جھارکھنڈ میں پانی کا بحران لوگ گڈھوں کا پانی پینے کے لیے مجبور

پرشانت شرن
p-4’رحیمن پانی راکھیے بن پانی سب سون‘ کا مذکورہ مصرعہ جھارکھنڈ میںثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پانی کے بحران کو دیکھتے ہوئے ریاستی سرکار کو پوری ریاست میںڈیزاسٹر ڈکلیئر کرنا پڑا۔ پوری ریاست میںپانی کے لیے ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ تالاب، کنویں او رریاست کے تقریباً سبھی ہینڈ پمپ سوکھ چکے ہیں۔حالت اتنی بھیانک ہوگئی ہے کہ ریاستی سرکار کوپینے کے پانی اور محکمہ آبپاشی سے جڑے سبھی افسروںاور ملازمین کی چھٹی منسوخ کرنی پڑی۔شہر میںتو کبھی کبھی پانی مل بھی جاتا ہے، لیکن دیہی علاقوں کی حالت انتہائی خوفناک ہے۔ حالات کا اندازہ اسی سے لگایاجاسکتا ہے کہ سرکاری اسکولوں میںمڈ ڈے میل کو پانی کی کمی کے سبب بند کرنا پڑا۔ دیہی علاقوںسے لوگ کوچ کرنے لگے ہیں، پندرہ سو فٹ بورنگ کرنے کے بعد بھی پانی نہیں مل پارہا ہے۔ کھیتوں کی حالت تو اور بھی خوفناک ہے ، پانی کی کمیسے کھیتوںمیںدراریںپڑ گئی ہیں۔ پوری ریاست خشک سالی کا شکار ڈکلیئر کردی گئی ہے۔
ریاست میںلوگوںکوپانی کی کمی کی وجہ سے تڑپتا دیکھ کر جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے سرکار کوسخت پھٹکار لگائی اور کہا کہ لوگوں کو پینے کا پانی مہیا کرانے کے لیے اگر فوج کی بھی مدد لینی پڑے،تو سرکار لے۔ ریاست میںہائی کورٹ کی پھٹکار اور سنگین پانی کے بحران پیدا ہونے کے بعد ریاستی سرکار کی نیند کھلی۔ خراب پڑے ہینڈ پمپوں کو ٹھیک کرانے کے ساتھ ہی بارش کے پانی کے ذخیرہ کو لے کر ایک لاکھ چھوٹے تالاب کھودنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے کہا کہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے افسران کو سخت ہدایت دی گئی ہے۔ سرکار اپنے ٹینکروں کے ساتھ ہی کرا یہ پر ٹینکر لے کر عام لوگوں کو پانی مہیا کرارہی ہے۔ بڑے کنووںکے ساتھ ہی ایک لاکھ چھوٹے تالاب پوری ریاست میں بنائے جارہے ہیں۔ کسانوںکی حوصلہ افزائی کے لیے گرانٹ بھی دی جارہی ہے۔ اس سے مستقبل میںبہت حدتک پانی کے بحران سے نمٹا جاسکتا ہے۔
سب سے سنگین حالت پلامو ڈویژن کے ساتھ ہی پٹھاری علاقوں کی ہے، جہاںپانی ہے ہی نہیں۔ ان علاقوں میںلگاتار سوکھا بھی پڑتارہا ہے۔ لوگوںکو صاف پانی دینے کانعرہ ان علاقوں میں محض نعرہ ہی بن کر رہ گیا ہے۔ پینے کا پانی نہیں ملنے کی وجہ سے لوگ گڈھوں سے کیچڑ کو چھان کر پانی پینے کو مجبور ہیں۔ یہاںڈیپ بورنگ بھی فیل ہے۔ چلّو بھر پانی کے لیے لوگ آپس میںلڑ رہے ہیں۔ نلوںپر بندوقوں کے ساتھ پہریداری ہورہی ہے۔ بچوں کا اسکول جانا مشکل ہوگیا ہے۔ لوگ پانی کی کمی کے سبب ان علاقوں سے دوسرے علاقوں میںکوچ کرنے لگے ہیں۔
پانی کے بحران کا اثر ریاست میںپڑھنے والے بچوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ سرکاری اسکولوں میںچلنے والا مڈڈے میل پانی کی کمی کی وجہ سے بند ہوگیا ہے۔اگر کسی اسکول میںیہ اسکیم چل بھی رہی ہے، تو وہاں پڑھنے والے بچوںسے ہی دو دو کلومیٹر سے پانی منگا کر ان کے لیے کھانا بنایا جارہا ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے سرکاری اسکولوں میںبچوںکی حاضری بھی کم ہوگئی ہے۔
جھارکھنڈ کے مشہور ماہر ماحولیات نتیش پریہ درشی کا کہنا ہے کہ زمین کا دو تہائی حصہ پانی سے گھرا ہوا ہے۔ پھر بھی صاف پانی کی مقدار کم ہے۔پانی کا بیجا استعمال نہ ہو، اس پر سنجیدگی سے غوروفکر کرکے ٹھوس راستہ نکالنا ہوگا، نہیںتو آنے والے سالوںمیں رانچی ہی نہیں پوری ریاست میںپانی کا سنگین بحران پیدا ہوگا اور لوگ پانی کے لیے کوچ کریںگے۔ ریاست میںاس بحران کے لیے ریاستی سرکار نے کبھی ٹھوس اقدامات نہیںاٹھائے۔منصوبے کاغذ پر تو بنے، لیکن زمین پر نہیںاتر سکے۔ روپوں کی صرف بندربانٹ ہوئی۔یہ پانی کا بحران سرکار کی غلط پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے۔ سرکار نے پانی کی طرح پیسہ بہایا،لیکن بغیر کسی منصوبے کے۔ ریاستی سرکار نے دیہی علاقوں میں6 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے، لیکن آبی بحران کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی گیا۔ پانی کی سپلائی کے لیے منصوبہ ہی غلط بنا اور جو پائپ لائن بچھائی گئی، وہ بیکار ثابت ہورہی ہے۔ افسران نے صرف زمین کا پانی نکالنے کا ہی کام کیا، ری چارجنگ پر کوئی دھیان نہیںدیاگیا۔ کئی علاقوںمیںتو آبی سطح800 سے 1500 فٹ نیچے تک پہنچ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واٹر ڈائریکٹوریٹ کویہ وارننگ دینی پڑی کہ اگر اسی طرح پانی کی ٹیپنگ ہوتی رہی، تو دس سال میںزمین کے اندر کا پانی ختم ہوجائے گا۔
رانچی اور دیگر علاقوںمیںآبی بحران کے لیے افسروں کے ساتھ زمین مافیا بھی اس کے لیے کم ذمہ دار نہیں ہے۔ صرف رانچی میں 40 تالاب تھے، اب صرف 22 بچے ہیں۔ باقی بڑے تالابوںکو زمین مافیانے افسروں کے ساتھ ساز بازکرکے بیچ ڈالا اور تالابوں کی جگہ عالیشان مکان بن گئے ہیں۔ اس شہر سے چاربڑی ندیاں گزرتی تھیں،لیکن ندیوںکا انکروچمنٹکرکے ان کواب نالا بنادیا ہے۔ جھارکھنڈ میںریاست کی تشکیل کے وقت 75 ہزار کنویں تھے، جو گھٹ کراب دس ہزار رہ گئے ہیں اور اب وہ بھی خشک ہوگئے ہیں۔
ریاست میں آبپاشی کی حالت اتنی خوفناک ہے کہ پانی کے فقدان میں کھیت سوکھ گئے ہیں۔ پچھلی بار کم بارش کی وجہ سے اناج کی پیداوار محض تیس فیصد ہوئی تھی۔ اس بار بھی امید کم ہی دکھائی پڑ رہی ہے۔ آبپاشی کی سہولت کے لیے ریاستی سرکار نے دو ہزار سے بھی زیادہ چیک ڈیم بنائے، لیکن اس میںپانی ہی نہیں ہے۔ وہ بچوں کے لیے کھیل کا میدان بن گیا ہے۔ اگر اب بھی ہم نہیںبیدار ہوئے او رسرکار بارش کے پانی کے تحفظ کے لیے ٹھوس پالیسی نہیںبناتی ہے اور اس کی تعمیل سختی سے نہیںکراتی ہے، تو آنے والے دنوں میںپانی کے لیے ہی خون خرابہ ہوگا، اس بات سے انکار نہیںکیا جاسکتاہے۔
ریاست میں پانی کے سنگین بحران کا اعلان۔چودھری
جھارکھنڈ کے پینے کے پانی اور حفظان صحت محکمہ کے وزیر چندر پرکاش چودھری کا کہنا ہے کہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے سرکار پوری طرح تیار ہے۔ پانی کے بحران کودیکھتے ہوئے محکمہ نے اسے آفت ڈکلیئر کردیا ہے اور سارے ملازمین اور افسروں کی چھٹی کومنسوخ کردیا گیا ہے۔ ریاست میںخراب پڑے ہینڈ پمپوں کی مرمت کی ہدایت دی گئی ہے،تاکہ لوگوں کو پانی مہیا کرایا جاسکے۔ محکمہ کے ٹینکروں کے ساتھ ہی کرایہ پر ٹینکر لے کر لوگوں کو پینے کا پانی مہیا کرایا جارہا ہے۔ ریاست میںپانی کابحران سنگین ہے۔ اس سے ابھرنے کی تیاری کے بارے میںپوچھنے پر انھوں نے کہا کہ ریاست میںپچھلے سال بارش بہت ہی کم ہوئی تھی، جس کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں۔ وزیر موصوف نے کہا کہ پوری ریاست سنگین آبی بحران سے گزررہی ہے، لیکن پلامو ڈویژن اور پٹھاری علاقوں کی حالت انتہائی خوفناک ہے۔ انھوںنے کہا کہ ریاست میںچالیس ہزار ہینڈ پمپ خراب پڑے ہیں۔ ہم اسے گرمی میںہی ٹھیک کرادینا چاہتے ہیں، تاکہ نئے ہینڈ پمپ نہ لگانے پڑیں۔ اس کام کے لیے انجینئروںکی ٹیم کو لگایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریاست میںہورہے ڈیپ بورنگ بھی سنگین مسئلہ پیدا کررہے ہیں، اس سے کافی نقصان ہورہا ہے۔ ڈیپ بورنگ پر روک لگائی ہے۔ اسے روکنے کے لیے رضاکار تنظیموں اور عام لوگوںکو بھی آگے آنا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *