دیر سے ہی سہی انصاف کی جیت ہوئی، 25 سال بعد پولیس کا چہرہ بے نقاب

بندھو کبیر
p-9اپنے خاندان کے ساتھ تیرتھ یاترا پر نکلے سکھ خاندانوں کے 11 نوجوانوں کو بس سے اتارکر یوپی پولیس نے ان کا قتل کردیا تھا۔ پولیس نے اس قتل کیس کو مڈبھیڑ بتایا اور مرنے والے سکھوں کو دہشت گرد۔ پولیس نے خوب شاباشی بٹوری اور ترقی پائی۔ 12 جولائی 1991 کو اترپردیش کے پیلی بھیت ضلع میں پولیس نے یہ گھناؤنی حرکت کی تھی۔ واقعہ کے 25 سال بعد سی بی آئی کی عدالت نے جب 47 پولیس اہلکاروں کو عمرقید کی سزا سنائی، تو پولیس والے اپنے بنیادی کردار پر آگئے۔ کورٹ میںہی خوب ہنگامہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ مجرم ثابت ہوئے پولیس والے کورٹ میںچار گھنٹے تک وبال مچاتے رہے اور کورٹ روم سے گیلری تک ہنگامہ کھڑا کردیا۔ پولیس اہلکاروں نے چلّا چلّا کر عدالت پر بھید بھاؤ کا الزام لگایا اور کٹہرے میںلات ماری۔ ان لوگوں نے کورٹ روم کی کھڑکیاںبھی توڑ ڈالیں۔ بہر حال ہندوستان میں تاخیر سے چلنے والی قانونی کارروائی میں25 سال بعد ہی سہی، عدالت نے امید کی لوتو دکھائی ہی ہے۔ جن خاندانوںکے 11 نوجوان ممبر دہشت گرد بتاکر مار ڈالے گئے،انھیں اس فیصلے سے کیا ملنے والا ہے۔ گرو نانک مشن انٹر نیشنل کے صدر سردار امیر سنگھ ورک ایسا کہتے ہوئے ان متاثرہ خاندانوں کا درد ظاہر کرتے ہیں، جو تیرتھ یاترا کرتے ہوئے پیلی بھیت میں ماتم میں تبدیل ہونے کے لیے آرہے تھے۔ پیلی بھیت فرضی مڈبھیڑ میںمجرم قرار دیے گئے سبھی 47 پولیس والوں کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے پچھلے دنوں لکھنؤ میں عمر قید کی سزا سنائی۔ خصوصی عدالت کے جج للو سنگھ نے سبھی قاتل پولیس والوں کو ان کے عہدے کے حساب سے جرمانہ بھی لگایا اور فرضی مڈبھیڑ میںمارے گئے 11 سکھوں کے خاندان کو 14-14 لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کا حکم بھی دیا۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے پولیس کے بڑے افسروںکے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی بی آئی کی جانچ میںسسٹم کی دقتوں کی وجہ سے ٹرائل سے بچنے والے پولیس کے اعلیٰ افسروں پردوبارہ کیس چلانے کے سارے امکانات ہیں۔ عدالت نے صاف صاف کہا کہ جب تک انکاؤنٹر سے پروموشن طے ہوںگے، معصوم اور بے گناہ لوگ ایسے ہی مرتے رہیں گے اور پولیس والے معصوم لوگوں کا اسی طرح قتل کرتے رہیںگے۔ انکاؤنٹر پر ایس آئی کوانسپکٹر بنا دیا جاتا ہے، تو انسپکٹر کو ڈی ایس پی۔ پروموشن کا یہی لالچ پولیس والوں کو فرضی انکاؤنٹر کے لیے اکساتا ہے۔ انھیں روکنے کے لیے پروموشن کو انکاؤنٹر سے الگ کرنا ہوگا۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مارے گئے سبھی لوگ اگر شدت پسند تھے، تو ان کے پاس سے کوئی ہتھیار کیوں نہیں برآمد ہوا اور تین الگ الگ تھانہ علاقوں میںایک ہی رات میں مڈبھیڑ کیسے ہوئی۔ جبکہ پیلی بھیت پولیس نے پہلے یہ کہا تھاکہ مارے گئے لوگوں کے پاس سے ہتھیار برآمد ہوئے تھے، لیکن بعد میںیہ بات جھوٹی پائی گئی۔
پیلی بھیت فرضی مڈبھیڑ معاملے میں57 پولیس والوں کو ملزم بنایا گیا تھا۔ سماعت کے دوران ان میںسے 10 کی موت ہوگئی، باقی بچے 47 پولیس والوں کو عدالت نے اغوا او رقتل کا مجرم ٹھہرایا تھا۔ سارے مجرم پولیس اہلکاروں کو عمر قید کی سزا بھگتنے کے ساتھ ساتھ رینک کے مطابق جرمانہ بھی بھرنا پڑے گا۔ تھانہ انچارج کو 11 لاکھ روپے جرمانہ کے بطور بھرنے ہوںگے۔ اسی طرح داروغہ کو آٹھ لاکھ روپے اور سپاہی کو پونے تین لاکھ روپے کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔
فرضی مڈبھیڑ کی سی بی آئی جانچ پرسنگین سوال بھی اٹھ رہے ہیں۔ سی بی آئی نے مڈبھیڑ کے پیچھے ہدایت دینے والے اعلیٰ افسروں کو کیوں چھوڑ دیااور ان کے خلاف چھان بین کیوں نہیںکی؟ سی بی آئی نے ان بڑے افسروں کو کیوں بچایا؟ جس طرح 11 سکھ مردوں کو تین حصوں میں بانٹا گیا اور الگ الگ علاقوں میں لے جاکر ان کا قتل کردیا گیا، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سکھوں کو گولیاں مارنے کی ہدایت اعلیٰ افسروںسے مل رہی تھی۔ پولیس کے عام افسر یا ملازمین بغیر سینئر افسروں کی ہدایت کے اس طرح کاقتل کیس نہیں کرسکتے۔ لیکن سی بی آئی نے اپنی جانچ سے انھیںدور رکھا۔ حالانکہ مڈبھیڑ میں پردے کے پیچھے سے فیصلہ کن رول ادا کرنے والے اعلیٰ افسروں کے خلاف کارروائی کا پورا امکان ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 12 جولائی 1991 کو تیرتھ یاترا سے لوٹ رہے سکھ یاتریوں کی بس کو پیلی بھیت پولیس نے کچھالا گھاٹ کے پاس روکا اور 11 نوجوانوں کو اتارکر پولیس کی نیلی بس میںبٹھالیا۔ بعد میں ان میںسے دس کی لاش ملی، جبکہ شاہجہاںپور کے تلوندر سنگھ کا آج تک پتہ نہیںچلا۔ اس رات پیلی بھیت ضلع کے تین الگ الگ تھانہ علاقوں میں تین انکاؤنٹر ہوئے دکھائے گئے۔ اگلے دن پولیس نے نیوریا، بلسنڈا اور پورنپور تھانہ علاقہ میںہوئی تین مڈبھیڑوںمیںدس خالصتانی دہشت گردوں کو مارنے کا دعویٰ کیا۔ پولیس نے یہ بھی کہا تھا کہ مارے گئے لوگوں میںسے کئی کے اوپر مجرمانہ معاملے درج ہیں او ران کے پاس سے ہتھیار بھی برآمد کئے گئے ہیں۔ مارے گئے سبھی سکھ نوجوانوں کا آناً فاناً پوسٹ مارٹم کرایا گیا اور اسی دن ان کی آخری رسومات بھی ادا رکردی گئیں۔
اس وقت تو پولیس کے اس ایکشن کی ہر جگہ تعریف ہوئی تھی،لیکن کچھ دنوں بعد ہی یہ راز کھلا کہ تینوںانکاؤنٹر فرضی تھے۔ پولیس نے اپنی ایف آئی آر میںان سبھی کو شدت پسند بتاتے ہوئے پولیس پر حملہ کرنے کا الزام لگایا تھا، لیکن مارے گئے لوگوں کے متعلقین نے الزام لگایا کہ مڈبھیڑ فرضی تھی۔پیلی بھیت کے رہنے والے ہرجندر سنگھ کہلوں کو اس انکاؤنٹر پر پورا شک تھا، کیونکہ مرنے والے لوگوں میں کچھ کو وہ بے حد قریب سے جانتے تھے۔ انھیںپولیس کی شدت پسند والی تھیوری ہضم نہیںہورہی تھی۔ وہ ان انکاؤنٹرس کی جانچ کے لیے پولیس کے پاس گئے، لیکن پولیس نے ان کی کوئی مدد نہیںکی۔جب جانچ کو لے کر انھیں پولیس کی منشا صحیح نہیں لگی، تو وہ دہلی گئے او روہاں کے سکھ فرقہ کے کچھ نامی گرامی لوگوں کی مدد سے معاملے کو سپریم کورٹ تک لے گئے۔
ہرجندر سنگھ کہلوںکہتے ہیںکہ سی بی آئی عدالت کے فیصلے کے خلاف وہ پھر سپریم کورٹ جائیں گے۔ اس جرم کی سزا پھانسی سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ جن خاندانوں نے اپنا بیٹا، بھائی، شوہر اور باپ کو اس فرضی انکاؤنٹر میںکھودیا، انھیں پورا انصاف دلانے تک ناانصافی کے خلاف ان کی جنگ جاری رہے گی۔ پولیس اہلکاروں پر عدالت میںجرم ثابت ہوچکا ہے، انھیں پھانسی دلانے اور اس پورے معاملے میںشامل رہے اس وقت کے آئی جی زون،بریلی رینج کے ڈی آئی جی اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو سزا دلانے کے لیے بھی وہ قانونی لڑائی لڑیںگے۔ سینئر افسروں کے تحفظ کے بغیر انسپکٹر اور سپاہی اتنا بڑا قدم نہیںاٹھا سکتے۔ انھیںامید تھی کہ سی بی آئی ان تینوںکے کردار کی بھی جانچ کرے گی۔ لیکن سی بی آئی نے چھوٹی مچھلیوں کو شکار بنایا، سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میںپیلی بھیت کے اس وقت کے ایس پی آر ڈی ترپاٹھی سمیت تین افسروں کے نام شامل نہیںکیے تھے۔ آخر کیا وجہ تھی کہ سی بی آئی نے ان تینوں افسروں کے خلاف جانچ کرنے کے لیے سرکار سے اجازت بھی نہیںمانگی۔
حالانکہ سزا کا فیصلہ ابھی سی بی آئی عدالت کا ہے اور اس معاملے کی سنوائی آگے ہائی کورٹ او رسپریم کورٹ میںہوگی، اس لیے آخری فیصلہ آنے میںابھی اور وقت لگے گا۔ لیکن سی بی آئی عدالت کے فیصلے سے متاثرہ خاندانوںکو تھوڑی ٹھنڈک تو پہنچی ہی ہے۔ فرضی مڈبھیڑ معاملے میںپیلی بھیت پولیس نے باقاعدہ پورنپور، نیوریا اور بلسنڈا تھانے میںتین الگ الگ مقدمے درج کیے تھے۔ تفتیش کے بعد پولیس نے ان معاملوں میںفائنل رپورٹ لگا کر فائل بند کردی تھی۔ ہرجندر سنگھ کہلوں کی طرف سے وکیل آر ایس سوڑھی نے سپریم کورٹ میںمفاد عامہ کی عرضی داخل کی تھی، جس پر سپریم کورٹ نے 15 مئی 1992 کو معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی۔ سی بی آئی نے اس معاملے کی تفتیش کے بعد 57 پولیس اہلکاروں کے خلاف ثبوتوں کی بنیاد پر چارج شیٹ داخل کی تھی۔ سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں178 گواہ بنائے اور پولیس اہلکاروں کے ہتھیار،کارتوسوں سمیت 101 ثبوت جمع کیے۔ سی بی آئی نے 207 کاغذات کو بھی اپنی 58 صفحات کی چارج شیٹ میںثبوت کے طور پر شامل کیا تھا۔ سپریم کورٹ میںچارج شیٹ داخل ہونے کے بعد 12 جون 1995 کو اس کا نوٹس لیا گیا اور 3 فروری 2001کو اسے سیشن کورٹ کے سپرد کردیا گیا۔ 20 جنوری2003 کو سیشن کورٹ نے ملزموںپر الزام طے کیے تھے۔ کورٹ نے صاف صاف کہا کہ سکھوں کو مارا گیا ہے، اس میںکوئی شک نہیںہے۔ سینٹرل فورینسک سائنس لیباریٹری (سی ایف ایس ایل)کے ریٹائرڈ سائنٹسٹ ستیہ پال شرما کے بیان کا تجزیہ کیا گیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ اسی بس میںگولیوں کے نشان پائے گئے تھے، جس بس میں11 سکھ نوجوانوں کو بٹھاکر لے جایا گیاتھا۔ اس معاملے کے گواہ ڈاکٹر جی جی گوپال داس اور فارمیسسٹ ڈی پی اوستھی نے اپنا عجیب بیان دیا تھا کہ واقعہ کے وقت نیوریا کے تھانہ انچارج جی پی سنگھ ضلع اسپتال پیلی بھیت کے ایمرجنسی وارڈ میںاپنا علاج کرا رہے تھے،جبکہ تھانہ انچارج نے خود ہی تھانے کی جی ڈی میں درج کیا تھا کہ وہ جائے واردات پر تھے۔ کورٹ نے کہا کہ نوجوانوں کو پہلے ہی ماردیا گیا تھا اور صرف رات کے آنے اور گزرنے کا انتظار کیا جارہا تھا تاکہ رات میں مڈبھیڑ دکھائی جاسکے۔ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹرومل کمار کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے جسم پر صرف گولیوں کے زخم اور چوٹیں ہی نہیں تھیں، بلکہ چوٹوں کے دیگر نشان بھی تھے۔ یعنی نوجوانوں کو مارا پیٹا گیا ، گھسیٹا گیا اور پھر انھیںگولیاں ماری گئیں۔ پی اے سی کے پلاٹون کمانڈر دیان سنگھ اور پی اے سی کے کچھ دیگر جوانوںنے بیان دیاکہ تینوںتھانہ علاقوںمیںواقعہ کے دن تھانے میںان کی آمد اور روانگی کاغلط ذکرکیا گیا تھا۔ پی اے سی نے کسی بھی مڈبھیڑ میں حصہ نہیںلیا۔ تینوںتھانوںکی جی ڈی میں پی اے سی کی آمد اور روانگی جس وقت دکھائی گئی، اس وقت پی اے سی کے جوان اپنے اپنے کیمپوںمیںتھے۔ صرف مڈبھیڑ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے پی اے سی کے جوانوں کو 13جولائی 1991 کی صبح تین بجے تھانے بلایا گیا اور ڈیوٹی کاپرچہ بھی دیا گیا۔
موت کی سزا سے زیادہ تکلیف دہ ہے عمر قیدکی سزا
سی بی آئی کی خصوصی عدالت جب اپنا فیصلہ سنا رہی تھی، تب سی بی آئی پراسیکیوٹر ایس سی جیسوال نے سبھی ملزموںکو موت کی سزا دینے کی مانگ کی۔ اس پر کورٹ نے کہا کہ موت کی سزا حقیقت میں بہت چھوٹی سزا ہے، جو بہت کم تکلیف کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے، جبکہ عمر قید کی سزا کو بھگتنے میںآدمی روزمرتا ہے۔
بس سے اتارکر انھیںمارا گیا
-1نریندر سنگھ عرف نندر، ولد درشن سنگھ، پیلی بھیت
-2 لکھوندر سنگھ عرف لاکھا، ولدگرمیز سنگھ،پیلی بھیت
-3بلجیت سنگھ عرف پپو، ولد بسنت سنگھ، گرداس پور
-4جسونت سنگھ عرف جسّا ، ولد بسنت سنگھ، گرداس پور
-5جسونت سنگھ عرف فوجی، ولد عجائب سنگھ، بٹالہ
-6کرتار سنگھ، ولد عجائب سنگھ، بٹالہ
-7 مکھوندر سنگھ عرف مُکھا، ولد سنتوکھ سنگھ، بٹالہ
-8ہرمندر سنگھ عرف منٹا، ولدعجائب سنگھ، گرداس پور
-9 سُرجن سنگھ عرف بٹو، ولد کرنیل سنگھ، گرداس پور
-10 رندھیر سنگھ عرف دھیرا، ولد سندر سنگھ، گرداس پور
-11تلوندر سنگھ، ولد ملکیت سنگھ، شاہجہاںپور (لاش نہیںملی)
فرضی مڈبھیڑ میںسزا ایک منصفانہ فیصلہ
اترپردیش پولیس کے سابق آئی جی ایس آر داراپوری نے پیلی بھیت فرضی پولیس مڈبھیڑ کے معاملے میں 47 پولیس والوں کو عمر قید کی سزا کو ایک منصفانہ فیصلہ بتایا ہے۔ سزا سنانے کے فیصلے سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ ہم لوگ اپنے نظام عدل میں بھروسہ رکھ سکتے ہیں۔ داراپوری نے کہا کہ سی بی آئی کی تفتیش میںسب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں صرف کم سطح کے پولیس افسروں کو ہی قصوروار ثابت کیاگیا اور کسی بھی اعلیٰ افسر کے خلاف جانچ بھی نہیں کی گئی۔ خاص طور پر پیلی بھیت کے اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ کے خلاف سی بی آئی کا جانچ نہیں کرنا مشتبہ ہے۔ پولیس محکمہ میںکام کرنے والے سبھی لوگ جانتے ہیں کہ ضلع میں کوئی بھی فرضی مڈبھیڑ پولیس سپرنٹنڈنٹ کی جانکاری اور رضا مندی کے بغیر نہیںہوسکتی ہے۔
سابق آئی جی نے کہا ہے کہ کورٹ کے اس فیصلے سے ہم امید کرسکتے ہیںکہ اس فرضی مڈبھیڑ کے معاملے میںاتنی بڑی تعداد میںپولیس افسروںکو سزا دی جانا اترپردیش پولیس کے پولیس افسروں اور ملازمین کے لیے کراری سیکھ ہے۔ اس سے وہ ضرور کچھ سبق لیںگے او رمستقبل میںایسی مڈبھیڑ کرنے سے بچیںگے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *