دو ہزار انیس میں گٹھ بندھنوں کا گٹھ بندھن ہوسکتا ہے

میگھناد دیسائی
حالانکہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخاب کے نتائج کا بے چینی سے انتظار کیا جارہا ہے، لیکن 2019 کے بڑے میچ کی تیاری ابھی سے شروع ہوگئی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر ایک ریاست کے انتخاب کے نتیجے اگلے عام انتخابات کی سمت طے کریں گے۔ پچھلے سال بہار اور دہلی انتخابات کے نتائج نے بی جے پی / این ڈی اے مخالف خیمے میں جوش بھردیاتھا۔ لہٰذا آگے کی لڑائی کے لےے بی جے پی مخالف طاقتوں کو منظم کرنے کی قواعد شروع ہوگئی ہے۔ ایک طرف جے ڈی یو کا کچھ حد تک بڑا گٹھ بندھن ہے،جسے اترپردیش میں انتخاب کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے ایک سے زیادہمطلب ہیں۔ یہ حکمت عملی نتیش کمار کو 2019 میں بی جے پی مخالف گٹھ بندھن کے لیڈرکی مضبوط دعویداری کے لےے اپنائی جارہی ہے۔ کانگریس نے پہلے سے ہی اس گٹھ بندھن میںشامل ہونے کی اپنی خواہش ظاہر کردی ہے۔
پچھلے سال دہلی میں منعقد ایک کانفرنس میں اکھلیش یادو نے اعلان کیا تھا کہ ملائم سنگھ یادو 2019 کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار ہوں گے۔ انھوںنے کانفرنس میں موجود راہل گاندھی کو نائب وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر مدعو کیا تھا۔ خوش قسمتی سے راہل گاندھی کے پاس دو لیڈر ہیں، جن کے وہ نائب کا کردار نبھا سکتے ہیں۔ ابھی یہ صاف نہیں ہوا ہے کہ سماجوادی پارٹی، نتیش کمار کی قیادت والے بی جے پی مخالف گٹھ بندھن کا حصہ بنے گی یا نہیں۔ یہ اس پر منحصر ہے کہ اگلے سال اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کا کیسا نتیجہ آتا ہے۔ فی الحال وہاںایس پی، بی ایس پی اور بی جے پی کے بیچ سہ رخی مقابلے کا امکان دکھائی دے رہا ہے۔ یہاںجے ڈی یو کا کوئی خاص کردار نہیںہوگا،چاہے کانگریس اس کے گٹھ بندھن میں شامل ہو یا نہ ہو۔
اس بیچ بی جے پی دو طرح کے اشارے دے رہی ہے۔ پہلا یہ کہ ہندوتو کے بجائے راشٹرواد اس کا اصل پیغام ہے۔ دوسرا اس نے ریاستی سطح پر پسماندہ طبقے کی قیادت کو اہمیت دی ہے۔ کیشو پرساد موریہ کی شکل میںاس نے اترپردیش کے لےے ایک آئیڈیل لیڈر تلاش کرلیا ہے،جو پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں او رمندر مدعے پر بھی (حالانکہ وہ اس سے جڑے قانونی پہلوو¿ںسے واقف ہیں) ان کا مضبوط پہلو ہے۔اگر ریاست کے برہمن بی جے پی کو چھوڑ دیتے ہیں، تو انھیں ایس پی اور بی ایس پی میںسے کسی متبادل کو چننا ان کی مجبوری ہوگی۔
اروند کجریوال 2019 انتخابات کے ڈارک ہارس (غیر متوقع فاتح)ثابت ہوسکتے ہیں۔ اگر عام آدمی پارٹی پنجاب میں مو¿ثر طریقے سے الیکشن جیتتی ہے، تو کجریوال کی قومی سیاست کی خواہش دوبارہ زندہ ہوجائے گی۔ اس کے لےے عام آدمی پارٹی کو پنجاب میںسب سے بڑی پارٹی ہونے کی ضرورت بھی نہیںہے۔ اسے صرف سرکار بنانے کے لےے کانگریس یا شرومنی اکالی دل کو باہر سے عام آدمی پارٹی کی حمایت لینے پر مجبور کرنا ہوگا۔ اگر ایسا ہوگیا،تو اروند کجریوال 2019 کی قیادت کے دعویدار بن جائیںگے۔ اگر آپ بی جے پی کی پاکستان کی پالیسی پر کجریوال کے حملے پرغور کریںگے، تو آپ کو ان کی نیشنل ایمبیشن سمجھ میں آجائے گی۔ لیکن ہمیںامید کرنی چاہےے کہ اگر وہ الیکشن جیت جاتے ہیں،تو وہ بھی پاکستان کے ساتھ نریندر مودی کی طرح تحمل کی پالیسی اپنائیںگے، نہ کہ نیوکلر بحث چھیڑیں گے۔
2009کے انتخابات سے پہلے جیسا کہ بہت سے لوگوںکو یاد ہوگا، یوپی اے کے خلاف 18 جماعتوں کا ایک گٹھ بندھن بنا تھا، جو پوری طرح ناکام ہوگیا تھا۔ ایک بار پھر 2019 میں ایک سے زیادہ گٹھ بندھن کی امید ہے یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ الگ الگ گٹھ بندھنوںکو کئی وزیر اعظم امیدوار (جس میںنتیش کمار، ملائم سنگھ یادو، اروند کجریوال اور مایاوتی) کے ساتھ ایک جگہ جمع ہونا پڑے۔
جب کانگریس ایک مو¿ثر قومی پارٹی تھی، تو اسے پہلی بار 1977 میں جنتا گٹھ بندھن نے فیصلہ کن طور پر ہرایاتھا۔ وہ گٹھ بندھن بی جے پی کی سب سے بڑی اکائی کے طور پر ابھرنے سے بکھر گیا۔ اس کا باقی کاحصہ جنتا دل کے الگ الگ اتحادیوں میں بٹ گیا۔ اب جب کہ بی جے پی بہت بڑی ہوگئی ہے، جنتا دل کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس بار کانگریس کا کردار اہم ہوگا۔اب نئی جنتا پارٹی کا وجود بچے گا یا نہیں،اس کی پیش گوئی نہیںکی جاسکتی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *