نتیش کمار کے سامنے چیلنجز

سنتوش بھارتیہ
p-1بہت پرانا شعر ہے اور آپ کو ضرور یاد ہوگا ’یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجئے، ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے‘۔ سارے ملک میں اور جو سیاست میں ہیں ان میں یہ صرف نتیش کمار کے اوپر، جس لمحہ ہم اور آپ بات کر رہے ہیں، لاگو ہوتا ہے۔ نتیش کمار کے کئی خواب ہیں۔ ایک خواب ملک کے لوگوں کو جے پرکاش نارائن کی طرح سسٹم بدلنے کے لئے تیار کرنا، بہار کو ملک کا بہترین صوبہ بنانا اور تیسرا سماج میں پھیلے ہوئے ان اقدار کی مخالفت کرنا، جن کی عام طور پر مخالفت کرنے کی ہمت لوگ خود نہیں کر پاتے۔
ان سارے خوابوں کو پورا کرنے کا مطلب ہے سیاست میں کچھ نئے عناصر کا داخلہ کروانا۔ خاص طور پر ایک ایسی مثال پیش کرنا جو جے پرکاش جی کے بعد ختم ہو گیا تھا۔ گاندھی جی خود، جواہر لال جی بھی اس کے ایک حصہ تھے اور جے پرکاش نارائن جنہوں نے عوامی خدمت اور سیاست میں دخل رکھتے ہوئے لگاتار سماجی کام کئے جسے تعمیری کام کہتے ہیں۔ جے پرکاش جی کے بعد ناناجی دیشمکھ نے تعمیری کاموں کو اولین ترجیح دی اور سیاست سے سنیاس لینے کے بعد سماج کے بیچ کام کرتے ہوئے جتنا تعمیری کام وہ کر سکتے تھے انہوں نے کئے۔ آج نتیش کمار گلے تک سیاست میں ڈوبے ہوئے ہیں، بہار کے وزیر اعلیٰ ہیں، اقتدار کے تضادات ان کے دائیں بائیں گھوم رہے ہیں اور ان تضادات کے درمیان انہوں نے تعمیر ی کام کے دھارا کو بڑھانے کی بڑی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی ہے۔ بہار میں مکمل شراب بندی کا فیصلہ ایک بہت مشکل فیصلہ تھا۔ پورا سسٹم شراب سے پیسے کما رہا ہے اور جب میں سسٹم کہتا ہوں تو اس کا مطلب افسر، ملازم، وزیر اور چھوٹے موٹے سیاست داں اس میں سب شامل ہیں۔ یہ فیصلہ جب نتیش کمار نے لیا ہوگا ،میں سمجھ سکتا ہوں چارہزار کروڑ کی آمدنی کا سیدھا نقصان اور چار ہزار کروڑ کی آمدنی کا وہ نقصان جو اسے کمانے کے راستے میں افسروں کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ ہر شراب کی دکان پر ٹیکس کی چوری ہوتی ہے اور وہ چوری اتنی ہی ہوتی ہے جتنا ٹیکس شراب کی فروخت سے سرکار کے خزانے میں آتا ہے۔ نتیش کمار تقریبا 11 سال بی جے پی کے ساتھ رہے اور اب انہوں نے جنتا دل ( یو) کے قومی صدر بنتے ہی ’سنگھ مکت بھارت ‘ کا نعرہ دیا ہے۔ انہوں نے اپیل کی ہے کہ غیر بی جے پی پارٹیاں آپس میں مل جائیں یا مل کر کوئی مورچہ بنائیں۔ کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ موجودہ حکومت جس کی علامت نریندر مودی ہیں، راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی پالیسیوں کو اس ملک میں لاگو کرنے میں جی جان سے لگے ہوئے ہیں۔ نتیش کمار کا یہ نعرہ نتیش کمار کے لئے سیاست کے امکانات تو پیدا کرتا ہے لیکن سیاسی پریشانیاں بھی پیدا کرتا ہے۔
نتیش کمار کے لئے پہلی سیاسی پریشانی ان کے سیاسی ساتھیوں کے ذریعہ کھڑی کی جائے گی، بلکہ کچھ نے کھڑی کرنی شرع بھی کردی ہے۔ جس کے بارے میں ہم ابھی بات کریں گے، لیکن ہم سب سے پہلے بات کرتے ہیں اس ملک کے سب سے بڑے اقلیتی طبقہ کی اور ہم جیسے ہی اقلیت کہتے ہیں ،ہمارے سامنے مسلم سماج آجاتاہے، مسلم سماج کی نفسیات ہے کہ وہ اس سے دور بھاگتا ہے جو پہلے بی جے پی یا جن سنگھ کے ساتھ رہ چکا ہے، نتیش کا 11 سال کا بی جے پی کا ساتھ، مسلمانوں کے دل میں نتیش کمار کو لے کر کوئی شک نہیں پیدا کر سکا۔ یہ کمال نتیش کمار بہار میں کر چکے ہیں۔ جب وہ لالو یادو کے خلاف بہار میں بی جے پی کے ساتھ قائد کا رول نبھا رہے تھے، تب پہلی بار مسلمانوں کے ایک بڑے حصے نے لالو یادو کے خلاف جاکر نتیش کمار کو ووٹ دیا تھا اور وہ ووٹ نتیش کمار کو بی جے پی کا لازمی حصہ کی شکل میں دیکھے جانے کے بعد بھی مسلمانوں نے دیا تھا۔ اس کا مطلب مسلمانوں نے نتیش کمار کو فرقہ پرست نہیں مانا اور جب اس بار کا اسمبلی انتخاب ہوا، جس میں نریندر مودی نے اپنے دشمن نمبر ایک کی شکل میں بہار کے لوگوں سے کہا کہ نتیش کمار کو ووٹ نہ دیں، تو لوگوں نے نریندر مودی کی اپیل کو ماننے سے انکار کردیا۔ نریندر مودی نے یہ بھی کہا کہ یا تو آپ مجھے چنیں اگر میری پالیسیوں میں آپ کو بھروسہ ہے، کیونکہ لوک سبھا کے لئے آپ مجھے چن چکے ہیں یا پھر نتیش کمار کو چنیں۔ میری پارٹی اگر جیت جاتی ہے تو بہار کی ترقی ہوگی اور نتیش کمار جیت جاتے ہیں تو بہار میں جنگل راج ہوگا۔ بہار کے لوگوں نے نتیش کمار کو چنا، نریندر کی پارٹی کو نہیں چنا اور مسلمانوں نے اپنی مکمل حمایت نتیش کمار کو دیا۔ اب جب نتیش کمار جنتا دل (یو)کے قومی صدر بنے ہیں، تب ان کے اس ’سنگھ مکت بھارت ‘ نعرے کا اندر کی سیاسی دھارا میں مسلمانوں نے سب سے زیادہ استقبال کیا ہے۔ اس لئے نتیش کمار کے حق میں سیاست کا پہلا مرحلہ گیا ہے جس میں مسلمان نتیش کمار کے ساتھ جاتے دکھائی دے رہے ہیں، لیکن مسلمانوں کا نتیش کے حق میں جانا ،سماج وادی پارٹی جس کے لیڈر ملائم سنگھ یادو ہیں اور کانگریس پارٹی کے لئے کتنا زیادہ قابل قبول ہوگا اور ان کی مخالفت کہاں سے شروع ہوگی، اس نعرے نے نتیش کمار کے سامنے چیلنج کی شکل میں پیش کر دیا ہے۔
بہار انتخاب سے پہلے نتیش کمار نے جی جان لگا کر ملائم سنگھ کے یہاں کئی میٹنگیں کر کے زیادہ تر غیر کانگریسی اور غیر بھاجپائی پارٹیوں کے لوگوں کو بیٹھاکر جسے جنتا پریوار کی شکل میں کہا جاتا ہے، عوامی طور سے ملائم سنگھ کو اپنا لیڈر ماننے اور انہیں نئی بننے والی ایک پارٹی کے صدر کے طور پر اعلان کر دیا تھا۔ ملائم سنگھ کی اعلان والی پریس کانفرنس میں سارے لیڈر شامل تھے جس کی اصل کمان نتیش کمار اور لالو یادو نے سنبھالی تھی اور عوامی طور پر سب نے ہار پہنا کر ملائم سنگھ کو اپنا لیڈر ڈکلیئرکر دیا تھا۔ ملائم سنگھ خوش بھی تھے، لیکن جیسے ہی بہار انتخاب کا اعلان ہوا، ملائم سنگھ غیر اعلانیہ وجہوں سے روٹھ گئے۔ ملائم سنگھ نے بہار انتخاب سے پہلے ایک پارٹی بنانے کی تجویز کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا، جبکہ یہ طے ہوا تھا کہ بہار انتخاب سے پہلے ایک پارٹی بن جائے گی۔ ملائم سنگھ نے کہا کہ بہار انتخاب کے بعد ہم پارٹی کی بات کریں گے۔ پہلا جھٹکا دینے کے بعد ملائم سنگھ بہار میں انتخاب لڑنے کی حکمت عملی بنانے لگے۔ ملائم سنگھ بہار میں انتخاب لڑنے کی حکمت عملی بنانے لگے ۔ لوگ اس کے پیچھے ان کے بھائی رام گوپال یادو کا ہاتھ دیکھنے لگے، کیونکہ اس پورے عمل میں صرف رام گوپال یادو جن کے اوپر ملائم سنگھ دلی کی سیاست میں سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں، ان تمام عمل کے شروع سے خلاف تھے اور ان کا مانناتھا کہ اگر ایک پارٹی بن جاتی ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان سماج وادی پارٹی کو ہوگا، کیونکہ یہ جتنے بھی اتحادی پارٹی ہیں، اتر پردیش میں ہم سے سیٹیں مانگیں گے۔ دوسری طرف نتیش کمار اور لالو یادو، ملائم سنگھ کو صدر بنانے کا عوامی اعلان کرنے کے بعد یہ مان رہے تھے کہ جلدی سے جلدی ایک پارٹی بن جائے گی، جس کا نام بنیادی طور پر سماج وادی پارٹی ہوگا۔ اس کا جھنڈا سماج وادی پارٹی کا ہوگا۔ اس کا نشان (انتخابی نشان) سماجوادی پارٹی کا ہوگا۔ ایک طرح سے سارے لوگ سماجوادی پارٹی میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو گئے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ ملائم سنگھ اپنے قلم سے بہار انتخاب میں سبھی 200امیدواروں کے ٹکٹ بانٹیں گے، لیکن ملائم سنگھ کے فیصلے سب زمیں بوس ہوگیا۔ انتخاب کے دنوں کو دیکھتے ہوئے آپس میں سمجھوتہ ہوا اور ساری سیٹیں آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے کھاتے میںرہیں، جس میں سے 40 سیٹیں گٹھ بندھن میں شامل تیسری پارٹی کانگریس کے لئے چھوڑ دی۔
ملائم سنگھ نے بہار میں نہ صرف امیدوار اتارے، بلکہ بہار انتخاب میں انہوں نے لالو و نتیش گٹھ بندھن کی کھل کر مخالفت کی اور یہاں تک کہہ دیا کہ لالو یادو کو بھٹکا دیا گیا ہے۔ نتیش کمار تو بی جے پی کے ساتھ رہیں گے اور ان کے اوپر بھروسہ نہیں کیا جاسکتاہے۔ یہ بات نہ نتیش کمار کو سمجھ میں آئی، نہ لالو یادو کو سمجھ میں آئی، کیونکہ بہار انتخاب کے اعلان ہونے سے پہلے تک لالو یادو نے ذاتی طور سے جاکر ملائم سنگھ سے یہ گزارش کی تھی کہ اگر وہ ساتھ نہیں دیتے تو مخالفت بھی نہ کریں، کیونکہ جہاں ایک طرف نریندر مودی کی مخالفت کرنا اور بہار میں انتخاب جتنا ان کا ہدف ہے، وہیں لالو یادو اپنی بڑھتی عمر کے ساتھ اپنے دونوں بیٹوں کو سیاست میں اسٹبلش کرنا چاہتے تھے۔ ملائم سنگھ نے لالو یادو کی بات نہیں سنی۔
اب جب نتیش کمار اور لالو یادو کا گٹھ بندھن بہار کے اقتدار میں ہے، تو لالو یادو کا پہلا اعلان سامنے آیا ہے کہ وزیر اعظم عہدے کے لئے اگر نتیش کمار امیدوار ہیں تو میں ان کی حمایت کروں گا۔ نتیش کمار کے سامنے پہلا چیلنج ملائم سنگھ کی شکل میں کھڑا ہے۔ ملائم سنگھ ملک کے اکیلے لیڈر ہوتے جنہیں تمام اپوزیشن وزیر اعظم عہدے کا امیدوار اعلان کرنا چاہتا تھا۔ اگر انہوں نے ایک پارٹی بنا لی ہوتی، اگر انہوں نے نامعلوم وجہوں سے بہار میں نتیش کمار کی اور لالو یادو کی مخالفت نہ کی ہوتی تو اپنے اپنے شبہات کے باوجود شری ایچ ڈی دیو گوڑا، شری اوم پرکاش چوٹالہ، شری کمل مرارکا، شری لالو یادو اور شری نتیش کمار اس نظریہ کے تھے کہ ملائم سنگھ کی قیادت میں الگ لوک سبھا انتخاب لڑیں گے اور انہیں وزیر اعظم بنائیں گے، لیکن تاریخ کے تضادات اور غالباً پروفیسر رام گوپال یادو کے مشورے پر ملائم سنگھ نے ان تمام کوششوں کو منہدم کردیا ۔ انہوں نے بہار انتخاب کے بعد نتیش کمار کی حلف برداری کی تقریب میں عام آداب کے تحت اپنے لڑکے اکھلیش یادو کو وزیر اعلیٰ کے طور پر بھی پٹنہ جانے سے روک دیا۔ اب تک بہار کے انتخاب کا اعلان ہونے تک جو دو تین میٹنگیں ہوئی تھیں، ان میں شیو پال یادو ملائم سنگھ جی کے نمائندہ کے طور پر شامل ہوئے تھے، لیکن اس بار ان دونوں کو جانے سے روک دیا۔
ملائم سنگھ اتر پردیش میں دوبارہ سماجوادی سرکار چاہتے ہیں، مایا وتی وہاں خاموش بیٹھی ہیں، بی جے پی بری طرح سرگرم ہے، ملائم سنگھ کے سارے قدم اتر پردیش میں لوگوں کو ڈرا رہے ہیں کہ انہیں لگ رہاہے کہ ملائم سنگھ کے فیصلوں کی وجہ سے اتر پردیش میں بی جے پی کو مضبوطی مل سکتی ہے۔ دوسری طرف ملائم سنگھ جی بی جے پی کے خلاف مہم چھیڑتے ہوئے ابھی تک نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ یہیں پر نتیش کمار اور ملائم سنگھ کا پہلا آمنا سامنا ہونے والا ہے۔ نتیش کمار نے بہار میں مکمل شراب بندی کا اعلان کیا ہے اور انہیں بہار میں جس طرح خواتین کی سیاسی حمایت ملی ہے اور وہ سیاسی طور سے جس طرح سے متحد ہوئی ہیں، اس نے نتیش کمار کا حوصلہ بڑھا دیا۔ نتیش کمار کے پاس پورے ملک کی خواتین کے سپورٹ کے خطوط کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ خواتین کے وفود ان سے پٹنہ جاکر مل رہے ہیں۔ نتیش کمار نے سارے ملک میں نشہ بندی کی تائید میں شراب بندی لاگو کرنے کے لئے مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی شروعات وہ 15 مئی کو لکھنو سے کرنے جارہے ہیں، ملائم سنگھ کے لوگ نتیش کمار کے اس قدم کو سیاسی قدم کی شکل میں دیکھ رہے ہیں اور اتر پردیش میں نتیش کمار کی سیاسی پہل کا آغاز مان رہے ہیں۔ اتر پردیش کے وہ سارے طبقے جن میں خاص طور پر کسان ہیں اور جو اَب تک ملائم سنگھ کا حامی رہے ہیں، وہ نتیش کمار کی حمایت میں کھڑا ہیں۔ نتیش کمار کو مل رہے سپورٹ یا ملنے والے ممکنہ سپورٹ کی حمایت میں ملائم سنگھ کا ایک بیان کافی مدد کررہا ہے۔ ملائم سنگھ نے یہ کہا کہ میں نے وشو ناتھ پرتاب سنگھ کی سرکار گرائی اور چندر شیکھر کی سرکار بنوائی۔ جب وی پی سنگھ کی سرکار گری تھی، اس وقت وی پی سنگھ کی سرکار کے گرنے کے پیچھے کا سب سے بڑا سبب ان کا منڈل کمیشن لاگو کرنا تھا۔ اس منڈل کمیشن نے سارے ملک میں ہندوستان کی پوری تاریخ میں پہلی بار پچھڑوں کو اقتدار میں حصہ داری دی۔ آج ملک کی بدلی ہوئی سیاست کی جڑ میں وشو ناتھ پرتاپ سنگھ کا منڈل کمیشن لاگو کرنے کا فیصلہ تھا۔ سارے پچھڑے طبقہ کے بیچ یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ وشو ناتھ پرتاپ سنگھ نے راجپوتوں کے لئے، اعلیٰ ذات کے لئے، برہمنوں کے لئے، اعلیٰ ذات کے غریبوں کے لئے کوئی فیصلہ لاگو نہیں کیا۔ انہوں نے تو پچھڑوں کے حق میں فیصلہ لاگو کیا، جس نے ملک میں ملائم سنگھ یادو، لالو یادو، نتیش کمار ، ایچ ڈی دیو گوڑا ، اوما بھارتی جیسے پچھڑے لیڈروں کی قیادت قائم کر دی، تو اس لیڈر کے خلاف ملائم سنگھ کیوں کھڑے ہوئے، اس کی سرکار کیوں گرائی جو ملک میں منڈل مسیحا مانا جاتا ہے۔صحافی کے ناطے مجھے لگتا ہے کہ ملائم سنگھ سے چوک ہوئی ہے اور ملائم سنگھ کا یہ کہنا کہ میں نے وی پی سنگھ کی سرکار گرواکر چندر شیکھر کی سرکار بنائی، یہ شک پیدا کرتا ہے کہ ملائم سنگھ منڈل کمیشن کے حق میں تھے بھی یا نہیں۔
اتر پردیش میں نتیش کمارکے پاس تمام پچھڑے طبقے کے نمائندوں کا آنا جانا لگا ہے۔ اتر پردیش کا دوسرا سب سے بڑا پچھڑے طبقے کا کُرمی طبقہ جو اتر پردیش میں سب سے طاقتور پچھڑے یادو سماج سے کہیں کم نہیں ہے، بلکہ گاﺅں میں ان سے زیادہ مضبوط ہے۔ کرمی سماج نتیش کمار کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے۔ اگر نتیش کمار اتر پردیش میں کُرمی سماج اور مسلم سماج کو اپنے ساتھ لے لیتے ہیں، تب یہ صورت حال ایک طرف ملائم سنگھ جی کے لئے اور دوسری طرف بی جے پی کے لئے پریشانی کھڑی کر دے گی۔
نتیش کمار کے لئے دوسرا بڑا چیلنج کرناٹک میں ہے۔ کرناٹک میں ایچ ڈی دیو گوڑا عام طور پر بی جے پی کے مخالف مانے جاتے ہیں، لیکن ان کے لڑکے کمار سوامی ، بی جے پی کے سپورٹر مانے جاتے ہیں۔ مجھ سے شری دیوگوڑا نے ایک راز کھولا کہ میں نے اپنی بیوی کے سامنے اپنے بیٹوں کو بلایا اور میں نے ان سے صاف پوچھا کہ کیا میرے زندہ رہتے ہوئے آپ بی جے پی سے کوئی سمجھوتہ کریں گے۔میرے بیٹوں نے مجھے میری بیوی کے سامنے اس بات پر یقین دلایا کہ آپ کے زندہ رہتے ہوئے ہم بی جے پی کے ساتھ کوئی انتخابی گٹھ بندھن نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کے ساتھ جائیں گے،لیکن کرناٹک میں دیو گوڑا کا حامی طبقہ اور کانگریس حامی طبقہ میں تضاد ہے۔ دیو گوڑا کے ہی بنائے ہوئے سدھارمیہ اس وقت کانگریس پارٹی کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ کمار سوامی کو لگتا ہے کہ جب تک سدھارمیہ نہیں ہٹتے، تب تک کانگریس کے ساتھ ان کا سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ ان کا زیادہ آسانی کے ساتھ سمجھوتہ بی جے پی کے ساتھ ہو سکتاہے۔ ریاستی بی جے پی کے نئے صدر بی ایس یودیرپا کے ساتھ زیادہ آسانی کے ساتھ سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔ اس تضاد کو دور کرنا نتیش کمار کا تیسرا بڑا چیلنج ہے۔ دیوگوڑا کیرل میں ایم پی ویریندر کمار کے جنتا دل یونائٹیڈ میں شامل ہونے کو بہت غصے سے دیکھ رہے ہیں۔ اس لئے کیرل میں بھی یہی چیلنج نتیش کمار کے سامنے ہے۔
نتیش کمار کے سامنے چوتھا بڑا چیلنج مدھیہ پردیش، راجستھان، مغربی بنگال اور مہا راشٹر میں پارٹی کو کھڑا کرنا ہے اور ان ساری طاقتوں کو اپنے ساتھ سمیٹنا ہے جو پچھلے دو سالوں میں وزیر اعظم نریندر مودی سے مایوس ہوئے یا مایوسی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ نتیش کمار کے سامنے یہ چیلنج اس لئے ہے کیونکہ اگر وہ 2019 کے انتخاب میں اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار بنتے ہیں تو ان صوبوں میں نتیش کمار کے حامی لوگ تو ہیں، لیکن حامی تنظیمیں نہیں ہےں ۔ یہاں پر ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی مل کر نتیش کمار کو بہت اچھی طرح پریشان کر سکتے ہیں۔ نتیش کمار کے سامنے آخری سب سے بڑا چیلنج راہل گاندھی خود ہیں۔ نتیش کمار کی اب تک کی جو اسکیم سمجھ میں آئی ہے، وہ یہ کہ نریندر مودی کی مخالفت کرنے کے لئے یا’ سنگھ مکت بھارت‘کے نعرے کو محسوس کرنے کے لئے انہیں کانگریس کی حمایت کی بھی ضرورت ہوگی۔ کیونکہ کانگریس پرانی پارٹی ہے اور اس کے لوگ ابھی بھی گاﺅں گاﺅں میں ہیں۔ لیکن کانگریس کا فیصلہ لنیے کا جس طرح کا طریقہ کار ہے، اس میں کانگریس کے لوگ راہل گاندھی کا استعمال کرنے کی جگہ انہیں کنفیوژ کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ آج سارے ملک میں راہل گاندھی کو خود کانگریس کے لوگوں نے ہنسی کا کردار بنا دیا ہے، لیکن نتیش کمار کا ماننا ہے کہ وہ راہل گاندھی کے ساتھ ملک میں ’سنگھ مکت ‘ نعرے کی حکمت عملی بنا سکتے ہیں۔ لیکن راہل گاندھی کو ان کے ساتھی سمجھا رہے ہیں کہ اگر آپ نے ایک بار بھی نتیش کمار کی حمایت کی تو پھر آپ کے ہاتھ سے مستقبل کے وزیر اعظم کے عہدہ کی طرف جانے کی امید نتیش کمار کے ساتھ چلی جائے گی۔ یہ جو مستقبل کا ڈر ہے، یہ نتیش کمار کو اپوزیشن کا قابل قبول امیدوار بننے دے گا یا نہیں بننے دے گا۔یہ بہت بڑا سوال ہے۔نتیش کے لیے سب سے آسان ہریانہ ہے، جہاں اوم پرکاش چوٹالہ نے ان سے کہہ رکھا ہے کہ وہ جب کہیں گے تب وہ ان کے ساتھ آ جائیںگے۔ ان کی کوئی شرط بھی نہیں ہے۔ لیکن چوٹالہ کے من میں ڈر ضرور ہے کہ کہیں چودھری اجیت سنگھ انکے صوبہ میں مداخلت کرنا نہ شروع کردیں۔ چوٹالہ اور اجیت سنگھ کے درمیان جاٹ نمائندگی کو لے کر غیر اعلانیہ جنگ چلتی رہی ہے۔ حالانکہ چودھری چرن سنگھ کے وقت، چودھری دیوی لال جی ان کے ساتھ تھے، لیکن چودھری چرن سنگھ کی موت کے بعد حالات بدل گئے۔
اترپردیش میں بھی اجیت سنگھ نتیش کے ساتھ کن شرطوں کے ساتھ آئیںگے، یہ سوال زندہ ہے۔ افواہیں چاروں طرف ہیںکہ اجیت سنگھ ایک طرف کانگریس سے بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف بی جے پی سے۔ وہ مایاوتی سے بھی بات کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے صاحبزادے جینت چودھری کی حکمت عملی کچھ الگ دکھائی دیتی ہے۔ وہ ہر جلسے میں خود کو چودھری چرن سنگھ کا پوتا بتاتے ہیں۔ اترپردیش کی سیاست کی اس پہیلی کو سلجھانا نتیش کمار کے لیے تھوڑا مشکل ہوگا۔اتر پردیش میں پیس پارٹی نتیش کے ساتھ مل کر انتخاب لڑنا چاہتی ہے۔ بہت سی اور چھوٹی پارٹیاں ہیں جو نتیش کے ساتھ آنا چاہتی ہیں۔ لیکن سب کے ساتھ بڑے تضادات بھی ہیں۔ نتیش کی اپنی پارٹی کا اترپردیش میں کوئی سپور بیس نہیں ہے۔ لیکن اب سبھی لیڈر اپنے لیے اگلی صف میں جگہ یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ یہ صورت حال وی پی سنگھ کے ساتھ بھی تھی اور اب یہی نتیش کے ساتھ بھی ہے۔
کیا نتیش کمار اڑیسہ میں نوین پٹنایک، بنگال میں ممتا بنرجی، جنوب میں کے چندر شیکھر راﺅ سے کوئی مکالمہ کرپائیں گے، کیونکہ نتیش کمار بھی ایسے لوگوں سے گھرے ہوئے ہیں جو کسی بھی سیاسی فیصلے میں پہلے اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔ انہیں ملک میں نظریاتی لڑائی کی جگہ اپنی جگہ پہلے نظر آتی ہے اور نتیش کمار کی سمجھداری کے اوپر بھروسہ رکھتے ہوئے بھی یہ بھروسہ نہیں ہوتا کہ وہ ایسے لوگوں سے فی الحال نجات پا سکیں گے۔ اور سب سے بڑی بات کہ نتیش کمار کے پاس ملک کی لڑائی لڑنے کے لئے فنڈ نہیں ہے۔ بہار کا وزیر اعلیٰ ہونے کے ناطے وہ فنڈ کے لئے کوئی کوشش کریں گے، اس کا توقع بھی نہیں ہے،کیونکہ نتیش کمار ملک کے ان چند لوگوں میں ہیں، جن پر کسی بھی طرح کا کوئی داغ نہیں ہے۔ ملک کے لوگوں کو ان میں تین وزیر اعظموں کا مرکب دکھائی دے رہا ہے ، جن میں وی پی سنگھ، چندر شیکھر اور اٹل بہار باجپئی ہیں۔ ان تینوں کی شبیہ، تینوں کے نظریات اور تینوں کے ایکشن کہیں نہ کہیں نتیش کمار میں دکھائی دیتے ہیں۔ اس لئے نتیش کمار کی یہ تعمیری پہل کہ سارے ملک میں وہ شراب بندی کے لئے جائیں گے اور ہر جگہ شراب بندی کے لئے آواز اٹھائیں گے، انہیں ملک میں موجودہ سیاسی منظر نامے میں ایک انوکھا لیڈر بناتی ہے۔ حالانکہ اس بات کے خطرے ہیں کہ نتیش کمار کے ساتھ کے لوگ ان کے ساتھ رہتے ہوئے ان کے قدموں کو کمزور کریں۔ اس بات کا شبہ ہے کہ سارے ملک کا شراب مافیا مل کر نتیش کمار کو بہار میں ہی اقتدار سے اتارنے کی کوشش شروع کر دے اور اگر اس کے لئے اسے پانچ ہزار کروڑ بھی خرچ کرنا پڑے تو وہ کرے۔ اس کا مقابلہ کرنے کا نتیش کمار کے پاس صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ ہے ملک کے عوام۔ دیکھتے ہیں کہ نتیش کمار اپنے سامنے آنے والے ان چیلنجوں کا کیسے سامنا کرتے ہیں۔ حالانکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نریندر مودی نتیش کمار کو اپنے لئے سب سے بڑا چیلنج مان رہے ہیں۔ اسی لئے وہ نتیش کمار کو سیاسی طور سے نظر انداز کرکے راہل گاندھی کو اپنا اہم مخالف بنا رہے ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ وہ راہل گاندھی کو آسانی سے گرا سکتے ہیں۔ یہی کام ایک زمانے میں اندرا گاندھی نے کیا تھا۔ وہ اپنے سامنے سنگھ کو اہم مخالف بناتی تھیں۔ جبکہ سنگھ اس وقت سیاسی طور پر کہیں مضبوط تھا ہی نہیں اور قدم بھی نہیں اٹھا رہا تھا۔ جس کا اندرا جی کو بہت فائدہ ملا۔ آج وہی کام نریندر مودی کررہے ہیں۔ اس لئے نتیش کمار کے سامنے چیلنجز اتنے سنگین ہےں کہ ان چیلنجزکے بھنور جال سے نتیش کمار کا نکلنا ایک سیاسی مہارت کی مثال ہوگی۔ لیکن ملک کے سامنے ایک نئی سیاسی لڑائی جسے ہم ملک میں سالوں بعدمدعا کی لڑائی کی شکل میں دیکھیں گے، سامنے آنے والی ہے،د یکھنا ہے کہ نتیش کمار کو ملائم سنگھ یادو سے کتنے چیلنج ملتے ہیں اور نریندر مودی نتیش کمار کو گھیرنے کے لئے انہی کے کن کن ساتھیوں کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں۔ کھیل دلچسپ ہے ۔میڈیا پورا نریندر مودی اور ملائم سنگھ کے ساتھ کھڑا ہے۔ نتیش کمار کے خلاف ہے ،نتیش کمار بھنور سے نکلیں گے یا بھنور میں غائب ہوجائیں گے اس کا انحصار بہت حد تک نتیش کمار پر ہی ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *