مودی کا سعودی عرب دورہ، پاکستان پر دبائو بڑھ سکتا ہے

وسیم احمد
p-8عام لوگ ہندوستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو تیل اور بڑی تعداد میں کام کے مواقع سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں۔لیکن سچائی تو یہ ہے کہ اربوں کھربوں کے تیل کے کاروبار کے علاوہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور سیکورٹی میں باہمی تعاون کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔اسی تعلق کا نتیجہ ہے کہ دونوں ملک کے اعلیٰ سطحی وفود کے علاوہ سربراہان کے دوروں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔حالیہ ہفتہ میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے ۔ مودی ہندوستان کے چوتھے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے۔ ان سے پہلے منموہن سنگھ نے 2010 ، اندرا گاندھی 1982 اور جواہر لال نہرو 1956 میں وہاں کا دورہ کیا تھا۔
ہندوستان جو کہ ایک بڑی تجارتی منڈی ہے اور اس کے پاس ٹیلنٹ اور مین پاور کی بہتات ہے جس سے سعودی عرب مزید فائدہ اٹھا سکتا ہے ، دوسری طرف سعودی عرب کے پاس قدرتی وسائل کی بہتات ہے اور کام کے مواقع بھی بہت ہیں اسی لئے اس دورے کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے اوراسی وجہ سے جب وزیر اعظم مودی ریاض کے خالد بین الاقوامی ایئر پورٹ پر پہنچے تووہاں ہوائی اڈے کے ’’رائل ٹرمنل‘‘پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ریاض کے گورنر اور شاہی خاندان کے اہم رکن شاہزادہ فیصل بن عبدالعزیز کے ساتھ سعودی عرب کے کئی اعلی حکام نے ان کا ہوائی اڈے پرخیر مقدم کیا۔ہوائی اڈے سے وزیر اعظم نریندر مودی براہ راست شہر کے وسطی اور ریاض سے 35کلومیٹر دور واقع شاہ سعود کے شاندار اورعالی شان شاہی محل گئے جہاں سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبد العزیزالسعو ہندوستانی لیڈر اور وفد کی میزبانی کر رہے تھے۔پورے احاطے کو شاندار طریقے سے سجایا گیا تھا، سعودی عرب نے خصوصی خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کواپنا اعلی ترین سویلین اعزاز شاہ عبدالعزیز ایوارڈ سے نوازا ۔ یہ ایوارڈ عبدالعزیز السعود سے موسوم ہے جو جدید سعودی عرب کے بانی تھے۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے شاہی محل میں یہ ایوارڈ وزیراعظم کو تفویض کیا۔دوسری طرف وزیر اعظم مودی نے بھی سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو کیرالا کی تاریخی مسجد چیرامن جمعہ مسجد کا سونے سے تیار کردہ ماڈل پیش کیا۔ اس مسجد کو عرب تاجروں نے تقریباً 629 میں تعمیر کیا تھا۔ کیرالا کے ضلع تھرشور میں واقع یہ مسجد ہندوستان کی پہلی مسجد ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 2010 سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ ریاض گئے تھے۔ جہاں دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا جس کے بعد اس وقت کے سعودی وزیر دفاع اور موجودہ بادشاہ شاہ سلمان 2014 میں ہندوستان آئے تھے اور دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔سعودی عرب ،ہندوستان کا پانچواں بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 25 ارب ڈالر بڑھ کر48 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ہندوستان خام کی تیل کی درآمد کو 20 فیصد سعودی عرب سے لیتا ہے۔سعودی عرب میںتقریبا 30 لاکھ انڈین افراد ملازمت کرتے ہیں۔ 2008 میں ممبئی میں ہونے والے حملوں کے بعد دونوں ممالک نے یو پی اے -2 کے دوران سیکورٹی تعاون شروع کرنے پر غور کیا تھا، جس کے تحت ہندوستان کو خلیجی ممالک سے خفیہ اطلاعات مل سکتی تھی اور اسی معاہدے کے تحت 2012 میں ایک قابلِ ذکر تبدیلی اْس وقت آئی، جب سعودی عرب نے ممبئی حملوں میں ملوث ذبیح الدین انصاری (ابو جدال) کو ہندوستان کے حوالے کیا۔
وزیراعظم مودی کے اس دورے کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے ۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس دورے سے پاکستان پر دبائو بڑھ سکتا ہے۔دراصل یمن پر سعودی عرب کے حملے میں شریک ہونے کے لئے اسلام آباد کی جانب سے اپنی فوج یمن روانہ کرنے کے سعودی عرب کے مطالبے کومسترد کرنے کو لے کر سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں کے بیچ کرواہٹ پیدا ہوگئی تھی ہے۔حالانکہ اس سے پہلے سعودی عرب جنوب ایشیا میں پاکستان کا بہترین دوست ہوا کرتا تھا ،مگر یمن حملہ کے بعد دونوں میں کرواہٹ پیدا ہوگئی تھی ۔اس کرواہٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امارات نے اسے برے نتائج کی دھمکی تک دے دی تھی جس پر پاکستانی میڈیا میں بڑی چہ میگوئیاں ہوئی تھیں۔ اس صورتحال سے ہندوستان کو ایک سنہریٰ موقع ملا ہے کہ وہ سعودی عرب اور امارات کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دے سکے۔اسی مقصد کو لے کر گزشتہ سال امارات جاکر اور اب سعودی عرب جاکر وزیر اعظم مودی اس رشتے کو مضبوط کررہے ہیں۔دوسری طرف سعودی عرب کو دہشت گردی خاص طور پر داعش کی وجہ سے بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے ۔گزشتہ ایک برس میں اس کے کئی مذہبی اور مصروف ترین جگہوں پر دہشت گردانہ حملے ہوچکے ہیں۔ چونکہ دہشت گردی سے نمٹنے کا ہندوستان کے پاس بہترین تجربہ ہے ،یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب ہندوستان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہاہے۔ اسے یقین ہے کہ ہندوستان سعودی عرب کو دہشت گردی کے چیلنجوں سے نمٹنے میں ا س کی بہترین مدد کرسکتاہے اور اسی وجہ سے وزیر اعظم کے اس دورے میں دونوں ملکوں کے درمیان جو معاہدے ہوئے ہیں اس میں دہشت گردی کے خاتمے کے تعاون کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اس دورے میں پانچ اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں ۔ان میں ہند و سعودی عرب کے درمیان لیبر کوآپریٹیو، سرمایہ کاری کے فروغ، سیکورٹی کے میدان میں تعاون کے علاوہ منی لانڈرنگ کے تعلق سے تعاون ،دہشت گردی کی روک تھام کے لئے تعاون اور توانائی کے وسائل میں تعاون پر معاہدہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر کچھ اہم شعبے جیسے صحت اور دوطرقہ تعلقات کو فروغ دینے کے شعبوں پر بھی معاہدے ہوئے ہیں۔
وزیر اعظم کے اس دورے کے دوران انہیں کئی اداروں میں جانے کا موقع ملا۔خاص طور پر ریاض میں انفارمیشن ٹکنالوجی ٹریننگ سینٹر کا دورہ اس معنی میں بہت اہم ہے کہ وہاں سعودی خواتین نے سیلفی لی۔ ظاہر ہے یہ عمل سعودی ماحول سے ہٹ کر ہے مگر جس طرح سے اس سینٹر میں خواتین نے ان کے ساتھ مختلف موضوع پر کھل کر باتیں کیں اور سیلفی لیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب کے عوام ان سے بہت محبت کرتے ہیں ۔یہ ہمارے لئے یقینا خوشی کی بات ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کی پذیرائی ایک مسلم ملک میں ہورہی ہے ۔کیونکہ وہاں کے عوام ان کو مسلمانوں کا ہمدرد سمجھ رہے ہیں۔ اگر ہندوستان کے اندر بھی مودی اپنے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف واہیات بولنے اور مسلم مخالف بیان دینے سے سختی سے منع کردیں اور مسلمانوں کے اعتماد کو جیتنے کے لئے کام کریں تو یہاں کے مسلمان بھی انہیں اپنے آنکھوں پر بیٹھائیں گے۔ لیکن اس کے لئے انہیں مسلمانوں کی فلاح و بہہود اور ترقی کے لئے کام کرکے ان کے اعتماد کو جیتنا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *