نتیش کی خواتین تحریک

کمار بہار کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ انھوںنے بہار میںمکمل شراب بندی کا اعلان کردیا ہے۔ گجرات کے بعدبہار دوسری ریاست ہے، جہاںمکمل شراب بندی لاگو ہے۔ وہ لوگ جو شراب پیتے تھے، پریشان ہیں، جو شراب بیچتے تھے، ان سے زیادہ پریشان ہیں۔ سب سے زیادہ خوش بہار کی خواتین ہیں، جن سے نتیش کمار کو دل سے آشیرواد مل رہے ہیں۔ آج سے 6 ماہ پہلے جب نتیش کمار نے پہلی بار اعلان کیا تھا کہ بہار میںمکمل شراب بندی لاگو کریںگے، تب میرے پاس کئی طرح کی خبریں آئیں، جن میںسب سے بڑی خبر تھی کہ نتیش کمار شراب بندی کا اعلان کریںگے، لیکن مرحلہ وار کریں گے اور پہلے مرحلے میںدیسی شراب کے اوپر پابندی ہوگی۔ اس کے لیے یہ دلیل سامنے آئی کہ بہار کے شراب فروش بہار کے ایک بہت بڑے سیاسی لیڈر سے ملے ہیںاور اسے انھوںنے سیاسی چندہ دینے کی بات کہی اور کہا کہ شراب دومرحلوں میں بند کی جائے ۔اتفاق سے میرے پاس اس خبر کے آنے کے 4-5 دن کے بعد بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے یہ کہاکہ پہلے مرحلے میں ہم دیسی شراب بند کریںگے۔ مجھے لگا کہ میرے پاس شراب مافیاؤں کے یہاںسے جو خبر آئی ہے،اس میںکچھ دم ہے۔ اسی بیچ میری نتیش کمار سے ملاقات ہوئی۔ میںنے نتیش کمار سے بات چیت میںشراب بندی کی بات چھیڑی، جس کے اوپر نتیش کمار نے بتایا کہ کیسے وہ اسمبلی کے لیے ہونے والے انتخابی پرچار کے دوران ایک جگہ بیٹھے تھے، بھاشن دے چکے تھے اور عورتوں نے ان سے شراب بندی کے مسئلے پر اپنی رائے بھی رکھی او ران سے جواب بھی مانگا۔ نتیش کمار دوبارہ اسٹیج پر گئے اور انھوںنے بہار کی خواتین سے وعدہ کیا کہ اگر وہ الیکشن جیت جاتے ہیں، تو مکمل شراب بندی لاگو کریںگے۔ اور نتیش نے بہت ہی مسکراتے چہرے سے، لیکن سختی کے ساتھ کہا کہ میں اس وعدے پر عمل کروںگا۔ میں بہار میںمکمل شراب بندی لاگو کروںگا۔
میرے پاس ایک او رخبرآئی کہ جیسے ہی بہار میںنتیش کمار نے شراب بندی کا پہلا اعلان کیا۔ ملک کے کچھ شراب بنانے والوں کے پاس اچانک پانچ ہزار کروڑ سے زیادہ کا ایڈوانس بہار کے شراب مافیا کی طرف سے آگیا۔ انھوں نے شراب بنانے والوںسے کہا کہ ہمیں جب شراب لینی ہوگی، لے لیں گے، لیکن آپ یہ ہمارا ایڈوانس رکھیے، تاکہ شراب بندی کی حالت میں آپ ہمیںشراب سپلائی کرسکیں۔ جب میں نے نتیش کمار کو یہ بات بتائی، تو نتیش کمار نے کہا کہ یہ پتہ کرنا چاہیے کہ کس طریقے سے شراب بہار میںآئے گی۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ آپ کے ذریعہ شراب بنانے والے میرے پاس خبر پہنچا رہے ہوں۔ میںنے ان سے کہا کہ کوئی اس طریقے سے خبریںنہیں پہنچاتا، لیکن یہ سچ ہے کہ آپ کے اعلان کے ساتھ شراب بنانے والوں کی باچھیںکھل گئی ہیں۔ کیونکہ ان سے بلیک میںشراب خرید کر بہار میں سپلائی کا نظام تیار ہو رہا ہے۔ نتیش کمار نے پھر مجھ سے کہا کہ پھر بھی اگر ممکن ہو تو ان کی سپلائی لائن کیا ہوگی؟ اس کے بارے میںضرور پتہ کیجئے۔ میںنے ان سے وعدہ کیا کہ میں اس کے بارے میں اگر کوئی خبر ہوگی، تو آپ کو بتاؤں گا۔ جب نتیش کمار کا یہ اعلان آیا کہ پہلے وہ دیسی شراب بند کریںگے اور پھرغیر ملکی شراب، تو وہ پیسہ جو ایڈوانس میں شراب بنانے والوں کے پاس آیا تھا، واپس ہوگیا۔ او رشراب بنانے والے جو انگریز ی شراب بناتے ہیں یا سپلائی کرتے ہیں ،انھیںایک اطمینان ملا کہ بہار میںکم سے کم ان کی تجارت چلتی رہے گی، کیونکہ نتیش کمار شراب سے ہونے والے ٹیکس کا جب تک متبادل نہیںسوچ لیتے،تب تک وہ شاید اسے بند نہ کریں اور سب سے پہلے وہ دیسی اور کچی شراب بند کریں، جس میں وہ خواتین کی مدد لے سکتے ہیں۔
لیکن اچانک نتیش کمار نے اعلان کرکے بہار میں مکمل شراب بندی لاگو کردی۔ میں نے پھر شراب بنانے والوں کو کھنگالا اور شراب بنانے والوں کی باچھیںکھلی ہوئی ملیں۔ بہا رمیں شراب بیچنے والے مافیا نے یا اسمگلنگ کرنے والے مافیا نے انھیں اس بار 6 ہزار کروڑ روپے کا ایڈوانس دے دیا اور بہار میںکیسے شراب جائے گی، ا س کا انتظام کرنا شروع کردیا۔ میں نے جاننا چاہا کہ آخر شراب کو بہار میںبھیجنے کا ،شراب بنانے والوںکے پاس کیا راستہ ہے یا بہار میںجو شراب بیچتے ہیں، وہ شراب بہار کی سرحد میںکیسے لائیںگے، اس کا وہ کیا راستہ نکالنے والے ہیں؟ تب مجھے جو بات پتہ چلی وہ اتنی عام، لیکن اتنی سنگین اوراہم ہے کہ میںنتیش کمار کو یہ عوامی طور پر بتانا چاہتا ہوں۔
مجھے یہ بتایا گیا کہ اترپردیش کا آبکاری محکمہ یعنی جس کے اوپر شراب کو ضلعوں میں پہنچانے کی ذمہ داری ہے اور بہارکا آبکاری محکمہ، جس کے پاس بہا رمیںشراب بندی کی ذمہ داری ہے، دونوں میںاتنا قریبی رشتہ بنا ہوا ہے کہ کسی او رنظام کی ضرورت ہی نہیںہے ۔ یہ نظام ہی اترپردیش سے شراب بہار میںبھیجے گا اور وہ سرکاری نظام ،جس کے اوپر شراب روکنے کی ذمہ داری ہے، وہ بہا رکے ضلعوں- ضلعوںمیں،قصبوں- قصبوں میں،گاؤ ں – گاؤں میںشراب کو پھیلائے گا۔ میںیہ بات 100 فیصد سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں ، کیونکہ یہی مجھے اطلاع ملی ہے۔ حالانکہ میںیہدعا کررہا ہوںکہ میری یہ اطلاع غلط ثابت ہو۔ اس کا مطلب کہ اسمگلنگ کا پورانظام سرکارکے محکمہ کی نگرانی میں چلنے والا ہے۔
شاید ہمارا سسٹم اتناسڑ گیا ہے کہ کسی کوبھی ،کوئی بھی غلط کام کرنے کے لیے کسی نئے نظام کی ضرورت نہیںہے۔ اس نظام میںہی ایسے عناصر مل جائیں گے ،جو 80 فیصد لوگوں کو اپنے جال میںلے کر اس غلط کام کو بے خوف اور بے جھجک کرتے دکھائی دے جائیںگے۔ بہار کی شراب بندی، اترپردیش کے شراب بنانے والوں کی خوشی اور ان کا یہ اوور کانفیڈنس کہ اترپردیش کا آبکاری محکمہ ہی بہار میںسپلائی کرے گا اور بہار کا آبکاری محکمہ اس کوپہنچائے گا،یہ کمال کی چیز ہے۔ یہیں پر نتیش کمار کے لیے چنوتی کھڑی ہوتی ہے اور میںیہ نتیش کمار کو بتادینا چاہتا ہوںکہ آپ سرکاری ملازمین کے ذریعہ اس اسمگلنگ کے اوپر روک لگانے کی سوچ رہے ہیں، تو آپ بہت غلط سوچ رہے ہیں۔ آپ کو اگر شراب بندی لاگو کرنی ہے او رشراب کے اس غیر قانونی کاروبار کوروکنا ہے، تب آپ کے پاس بہار کی عورتوں کے علاوہ او رکوئی ہتھیار نہیںہے۔ آپ بہار کی عورتوں کو بااختیار بنائیے، تاکہ وہ عورتیںجہاں بھی شراب آرہی ہے، ا س کو پکڑیں، ان کی رپورٹ کے اوپر پولیس کارروائی کرے او رکارروائی بھی اگر کرنی ہے، تو عورتوں کو ہی اس کا ذمہ دیجیے کہ وہ مقامی سطح پر ان کے اوپر جوفیصلہ کرنا چاہیں، جس طرح کا فیصلہ کرنا چاہیں، اسے کریں۔ شاید عورتوںکی یہ طاقت بہار میںشراب بندی تو کروائے گی ہی، ہوسکتا ہے بہا کی تعمیر نو میںیا ریکنسٹرکشن میں ہونے والی بدعنوانی کے کنٹرول کا ایک نیا فارمولہ نتیش کمار کے پاس آجائے اور نتیش کمار ملک میںپہلے ایسے وزیر اعلیٰ بن جائیں، جو عوام کی طاقت، خاص طور سے خواتین کی طاقت کو منظم کرکے اپنے ترقی کے ایجنڈے کو مضبوطی کے ساتھ لاگو کرپائیں۔
یہ جتنا امتحان نتیش کمار کا ہے، اس سے زیادہ امتحان بہار کی خواتین کا بھی ہے۔ بہار کی سرحدی ریاستوں میں، جن میںاترپردیش اہم ہے، یہاںکے آبکاری محکمہ کا تو امتحان ہے ہی،کیونکہ اسے بھی یہ ثابت کرنا ہے کہ شراب مافیا کا یہ مانناکہ آبکاری محکمہ ہی اسمگلنگ میںان کی مدد کرے گا، اسے جھوٹا ثابت کرنااترپردیش کے آبکاری محکمے کے ساتھ ساتھ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کے لیے بھی ایک بڑا سوال ہے۔ دیکھتے ہیںکہ وہ اس کا کیسے جواب دیتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *