوں میں بانٹ دینا،نا تجربہ کار آدمی کو کام دے دینا ،اب کے ایم ڈی اے کا دستور بن گیا ہے۔ پل گرنے کے سالوں پہلے کے ایم ڈی اے کا ڈھانچہ چرمرا چکا ہے۔ یہ ادارہ ون مین شو بن گیا ہے ۔ادھر ترنمول کانگریس کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سارے الزامات جھوٹ ہیں۔سارے کام قانون کے مطابق ہوتے ہیں۔ جو لوگ فرہاد حکیم پر الزام لگا رہے ہیں،وہ انتخاب میں فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
آئی وی آر سی ایل لمیٹیڈ اپنے ناقص معیار اور عدم شفافیت کے لئے مشہور ہوتی جارہی ہے ۔اس کمپنی کے لئے کام کررہے دو مزدوروں کی 2009 میں موت ہو گئی تھی۔ اس لاپرواہی کو دیکھتے ہوئے گریٹرحیدآباد میونسپلٹی کارپوریشن اور لیبر ڈپارٹمنٹ نے جانچ کرائی تھی اور کمپنی کو پھٹکار لگائی تھی۔ اس کمپنی نے اس سے پہلے 2007 میں پڈیچری سرکار سے ٹھیکہ پر ایک کام لیا تھا جس میں سونامی طوفان سے متاثر لوگوں کے لئے 5,400 گھر بنانے تھے۔ اسے نام دیا گیا ’سونامی ہائوسنگ پروجیکٹ‘۔جب یہ پروجیکٹ مکمل ہوا تو اس کمپنی پر گھٹیا سامان کے استعمال کرنے اور ڈیزائن میں غیر قانونی ترمیم کرنے کا الزام لگا۔ مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی ) نے 2011 میں اس کمپنی ( آئی وی آر سی ایل لمیٹیڈ) کے خلاف معاملہ درج کر لیا۔ ایسی کمپنیوں کو بلیک لسٹیڈ کہا جاتاہے۔ اب سوال ہے کہ جس کمپنی کے خلاف سی بی آئی نے معاملہ درج کیا ہے، اسے اس فلائی اوور کو بنانے سے کیوں نہیں روکا گیا اور کیوں نہیں اس کا ٹھیکہ کسی اور بری کمپنی کو دیا گیا؟اس کا جواب جاننے کے لئے ہمیںپس منظر میں دیکھنا پڑے گا کہ یہ کمپنی کب سے پل بنا رہی ہے۔ ویویکانند روڈ فلائی اوور کی مجوزہ لمبائی ہے 2.2(دو دشملو دو)کلو میٹر۔ اس کے تعمیری کام کی ڈیڈ لائن یعنی کام پورا ہونے کی تاریخ 8بار بڑھائی جا چکی ہے۔کیا دو کلو میٹر سے کچھ ہی زیادہ لمبا فلائی اوور بنانے میں 8 سال لگتے ہیں؟اور وہ بھی اتنی ناقص تعمیر۔6 بار تاریخ بڑھنے کے بعد اسے فروری 2016 میں پوران ہونا تھا، جو نہیں ہو پایا۔ اس کے بعد مئی میں پورا ہونے کی بات کہی گئی۔ حیدرآباد کی اس کمپنی آئی وی آر سی ایل لمیٹیڈ کو یہ کام 24فروری 2009 کو دیا گیا، تب لیفٹ سرکار تھی اور وزیر اعلیٰ تھے بدھا دیو بھٹیہ چاریہ۔ اس کا بجٹ تھا 164کروڑ۔ اس کام کو پورا کروانے کی ذمہ داری کے ایم ڈی اے کی ہے، کیونکہ وہی امپلائمنٹ ایجنسی ہے،یعنی اسے ہی کام کی دیکھ بھال ، فنڈ مہیا کرانا ، وقت پر کام پورا کرنا تھا۔ فلائی اوور کے گرنے کے بعد ریاستی کانگریس صدر ادھیر چودھری نے کہا کہ اس حادثہ کے لئے کے ایم ڈی اے ذمہ دارہے۔
یہاں اگر ’ سنڈیکیٹ‘ کا چرچا نہ کیا جائے تو یہ رپورٹ ادھوری رہ جائے گی۔ سنڈیکیٹ میں وہ لوگ ہیں جو کسی بھی آفس یا فلائی اوور یا بلڈنگ کے لئے اینٹ، بالو ، سیمنٹ، چھڑ اور دیگر میٹریل آپ کو اپنے یہاں سے لینے کے لئے پابند کرتے ہیں۔چاہے آپ اپنا ہی مکان کیوں نہ بنا رہے ہوں۔ آپ کو بلڈنگکنسٹرکشن کا کام انہی کے یہاں سے لینا پڑے گا۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ کس کوالٹی کی چھڑ ہو یا اینٹ ہو یا سیمنٹ ہو۔ جو کوالٹی وہ دیں گے، آپ کو وہی لینا پڑے گا۔ قیمت بھی سنڈیکیٹ کے ہی لوگ طے کرتے ہیں۔ جب لیفٹ اقتدار میں تھا تو ان کے اپنے سنڈیکیٹ تھے۔ اب کئی سنڈیکیٹ کے لوگ برسراقتدار پارٹی سے جڑ گئے ہیں۔ الزام تو یہ بھی ہے کہ بڑے لیڈر بھی اس سنڈیکیٹ کے پیچھے ہیں۔ یہ کھیل بہت ہی چالاکی سے ہوتا ہے۔ اسی سنڈیکیٹ کے لوگ اس فلائی اوور کے لئے بھی تعمیری مواد دے رہے تھے۔
جن کمپنیوں نے سب کنٹریکٹ لے رکھا ہے،ان میں سب سے پہلا نام ’ سندھیا منی پروجیکٹ لمیٹیڈ ‘ کا ہے۔ یہ رجت بکشی کی کمپنی ہے جو ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر سنجے بکشی کے رشتہ دار ہیں۔ سنجے بکشی کی بیوی سمیتا بکشی ترنمول کانگریس کی ایم ایل اے ہیں۔ سندھیا منی پروجیکٹ نے ہی حادثہ والے دن کام کرنے والے مزدوروں کو فلائی اوور پر بھیجا تھا۔ پولیس کی نظر سندھیا منی پروجیکٹ اور رجت بکشی دونوں پر ہے۔ اس کمپنی کو سب کنٹریکٹ 2011 میں ملا، جب ترنمول کانگریس اقتدار میں آئی۔ایک اخبار کو دیئے بیان میں رجت بکشی نے کہا کہ ’دوسرے کئی لوگ ہیں جنہوں نے 2011اور 2012 کے بیچ سیاسی وجہوں سے سب کنٹریکٹ پایا ہے۔ میرا نام اس لئے گھسیٹا جارہا ہے کیونکہ میرا ٹائٹل بکشی ہے۔ میں تو صرف مزدور سپلائی کرتا ہوں۔ دیگر 20لوگ بھی سب کنٹریکٹر ہیں،ان کی بھی جانچ کی جائے۔
رونی کنسٹرکشن اگست 2011 میں بنی۔ اس کے ڈائریکٹر ہیں سمیر بھٹہ چاریہ و دیگر ۔بھٹہ چاریہ کہتے ہیں کہ ان کا ترنمول کانگریس کے کسی لیڈر سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔لیکن مقامی لوگ کہتے ہیں کہ بھٹہ چاریہ ششی پانجا(شیام پوکور کی ترنمول کانگریس کی ایم ایل اے) اور سمیتا بکشی (جوڑا سانکو کی ایم ایل اے ) کے کافی قریب ہیں۔ پڑوس کے ایک آدمی نے کہا کہ ’ سمیر بابو،ان کے بھائی پربیر بابو اور ان کے خاندان کے لوگ ان دونوں ایم ایل اے کے ساتھ اکثر دیکھے جاتے ہیں‘۔سمیر بھٹہ چاریہ کہتے ہیں کہ ’ ہم تو صرف مزدور سپلائی کرتے ہیں۔تعمیری کام دوسرے لوگ کرتے ہیں۔ ایم ایل اے ششی پانجا کا کہنا ہے کہ نہ تو میں نے کبھی رونی کنسٹرکشن کا نام سنا ہے اورنہ ہی سمیر بھٹیہ چاریہ کو جانتی ہوں۔ایسے ہی ماں کسنٹرکشن ، آشا کنسٹرکشن اور انیدیتا کنسٹرکشن ملا کر تقریبا 20 سب کنٹریکٹ ہیں جو اس فلائی اوور کی تعمیر سے جڑے ہیں۔ الزام ہے کہ یہ سبھی کمپنیاں ان لوگوں کی ہیں جو ترنمول کانگریس سے کسی نہ کسی شکل میں جڑے ہیں۔ الزام ہے کہ ناتجربہ کار سب کنٹریکٹر اس حادثے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ کے ایم ڈی اے کے ایک سابق ملازم نے کہا کہ سب لوٹ لینا چاہتے ہیں۔ فلائی اور کی کسے فکر ہے۔ بجٹ ہر سال بڑھ رہاہے۔لوگ ملائی کھا رہے ہیں۔ فلائی اوور میں مال نہیں لگایا گیا،اس لئے اس کا حصہ ٹوٹ کر گر گیا۔ اس حادثے میں جو اناتھ ہو گئے یا جو عورتیں بیوہ ہو گئیں ان کا اس طرح کی الزام تراشیوں اور ایک دوسرے کے سر پر ٹوپی ڈالنے کے غیر انسانی طریقے سے کیا لینا دینا۔

سرکا ر کو چلاتا ہے سنڈیکیٹ
مغربی بنگال کے ایک مقامی ٹی وی چینل کا اسٹنگ آپریشن چرچا میں ہے۔ چینل نے ودھان نگر کے میئر اور نیو ٹائون کے ایم ایل اے سوئے ساچی دت کا اسٹنگ کیا ہے، جس میں دت نے کہا ہے کہ سنڈیکیٹ کے 22ہزار لوگ ان کی جی جان سے مدد کررہے ہیں۔ وہ ووٹروں کو لائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ سی پی ایم ( بھاریہ کمیونسٹ پارٹی( مارکسوادی) اور بی جے پی کے پاس بھی سنڈیکیٹ ہیں۔ لیکن زیادہ تر ترنمول کانگریس کے لئے کام کررہے ہیں۔ کیونکہ یہ پارٹی ابھی اقتدار میں ہے۔
بہر حال، جس علاقے میں فلائی اوور گرا ہے، وہاں کی امیدوار سمیتا بکشی ہیں۔علاقے کے ایک آدمی نے کہا کہ برسراقتدار پارٹی کے لئے بینر اور جھنڈے اٹھانے والوں کی کمی نہیں ہے،لیکن یہ لوگ تب کہاں تھے، جب فلائی اوور کے متاثرین کے لئے راحت کام کام کیا جارہا تھا۔ملبے ہٹائے جارہے تھے ؟متاثرین کو اسپتال پہنچایا جارہا تھا؟ یہ تو گرودوارہ چھوٹا سکھ سنگت اور بڑا بازار ٹریڈرس ایسو سی ایشن کے رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے لوگ تھے جنہوں نے متاثرین کے لئے کھانا،پانی کا انتظام کیا اور تین دن تک لگاتار کام کرتے رہے۔ تب ہماری ایم ایل اے کہاں تھیں؟
فلائی اوور بنانے والی کمپنی آئی وی آر سی ایل لمیٹیڈ کے تقریباً 8لوگ یہ رپورٹ لکھے جانے تک گرفتار ہو چکے تھے۔ ان میں اے گوپال کرشن مورتی ( ڈائریکٹر آف آپریشن)، ایس کے رتنم( ڈی جی ایم ، پروجیکٹ مانیٹرنگ سیل) دو انجینئر( شیام منا اور ویدیوت منا ) جو حادثہ کے وقت بلڈنگ کی جانچ کررہے تھے شامل ہیں۔ پروجیکٹ ہیڈ، تنمے سیل کو پہلے ہی گرفتار کر لیاگیا تھا۔ اس کمپنی سے جڑے باقی تین لوگوں کو حادثے کے دوسرے دن ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ابھی بھی کئی لوگوں کی گرفتاری ہونی ہے۔ پولیس انہیں تلاش کررہی ہے۔ ریاستی سرکار نے ٹیکنیکل جانچ کمیٹی بنائی ہے جواس حادثے کے سارے پہلوئوں کی جانچ کرے گی اور متعلقہ لوگوں سے پوچھ تاچھ کرے گی۔کولکتا کا آئی وی آر سی ایل لمیٹیڈ کا قصبہ اور ویڈن اسٹریٹ کا دفتر سیل کردیا گیا ہے۔ فورنسک لیب نے جائے حادثہ سے نمونے لے لئے ہیں۔ ایک سینئر جانچ آفیسر کا کہنا ہے کہ ہم جانچ کریں گے کہ جب مزدوروں نے کہا کہ فلائی اوور سے پانی رس رہا ہے اور بولٹ بار بار گر رہے ہیں تب کس نے تعمیری کام جاری رکھا۔
جب فلائی اوور بننا شروع ہوا تو کے ایم ڈی اے کے کچھ انجینئروں نے صاف طور سے کہا تھا کہ جس طرح فلائی اوور کی تعمیر ہورہی ہے ،کوئی نہ کوئی حادثہ ہو سکتا ہے۔ اس کی تکنیک اور استعمال ہونے والے سامان کے تئیں بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے،لیکن اسے سرکار نے اور کنسٹرکشن کمپنی نے ہلکے میں لیا۔
آندھرا اور یو پی میںبلیک لسٹیڈ ہے کمپنی
مہندر اگروال
کولکتا کے باڑا بازار علاقے میں ہوئے فلائی اوور حادثے پر کئی سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔ برج بنا رہی کمپنی آندھرا پردیش اور اتر پردیش میں سالوں پہلے سے بلیک لسٹیڈ ہے۔یہ کمپنی حیدرآباد کی ہے اور خود اپنے ہی صوبہ میں بلیک لسٹیڈ ۔آئیے دیکھتے ہیں دو صوبوں میں کب اور کیوں بلیک لسٹیڈ ہوئی تھی کمپنی ۔
فلائی اوور بنانے والی حیدرآباد کی کمپنی آئی وی آر سی ایل اپنے ہی صوبہ (آندھرا پردیش) میں 2009 میں بَین کردی گئی تھی۔ کمپنی کو اسٹیٹ لیبر ڈپارٹمنٹ کی سفارش پر اگست 2009 میں بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا۔ فروری 2011 میں کمپنی کو اتر پردیش جل نگم کی سفارش پر اتر پردیش سرکار نے بھی بلیک لسٹ کر دیا۔ آئی وی آر سی ایل اور ایس پی ایم ایل نام کی کمپنیوں پر واٹر اینڈ سیوریج پروجیکٹ میں ناقص میٹریل استعمال کرنے کا الزام تھا۔ آئی وی آر سی ایل کمپنی این ٹی پی سی کے سابق سی ایم ڈی اروپ رائے چودھری کی سانٹھ گانٹھ سے میگا پاور پلانٹ کا کام کر رہی ہے، جہاں گزشتہ سال مارچ کے مہینے میں پورا کا پورا اسٹرکچر گر گیا تھا۔ اس میں این ٹی پی سی کو کروڑوں کا نقصان ہوا تھا۔ وہی اروپ رائے چودھری این ٹی پی سی سے ہٹنے کے بعد ممتا بنرجی کے صلاح کار بنائے گئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *