لاتور کے ذریعہ ملک کا مستقبل دیکھئے

ششی سیکھر/شفیق عالم
P-1ایسا کئی سالوں سے کہا جارہاہے کہ تیسری عالمی جنگ پانی کے لئے ہوگی۔ یہ عالمی جنگ کب ہوگی، کیسے ہوگی، یہ تو ابھی معلوم نہیں، لیکن ہمارے اپنے ملک میں پانی کو لے کر لڑائیاں ہونی شروع ہو گئی ہیں۔ گزشتہ دنوں مہاراشٹر کے لاتور شہر میں دفعہ 144 لگائی گئی۔ مدھیہ پردیش کے ٹیکم گڑھ میں ایک تالاب کے پانی کی سیکورٹی کے لئے بندوق بردار گارڈ تعینات کئے گئے۔ یہ سب اس لئے ہوا کیونکہ فی الحال ملک کے 12 صوبوں کے تقریباً 35 فیصد اضلاع بھیانک سوکھے کی زدمیں ہیں۔ کھیتی باڑی تو چھوڑیئے، پینے کے لئے پانی ملنا مشکل ہو رہا ہے۔ لاتور میں ٹرین سے پانی پہنچایا جارہا ہے۔ تاکہ لوگوں کو پینے کے لئے پانی مل سکے۔
ایسے حالات میں اب ذرا ملک کے ایک طاقتور مرکزی وزیر کا بیان پڑھئے۔ ’کیا سوکھا ہمارے ہاتھ میں ہے؟ جب بھگوان کی مرضی ہوگی، بارش ہوگی۔ بارش نہیں ہوگی، تب ہم وہ کام کریں گے جو ہمیں کرنا ہے‘۔یہ بیان ہے ملک کے ایک بڑے اور طاقتور مرکزی وزیر، وینکیا نائیڈو کا ۔ایک ذمہ دار مرکزی وزیر جب ایسا بولتا ہے تو مان لینا چاہئے کہ یہ حکومت کا اپنا موقف ہے۔ یعنی سوکھے کو لے کر نریندر مودی سرکار کیا سوچ رکھتی ہے، یہ اس بیان سے پتہ چلتا ہے۔ دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ ملک کے 12 صوبوں میں زبردست سوکھے کا عالم ہے۔ مرکزی سرکار نے خود مانا ہے کہ ملک کے دس صوبے سوکھے کی زد میں ہیں۔ پورے ملک کے تقریبا 40فیصد ضلعوں میں پانی کی کمی ہو گئی ہے ۔بوندیل کھنڈ میں پانی کی کمی سے برا حال ہے۔ وہاں سے تیزی سے نقل مکانی ہو رہی ہے۔ اڑیسہ میں کسانوں کی حالت قابل رحم ہو گئی ہے۔ کرناٹک میں کرشن ساگر باندھ خشک ہو چکا ہے۔ ادھر سینٹرل واٹر کمیشن نے ایک رپورٹ دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پورے ملک کے 91بڑے آبی ذخائر میں پانی کی سطح ابھی تک کی سب سے نچلی سطح پرآ گئی ہے۔ دوسری طرف پانی کی بربادی کو لے کر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ فکر مند ہیں، لیکن سرکار کی طرف سے ابھی تک کوئی بڑا اعلان سننے کو نہیں ملا ہے۔
بمبئی ہائی کورٹ نے بھی بی سی سی آئی کو ڈانٹ لگاتے ہوئے پوچھا تھا کہ جہاں ایک طرف ملک میں سوکھا ہے، لوگوں کے پاس پینے کو پانی نہیں ہے، وہیں دوسری طرف آپ آئی پی ایل کے نام پر تقریبا ً50 لاکھ لیٹر پانی کیسے بہا سکتے ہیں؟ کورٹ نے یہ سوال کیا کہ کھیل ضروری ہے یا لوگوں کی زندگی ؟ قابل غور بات ہے کہ جہاں مہاراشٹر کے لاتور میں لوگوں کے پاس پینے کا پانی نہیں ہے،وہیں مہاراشٹر میں ہونے والے آئی پی ایل میچ میں لاکھوں لیٹر پانی کا استعمال صرف میدان کی پیاس بجھانے کے لئے کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے سرکار کو پھٹکار لگاتے ہوئے پوچھا ہے کہ آپ سوکھے کی حالت سے نمٹنے کے لئے کیا کررہے ہیں۔ سوکھے کو لے کر سوراج ابھیان نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی۔ اسی عرضی پر سپریم کورٹ نے سنوائی کرتے ہوئے سرکار سے یہ سوال پوچھے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کو اس بات کے لئے بھی پھٹکار لگائی کہ منریگا کے تحت خشک سالی سے متاثرہ صوبوں کو مناسب فنڈ الاٹ کیوں نہیں کیا؟ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ابھی بھی ان صوبوں میں اوسطاً 48 دن کا ہی کام منریگا کے تحت مل پا رہا ہے۔ جبکہ قانوناً یہ سو دنوں کا ہونا چاہئے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے سنوائی کے دوران یہ بھی کہا کہ جب تک آپ مناسب فنڈ الاٹ نہیں کریں گے تب تک صورت حال میں کوئی بھی سدھار نہیں ہوگی۔ کورٹ نے یہ بھی بتایا کہ گجرات کے بھی 256 گائوں سوکھے سے دوچار ہیں۔ غور طلب ہے کہ مرکز کی طرف سے ان سوکھے سے دوچار صوبوں کو منریگا کے تحت اتنا فنڈ بھی نہیں بھیجا گیا ہے جو قانوناً ان کا حق تھا۔
لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لئے ہماری سرکار نے اب تک کیا قدم اٹھائے ہیں؟ اس میں مرکز کے ساتھ ساتھ تمام ریاستی سرکاریں شامل ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے زیادہ تر تالابوں کے حالات تجاوزات (encroachment) کی وجہ سے خراب ہو چکے ہیں۔ گائووں میں اب کنویں رہے نہیں۔ ریاستی سرکاریں اب کچی کی جگہ پکی نہریں بنا رہی ہیں۔ اٹل بہاری باجپئی جب وزیر اعظم تھے، تب انہوں نے ایک اسکیم شروع کرنے کی بات کہی تھی۔ یہ ندی کو جوڑنے کی اسکیم تھی۔ آج وہ اسکیم کہاں ہے، کس حال میں ہے، کسی کو نہیں معلوم۔ اگر اس اسکیم پر کام ہوا ہوتا، تو آج کم سے کم اتنی خراب صورت حال دیکھنے کو نہیں ملتی۔
سرکار کی جانب سے خشک سالی سے متاثر علاقوں میں منریگا کے تحت کم سے کم 50 اضافی دنوں کا کام دینے کی بات کہی گئی ہے،لیکن جب سرکار کے اعدادو شمار ہی خود بتاتے ہیں کہ اوسطاً 48 دنوں سے زیادہ کا کام نہیں مل پاتا اور سرکار نے منریگا کے تحت الاٹ فنڈ بھی متعلقہ ریاستی سرکاروں کو نہیں دیا ہے تو ایسے میں اضافی پچاس دن کا کام دینے کی بات پر کیسے یقین کیا جاسکتا ہے؟ اس کے علاوہ سرکار نے خشک سالی سے متاثر علاقے میں ڈیژل سبسڈی دینے، بیج سبسڈی دینے، اضافی چارہ فراہم کرانے کے پروگرام کی بات کہی ہے، لیکن یہ سب آج کہیں بھی زمین پر اترتا نہیں دکھائی دے رہاہے۔ پھر سوال یہ بھی ہے کہ خشک سالی سے متاثر علاقوں میں پانی کی فراہمی کیسے یقینی ہو۔ منریگا کے تحت واٹر ہارویسٹنگ اسٹرکچر کی تعمیر کی بات تو سرکار کرتی ہے لیکن اصلیت اس کے ٹھیک برعکس ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ مہاراشٹر میں واٹر شیور کی تعمیر کے بعد بھی مہاراشٹر کا دو فیصد سے بھی کم علاقہ سیراب زمین کے تحت آتا ہے۔ سوال ہے کہ مختلف سرکاروں کی طرف سے بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لئے کیا کوئی قدم اٹھائے گئے ہیں؟
بہر حال، ابھی مانسون کے آنے میں ڈیڑھ مہینے کا وقت ہے۔ ویسے تو محکمہ موسمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ اس بار بارش نارمل سے زیادہ ہوگی، لیکن اس ڈیڑھ مہینوں کے دوران لاتور ، بندیل کھنڈ جیسے علاقوں کا کیا ہوگا؟ سوکھا تقریباً آدھے سے زیادہ صوبوں کو متاثر کر رہا ہے۔ مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ میں کئی علاقوں میں پانی کے لئے لوگ صبح سے لائن میں لگتے ہیں، پھر بھی انہیں پانی نہیں مل پا رہا ہے۔ لاتور کے لئے تو اسپیشل ٹرین سے پانی بھیجا جارہا ہے لیکن وہ بھی ناکافی ہے۔ مراٹھواڑہ سے لوگ نقل مکانی کرکے ممبئی میں پناہ لے رہے ہیں۔ وہاں گھاٹ کوپر کے میدان میں، کھلے آسمان کے نیچے لوگ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پانی کی کمی کی وجہ سے اسکول، اسپتال سب جگہ نفسا نفسی کا عالم ہے۔ لاتور میں تو باقاعدہ پولیس نگرانی میں پانی کی تقسیم ہورہی ہے، کیونکہ پانی کو لے کر لوگوں کے بیچ جھڑپیں ہونی شروع ہو گئی ہیں۔ بندیل کھنڈ کے باندہ میں اگر آپ جاتے ہیں تو وہاں تقریبا 70 فیصد گھروں میں آپ کو تالے لٹکے ملیں گے۔ وجہ ،وہی پانی کا فقدان۔ مجبوری میں لوگ گھر میں بوڑھے ماں باپ ،جانور وں کو چھوڑ کر نقل مکانی کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ مشرقی اتر پردیش سمیت جنوبی بہار کے بھی کئی علاقوں میں پانی کی کمی کی خبریں آرہی ہیں۔ اڑیسہ میں بھی سوکھے کی حالت ہے۔ یہاں کے 21 ضلعوں کے 139 بلاکوں میں سوکھے کی صورت حال ہے۔ بالاسور، بولانگیر، کٹک، گنجام، جاجپور، میوربھنج اور پوری میں کسانوں کی حالت خراب ہے۔ کسانوں نے تو اب عوامی پُشتوں کو توڑنا شروع کر دیا ہے تاکہ ان کے کھیتوں کو پانی مل سکے۔ کرناٹک میں کرشنا ساگر باندھ میں پانی ہی نہیں ہے۔ شمالی کرناٹک میں لوگ ٹینکر کے بھروسے ہیں۔ جو ہفتہ میں صرف تین دن پینے کا پانی دیتا ہے۔ میسور اور بنگلور جیسے شہروں کی حالت یہ ہے کہ اب وہاں صرف دو مہینے کا ہی پانی بچا ہے۔ دو مہینے بعد، اگر بارش نہیں ہوئی تو ان شہروں میں بھی لوگوں کو پینے کا پانی نہیں مل سکے گا۔ 31 مارچ 2016 تک ملک کے 91 اہم واٹر اسٹوریج کی صلاحیت کو دیکھیں تو 91 آبی ذخائر میں 39.651 بی سی ایم ( ارب مکعب میٹر) پانی کا ذخیرہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ان آبی ذخائر کی کل صلاحیت کا محض 25فیصد ہے۔ ان 91آبی ذخائر کی ذخیرہ اندوزی کی کل صلاحیت 157.799 بی سی ایم ہے، جو ملک کی متوقع کل آبی ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت کا تقریبا ً 62فیصد ہے۔ اب ذرا مغربی علاقے ، وسطی علاقے اور جنوبی علاقے کے آبی ذخائر میں موجود پانی کی حالت دیکھئے۔ مغربی علاقے میں گجرات اور مہاراشٹر آتے ہیں۔ اس علاقے میں 27.07 بی سی ایم کی کل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت والے 27 ذخائر ہیں، جو سی ڈبلیو سی یعنی سینٹرل واٹر کمیشن کی نگرانی میں ہیں۔ ان آبی ذخائر میں ابھی کل صلاحیت کا صرف 21فیصد پانی ہی دستیاب ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 40 فیصد تھا۔ وسطی علاقے میں اتر پردیش ، اتراکھنڈ ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ آتے ہیں۔ اس علاقے میں 12آبی ذخائر ہیں۔ جو سی ڈبلیو سی کی نگرانی میں ہیں اور اس میں کل صلاحیت کا صرف 32 فیصد پانی موجود ہے۔ وہیں جنوبی علاقے یعنی آندھرا پردیش ، تلنگانہ ، کرناٹک ، کیرل اور تمل ناڈو میں سی ڈبلیو سی کی نگرانی میں 31 آبی ذخائر ہیں، اور اس میں ان 31آبی ذخائر کی کل صلاحیت کا محض 17فیصد پانی ہی دستیاب ہے۔ یعنی آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ملک کے 91 بڑے آبی ذخائر میں پانی کی سطح ابھی کیا ہے؟
یہ سوچنے والی بات ہے کہ آخر ایسا دن ہمیں دیکھنا کیوں پڑ رہا ہے؟ اس میں غلطی کس کی ہے؟ یہ مسئلہ صرف جغرافیائی یا ماحولیاتی وجہوں سے پیدا ہوئی ہیں یا پھر یہ مسئلہ انسانی عمل کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے ۔اس کا سیدھا سا جواب یہی ہے کہ یہ مسئلہ صرف اور صرف انسانی عمل کی وجہ سے ہی ہے۔ اس میں اگر ماحولیاتی وجہ بھی ہے تو وہ انسانی مداخلت کی وجہ سے ہی خراب ہوئی ہے۔ سب سے پہلے تو ہم نے اپنے روایتی آبی ذرائع، پانی کو جمع کرنے کے طریقوں کو کھوتے گئے۔ جنگلوں کی کٹائی، بے تحاشہ بڑھتے کنکریٹ کے جنگلوں نے باقی کا کام کر دیا۔ تالابوں پر غیر قانونی قبضے سے پانی کا یہ بھی ایک ذریعہ ختم ہوتا چلا گیا۔ کھیتی کے بدلتے طریقوں، کیمیائی کھادوں کے بڑھتے استعمال ، کھیتی کے لئے زیر زمین پانی کا اخراج، ان سب نے بھی پانی کا بھرپور اخراج کیا۔ مثلاً مہاراشٹر کے سوکھا متاثرہ علاقوں میں گنے کی کھیتی کرنا کہاں تک جائز مانا جاسکتا ہے، جس میں بھاری مقدار میں پانی کی کھپت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پیکجڈ واٹر ( بوتل بند پانی ) کے کاروبار نے بھی زیر زمین پانی کا اخراج کیا ہے۔ ایک طرف جہاں ملک میں لگاتار پانی کی کمی ہورہی ہے وہیں دوسری طرف بوتل بند پانی کا کاروبار کھربوں روپے کا ہو چکا ہے۔ یہ کمپنیاں عام طور پر زیر زمین پانی کا ہی استعمال کرتی ہیں۔ سوال ہے کہ جس ملک میں کروڑوں لوگوں کو پینے کا پانی اس وجہ سے نہیں مل رہا ہو کہ زمین کے اندر کا پانی سوکھ گیا ہے، وہاں سرکار کیسے پانی کاروبار کو چلنے دے رہی ہے؟ یہ غیر انسانی ہے، شرمناک ہے اور جینے کے بنیادی حق کی توہین بھی ہے۔
اب ذرا ہم ایک خیالی تصویر دیکھتے ہیں۔ مان لیجئے، اگلے ایک مہینے کے اندر آنے والا مانسون فیل ہو جاتا ہے، گرمی کا پارا اسی طرح سے بڑھتا رہا تو کیا ہوگا؟ ملک کے 40فیصد ضلعوں کے لوگوں ،کسانوں اور جانوروں کی حالت کیا ہوگی؟ ظاہر ہے، فصل نہیں ہوگی، فصل نہیں ہوگی تو کسان زیادہ تعداد میں خود کشی کریں گے۔ اناج ، سبزیوں کی قیمت بڑھے گی۔ کیا اس ملک کے عوام اس سب کے لئے تیار ہے؟ ’چوتھی دنیا‘ نے ملک میں سوکھے کے حالات کی ایک گرائونڈ رپورٹ تیار کی ہے۔ بہار ، جھارکھنڈ مہاراشٹر، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ سے ’چوتھی دنیا ‘رپورٹروں نے جو گرائونڈ رپورٹیں بھیجی ہیں، انہیں اس شمارے میں شائع کیاگیا ہے۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ سوکھے کی حالت کتنی بھیانک ہے اور اگر وقت رہتے سرکاروں نے مناسب قدم نہیں اٹھائے اور اگر بد قسمتی سے مانسون فیل ہوا یا کمزور ہوا تو آنے والا وقت نہ صرف کسانوں بلکہ ہمارے اور آپ کے لئے بھی بہت خوفناک ہے۔
باکس:
’ندی جوڑو ‘ منصوبوں کا کیا ہوا
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جو جغرافیائی اعتبار سے بھی متنوع ملک ہے۔ یہاں ریگستان ، سمندر، پہاڑ سے لے کر ہموار زمینیں ہیں۔ ندیوں کی کثرت ہے۔ ہر سال ملک کے ایک حصے میں جہاں سیلاب کا پانی کچھ صوبوں کو برباد کرتا ہے۔ وہیں سوکھے کی مار بھی پڑتی ہے۔ ندیوں کا زیادہ تر پانی سمندر میں جا کر نہ کھیتی کے لائق بچتا ہے نہ پینے کے لائق۔ انہی ،جغرافیائی تنوع کی وجہ سے اس ملک میں پانی ایک ایسی چیز بن گیا ہے جو سب کے لئے مصیبت کا سبب بنتا جارہاہے۔ دوسری طرف ماحولیاتی وجہوں سے پانی کے قدرتی ذرائع پر اثر تو پڑ ہی رہاہے، بارش کے پانی کو بھی جمع کرنے میں ہم ناکام رہے ہیں۔ جنگل کی کٹائی، کنکریٹ کے بڑھتے جنگل، زمین کا تحفظ، آلودگی کی وجہ سے موسم چکرمیں تبدیلی وغیرہ نے مل کر ہندوستان جیسے ملک میں پانی کی کمی پیدا کر دی ہے۔ باوجود اس کے ہماری ندیوں میں اتنا پانی ضرور ہے جس سے کہ لاتور یا بندیل کھنڈ جیسے علاقوں میں پیدا ہونے والی خشک سالی سے نمٹا جا سکے۔ اس کے لئے بہت پہلے سے ندی جوڑو اسکیم کی بات کہی جارہی ہے۔ اٹل بہاری باجپئی جب وزیر اعظم تھے تب بھی انہوں نے ملک کی اہم ندیوں کو جوڑنے کی بات کہی تھی۔ اس اسکیم کا مقصد صرف اتنا تھا کہ ندیوں کو جوڑنے سے پانی کا صحیح جگہ پر، صحیح وقت پر صحیح استعمال ہو سکے گا۔ 15سال بعد بھی اس اسکیم پر مرکزی سرکار کی طرف سے کوئی ٹھوس پہل ہوتا ہوا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ حالانکہ کچھ صوبوں میں ایسی شروعات ہوئی ہے۔ آندھرا پردیش میں گوداوری اور کرشنا کو جوڑنے کے لئے اسکیم بنی ہے۔ اس اسکیم سے کرشنا ڈیلٹا علاقے کے کسانوں کو بہت راحت ملے گی۔ گوداوری کا بہت سارا پانی ہر سال بنگال کی کھاڑی سے مل کر برباد ہو جاتا ہے۔ غور طلب ہے کہ جہاں ملک میں ایک طرف کیرل، تمل ناڈو، کرناٹک کاویری ندی کے پانی کو لے کر، ہریانہ ، دلی اور پنجاب جمنا کے پانی کو لے کر ہمیشہ آپس میں الجھے رہتے ہیں، وہاں آج بھی ندیوں کو جوڑنے کی اسکیم پر ایمانداری سے کام نہیں ہو پارہا ہے۔ اگر اس اسکیم کو ایمانداری سے پورا کر لیا جاتا ہے تو آنے والے وقت میں سیلاب اور سوکھے سے راحت ملنے کی امید کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ پن بجلی پیداوار بھی بڑی مقدار میں ہو سکے گی۔
اگر مانسون فیل ہوا تو
جیسے جیسے سورج کی تپش بڑھتی جارہی ہے، ملک میں پانی کا مسئلہ بھیانک شکل لیتا جارہاہے۔ ملک کے کئی صوبے بھیانک سوکھے کی زد میں ہیں۔ آبی سطح اتنا نیچے جاچکی ہے کہ ریت نچوڑ کر پیاس بجھانے کی کہاوت لفظ بہ لفظ صحیح ثابت ہورہی ہے۔ ایسے میں سب کی نگاہیں ایک اچھے مانسون پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اگر اس سال مانسون اچھا ہو گیا تو اس سے نہ صرف پیاسی زمین کو راحت ملے گی بلکہ گزشتہ دو برسوں سے بارش کی کمی کی وجہ سے متاثر ہونے والی خریف فصل کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔ لیکن مانسون ایک ایسی پہیلی ہے جسے ماہرین موسمیات آج تک نہیں سلجھا سکے ہیں۔ لہٰذا اس کی پیشن گوئی کا کوئی بھی کارگر طریقہ نہیں دریافت کیا جاسکا ہے۔ کچھ سائنس داں آب و ہوا میں بدلائو کو خراب مانسون کی بنیادی وجہ مان رہے ہیں تو کچھ ا ل نینو (Al Nino)کو۔ ال نینو کی صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بحر اوقیانوس (Pacific Ocean)میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت کافی اونچا ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہندوستان میں آنے والا جنوبی مغربی مانسون متاثر ہوتا ہے۔
بہر حال، جس طرح سے ہندوستان کی ندیاں ،ہندوستان کی جیون ریکھا ہیں، بالکل اسی طرح مانسون ہندوستان کی زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ ملک میں 75 فیصد پانی کی آمد بارش سے ہوتی ہے، جو کھیتی اور غیر زرعی سیکٹرمیں پانی کی دستیابی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ آج بھی ہندوستان کی آدھی سے زیادہ آبادی کھیتی پر منحصر ہے۔ ایسے میں خراب مانسون کے خیال سے ہی کسانوں کا دل دہل جانا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ دراصل اس میں کوئی شک نہیں کہ مانسون کی بارش ہر سال نارمل نہیں ہوتی اور اس میں علاقائی فرق بھی ہوتا ہے ۔اس لئے ملک میں سوکھے کی موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ سوال اٹھانا لازمی ہے کہ اگر اس سال مانسون اچھا نہیں ہوا تو اس کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟ اس صورت سے نمٹنے کے لئے سرکار کون سے قدم اٹھائے گی؟ پہلے ہی سے قرض کی وجہ سے خود کشی کر رہے کسانوں پر کیا اثر پڑے گا؟
دراصل، یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ ہندوستان میں ایسے بہت کم مواقع آئے ہیں جب لگاتار دو سالوں تک مانسون ناکام رہاہے۔ 1986-87 کے بعد 2014-15 میں ایک بار پھر ملک میں لگاتار دو سال نارمل سے کم بارش ہوئی ہے۔ روبرٹ ڈی کپلان اپنی کتاب ‘مانسون’ میں لکھتے ہیں کہ غیر معتدل مانسون کی وجہ سے بارش پر منحصر ملک کے تقریبا دو تہائی کھیتی اور اس کھیتی سے جڑے کسان بری طرح سے متاثر ہو رہے ہیں۔ کیونکہ اگر بارش بہت کم ہوگی تو سوکھے کی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ نتیجے میں زرعی پیداوار متاثر ہوگی اور کسانوں کی آمدنی پر بٹہ لگے گا۔ اشیائے خوردنی کی قیمتیں بھی بڑھیں گی۔ ظاہر ہے اس کا بڑا اثر ہوگا لیکن اس کی سب سے زیادہ مار کم آمدنی والے طبقے کے لوگوں پر پڑے گی۔
بہر حال ،گزشتہ کچھ سالوں سے مانسون کی ناکامی کو پہلے سے زیادہ محسوس کیا جارہاہے۔ حالانکہ سبز انقلاب کے بعد سے خراب مانسون کا وہ اثر دیکھنے کو نہیں ملا، جو آزادی سے پہلے دیکھنے کو ملتا تھا، لیکن معاشیات کے ماہرین مانتے ہیں کہ 1980 کی دہائی کے آخری برسوں کے بعد سے غیر معتدل مانسون کی وجہ سے اشیائے خوردنی کی پیداوار میں عدم استحکام آیا ہے۔ ایک دیگر مطالعہ کے مطابق سوکھے والے برسوں میں زرعی پیداوار میں حتمی کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ 1979-80,1987-88,اور 2002-03 کے سوکھے والے سالوں میں اشیائے خوردنی کی پیداوار میں 3سے 13فیصد تک کی گراوٹ درج کی گئی۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ مانسون کی صورت حال پورے ملک میں ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کے الگ الگ علاقوں میں زرعی پیداوار میں کمی ایک طرح کی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر 2005-06 میں بہار میں اشیائے خوردنی کی پیداوار میں 38 فیصد گراوٹ درج کی گئی تو اسی سال راجستھان میں یہ گراوٹ 13 فیصد تھی۔ اس لئے مانسون کی ناکامی پورے ملک میں ایک جیسی نہیں رہتی۔ ہندوستانی مانسون کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ شمال مشرقی صوبوں کو چھوڑ کر ملک کا ہر صوبہ کبھی نہ کبھی سوکھے سے متاثر ضرور رہتاہے۔ سوکھے کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح کافی نیچے چلی جاتی ہے۔ خاص طور پر، اگر لگاتار کئی برسوں سے مانسون کی بارش کم ہوتی ہے تو آبی ذخائر اور پانی کے دوسرے ذرائع میں پانی کی کمی ہوگی۔ نتیجتاً گرائونڈ واٹر ریچارج نہیں ہوگا۔ یہ صورت حال سنگین طور سے سوکھا سے متاثر ضلعوں میں دیکھنے کو مل رہی ہے، جہاں کنویں اور ہینڈ پمپ سوکھ گئے ہیں اور سرکار کو دوسری جگہوں سے وہاں پانی کی فراہمی کرنی پڑتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکار بارش کی کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لئے کیا کرسکتی ہے؟ اس شعبے میں سب سے پہلے اسے مانسون کی پیشن گوئی کے سسٹم کو غلطیوں سے پاک سسٹم بنانا ہوگا،کیونکہ پورے ہندوستان کی سطح پر تو مانسون کا صحیح اندازہ لگانا تقریبا ممکن ہو گیاہے،لیکن اس کا فائدہ کسانوں کو اس لئے نہیں مل پاتا ہے کیونکہ علاقائی سطح ابھی بھی اس کی صحیح پیشن گوئی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ اس لئے کبھی کم بارش کی وجہ سے تو کبھی زیادہ بارش کی وجہ سے کسانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ نتیجتاً قرض میں ڈوبے کسان خود کشی کرنے کو مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس صورت سے نمٹنے کا ایک طریقہ کھیتی پر منحصر کسانوں کو متبادل روزگار کے موقع فراہم کرانا بھی ہے۔ سرکاری سطح پر اشیائے خوردنی کے لئے زرعی شعبے پر خاص دھیان دینا ہوگا۔ حالانکہ اس سال وزیر مالیات نے اپنے بجٹ اسپیچ کے بڑے حصے کو زراعت پر مرکوز رکھ کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ان کی سرکار زرعی شعبے کے مسائل کو لے کر کافی سنجیدہ ہے۔ لیکن ملک میں نیولبرل اقتصادی پالیسی اپنائے جانے کے بعد سے نظر انداز کئے جانے والے ملک کے 60فیصد لوگوں کو زندہ رہنے کے وسائل فراہم کرنے والے اس شعبے کے لئے ٹھوس اعلان انہوں نے بھی نہیں کیا۔
دراصل، مانسون کی وجہ سے سوکھے کی صورت سے نمٹنے کے لئے اگر سرکار نے وقت رہتے ہوئے مناسب قدم نہیں اٹھائے تو نہ صرف اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ کسانون کی خود کشی بھی جاری رہے گی اور ملک میں پینے کے پانی کا بحران مزیدگہرا ہو جائے گا۔
ہمارے تالاب کہاں گئے۔
ملک میں سوکھے کی وجہ سے جو پانی کا بحران پیدا ہوا ہے، اس کے لئے صرف مانسون ؍ بارش کو قصوروار ٹھہرانا ٹھیک ہیں ہے۔ کیونکہ بہت کم ایسے مواقع آئے ہیں جب ملک کے کسی ایک علاقے میں لگاتار دو سال تک مانسون کی بارش نارمل سے کم ہوئی ہو۔ ملک کے جن علاقوں میں پانی کے بحران کی تاریخ رہی ہے، وہاں لوگوں نے پانی بندوبست کے اپنے مقامی طریقے تلاش کر لیے تھے۔ ان طریقوں میں تالابوں کی تعمیر اور قدرتی جھیلوں کا تحفظ شامل تھا۔ تالابوں اور جھیلوں سے جہاں ایک طرف پینے اور کھیتوں کی سینچائی کا پانی ملتا تھا، وہیں ان میں لمبے وقت تک پانی جمع رہنے کی وجہ سے آس پاس کی زیر زمین پانی کی سطح بھی اونچی رہتی تھی۔ ان جھیلوں اور تالابوں کے آس پاس کے کنویں بہت نادر حالت میں ہی سوکھتے تھے۔ دراصل ایسے آبی ذرائع ہر شہر اور ہر گائوں میں ہوتے تھے، جہاں برسات کے بعد بھی پانی جمع رہتا تھا۔ لیکن اب ان میں سے بہت سے آبی ذرائع پر غیر قانونی قبضہ جما لیا گیا ہے، یا اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مارتے ہوئے لوگوں نے ان آبی ذخائر کو کوڑا دان بنا کر کوڑے سے بھر دیا ہے۔ صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ اور کئی صوبوں کے ہائی کورٹس کو اس میں مداخلت تک کرنی پڑی ۔
اگست 2006 میں ایک معاملے کی سنوائی میں سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ قدرتی آبی ذرائع کا تحفظ بنیادی حق ،یعنی زندگی کا حق ہے، جس کا اہتمام آئین کی دفعہ 21 میں کیا گیا ہے۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کی بینچ نے کہا تھا کہ قدرتی آبی ذرائع کا نہ صرف تحفظ ہونی چاہئے بلکہ اگر وہ استعمال میں نہیں ہیں تو انہیں بحال کرکے استعمال کے قابل بنانا چاہئے۔ کورٹ نے یہ بھی کہا کہ آبی ذرائع کا تحفظ اور بحالی کی ذمہ داری سرکار کی ہے۔ اس سلسلے میں جو عرضی دائر کی گئی تھی، اس میں گائووں میں ہائی ویز سے لگے تالابوں اور پانی کے ذرائع پر طاقتور بلڈر مافیائوں کے ذریعہ غیر قانونی طور سے قبضہ کیا جانے کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ حالانکہ عرضی کنندہ نے جس معاملے کو لے کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، اس میںاسے راحت نہیں ملی۔
ستمبر 2014 میں مدراس ہائی کورٹ کی مدورائی بینچ نے اپنے فیصلے میں سرکار کو حکم دیا تھا کہ سرکار آبی ذرائع پر تعمیر ی کام کی منظوری نہیں دے۔ اگست 2014 میں ہی پانی جمع کرنے سے متعلق ایک عوامی مفاد کی عرضی (پی آئی ایل) پر اپنے فیصلے میں دلی ہائی کورٹ کی ایک بینچ نے دلی جل بورڈ کو وہاں موجود قدیم باولیوں اور تالابوں کی قابل رحم حالت کی طرف دھیان دلاتے ہوئے یہ تبصرہ کیا تھا کہ اگر پانی کی کمی ایسے ہی ہوتی رہی تو پانی کے لئے جنگ ہونے میں بہت وقت نہیں ہے۔ اپریل 2013 میں سپریم کورٹ نے کانپور دیہات کے افسروں کو حکم دیا کہ ضلع میں آبی ذرائع پر ہورہے تجاوزات کو روکیں ۔ اس طرح کے کئی اور فیصلے ہیں، جو آبی ذرائع کے تحفظ اور ان کی بحالی کی بات کرتے ہیں۔ اخباروں میں چھپی رپورٹوں کے مطابق ملک میں کئی جگہوں پر تالابوں اور جھیلوں کی بحالی کا کام بھی چل رہا ہے ۔ سرکاریں بھی گزشتہ کچھ برسوں کے دوران اس کے لئے قدم بڑھا رہی ہیں۔ مثال کے طور پر 2004 کے بجٹ میں اس وقت کے وزیر مالیات پی چدمبرم نے زراعت سے جڑے آبی ذرائع کی بحالی کے لئے آر آر آر ( ریپیئر، رینو ویٹ اینڈ ری اسٹور ) نام کا ایک منصوبہ شروع کیا تھا، جس کے لئے دسویں اسکیم میں فنڈ الاٹمنٹ بڑھا دیا گیا تھا۔ اسی طرح موجودہ سال کے بجٹ میں پانی کے ذخائر کو منریگا سے جوڑنے کی بات کی گئی ہے۔
لیکن گزشتہ کچھ دہائیوں سے ہو رہے اندھا دھند شہر کاری (urbanisation) نے آبی ذرائع کو کوڑے دان میں بدل دیا ہے ۔ سب سے حیرانی والی بات یہ ہے کہ آبی وسائل پر پارلیمنٹ کی اسٹنڈنگ کمیٹی نے اپنی 2012-13کی رپورٹ میں کہا تھا کہ ملک کے زیادہ تر آبی ذرائع پر نگر نگموں اور پنچایتوں نے تجاوز کیا ہوا ہے۔ 2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک سال کے اندر اتر پردیش میں لگ بھگ ایک لاکھ آبی ذرائع تجاوزات کا شکار ہوئے ۔ اب جب سرکاری اداروں کایہ حال ہے تو زمین مافیا اور دوسرے انکروچرس کا کہنا ہی کیا۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ روایتی آبی ذرائع کے بے شمار فائدے ہیں۔ جہاں اس سے ایک طرف کسانوں کو سینچائی کا سستا ذریعہ مل جاتا ہے، وہیں یہ آب و ہوا کے لئے مفید بھی ہیں۔ اس سے پانی ذخیرہ بھی ہوتا ہے اور زیر زمین پانی بھی ریچارج ہوتا رہتا ہے۔ لہٰذا اگر ان ذرائع کو پوری طرح سے بحال کر لیا جاتاہے تو پانی کے بحران کی سنگینی میں ضرور کمی آئے گی اور اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو جیسا کہ دلی ہائی کورٹ نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ پانی کی لڑائی ہونے میں زیادہ وقت نہیں ہے۔ حالانکہ ان عدالتی فیصلوں کے بعد بھی تجاوزات کا سلسلہ جاری ہے۔

ملک کے مختلف حصوں میں سوکھے کی صورت حال پیدا ہونے کا ممکنہ وقفہ:

2.5 سال میں ایک بار
مغربی راجستھان، رائل سیما، تلنگانہ، ہریانہ، چندی گڑھ،دلی

3سال میں ایک بار
مشرقی راجستھان، گجرات، جموں و کشمیر ،تمل ناڈو،پانڈیچری، مغربی اتر پردیش

4سال میں ایک بار
شمالی (اندرونی) کرناٹک، اترا کھنڈ، ودربھ
5
5سال میں ایک بار
بہار، آندھرا پردیش، مشرقی اتر پردیش، مغربی بنگال، جھارکھنڈ، کیرل، اڑیسہ، جنوبی (اندرونی) کرناٹک، وسطی مہاراشٹر، مغربی مدھیہ پردیش

15سال میں ایک بار
اروناچل پردیش، آسام، میگھالیہ، ناگالینڈ، منی پور، میزورم، تریپورہ،
(حوالہ : اگریکلچر منسٹری)

ضلع وائز صوبوں کی لسٹ جہاں سوکھا ہے
صوبوں کے نام؍کل ضلع
کل ضلعے؍تعلقہ
ضلع کا نام
کرناٹک(30)
27(خریف)
(126تعلقہ)
12(ربیع)
(تعلقہ62)
بنگلوردیہات، رمن گارا، کولر، چکبلا پور، تمکور، چترادرگا، داون گیرے، چامرا جانگر، میسور، مانڈیا،بلاری، کوپل، رائے چور، کلا برگی، یدگر، بیدر، بیل گاوی، بوگل کوٹ، وجے پورہ، گدگ، حویری، دھارواڑ، شیو موگا، حسن، کوڈگو، اتری کناڑا، چک مگلورو
چھتیس گڑھ(27)
25
(110تعلقہ)
رائے پور، گری بند، مہا سموند، دھمتری، درگ، بالود، بیمترا، رجناند گائوں، کبیر دھام، بسٹر، کونڈا گائوں، نارائن پور، کانکیر، دنتے واڑہ، سکما، بیجاپور، بلاسپور،مونگیلی، جاجنگیر جانپ، کوربا، بلرام پور، کوریا ، رائے گڑھ، جش پور،

مدھیہ پردیش (42)
42
کٹنی، شہہ ڈول، اوماریا، انوپ پور، ٹکم گڑھ، ریوا، جبل پور، سیدھی، ساگر، دموہ، سیونی، سی اونی، سنگرولی،شیو پور، چھتر پور بھنڈ، پنا ، ستنا، ڈنڈوری، شیو پوری، مند سور، مورینا، جھبوا، بھوپال، اجین، نیمچ، ویدیشا، رائے سین، راج گڑھ، کھنڈوا، رتلام، نرسنگھ پور،گونا، ویتول، برہان پور، آگر مالوا، سیہور، اندور، دھار، شاہ جاپور، ہردا، چھندواڑہ ، دیواس،
مہاراشٹر (36)
21
(15747گائوں)
ناسک، دھولے، نندوربار، احمدنگر، پونے، ستارا، سانگلی، اورنگ آباد، جالنا، بیڑ، لاتور، عثمان آباد، ناندیڑ، پربھنی، ہنگولی، بول ڈھانہ، اکولہ، یوت مال، ناگپور، گڑھ چرولی

اڑیسہ (30)
21
(139بلاک)
انوگول، بالا سور، برگڑھ، بولنگیر، بوندگڑھ، کٹک، ڈیوگڑھ، ڈھنکانال، گج پتی، گنجام، جاج پور، جھارسوگڑا، کالا ہانڈی، کندھ مال، کندو جھر، کھوردھا، کورا پوٹ، میور بھنج، نوا پارا، نورنگ پور، نیا گڑھ، پوری، رائے گڑھ، سمبل پور، سون پور، سندرگڑھ

آندھرا پردیش (13)
10
(359 منڈل)
آننت پور، چتور، وائی ایس آر کڑپا، کورنول، پرکاشن، ایس پی ایس آر نلور، گونٹور، شری کاکولم، وجینگرم، کرشنا

اترپردیش (75)
50

سنت روی داس نگر، سون بھدر، سلطان پور، مرزا پور، بلیا، سدھارتھ نگر، شاہ جہاں پور، باندہ، پرتاپ گڑھ، چندولی، اٹاوہ، بستی، باغپت، جون پور، فیض آباد، گونڈہ، قنوج، بارہ بنکی، سنت کبیر نگر، جھانسی، جلون، گورکھپور، ہاتھرس، ایٹہ، الٰہ آباد، غازی آباد، فرخ آباد، مئو، انائو، رام پور، حمیر پور، للت پور، چیتر کوٹ، کانپور، لکھنو، دیوریا، مین پوری، مہاراج گنج، آگرہ، اوریا، پیلی بھیت، امیٹھی، مہوبا، رائے بریلی، کوشی نگر، فتح پور، امبیڈکر نگر، بلرام پور
تلنگانہ (10)
7
(231 منڈل)
محبوب نگر، میدک، نظام آباد، رنگا ریڈی، نل گونڈا ، کریم نگر، وارنگل
جھارکھنڈ( 24)
24
رانچی، کھونٹی، لوہر دگا، گوملا، سم ڈیگا، مغربی سنگھ بھوم، سرائے کیلا، مشرقی سنگھ بھوم، پلامو ، گڑوا، لاتیہار، رام گڑھ، کوڈرما، دھنباد، بوکارو، چترا، دمکا ، گوڈا، ، پاکوڑ، صاحب گنج، دیو گھر، جام تاڑا، گریڈیہہ

راجستھان
19
(14487 گائوں )
اجمیر (541)، بانس واڑہ (1514)، بارا (1070)، بائیمیر(2206)، بھیل واڑہ (1126)، چتور گڑھ (94)، چورو (249)، ڈونگر پور (988)، ہنومان گڑھ (100)، جے پور (603)، جالور (407)، جیسل میر (114)، جھنجھنو (130)، جودھ پور (527)، ناگور (139)، راج سمند(1063)،اودے پور(2498)، پالی (291)،پرتاپ گڑھ

ال نینو کیا ہے
النینو ایک ابنارمل موسمی پیٹرن ہے، جو جنوبی امریکہ کے ساحلسے ملحق استوائی (tropical) بحر اوقیانوس کے مشرقی حصے میں آب و ہوا کے حالات میں بدلائو کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ عام طور پر کچھ برسوں کے وقفے کے بعد مشرقی بحر اقیانوس کیاستوائی علاقے میں سمندری سطح کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہو جاتاہے جس کی وجہ سے دنیا کے مختلف حصوں میں غیر معتدل موسمی بدلائو کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بر صغیر میں ہر سال آنے والا جنو ب مغربی مانسون بھی متاثر ہوتا ہے۔
ال نینو کی حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب تجارتی ہوائیں (trade winds)کمزور پر جاتی ہیں یا پھر الٹی سمت میں چلنے لگتی ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ بحر اوقیانوس کے مغربی حصے کے گرم پانی کی لہریں اپنا رخ مشرق کی طرف موڑ لیتی ہیں اور گرم پانی کی یہ لہر مشرقی اوقیانوس کے خط استوا کے علاقے کے ٹھنڈے پانی کو دور ہٹا دیتی ہے۔ جس کی وجہ سے اس پورے علاقے میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت بڑھ جاتاہے اور کئی ماحولیاتی بدلائو کا سبب بنتا ہے۔ ال نینو کی وجہ سے پوری دنیا کے نارمل موسمی حالات میں بدلائو آجاتاہے اور کم بارش والے علاقوں میں زیادہ بارش ہونے لگتی ہے اور زیادہ بارش والے علاقوں میں بارش کم ہونے لگتی ہے۔
عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ال نینو والے سالوں میں مانسون کی بارش کم ہوتی ہے۔ایک جائزہ کے مطابق65فیصد ال نینو والے سالوں میں مانسون کی بارش کم یا نارمل سے کم (96فیصدسے کم)رہتی ہے، جبکہ 71فیصد ال نینو کے بعد کے سالوں میں یہ بارش نارمل یا اعتدال سے زیادہ (96فیصد سے زیادہ )ہوتی ہے۔ اس لئے ہندوستانی محکمہ موسمیات بحر اوقیانوس کے موسمی بدلائو کو لے کر محتاط رہتاہے اور اس پر ہمیشہ اپنی نظریں بنائے رکھتا ہے۔ گزشتہ دو برسوں سے ہندوستان میں مانسون کی بارش معمول سے کم ہوئی ہے، اور ان دوبرسوں میں خط استوا ئی بحر اوقیانوس کا درجہ حرارت اونچا رہا ہے۔ موسم محکمہ کے مطابق گزشتہ سال اپریل سے ہی مشرقی اوقیانوس میں درجہ حرات بڑھنے لگا تھا، جس نے جولائی آتے آتے بھیانک شکل اختیار کرلی اور ستمبر میں اپنی انتہا پر پہنچ گیا۔ حالانکہ ستمبر 2015 کے بعد ال نینو کی حالت کمزور پرنے لگی،لیکن اب بھی وہاں سمندر ی سطح کا درجہ حرارت نارمل سے زیادہ ہے۔ لیکن ستمبر کے بعد سے اس میں جو گراوٹ آنی شروع ہوئی تھی وہ پیٹرن ابھی تک جاری ہے۔ اس لئے امید کرنی چاہئے بحر اوقیانوس میں ال نینو کی حالت نہیں بنے گی اور ہندوستان میں مانسون نارمل سے زیادہ باش ہوگی جس کی امید محکمہ موسمیات نے بھی اپریل 2016 کی اپنی پہلی پیشن گوئی میں کی ہے۔محکمہ موسمیات کی تکنیکی پیشن گوئی سے ملک کے عوام کے ساتھ ساتھ سرکاروں کی بھی امیدیں جاگی ہیںکیونکہ بارش ہوئی تو ان کا سر درد بھی کم ہوگا۔ بارش جھوم کر آئی تو پھر لیڈروں ،نوکر شاہوں ،ٹھیکہ داروںا ور دلالوں کی چاندی ہوجائے گی،کیونکہ خوب بارش ہوگی تو سیلاب آئے گا اور سیلاب ان کے لئے آمدنی کا ذریعہ بن کر آئے گا۔عام آدمی کو تو کبھی سوکھا جھیلنا پڑتا ہے تو کبھی سیلاب کی مار برداشت کرنی پڑتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *