ہندوستان کی ہورہی ہے جاسوسی اور وزیر اعظم بے خبر

پربھات رنجن دین
P-1پٹھان کوٹ ایئر بیس حملے کی سازش رچنے میں اکیلا پاکستان نہیں، بلکہ اس کے ساتھ چین بھی شامل تھا۔ چین نے پاکستان کو ہندوستان کے پٹھان کوٹ ایئر بیس سے متعلق کئی اہم خفیہ جانکاریاں مہیا کرائی تھیں۔ چین اپنے کچھ خاص اسمارٹ فونس اور اسمارٹ ایپلی کیشنس کے ذریعہ ہندوستانی فوج کی حساس اطلاعات حاصل کررہا ہے اور اسے لگاتار آئی ایس آئی کو مہیا کرارہا ہے۔ اس کام میں چائنیز کمپنیاں ہچیسن-ویمپوآ اور شاؤمی اسمارٹ فون چین کی مدد کر رہے ہیں۔ چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مل کر دنیا بھر میں سائبر جاسوسی کرنے میںہچیسن-ویمپوآ کمپنی پہلے سے ہی مشہور رہی ہیں۔ پاکستان کی بندرگاہوںپر چین نے ہچیسن-ویمپوآ کے ذریعہ ہی دخل بنایا ہے۔ اس کمپنی سے پاکستان کو بھاری اقتصادی مدد مل رہی ہے۔ ہچیسن کمپنی کچھ عرصہ قبل تک ہندوستان میںکام کرتی رہی، لیکن 2005-07 میںاچانک اس نے ہندوستان کا کاروبار بند کردیا۔ ووڈافون نے اسے خرید لیا۔ ہچ کے اس طرح ہندوستان سے کام سمیٹ لینے کے پیچھے بھاری ٹیکس چوری کے علاوہ کئی اور مشتبہ وجوہات تھیں، لیکن حکومت ہند نے اور ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں نے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ وہی ہچیسن اسٹیبلشمنٹ اپنی ساجھدار شاؤمی کے ساتھ ہندوستانی فوج کی جاسوسی میںپھر سے سرگرم ہے۔ اس نے چین اور پاکستان کو بہت ساری خفیہ اطلاعات مہیا کرائیں، جس کا نتیجہ پٹھان کوٹ جیسے دہشت گردانہ حملے کی شکل میںسامنے آیااور چین نے دہشت گرد مسعود اظہر کے بچاؤ میںویٹو تک ٹھوکنے سے پرہیز نہیںکیا۔
ہم یہ اہم سوال اٹھارہے ہیں کہ ہچیسن کو ہندوستان میںگھسنے کی اجازت کس نے دی تھی؟ ہچیسن کے ذریعہ ہندوستان کے چپے چپے میں چینی فوج کے کمیونکیشن نیٹ ورک قائم ہونے کا موقع آخر کس نے دیا تھا؟ کیا حکومت ہند کے علمبرداروں کو یہ نہیں پتہ تھا کہ ہچیسن -ویمپوآ اور چین کی فوج ساتھ مل کر کیا کام کرتی ہے؟ حکومت ہند کی بے دھڑک جاسوسی ہورہی تھی اور مرکزی حکو مت بے ہوش بیٹھی تھی؟ یہ ایسے سوال ہیں، جن کا جواب ملک کے سامنے آنا ہی چاہیے، کیونکہ اس سے پوری سرکار کا دوئم درجہ کا قومی کردار کھل کر سامنے آجائے گا۔ اس کی فوری طور پر سی بی آئی جانچ ہونی چاہیے۔ ہچ کے نام سے ہچیسن کمپنی کا ہندوستان میں آنا ہی اپنے آپ میں ایک بڑا’ پینڈوراز باکس‘ ہے، جسے قاعدے سے کھولا جائے، تو کئی عجیب وغریب حقائق اجاگر ہوںگے۔ ہچیسن کمپنی کی ہندوستان میں سرمایہ کاری کن شرائط پر ہوئی تھی، اس سرمایہ کاری کو فارن انویسٹمنٹ پرموشن بورڈ نے ٹھیک سے مانیٹر کیوںنہیں کیا اور کمپنی جب ہندوستان سے کام سمیٹ کر جانے لگی، تو اس کی (اصلی) وجوہات جاننے کی حکومت ہند نے کوشش کیوںنہیںکی؟ یہ مسئلہ صرف کروڑوں یا اربوں روپے کا ٹیکس ہڑپنے کا نہیںہے، یہ مسئلہ ملک کی سیکورٹی سے جڑا ہوا ہے کہ ہچیسن کو نہ صرف ہندوستان میںگھسنے کی اجازت مل گئی، بلکہ ہندوستان کی زمین سے ہی ہچیسن گروپ اور چینی فوج (پی ایل اے) کے بیچ کمیونکیشن لنک قائم کرنے کی بھی اجازت مل گئی۔ حیرت ہے کہ 90 کی دہائی سے لے کر آج تک حکومت ہند اس مسئلے پر آنکھیںبند کیے رہی۔ ظاہر ہے کہ پورے میکینزم کو اپنے ہی ملک کی دیمک چاٹ رہی ہے اور کھوکھلا کررہی ہے۔ ہچیسن کے بھیس میںچینی فوج کو ملک کے گھر گھر میںگھسنے کا راستہ حکومت ہند نے ہی کھولا اور اس’ لبرل پالیسی‘ او ر ’گلوبلائزڈ ایکونومی‘ بتا بتا کر اپنی پیٹھ خود ہی ٹھوکتی رہی۔ یہ بھی نہیںدیکھا کہ نیشنل سیکورٹی میںنقب لگانے کے ساتھ ساتھ وہ ملک کی کتنی بے شمار دولت جذب کررہی ہے۔ حکومت ہند اور اس کے سسٹم نے اس کے نتیجے بھی دیکھے، اس کے باوجود ایسی کمپنیاں ہندوستان میںاب بھی کھلا کھیل رہی ہیں۔ ان پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ سرکاریںکبھی لیہ – لداخ تو کبھی ارونا چل میںچینی فوج کی دراندازی کی منظم نوٹنکی کھیلتی ہیں اور ملک کے لوگوںکو بھٹکاتی ہیں۔ اصلیت یہ ہے کہ ہمارے چپے چپے پر چینی فوج کی نظر ہے۔ ہماری ہر ایک سرگرمی پر چینی جاسوسوںکی نگرانی ہے۔ ملک کا ایک ایک شہری چین کے لیے جاسوسی کاآلہ اپنے ہاتھ میںلیے گھوم رہا ہے۔ ایسے حالات میںممبئی یا پٹھان کوٹ جیسے دہشت گردانہ حملے نہیںہوںگے، تو کیا ہم پر پھول برسیںگے۔
ہماری اطلاع کہتی ہے کہ ہچیسن اور اس کی شراکت دار شاؤمی اور ریڈمی کے اسمارٹ فونس اور اسمیش ایپ اور وی-چیٹ جیسے اسمارٹ ایپلی کیشنس کے ذریعہ چین نے ہندوستان کے خلاف خوب جاسوسی کی اور اسے پاکستان سے شیئر کیا۔ ہندوستانی فضائیہ وزارت دفاع سے لگاتار یہ کہتی رہی کہ چین کا بنا ہوا اسمارٹ فون ’شاؤمی‘ اور ’ریڈمی‘ ان کے خلاف جاسوسی کے کام آرہا ہے۔ لیکن ہندوستانی فضائیہ کے ذریعہ اطلاع کیے جانے کے باوجود حکومت ہند نے متنازع چائنیز اسمارٹ فونس پر پابندی لگانے یا اس کی خفیہ جانچ کرانے کی ضرورت نہیںمحسوس کی۔ ہاں! شکایت ملنے پر سرچ انجن گوگل نے اسمیش ایپ جیسے ایپلی کیشن کو اپنے پلے – اسٹور سے ضرور ہٹادیا اور یہ مانا کہ اس ایپلی کیشن کا استعمال پاکستانی خفیہ ایجنسی ہندوستان کے خلاف جاسوسی کے لیے کررہی تھی۔ پاکستانی خفیہ ایجنسی کی سرپرستی میں پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے کو انجام دینے والی دہشت گرد تنظیم ’جیش محمد‘ کے سرغنہ مسعود اظہر کے خلاف اقوام متحدہ کی کارروائی کی ہندوستانی تجویز پر چین نے ویٹو کیوںلگایا، اس کی وجہ واضح ہے۔
حکومت ہند نے چین کے بنے متنازع موبائل فون کو بین کرنے کی کوئی کارروائی نہیںکی۔ اس پر ہندوستانی فوج کی تینوںاکائیوںنے اسمارٹ فونس کے استعمال پر ہی پابندی لگادی ہے۔ ہندوستان کے خراب سائبرسیکورٹی نظام کا خمیازہ بھی آخر کار فوج کو ہی بھگتناپڑرہا ہے۔ بری، فضائیہ اور بحریہ میںاسمارٹ فونس کے استعمال پر روک کے ساتھ ساتھ فیس بک، ٹویٹر، وہاٹس ایپ،اسمیش ایپ، آرکُٹ، وی-چیٹ، لائن ایپ جیسے اسمارٹ فون ایپلی کیشنس، میسنجر ایپلی کیشنش اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے استعمال پر بھی پوری طرح پابندی لگادی گئی ہے۔ فوج کی تینوں اکائیوں کے فوجیوں ، جونیر کمیشنڈ افسروں اور کمیشنڈ افسروںسے کہا گیا ہے کہ وہ اپنا ای- میل آئی ڈی بھی فوری طور پر بدل لیں۔ بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشسترسیما بل (ایس ایس بی ) ، سنٹرل سیکوریٹی فورس (سی آئی ایس ایف) اور بھارت تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) جیسیپیراملٹری فورسیز سے بھی ایسا کرنے کو کہا گیا ہے۔ پٹھان کوٹ حملے کی جانچ کے نام پر پاکستانی جانچ ٹیم کے ہندوستان آنے سے پہلے ملک کی تینوں فوجی اکائیاںاسمارٹ فونس، اسمارٹ ایپلی کیشنس اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے استعمال سے الگ ہو چکی تھیں۔ ہندوستانی فضائیہ کو اس بات پر گہری ناراضگی ہے کہ پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے کی سازش کرنے والے ملک پاکستان کے سازشی افسروں کو ہی ہندوستانی ایئر بیس میںگھسنے کی اجازت کیسے دے دی گئی؟
سرچ انجن گوگل نے ابھی پچھلے ہی دنوںاسمیش ایپ کو اپنے پلے -اسٹور سے ہٹایا ہے۔ اس کی باضابطہ طور پر تصدیق ہوئی کہ اس ایپلی کیشن کا استعمال پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہندوستانی فوج کے خلاف جاسوسی کے لیے کررہی تھی۔ اس ایپ سے ہندوستانی فوج کے ملازمین کی سرگرمیوںپر بھی نظر رکھی جارہی تھی۔ دوسرے اسمارٹ ایپلی کیشن کی طرح یہ بھی فری ایپلی کیشن کی طرح دستیاب تھا۔ اسے ڈاؤن لوڈ کرنے سے پہلے کرنٹ لوکیشن،کانٹیکٹ لسٹ، میڈیا گیلری سے جڑی ہوئی اطلاعات درج کرنی پڑتی تھیں۔ ان اطلاعات کے ذریعہ اور کرنٹ لوکیشن کی بنیاد پر متعلقہ شخص کی جاسوسی آسان ہوجاتی تھی۔ ہندوستانی فوج میںاس ایپلی کیشن کا خوب استعمال ہورہا تھا۔ سستے میںفراہم ہونے والے ’شاؤمی‘ اور ’ریڈمی‘ جیسے چائنیز اسمارٹ فون اور مفت میںملنے والے اسمارٹ ایپلی کیشن کا استعمال کرکے ہندوستانی فوج کے افسر اور ملازم چینی اور پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے لیے جاسوسی کا آسان اوزار بن کررہ گئے تھے۔ فوج کی تکنیکی برانچ کے افسر کہتے ہیںکہ ’شاؤمی‘ اسمارٹ فون میں باقاعدہ اسپائی چپس فٹ پائے گئے، جسے آسانی سے جاسوسی ہورہی تھی۔ یہ ملک کی سالمیت سے جڑا بے حد حساس مدعا تھا، جس کی طرف حکومت ہند نے دھیان نہیں دیا اور اب بھی نہیں دے رہی ہے۔ جبکہ اس درمیان پٹھان کوٹ حملے جیسی دہشت گردانہ وارتیں واقع ہو چکی ہیں۔ شائومی اور ’ریڈمی‘ اسمارٹ فونس پر پابندی کی بات تو چھوڑیے، اس کے اور بھی نئے نئے ایڈیشن اور ماڈلس بازار میں اتارے جارہے ہیں۔ بڑے زور و شور سے ان فونس کے اشتہار بھی دکھائے جارہے ہیں ۔ ہچیسن اور شاؤمی کی ایشیائی ساجھیداری کی بڑی بڑی خبریںشائع کرائی جارہی ہیں، لیکن اس طرف حکومت ہند کی نظر نہیںہے۔ اسمارٹ فونس اور ایپلی کیشنس کے ذریعہ جاسوسی کی بات کھلنے پر پتہ چلا کہ اسمیش ایپ جیسے میسنجر ایپلی کیشن کے ذریعہ یوزر کا پورا ڈاٹا پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو مہیا کرایا جارہا تھا۔ اسمیش اپ کا سَروَر جرمنی میں تھا، جسے کراچی کا رہنے والا پاکستانی ایجنٹ ساجد رانا پی بی ایکس موبیفلیکس ڈاٹ کام کے نام سے چلا رہا تھا۔ اس ایپلی کیشنس کی تکنیک چین کے ذریعہ ڈیولپ کی گئی تھی۔ اسے اتنے شاطرانہ طریقے سے تیار کیا گیا تھا کہ اسے ڈائون لوڈ کرتے ہی یوزر کے فون میں درج سارے ڈیٹیلس، ایس ایم ایس ریکارڈ، فوٹو، ویڈیو اور یہاں تک کہ کن کن لوگوں سے اس کی باتیں ہو رہی ہیں، اس کا بیورا بھی سَروَر کو مل جاتا تھا۔ اسی طرح ’شائومی ‘ اور ’ ریڈمی‘ فونس کے ذریعہ بھی یوزر – ڈاٹا چین میں موجود سرور کو بھیجے جارہے تھے۔
فوج میں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے استعمال پر پابندی کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے ایک اعلیٰ فوجی آفیسر نے بتایا کہ فیس بک جیسی سوشل سائٹس یا اسمارٹ ایپلی کیشن کے استعمال سے فوج کے ملازم یا آفیسر انجانے میں ہی خود بخود جاسوسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔ فوج کے عام آٖفیسر یا فوجی تکنیکی طور پر ماہر نہیں ہوتے ،لہٰذا وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ ان کی انفارمیشن کس طرح باہر لیک ہو رہی تھیں۔ اسے دیکھتے ہوئے فوج میں اسمارٹ فونس کے استعمال پر ہی مکمل پابندی لاگو کر دی گئی ہے۔ حال کے دنوں میں یہ رواج بھی بڑھ گیا تھا کہ فوج کے جوان یا آفیسر اپنی تعیناتی کی جگہ کی تصویریں اور اپنے ہتھیار کے ساتھ کھینچے گئے فوٹو اپ لوڈ کررہے تھے۔ انہیں یہ سمجھ میں ہی نہیںآرہا تھا کہ وہ ساری اطلاعیں اور تصوریں چین ہوتی ہوئی پاکستانی خفیہ ایجنسی کے ہاتھ تک پہنچ رہی ہیں اور ملک کا نقصان ہو رہا ہے۔ ہندوستانی فوج نے ڈائریکٹر جنرل (ملٹری آپریشنس) کے ذریعہ فوج کے سارے کمان کو باقاعدہ یہ حکم دیا کہ فوجی ( آفیسر یا جوان ) یا ان کے خاندان کے کوئی بھی ممبر وی چیٹ جیسیا یپلی کیشنس کا استعمال نہ کریں۔ اس حکم میں ان سارے ا یپلی کیشنس کا استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جس کے سَروَر بیرون ملک میں ہوں۔ فوج نے صاف طور پر کہا ہے کہ ان کے استعمال سے سنگین نقصان ہو سکتا ہے اور حساس انفارمیشن باہر جاسکتی ہیں۔ فوجی ہیڈ کوارٹر نے باضابطہ طور پر مانا ہے کہ چین کے ٹلی کام آپریٹرس وی چیٹ جیسے ایپلی کیشنس کے ذریعہ اطلاعیں حاصل کر کے اسے چین سرکار کو دے رہے ہیں۔ انڈین کمپیوٹر ایمرجینسی رسپانس ٹیم سے ملی جانکاریوں کی بنیاد پر ہندوستانی فضائیہ کی خفیہ شاخ نے بھی یہ رپورٹ دے رکھی ہے کہ ’شائومی‘ اور ’ ریڈمی‘ اسمارٹ فونس اپنے سارے یوزر ڈاٹا چین میں بیٹھے آقائوں کو مہیا کرا رہے تھے۔ ’ریڈمی‘ فون کے اپنے آپ چین میں موجود آئی پی ایڈریس سے کنیکٹ ہونے کے کئی ثبوت بھی سامنے آئے۔ تب یہ راز منکشف ہوا کہ سَرور (ڈبلیوڈبلیوڈبلیوڈاٹ سی این این آئی سی ڈاٹ سی این ) کا مالک چین سرکار کی منسٹری آف انفارمیشن انڈسٹری خود ہے۔ چین کی شہہ اور مدد سے پاکستانی خفیہ ایجنسی نے ہندوستانی فوج کے کئیپراکسی ناموں مثلاً انڈیا آرمی نیوز، انڈین ڈیفنس نیوز وغیرہ کے نام سے کئی ویب سائٹس اور ایپلی کیشنس لانچ کئے۔ فوج کے تمام افسروں اور ملازموں نے ان ایپلی کیشنس کی اصلیت کی چھان بین کئے بغیر اسے صحیح مان کر اپنے اسمارٹ فونس میں ڈائون لوڈ کر لیا اور جاسوسی کے ٹریپ میں آسانی سے پھنس گئے۔ بعد میں پتہ چلنے پر فوجی افسروں کے سینکڑوں فونس فارمیٹ کئے گئے، لیکن زیادہ تعداد میں یہ ممکن نہیں پایا گیا۔ لہٰذا اسمارٹ فونس کے استعمال سے ہی پرہیز کرنے کو کہہ دیا گیا ۔اب صورت حال اتنی قابل رحم ہو گئی ہے کہ فوج کے آفیسر سے لے کر عام فوجی تک اپنے جاننے والوں اور بازار میں پرانے نوکیا یا سیم سنگ کے پرانے کی پیڈ والے موبائل فون کے بارے میں پوچھتے پھر رہے ہیں، وہ بھی مل جائے تو اسے خرید کر وہ اپنے گھر والوں سے بات چیت کرسکیں۔

ہندوستان کے لئے خطرناک ’ویمپ‘ کی طرح ہے ’ویمپو ا‘
ریسرچ اینڈ انالیسیس ونگ ( را) کے عہدیدار ہچیسن ویمپو ا کمپنی کو ہندوستان کے لئے خطرناک ’ویمپ‘ (ویلن) بتاتے ہیںہچیسن ویمپوا اور شائو می کافی قریب ہیں اور ایشیا میں مشترکہ کاروبار کرتے ہیں۔ ہچ کے نام سے ہندوستان میںہچیسن کا کاروبار تھا، لیکن اس نے ہندوستان میں تجارتی حقوق ووڈافون کو بیچ ڈالے۔ حکومت ہند نے کبھی اس بات کی چھان بین نہیں کرائی کہ کمیونیکیشن کا سہارا لے کر ہچیسن کمپنی ہندوستان میں کیا کیا دھندے کرتی رہی اور اچانک کام سمیٹ کر کیوں چلی گئی۔ ہچیسن کمپنی اربوں روپے کا کیپیٹل گین ٹیکس ہڑپ کر چلی گئی۔ اس پر کسی کو کوئی درد ہی نہیں ہوا۔ ایسی طاقتیں ہندوستان کی ریڑھ میں کس حد تک گھس پیٹھ کر چکی ہیں، ا سے آپ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ہچیسن ویمپوا کے مالک لی کا شنگ کے چین کی حکومت اور چین کی فوج (پی ایل اے) سے گہرے تعلقات ہیں۔ لی کا شنگ کی کمپنی ہچیسن ویمپوا چینی فوج کی سائبر ریجمنٹ کے ساتھ مل کر سائبر وار فیئر اور سائبر جاسوسی کے شعبے میں کام کرتی رہی ہے۔
چین کے کمیونزم کا سچ یہی ہے کہ چین کی فوج دنیا بھر میں پھیلی کئی مشہور کارپوریٹ کمپنیوں کی مالک ہے یاہچیسنویمپوا جیسے کارپوریٹ گھرانوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ اس طرح چین کی فوج دنیا بھر میں جاسوسی بھی کرتی ہے اور دولت بھی کماتی ہے۔ ہچیسن ویمپوا اور چین کی فوج نے پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا سمیت دنیا کے تمام ملکوں کی بندرگاہوں کو اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ بندرگاہوں کا کام ہچیسن پورٹ ہولڈنگ ( ایچ پی ایچ) کے نام سے کیا جا رہا ہے۔ بندرگاہوں کے ذریعہ ہتھیاروں کی آمدو رفت بے دھڑک طریقے سے ہوتی رہتی ہے۔ ہچیسن ویمپوا لمیٹیڈ کے چیئر مین لی کا شنگ چین کی فوج کے لئے بڑے کاروبار میں بچولئے کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی ہیوز کارپوریشن اور چائنا-ہانگ کانگ سیٹلائٹ (چائنا سیٹ) کے بیچ ہوئے کئی بڑے سیٹلائٹ معاہدوں میں لی کا شنگ نے اہم رول ادا کیا تھا۔ یہاں تک کہ چائنا سیٹ اور ایشیا سیٹ میں اپنی دولت بھی لگائی ۔ چائنا سیٹ اور ایشیا سیٹ کمپنیاں چینی فوج پیپلس لبریشن آرمی کی کمپنیاں ہیں۔ اسی طرح چائنا اوسین شپنگ کمپنی (کاسکو) بھی پیپلس لبریشن آرمی کی ہے، جس میں ہچیسن ویمپوا لمیٹیڈ کا پیسہ لگا ہوا ہے۔ لیبیا ، ایران، عراق اور پاکستان سمیت کئی ملکوں میں جدید ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں کاسکو کا ملوث ہونا کئی بار اجاگر ہو چکا ہے۔ بدنام آرمس ڈیلر اور ماڈرن اسلحہ بنانے والی چین کی پولی ٹیکنالوجیز کمپنی کے مالک وانگ جون اور ہچیسن ویمپوا کے مالک لی کا شنگ کے نزدیکی تعلقات ہیں۔ پولی ٹیکنالوجیز کمپنی کا آپریشن بھی پی ایل اے کے ذریعہ ہی ہوتا ہے۔ چین کے دی چائنا انٹرنیشنل ٹرسٹ اینڈ انویسٹمنٹ کارپوریشن میں وانگ جون اور لی کا شنگ، یہ دونوں بدنام ہستیاں بورڈ ممبرس ہیں۔

خود کو نہیں، ملک کو اسمارٹ بنائیں مودی جی
جو لیڈر کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے جدید ذرائع کا استعمال کرکے انتخاب جیت جاتا ہو اور ملک کا وزیر اعظم بن جاتا ہو،جو وزیر اعظم اسمارٹ فون، ٹویٹر، فیس بک سمیت تمام سوشل سائٹوں اور ایپلی کیشنس کے ذریعہ دنیا پر چھاجانے کا منصوبہ بناتا ہو، جو وزیر اعظم اپنے نام کے طرح طرح کے اسمارٹ ایپلی کیشنس بازار میں اتارتا ہو، ویسے وزیر اعظم نریندر مودی کے ملک میں اسمارٹ فونس کا جال بچھا کر چین کی فوج چینی کمپنیوں کے ذریعہ انڈین سیکورٹی کی جاسوسی کرتی رہی ہو، ہندوستانی فوج سرکار سے بار بار اس کی شکایت کرتی رہی ہو اور اس کی کوئی سنوائی نہیں ہوتی ہو، آخر کار بے بس ہوکر فوج کی تینوں شاخوں کو اسمارٹ فونس اور اسمارٹ ایپلی کیشنس کے استعمال پر پابندی لگانی پڑتی ہو۔ یہ ملک کی انتہائی بدقسمتی کی بات ہی تو ہے؟ یہ سوال ہم اقتدارکے علمبرداروں نے نہیں ،ملک کے عام لوگوں سے کررہے ہیں،پوچھ نہیں رہے۔ان سوالوں کا جواب برسراقتدار مودی کے پاس نہیں ہے۔مودی کے پاس اس کا بھی کوئی ٹھوس جواب نہیں ہے کہ وہ یہ پکے طور پر بتا سکیں کہ ان کا اپنا فون جاسوسی کے طور استعمال ہو رہا ہے کہ نہیں؟ جب فوج کے افسروں اور ملازموں کو پتہ نہیں چل پایا کہ وہ جس اسمارٹ فون اور جس اسمارٹ ا یپلی کیشنس کا استعمال کررہے ہیں، وہ ان کی اور ان کے تمام متعلقین کی جاسوسی کررہا ہے تو وزیر اعظم خود اپنے اسمارٹ فون اور وزیر اعظم دفتر کے افسروں سے لے کر ملازموں تک کے اسمارٹ فونس کے بارے میں گارنٹی کیسے لے سکتے ہیں؟ فوج کی تینوں شاخوں میں تو پھر بھی اتنا ڈسپلن ہے کہ انہوں نے خطرہ پکڑا تو بیماری کی فوری طور پر فوجی اسٹائل کی سرجری کر دی۔ لیکن وزیر اعظم دفتر ، وزارت دفاع اور وزارت داخلہ جیسے حساس محکموں میں کام کرنے والے سویلین اسٹاف کو اسمارٹ فونس کے استعمال سے کون روک لے گا؟ یہ سوال نہیں ہے۔ یہی ہندوستان ملک کی نراجی حقیقت ہے۔آپ خبر کے اہم حصے میں تفصیل سے پڑھیں گے کہ کس طرح اسمارٹ فونس اور اسمارٹ ایپلی کیشنس کے ذریعہ ہندوستانی فوج اور ہندوستانی سیکورٹی سسٹم کی چین کی دو کمپنیوں نے چین کی فوج کی ملی بھگت سے جاسوسی کی اور اسے چین اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کو مہیا کرایا۔ ستم ظریقی یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ملک بھر کے لوگوں تک اسمارٹ فونس ،اسمارٹ ا یپلی کیشنس اور سوشل میڈیا کی پہنچ کرانے کی باتیں کرتے ہیں۔ مودی نئے نئے اسمارٹ فونس کی لانچنگ کرتے بھی دیکھے جاتے ہیں۔ مودی نام کے کئی ایپلی کیشنس تو وہ لانچ کربھی چکے ہیں۔ مودی جہاں بھی جاتے ہیں وہاں خوب سیلفی کھینچتے و کھنچواتے ہیں اور اسے ٹویٹر ، فیس بک کے ذریعہ خوب نشر و تشہیر بھی کرتے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اپنے ہی ملک کی فوج کے گرتے حوصلے کو تھوڑا بھی نہیں بھانپ پاتے کہ فوج کو کس درد اور بے چینی میں فوجیوں کے اسمارٹ فونس چھین کر فوج کی چہار دیواری سے باہر پھینک دینے کا فیصلہ لینا پڑا۔ مودی سرکار فوج کے لئے ایسی کوئی کارگر اسمارٹ تکنیکی سہولت کیوں نہیں مہیا کرا پائی کہ ہمارے فوجی ملک کے عام لوگوں کی طرح اسمارٹ فونس کا استعمال کرتے اور کوئی چوندھیائی آنکھوں والا جاسوس اس کی کھوج لگانے کی ہمت نہیں کر پاتا؟ فوج کے لوگوں کو ملک کے عام شہری کا درجہ حاصل ہے کہ نہیں؟ یا مودی آپ اس سے ہی خوش ہو لینا چاہتے ہیں کہ پورا ملک ساری جدید سہولیات کا بھرپور فائدہ اٹھاتے رہے اور جن کے بل پر ہم سڑک پراینٹھ اینٹھ کر چل رہے ہیں، وہ قدیم زمانے کی مڑیل سہولتوں اور نظر اندازیوں کے بیچ بندوقیں لئے سرحد پر شہادت کی باری کا انتظار کرتے رہیں۔ یہ واقعی افسوسناک ہے اور شرمناک بھی۔ مودی آپ اسے محسوس کریں ،نہ کریں۔

پتہ چلا کہ چین کتنی گھٹیا حرکت کرسکتا ہے
پٹھان کوٹ حملے کو انجام دینے والے دہشت گرد سرغنہ مسعود اظہر کے خلاف اقوام متحدہ میں لائے گئے ہندوستانی تجویز پر چین کے ویٹو کا مطلب صاف ہے کہ دہشت گرد کے خلاف لڑائی میں وہ کس طرف کھڑا ہے۔ مسعود اظہر کوپاک صاف بتاکر چین نے دنیا بھر کے سامنے یہ ظاہر کردیا کہ وہ خود کتنا پاک صاف ہے۔ ہندوستان نے مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی فہرست میںشامل کرنے کے لیے یونائٹیڈ نیشنس سینکشنس کمیٹی سے درخواست کی تھی۔ یونائٹیڈ نیشن کے رول 1267-کے تحت ممبران کے ذریعہ قرارداد پاس ہوجاتی، تو پاکستان او رجس ملک میںجہاں بھی مسعود اظہر کی جائیداد ہوتی، اسے ضبط کرلیا جاتا اور اس کی آمدورفت پر پابندی لگ جاتی۔ لیکن چین کے ذریعہ ویٹو لگنے کے سبب ایسا ممکن نہیں ہو پایا، جبکہ کمیٹی کے دیگر سبھی ممبر اس تجویز پر راضی تھے۔ ممبئی حملے کے سرغنہ زکی الرحمان لکھوی پر پابندی کی قرارداد بھی چین کے اڑنگے کے سبب ہی رک گئی تھی۔ چین کی اس حرکت کے بعد حکومت ہند اسے فکر والے ملکوںکی فہرست میںپھر سے شامل کرے گی۔ ابھی حال ہی میںچین کو اس فہرست سے الگ کردیا گیا تھا۔ پاکستان فکر والے ملک کی فہرست میںشامل ہے۔ حکومت ہندمسعود اظہر کے معاملے کو پھر سے اقوام متحدہ لے جانے کی تیاری کررہی ہے۔
باکس:
ہم نے پہلے بھی کہا تھا چین کتناخطرناک ہے
کچھ عرصہ پہلے بھی’ چوتھی دنیا‘ نے یہ خلاصہ کیا تھا کہ چین کے سازوسامان پر ضرورت سے زیادہ انحصار بڑی آفت کو دعوت دے رہا ہے۔ اسٹریٹیجک ایکسپرٹ اس بات کو لے کر فکرمند رہے ہیںکہ ٹیلی کمیونکیشن کے شعبے میں ہورہا چین کا غلبہچینی فوج کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ ملک میںزیادہ تر بیس ٹرانسمیشن اسٹیشن (بی ٹی ایس) میںچینی کمپنیوںہواویئی اور زیڈ ٹی ای کے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کااستعمال ہوا ہے۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ سبھی چینی بی ٹی ایس کو جی پی ایس سگنل کے لیے چینی سیٹیلائٹ پر ٹرانسفر کردیا گیا ہے۔ یہ خطرناک ہے، کیونکہ موبائل بی ٹی ایس کے جی پی ایس ماڈیول میںبدلائو کرنے سے پورے کا پورا کمیونکیشن سسٹم زمیںبوس سکتا ہے۔ کسی ہنگامی حالت میںجی پی ایس پلس کو بلاک کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے راستے میںتبدیلی کرکے اس کی ٹائمنگ بدلی جاسکتی ہے۔ ملک کا 60 فیصد سی ڈی ایم اے اور جی ایس ایم موبائل کمیونکیشن چینی وینڈرس ہی چلاتے ہیں۔ اس لیے 60 فیصد موبائل نیٹ ورک پر سیدھا خطرہ ہے۔ اگر ایک باریہ زمین بوس ہوگیا، تو باقی 40 فیصد پر اس کا بوجھ پڑے گا۔ اس وجہ سے سارا موبائل کمیونکیشن نیٹ ورک ٹھپ پڑ جائے گا۔ سرکار کے پاس اس سے ابھرنے کا کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔ یعنی ملک کے جی پی ایس نیٹ ورک میںتھوڑی سی بھی خرابی آتی ہے، تو سارا کمیونکیشن نیٹ ورک اچانک بیٹھ جائے گا۔ ہم نے نیشنل سیکورٹی کو خطرے میںڈال رکھا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *