محبوبہ مفتی دوہری آزمائش سے دوچار بھاجپا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلناایک دشوار گذار سفر ثابت ہوگا

کیا پی ڈی پی اور بی جے پی اپنے اپنے سیاسی نظریات اور ایجنڈے کو پس پشت ڈال کر جموں کشمیر میں مخلوط سرکار کامیابی سے چلا پائیں گے؟

ہارون ریشی
p-3محبوبہ مفتی اور انکی وزارتی کونسل کی حلف برداری کی تقریب میںتوقع کے برعکس بی جے پی کے کسی بھی لیڈر نے ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کا متنازعہ نعرہ بلند نہیں کیا۔ حالانکہ عمر عبداللہ سے لیکرعام آدمی پارٹی کے کپل مشرا تک کئی لوگوں نے بھاجپا کواس کے لئے اُکسایا تھا۔
حلف برداری کی تقریب سے ایک روز قبل سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا،’’مجھے اُمید ہے کہ کل حلف اٹھانے کے موقعے پر پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار کے سارے ممبران بھارت ماتا کی جئے کہیں گے۔‘‘ اسی طرح دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت کے ایک وزیر کپل مشرا نے بی جے پی کے صدر امیت شاہ کے نام ایک مکتوب میں اُن سے ( طنزاً) پوچھا
اگر محبوبہ مفتی نے ’بھارت ماتاکی جے ‘ کا نعرہ لگانے سے انکار کیا تو کیا بی جے پی تب بھی اس کے ساتھ پی ڈی پی کے ساتھ حکومت بنائے گی؟اُن کا اشارہ در اصل مہاراشٹرا اسمبلی میں ایک ممبر اسمبلی کی جانب سے بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ نہ لگانے کی وجہ سے اسکی رُکنیت معطل کئے جانے کی طرف تھا۔ کئی دیگر لوگوں نے بھی یہ سوال اٹھایا تھا کہ اگر پی ڈی پی کے لیڈروں نے یہ نعرہ نہیں لگایا تو کیا تب بھی بی جے پی کو اس کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔اس صورتحال کی وجہ سے یہ لگ رہا تھا کہ کم ازکم بی جے پی کے ممبران حلف برداری کی تقریب میں ’بھارت ماتاکی جئے ‘ کا نعرہ ضرور لگائیں گے۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔ صاف ظاہر ہے کہ دونوں اتحادی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی بھی ایسی بات نہیں کہنی ہے ، جس کے نتیجے میں مخلوط سرکار پھر کسی تنازعے کا شکار بن سکتی ہے۔یعنی اب کی بار دونوں پارٹیوں نے پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
لیکن سیاسی حلقوں میںیہ سوال زیر بحث ہے کہ آخر کب تک متضاد اور متصادم نظریات رکھنے والی یہ دو جماعتیں ’’ دوستی اور اتحاد‘‘ کا فرضی مظاہرہ کر پائیں گی؟
جہاں تک پی ڈی پی کا تعلق ہے کہ اسے اپنی سیاسی بقا کے لئے اور کشمیر میں اپنی ساکھ بحال رکھنے کے لئے اسے اُس سیاسی نظریے کی کسی نہ کسی حد تک آبیاری کرنے ہی پڑے گی، جس کی بنا پر عوام نے اسے ووٹ دیا اور یہ ریاست کی ایک سب سے بڑی پارٹی کے بطور ابھر گئی۔ پی ڈی پی کی بنیاد ہی کشمیری مسلمانوں کے جذبات کا اُبھار کر ڈالی گئی تھی۔ سال 1999میں جب مفتی محمد سعید نے کانگریس چھوڑ کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے یہ علاقائی پارٹی قائم کی تھی تو انہوں نے اُس وقت کہا تھا کہ وہ در اصل مسئلہ کشمیر کے پر امن حل اور ریاست میں دائمی امن قائم کرنے کیلئے یہ نئی پارٹی بنا رہے ہیں۔ تین سال بعد یعنی 2002میں جب پی ڈی پی کانگریس کے تعاون سے بر سر اقتدار آگئی اور مفتی پہلی بار وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے سرینگر کے ایک مضافاتی علاقے گاندربل میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ،’’ ملی ٹینٹوں کو اب جنگلوں سے باہر آجانا چاہیے کیونکہ اب انکے نمائندے اسمبلی ( یعنی حکومت ) میں آگئے ہیں۔ اسی دور حکومت میں پی ڈی پی نے مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لئے ’’سیلف رول ‘‘ نامی ایک دستاویز مرتب کیا ۔ پی ڈی پی کا کہنا ہے کہ ’’سیلف رول ‘‘ ایک ایسا فارمولہ ہے جسے عمل میں لانے کی صورت میں مسئلہ کشمیر حل ہوگا اور ریاست میں دائمی امن قائم ہوگا۔اس سیلف رول فارمولے میں لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف کے کشمیر کے حصوں یعنی پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور بھارتی کشمیر میں ’’ جواینٹ میکانزم ‘‘ کے تحت ایک ’’مشترکہ حکومت ‘‘ قائم کرنے اورپھراس خطے میں ’’ دوہری کرنسی‘‘ یعنی بیک وقت بھارتی اور پاکستانی کرنسی کو قابل قبول بنانے کی بات کی گئی ہے۔ پی ڈی پی نے سال 2014کے اسمبلی انتخابات میں دیگر وعدوں کے ساتھ ساتھ ’’سیلف رول ‘‘ فارمولے کو عملانے اور جموں کشمیر کو خصوصی پوزیشن فراہم کرانے والی آئین ہند کی دفعہ 370کو مکمل طور پر اور اسکی اصل شکل میں نافذ کرانے کے وعدے کئے تھے۔ اتنا ہی نہیں پی ڈی پی کے لیڈرران نے مختلف عوامی جلسوں میں کہا تھا،’’ اگر اس ریاست میں بی جے پی کی جارحیت روکنی ہے تو آپ کو پی ڈی پی کو ووٹ دینا پڑے گا‘‘یہ ہے پی ڈی پی کی وہ شبیہ جس کی بنیاد پر کشمیر میں عوام نے اسے ووٹ دیا اور اسے 87ممبران پر مشتمل اسمبلی میں 27سیٹیں حاصل ہوئیں۔
اسکے برعکس جموں وکشمیر کے بارے میں بی جے پی کاسیاسی نظریہ بالکل مختلف ہے۔بی جے پی نے جموں میں مذہب کے نام پر ووٹروں کو لبھاتے ہوئے ان سے وعدہ کیا تھاکہ اگر وہ اقتدار میں آگئی توسب سے پہلے دفعہ 370کو ختم کیا جائے گا، ریاست میں ہندو وزیر اعلیٰ بنے گا ، کشمیری پنڈتوں کے لئے علاحدہ شہر بنائے جائیں گے۔ مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کو ریاست کی باشندگی کی سند دلائی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ بی جے پی کے ان ہی نعروں کی وجہ سے اسے جموں میں ہندو عوام کی اکثریت نے اپنا ووٹ دیا اور اسے پہلی بار یہاں 25سیٹیں حاصل ہوئیں۔ ظاہر ہے کہ اگر بی جے پی کو اس ووٹ بینک کی حفاظت کرنی ہے تو اسے عملی طور نہ سہی لیکن زبانی جمع خرچ تو کرنا ہی پڑے گا۔
پی ڈی پی اور بی جے پی کی حکومت قائم کرتے وقت مفتی محمد سعید نے خود کہا تھا،’’آج نارتھ پول اور سائوتھ پول کا سنگم‘‘ ہوگیا ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ حکومت بنتے ہی اس غیر فطری اتحاد کی وجہ سے روز اول سے ہی مخلوط سرکار سیاسی تنازعات میں گری رہی۔یکم مارچ2015کو پی ڈی پی۔ بی جے پی حکو مت کے قیام کے پہلے ہی دن اتحادی جماعتوں کے درمیان وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کا وہ بیان تنازعے کا باعث بنا جس میں انہوں نے ’’ پر امن انتخابات کے انعقاد کیلئے ساز گار ماحول فراہم کرنے ‘‘ ملی ٹینٹوں اور حریت لیڈروں کا شکریہ ادا کیا۔نئے وزیر اعلیٰ کے اس بیان پر اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں بھی ادھم مچادی اور وزریر اعظم مودی اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو کشمیر میں اپنی اتحادی جماعت کے لیڈر کے اس بیان سے اظہار لاتعلقی کرنا پڑا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ محبوبہ مفتی کو صرف بی جے پی کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے اوراتحادی جماعتوں کے درمیان کسی تنازعے کے بغیر حکومت چلانے کا چیلنج ہی درپیش نہیں ہے۔بلکہ اُن کا بنیادی چلینج یہ ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے اندر لیڈروں کو قابو میں کیسے رکھتی ہیں۔یہ بات اب کھل کر سامنے آچکی ہے کہ مفتی محمد سعید کی وفات کے بعد جب محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے تئیں ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سنبھالنے سے انکار کیا اور دونوں اتحادی جماعتوں کو دوبارہ حکومت بحال کرنے میں تین ماہ لگے، تو اس دوران بی جے پی نے پی ڈی پی کے تین بڑے لیڈروں الطاف بخاری ، حسیب درابو اور نعیم اخترکو ورغلانے کی کوششیں کی ہیں۔تاکہ محبوبہ کو ہی پارٹی سے نکال باہر کیا جائے۔اس کی تصدیق پارٹی کے بانی لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ طارق قرہ نے کی۔ قرہ حلف برداری کی تقریب میں احتجاج کے بطور شامل نہیں ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے محبوبہ مفتی کو بتایا تھا کہ یہ تین افراد ان کے خلاف سازشیں کررہے تھے اور غداری میں ملوث ہیں۔ قرہ اس بات پر ناراض ہیں کہ اس کے باوجود محبوبہ نے ان میں سے دو کو دوبارہ وزارتی کونسل میں شامل کرلیا ہے۔ قرہ نے کہا،’’میں کل شام ( حلف برداری سے ایک دن قبل ) محبوبہ مفتی سے ملا تھااور انہیں بتایا تھا کہ ان تین کو وزارتی کونسل میں شامل نہ کیا جائے۔کیونکہ یہ اس سازش میں شامل تھے ، جس کا مقصد محبوبہ مفتی کو الگ کرکے پی ڈی پی اور بی جے پی کی حکومت قائم کرنا تھا۔‘‘
پی ڈی پی کے ایک سینئر لیڈر نے اس بارے میں ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کو بتایا،’’ محبوبہ جی جانتی ہیں کہ جب بی جے پی کے ساتھ تنازعہ چل رہا تھا، ہماری پارٹی کے کچھ لیڈر بی جے پی کے ساتھ ساز باز کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ بحیثیت پارٹی سرپرست اتنے بڑے لیڈروں کو وزارتی کونسل سے باہر نہیں رکھ سکتیں۔ سیاست ’کچھ مان کر چلو ، کچھ جان کر چلو ‘ کا نام ہے۔‘‘
ریاست کے سیاسی حلقوں میںایک عام تاثر یہ ہے کہ محبوبہ مفتی پارٹی کے بڑے لیڈروں کو قابو میں رکھنے کے لئے پارٹی پر مفتی خانوادے کا اثر بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔ اس بات کے اشارے دیئے جاچکے ہیں کہ محبوبہ مفتی کا وزیر اعلیٰ بننے کے نتیجے میں خالی ہونے والی اننت ناگ پارلیمانی سیٹ کے لئے محبوبہ کے بھائی تصدق مفتی کو مینڈیٹ دیا جائے گا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی کے مامو سرتاج مدنی کو پارٹی کا صدر بنائے جانے کا امکان بھی ہے۔ اس کے علاوہ محبوبہ مفتی نے اپنے وزارتی کونسل میںاپنے ایک قریبی رشتہ دار فاروق اندرابی کو بھی شامل کیا ہے۔
لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جوں جوں پی ڈی پی پر مفتی خاندان کا اثر و رسوخ بڑھتا جائے گا، پارٹی کے سینئر لیڈران جن میں اسکے بانی رہنما مظفر حسین بیگ اور طارق حمید قرہ بھی شامل ہیں، کس طرح کے ردعمل کا اظہار کریں گے۔ طارق قرہ پہلے ہی یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ ایک جمہوری پارٹی میں لیڈروں کا انتخاب اور عہدوں کا تقسیم جمہوری اصولوں کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔ پارٹی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ پی ڈی پی میں مفتی خاندان کی گرفت زیادہ کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں پارٹی اندرونی خلفشار کا شکار بھی ہوسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس ساری صورتحال میں محبوبہ مفتی کو دوہرے چیلنج کا سامنا ہے۔ ایک یہ کہ متضاد اور متصادم سیاسی نظریات رکھنے والے پارٹی یعنی بی جے پی کے ساتھ کیسے قدم سے قدم ملا کر چلا جائے اور ثانیاً یہ کہ پارٹی کو یک جٹ کیسے رکھا جائے۔ اگر محبوبہ مفتی ان دونوں آزمائشوں سے سرخ رو ہو جاتی ہیں تو یقینا وہ جموں کشمیر کے سیاسی منظر نامے پر ایک بہت بڑی لیڈر کے بطور ابھر ے گی۔

 

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *