بہارخشک سالی کاشکار کسان رورہے ہیں خون کے آنسو

سروج سنگھ
p-4bگزشتہ دو سالوں سے خشک سالی کی مار جھیل رہے بہار کو اس سال بھی راحت نہیںملی ہے اور ریاست کے تقریباً آدھے سے زیادہ اضلاع پانی کے لیے بلبلارہے ہیں۔ کسانوں کو پٹون کے لیے پانی نہیں مل رہا ہے اور برباد ہوتی فصلوں کودیکھ کر ان کی آنکھوںسے خون کے آنسو نکل رہے ہیں۔ مارچ میں ہی پانی کی سطح دو فٹ نیچے چلی گئی ہے او رمئی جون میںاس کے پانچ فٹ تک بھاگ جانے کا خدشہ ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پانی کے بغیر اب لوگ بلبلانے لگے ہیں۔ کسانوں کے چہروں پرتشویشاناک لکیریں صاف دیکھی جاسکتی ہیں ۔حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے افسران کو صاف طور پر ہدایت دے دی ہے کہ خشک سالی اور پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مشن موڈ میں کام کیا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ لوگوں کو پریشانی نہ ہو۔ خشک سالی اور پانی کے بحران کی ہولناکیوں پر نظر ڈالیں ،تو لگتاہے کہ شاہ آباد کا علاقہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔
شاہ آباد کی زمین اس وقت پانی کے سوال پربے پانی ہوئی جارہی ہے۔ کہیں پینے کے پانی، تو کہیں کھیتوں کے پانی کے سوال عا م لوگوں کے حلق خشک کررہے ہیں۔ اس علاقے کے چار میںسے دو ضلع تپتی ہوئی کیمور پہاڑی سے برس رہے آگ کے گولے اور پانی کی سطح نیچے چلے جانے کی وجہ سے جھلس کر سیاہ ہورہے ہیں، تو دو ضلع کھیتوںکے پانی کے سوال پر اپنی رنگت اڑائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ کیمور اور روہتاس میںکیمور پہاڑی کا اثر ہے،تو گنگا کے کنارے واقع بھوجپور کے ساتھ بکسر کاتمام دیرانچل کھیتی کے لیے بوند بوندکوترس رہا ہے۔ یہاں آرسینک پر مشتمل پانی عام لوگوں کی صحت کے لیے پہلے سے ہی بڑا مسئلہ ہے۔ اس پر کھیتوں میںکھڑی فصل کو اب پانی نہیںملے گا، اس کا قوی امکان ہے۔ شاہ آباد کے کیمورانچل اور دیرانچل دونوں علاقوں کامسئلہ ایک ہی ہے۔ کہیںپینے کا پانی،تو کہیں کھیتوں کے لیے پانییہاں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ دونوں کا تقابلی مطالعہ کیا جائے، تو واضح ہوجاتا ہے کہ کہیںنہ کہیں اس مسئلے کا سیدھا اثر عام انسان اور جاندار پر پڑتا ہے۔ سال 2009 میںکیمور کی پہاڑی پر شدید گرمی کو جھیلتے ہوئے پانی کی کمی سے پانچ ہزار سے زیادہ پالتو جانوروں کے مرجانے کے سرکاری اعداد و شمار ہیں۔اس کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر بھلے ہی پالتو یا جنگلی جانور گرمی سے پینے کے پانی کی کمی سے نہیں مرے، لیکن ان کا کوچ ضرور ہوا۔ ان کاکوچ قریب کی جھارکھنڈ ار اترپردیش ریاست میںہوا تھا، جو اب بھی جاری ہے۔ کیمور پہاڑی کے اوپری حصے سے لے کرمیدان کے بیچ 139 گاؤں بسے ہوئے ہیں،جن کی زندگی پہاڑی جھرنوں کے پانی پرمنحصر ہے۔ یہ جھرنے پچھلے کئی سال سے مارچ کا مہینہ آتے ہی خشک ہوجاتے ہیں، جس سے پانی ملنا بند ہوجاتا ہے۔ روہتاس اور کیمور کے یدوناتھ پور سے لے کر ادھورا تک ان جھرنوں سے نکلا ہوا پانی جنگلی اور پالتو جانوروںاور عام انسانوں کے لیے ہمیشہ سے زندگی کا ذریعہ رہا ہے۔ حال کی دہائیوںسے میں ان جھرنوں سے پانی نہیںنکلنا کیمورانچل کے لیے برااشارہ ہے۔ اس بار بھی یہی حال ہے ۔ یہاں صرف درگاوتی ندی ہی ایک پانی کا ذریعہ ہے، جو ابھی لوگوں کو پانی فراہم کراتی ہے۔ اس سال اس علاقے میںتقریباً سترہ ہزار ہیکٹیئرزمین پر لگی ربیع کی فصل پانی کی کمی سے پوری طرح ماری گئی ہے۔ دو کوئنٹل فی ہیکٹیئر اناج کی پیداوار ہوئی ہے۔ ادھر دیرانچل کی بات کریں، تو بھوجپور اور بکسر ضلع میںگنگاکے جھاڑن سے لے کراوپری حصے تک آرسینک پر مشتمل پانی پی کر ہر سال ہزاروں لوگ اسپتال پہنچ رہے ہیں۔ پانی کی سطح اوسطاً چار میٹر نیچے چلی گئی ہے، جس کی وجہ سے پہلے لگائے گئے ہینڈ پمپ اور نلکے جواب دے چکے ہیں۔ البتہ گنگا میںملنے والی کچھ معاون ندیوںکا پانی کسانوں کے لیے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا دے رہا ہے۔ لیکن یہ فائدہ صرف بیس فیصد لوگوںکوہی ملتا ہے۔ سون کینال نہروں کے ٹیل اینڈ پر بسے اس علاقے کو سون نہروں کا فائدہ تو ملتا نہیں۔ گنگا کی دھارا کے لگاتار بدلنے اور کھسکنے سے پانی کی سطح میں کافی گراوٹ آئی ہے۔ حال ہی میںسہسرام میں منعقد واٹر کانفرنس میں پہنچے ملک کے آبی ماہر راجندر سنگھ نے کہا تھا کہ شاہ آباد کے لیے پانی کے مسئلے کا حل وقت سے نہیں ہوا،تو یہاں کی زراعت کو بچانا تو دور کی بات ہے، عجیب وغریب جغرافیہ والے اس علاقے میںسب کو پانی دے پانا بھی مشکل ہوجائے گا۔ انھوں نے کیمور پہاڑی پر ایک ڈیم بنانے اور دیرانچل میں چھوٹی چھوٹی ندیوںپر چھوٹے چھوٹے باندھ بنانے کے لییسجھاؤ دیا تھا۔ پانی سے جڑے آندولن کی قیادت کر رہے سماجوادی لیڈر رام بہاری سنگھ نے بتایا کہ شاہ آباد میںپانی بہت بڑے مسئلے کی شکل میںابھرے گا۔ انھوں نے کیمور پہاڑی کی تلہٹی میں’کدون پریوجنا، اندرپوری جلاشے پریوجنا،پہاڑی پر مہادیوا پریوجنا،میدانی حصہ میںملئی براج پریوجنا اور چوسا لپٹ کینال پریوجنا کو پورا کرنے کے لیے مرکز اور ریاستی سرکار سے مانگ کی۔ واضح ہو کہ پورے شاہ آباد علاقے میںچھ ادھورے پڑے آبپاشی کے چھ منصوبوں میںسے چالیس سال میںصرف ایک درگاوتی جلاشے کا منصوبہ پورا ہوا ہے۔ باقی کے پانچ میں 80 فیصد سے زیادہ کاکام باقی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شاہ آباد پر سال 2016میںپڑنے والی شدید گرمی کے عذاب کو ضلع انتظامیہ کیسے جھیل پاتا ہے۔ کیمور پہاڑی پر تیس ہزار سے زیادہ ونواسی آبادی ابھی سے شدید پانی کے بحران کا سامنا کررہی ہے۔ نچلے حصے کے چیناری،سہسرام، شیو ساگر اور تلوتھو ڈویزن میںتقریباً دو لاکھ لوگ پینے کے پانی کے لیے صبح سے ہی انتظام میںلگ جاتے ہیں۔ کیمور ضلع میںپورا ادھورا ڈویزن چاند، چین پور اور بھگوان پور اوررامپور کے آدھے حصے میںپانی کا بحران ہے۔ بکسر کااٹاڑھی، سیمری، نیا بھوجپور، آرہ کا بڑہرا، شاہ پور سمیت آدھا درجن ڈویزن دیرانچل میںپانی کا بحران جھیل رہا ہے۔ بیچ کا حصہ اریگیشن شیڈو ایریا بنا ہوا ہے، جہاںکھیتوںکو پانی پچھلے کئی سال سے نہیںملا۔اسی طرح اس سال مگدھ ڈویزن میںبھی پانی کے لیے ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ غور طلب ہے کہ مگدھ ڈویزن کے پانچ ضلع کے زیادہ تر کھیت بارش کے پانی پرمنحصر رہتے ہیں اور آج بھی کم و بیش یہی حالت ہے۔ دو سال سے بارش کم ہونے کے سبب یہاں کے کسانوںکو بھاری مایوسی ہوئی۔ اس سال اب تک جو حالات ہیں ، اس سے کسانوںکے دم پھول رہے ہیں ۔ نوادہ، جہان آباد اور گیا ضلع کے زیادہ تر کسان پوری طرح اپنے کھیتوںکی فصل کے لیے بارش کے پانی پر منحصر ہیں۔ ان علاقوں میںکچھ آبپاشی کے منصوبے یا قدیم نہر ہے بھی، تو وہ اپنے وجود کو کھوچکے ہیں۔ اس کی مرمت کے لیے کوئی اسکیم سرکار کی طرف سے نہیں چلائی جارہی ہے۔ جہان آباد میںکھیتوںکی آبپاشیکا کوئی ذریعہ نہیں ہے، جس کی وجہ سے یہاںکے کسانوں کو اپنی فصل کے لیے بارش کے پانی پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔
ریاست کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ وزیر چندر شیکھر کہتے ہیںکہ سرکار کی پوری نظر ہے اور کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہونے دی جائے گی۔ سرکار ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ انھوںنے کہا کہ اس بار اچھے مانسون کے آثار ہیں، اس لیے گھبرانے کی ضرورت نہیںہے۔ لیکن بی جے پی لیڈر سشیل مودی کہتے ہیں کہ سرکار کو کسانوں اور عام لوگوں کی کوئی فکر نہیںہے۔ آدھے سے زیادہ ریاست خشک سالی کی لپیٹ میںہے اور سرکار سوئی ہوئی ہے۔لگتا ہے کہ وہ بھگوان بھروسے ہے اور بارش کا انتظار کررہی ہے۔لیکن تب تک تو بہت کچھ برباد ہوجائے گا۔ ادھر لالو پرساد نے بھی پانی کے بحران پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ آر جے ڈی کارکنوںکو اس بارے میںپارٹی کو جلد سے جلد آگاہ کرانا چاہیے ، تاکہ اس فیڈ بیک کی بنیاد پر سرکار کواس کے حل کے لیے کہا جاسکے۔ صاف ہے کہ خشک سالی کے نام پر سیاست ہورہی ہے، کیونکہ جس کی ریاست میں سرکار ہوگی، وہ کارکنوںسے فیڈبیک مانگ رہا ہے۔ بہرحال اس سیاست میں ریاست کے عوام پِس رہے ہیں اور آدھے بہار میںپانی کے لیے ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *