اتر پردیش: ترقی کے نام پر گھوٹالہ اور بد عنوانی کا بازار گرم

پربھات رنجن دین
p-1آپ نے کبھی سنا ہے کہ جو کمپنی حقیقت میں موجود ہی نہ ہو ،اسے پانچ پانچ پروجیکٹوں کے ٹھیکے دے دیئے جائیں؟ لیکن ایسے لا جواب کارنامے اتر پردیش میں ہوتے ہیں۔ بہو جن سماج پارٹی حکومت کے طاقتور وزیر اور این آر ایچ ایم گھوٹالے کے اہم ملزم بابو سنگھ کشواہا کی سرپرستی میں کانکنی کا دھندہ کرنے والوں نے ایک کمپنی کے نام پر پانچ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے ٹھیکے پہلے حاصل کر لئے، بعد میں کمپنی بنائی ۔ کمپنی کا ایک ڈائریکٹر کانکنی کا شہنشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ سماج وادی پارٹی کا سرگرم لیڈر بھی ہے۔ پروجیکٹ شروع نہیں ہوا، لیکن ان کے لئے ملنے والے آسان لون اور سبسڈی کا فائدہ مل گیا۔ پروجیکٹ کا کام شروع نہیں ہوا ،تو اتر پردیش کو سستی بجلی نہیں مل پائی، جس سے ہر سال کروڑوں کا نقصان الگ سے ہو رہاہے ۔گتھی یہ بھی الجھی ہوئی ہے کہ کانکنی کا پیسہ پروجیکٹوں میں لگنے والا تھا یا پھر کانکنی کا دھندہ کرنے والے طاقتور لوگوں کو عوام کا پیسہ سمیٹنے کا ایک اور ذریعہ دے دیا گیا۔ جانچ (غیر جانبدار)ہو تو پتہ چلے۔
اتر پردیش سرکار صوبہ کی ترقی کو لے کر کتنی فکر مند ہے، اس کی یہ نایاب مثال ہے، بجلی کو لے کر صوبہ میں زبردست مارا ماری ہے،اتر پردیش کو دوسرے صوبوں اور ایجنسیوں سے مہنگی بجلی خریدنی پڑ رہی ہے۔ اپنے ہی صوبہ میں سستے میں بجلی دستیاب ہو، اس کی برسر اقتدار کو کوئی فکر نہیں ہے۔ اتر پردیش کی تقریباً ڈیڑھ درجن اسمال ہائیڈروپاور پروجیکٹ ٹھپ پڑی ہیں۔ یہ ان پروجیکٹوں کا حال ہے جو منظوری کے تمام سرکاری ضابطوں سے گزر چکے ہیں اور جن کے لئے منتخب کمپنی سے باقاعدہ معاہدہ بھی ہو چکا ہے۔لیکن مذکورہ پروجیکٹس شروع ہی نہیں ہوئے۔ اتر پردیش سرکار کے نوکر شاہ معاہدے پر دستخط کر کے خاموش بیٹھ گئے اور پروجیکٹس کا بھٹہ بیٹھ گیا۔ پروجیکٹس کے لئے مرکز سے ملا آسان لون اور 20فیصد سبسڈی ملا کر سینکڑوں کروڑ روپے ہضم ہوگئے۔ نہ مرکز نے دھیان دیا نہ ریاستی سرکار نے کوئی فکر کی اور بد عنوانی کی قربان گاہ میں ترقی کا نعرہ قربان ہوگیا۔بات یہیں پر نہیں ختم ہوتی ہے،بلکہ بات یہیں سے رفتار پکڑتی ہے۔ ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے ٹھیکے لینے والی کمپنی اومنس انفرا پاور لمیٹیڈ کے دو ڈائریکٹر اتر پردیش میں کانکنی میں بد عنوانی سے جڑے ہیں۔سرکار نے جس کمپنی کو ٹھیکے دیئے، اس کے بااختیار لوگ ایک طرف بوندیل کھنڈ میں کانکنی مافیا راج چلانے والے بابو سنگھ کشواہا سے گہرے جڑے ہوئے ہیں تو دوسری طرف وہ سماج وادی پارٹی کے لیڈر ہیں اور سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب بھی لڑتے رہے ہیں۔ٹھیکے ہتھیانے کی کارگزاری میں این آر ایچ ایم گھوٹالے کے اہم ملزم اور سابق بہو جن سماج پارٹی لیڈر بابو سنگھ کشواہا عرف رام شرن کشواہا کا بھی ہاتھ ہونے کا شبہ ہے۔ عام لوگوں کی نظر میں یہ دولت کے دھندے کا عجیب و غریب تال میل ہے،لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ دھندے بازوں کا یہ بہت ہی منظم تال میل ہے۔
اسی منصوبہ بند اور منظم تال میل کا نتیجہ ہے کہ اسمال ہائیڈروپاور پروجیکٹ کے ٹھیکے ایسی کمپنی کو دے دیئے گئے، جو ٹھیکہ دیئے جانے کے وقت تک پیدا نہیں ہوئی تھی۔ ٹھیکے پہلے طے کر دیئے گئے، کمپنی بعد میں وجود میں آئی۔سیاست کا کھیل دیکھئے، اتر پردیش کے پانچ اہم اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے ٹھیکے بہو جن سماج پارٹی کے دور کار میں منظور ہوئے اور سماج وادی پارٹی کے دور کار میں پروان چڑھے۔ ٹھیکے حاصل کرنے والی ممبئی کی کمپنی اومنیس انفرا پاور لمیٹیڈ کے دو ڈائریکٹر دلیپ کمار سنگھ اور سیرج دھوج سنگھ باندہ بوندیل کھنڈ میں کانکنی کے دھندے کے نامور لوگ ہیں۔ بابوسنگھ کشواہا کی کانکنی کی سلطنت یہی لوگ چلاتے تھے اور چلاتے ہیں۔ اقتدار چاہے بہو جن سماج پارٹی کی ہو یا سماج وادی پارٹی کی،چلتی انہی لوگوں کی ہے۔بابو سنگھ کشواہا کے خاص سیرج دھوج سنگھ سماج وادی پارٹی کے لیڈر ہیں اور سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر وہ باندہ سے 2007 کا اسمبلی انتخاب بھی لڑ چکے ہیں۔2017 کے اسمبلی انتخاب میں بھی باندہ سے سماج وادی پارٹی کا ٹکٹ پانے کی ان کی مضبوط دعویداری ہے۔ 2007 کے انتخاب میں انہیں تیسرا مقام حاصل ہوا تھا۔ لیکن اقتدار کی سرپرستی والے دھندوں میں وہ اول ثابت ہوتے رہے ہیں۔
بجلی کی بڑھتی ضرورتیں پوری کرنے کی پالیسی کا فالو کرتے ہوئے بوٹ ( بلٹ اون آپریٹ ٹرانسفر) فارمولے پر اتر پردیش ہائیڈرو پاور کارپوریشن لمیٹیڈ نے اسمال ہائیڈروپاور کے مختلف پروجیکٹس کیلئے 28جنوری 2011 کو ٹنڈر طلب کی تھی۔28فروری 2011 کو لکھنو میں ہوئی پری بڈ میٹنگ میں اومنس انفرا پاور لمیٹیڈ کو تقریباً 30میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے پیلی بھت میں مادھو – 1 اور ٹونڈا ، شاہ جہاں پور میں مادھو – 2، بجنور میں رام گنگا اور للت پور میں بندرون سمیت پانچ اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹس شروع کرنے کے ٹھیکے دے دیئے گئے۔ 28 فروری 2011کو ٹھیکہ ملے اور ایک مہینے بعد 18مارچ 2011 کو اومنس انفرا پاور لمیٹیڈ نام کی کمپنی باضابطہ طور پر وجود میں آئی۔ یعنی جس تاریخ کو ٹنڈر( بڈ) داخل ہوئی اور جس تاریخ کوٹھیکے منظور کرنے کا فیصلہ لیا گیا، ان تاریخوں میں اومنس انفرا پاور لمیٹیڈ کا وجود نہیں تھا۔ دستاویز دیکھیں تو پائیں گے کہ کمپنی 28مارچ 2011کو ممبئی کے رجسٹرار آف کمپنیز میں انکارپوریٹ ہوئی ہے۔ کمپنی کی پہلی بیلنس شیٹ 31 مارچ 2014 کو فائل ہوئی۔ غور کریں کہ کس دباؤ اور اثر کی وجہ سے مذکورہ ٹھیکے دیئے گئے اور کس طرح سارے قانون،پروویژنوں کی دھجیاں اڑائی گئیں۔اومنس کو جب ٹھیکے ملے تب اتر پردیش میں بہو جن سماج پارٹی کی سرکار تھی اور جب اومنس کے ساتھ ہائیڈرو پاور کارپوریشن کا پاور پرچیز اگریمنٹ ( پی پی اے) ہوا، تب سماج وادی پارٹی کی سرکار ہے۔
بہو جن سماج پارٹی سرکار نے پانچ اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے ٹھیکے اومنس کو تب دیئے، جب وہ پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔ اور سماج وادی پارٹی کی سرکار نے اومنس کے ساتھ پاور پرچیز اگریمنٹ تب کیا،جب زمین پر اس کا کوئی اتا پتہ نہیں ہے۔ سیاست کا یہی اصلی روپ ہے۔ پروجیکٹس کہاں گئے، اب تک کام شروع کیوں نہیں ہوا اور بغیر کام شروع ہوئے کمپنی کے ساتھ پاور پرچیز اگریمنٹ کیسے ہو گیا،ان جیسے سوالات پوچھنے یا کھوج خبر لینے والا کوئی نہیں ہے۔ ٹھیکے منظور کرنے سے لے کر لیٹر آف انٹینٹ جاری کرنے، قرار ( میمورنڈم آف اگریمنٹ ) اور پاور پرچیز اگریمنٹ کے عمل میں رہے نوکر شاہ اور ہائیڈرو پاور کارپوریشن کے اعلیٰ آفیسر آج خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔اس معاملے میں توانائی محکمہ کے بڑے نوکر شاہوں سے لے کر ہائیڈرو پاور کارپوریشن اور اسٹیٹ الکٹری سٹی ریگولیٹری کمیشن تک کے افسران اور کرتا دھرتا قصور وار ہیں۔ریگولیٹری کمیشن نے یہ نہیں دیکھا کہ جس کمپنی کو ٹھیکے دیئے جارہے ہیں، اس کے کام کرنے کا تجربہ اور اس کی صلاحیت کیا ہے۔ جبکہ یہ سخت پروویژن ہے کہ پروجیکٹس کا کام اسی کمپنی کو دیا جائے گا ،جسے اس میدان میں کم سے کم 10 سال کام کرنے کا تجربہ ہو اور اس کی مستحکم مالی پس منظر ( کم سے کم تین سال کا آؤڈیٹیڈ اکاؤنٹ) معلوم ہو۔ اومنس انفرا پاور لمیٹیڈ ایسی کوئی بھی شرط پوری نہیں کررہی تھی۔ اس کے باوجود ہائیڈرو الکٹرک کارپوریشن کے چیف انجینئر جی ایس سنہا ، ایگزیکٹیو انجینئر پنکج سکسینہ، پی کے سنگھل اور ایچ سی موریہ سمیت دیگر افسروں نے پری بڈ میٹنگ میں اومنس کے نام پر متفق ہونے کی مہر لگا دی۔ہائیڈرو الکٹرک کارپوریشن کے اس وقت کے چیئرمین کو مینجنگ ڈائریکٹر ( ایم ڈی ) آلوک ٹنڈن ، موجودہ چیئر مین سنجے اگروال اور ایم ڈی وشال چوہان ، ریگولیٹری کمیشن کے اس وقت کے چیئر مین راجیش اوستھی اور موجودہ چیئر مین دیش دیپک ورما اور توانائی محکمہ کے اعلیٰ افسروں نے اتنی بڑی کمزوری پر تب سے لے کر آج تک کوئی دھیان نہیں دیا۔ اسی سلسلے میں آپ یہ بھی یاد کرتے چلیں کہ الکٹرک سٹی ریگولیٹری کمیشن کے اس وقت کے چیئر مین راجیش اوستھی بڑی بدعنوانی کے الزما میں ہائی کورٹ کی ہدایت سے برخاست کئے گئے تھے اور سپریم کورٹ نے اس ہدایت پر مہر لگا دی تھی۔

نقصان بے حساب
پانچ اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے لئے اومنس انفرا پاور لمیٹیڈ سے 23جنوری کو ہوئے معاہدے ( پی پی اے ) کے مطابق وہاں سے پیدا ہونے والی بجلی صوبہ کو تقریباً چار روپے فی یونٹ کے ریٹ سے دستیاب ہوتی۔ ابھی اتر پردیش سرکار کو دوسری ایجنسیوں سے تقریبا آٹھ روپے فی یونٹ کے ریٹ سے بجلی خریدنی پڑ رہی ہے۔ پروجیکٹس شروع نہ ہو پانے کی وجہ سے بجلی کی پیداوار نہیں ہو سکی۔انرجی تکنیک کے ماہرین بتاتے ہیں کہتقریباً 30میگاواٹ پیدا کرنے کی صلاحیت والے صرف پانچ پروجیکٹس میں پیدا وار شروع نہ ہونے کی وجہ سے 300 لاکھ یونٹ بجلی کا فی سال کے حساب سے نقصان ہو رہا ہے۔ چار روپے فی یونٹ کے حساب سے نقصان کی رقم اربوں میں پہنچتی ہے۔ دوسری ایجنسیوں سے ٹھیک دوگنی قیمت ( آٹھ روپے ) پر بجلی خریدنی پڑ رہی ہے، وہ نقصان الگ سے۔ کل 15پروجیکٹس ملا کر تقریبا سو میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی، جو نہیں ہو سکی۔ لہٰذا کل نقصان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ جانکار بتاتے ہیں کہ پانچ پروجیکٹس کی تعمیر پر 10کروڑ روپے فی میگا واٹ کے حساب سے خرچ کا اندازہ کیا گیا تھا۔یعنی 30میگا واٹ کے پانچ ہائیڈرو پاور اسٹیشن قائم کرنے میں تقریبا 300 کروڑ روپے کا خرچ آتا،لیکن ان پروجیکٹس پر کام شروع نہیں ہوا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر اب کام شروع ہوا، تو موجودہ ریٹ کے حساب سے یعنی 16 کروڑ روپے فی میگا واٹ کے ریٹ سے 480 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ مزید دیگر 10 ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی تعمیر پر خرچ اور نقصان کا اندازہ بھی اس سے ہی لگایا جاسکتا ہے، جو آج تک شروع نہیں ہوئے۔

15 ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کا کباڑا
اومنس جیسی اچانک پیدا ہوئی کمپنی کو پیلی بھت کی مادھو – 1 اور ٹنڈا اسمال ہائیڈروپاور پروجیکٹس ، شاہ جہاں پور کی مادھو – 2 ہائیڈرو پاور پروجیکٹس ، بجنور کی رام گنگا اور للت پور کی بندرون اسمال ہائیڈروپاور پروجیکٹس دے کر جس طرح سرکار نے ہائیڈروپاور پیدوار کا کباڑا کیا، وہی حال دیگر 10 اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کا بھی ہوا ہے۔ اتر پردیش ہائیڈرو الکٹرک کارپوریشن نے اسی درمیان شاہ جہاں پور میں کھیری اور ناہل، مرزا پور میں بانساگر- 1، بانساگر – 2، اور میجا، باندا میں کین برانچ – 1، اور کین برانچ – 2، چندولی میں کرم ناسا اور سہارن پور میں ملک پور رِہنی اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹس شروع کرنے کا کام کیا تھا۔ مذکورہ منصوبہ جات وقت سے شروع ہو جاتے تو صوبے کو تقریباً 80سے 100 میگاواٹ بجلی ملنے لگتی، لیکن ایسا نہیں ہوا ۔نئے پروجیکٹس شروع نہ ہونے کی وجہ سے ہی اپر گنگا کنال پر بنے نرگجنی، چیتیرا، سلاوا اور بھولا جیسے 70 سال پرانے ہائیڈرو پاور اسٹیشن تدریجی طور پر بند نہیں ہو پا رہے ہیں۔ انہیں بند کر کے نئے اسٹیشن بنانے کا کام بھی نہیں ہو سکا۔

اومنس کا مایا جال
وجود میں آنے کے پہلے ہی اتر پردیش کے پانچ اسمال ہائیڈروپاور پروجیکٹس کے ٹھیکے جھٹکنے والی اومنس انفرا پاور لمیٹیڈ کے ڈائریکٹر (گن) اسی نام کی کئی کمپنیاں کھولے بیٹھے ہیں۔ اومنس انفرا کے دو ڈائریکٹروں دلیپ کمار سنگھ اور سیرج دھوج سنگھ کا تذکرہ اوپر ہو چکا ہے۔ اس کے تیسرے ڈائریکٹر کا نام آننت کمار شری رام گنیڈیوال ہے۔ اومنس انفرا پاور لمیٹیڈ ممئی میں رجسٹرڈ ہے، جبکہ اومنس ڈیولپرس پرائیویٹ لمیٹیڈ کانپور میں رجسٹرڈ ہے۔ اس کا دفتر لکھنو میں گومتی نگر کے وکاس کھنڈ میں ہے۔ اس کے ڈائریکٹروں میں بھی دلیپ کمار سنگھ اور سیرج دھوج سنگھ شامل ہیں۔اومنس فوڈس پرائیویٹ لمیٹیڈ، اومنس ایجوکیشن -ہیلتھ لمیٹیڈ سمیت کئی دیگر کمپنیاں بھی الگ الگ جگہوں میں رجسٹرڈ ہیں۔

کشواہا کے عزیز ہیں دلیپ اور سیرج 
اومنس انفرا پاور لمیٹیدڈ کے ڈائریکٹر دلیپ کمار سنگھ اور سیرج دھوج سنگھ بہو جن سماج پارٹی سرکار میں وزیر رہے بابو سنگھ کشواہا کے اتنے خاص تھے کہ مشکل کی گھڑی میں کشواہا نے انہیں اپنے دھندے کی جوابدہی سونپ دی تھی۔ یہاں تک کہ کئی بے نام جائیدادیں بھی ان کے نام کر دی تھیں اور کئی ٹرسٹوں میں انہیں شامل کر لیاتھا، بھاگوت پرساد ایجوکیشن ٹرسٹ لکھنو، شری ناتھ پراپرٹیز باندا، تتھا گت گیان استھلی لکھنو، میسرس شیوا وائنس باندہ، ایکسس ایجوکیشن سوسائٹی کانپور سمیت کئی اداروں اور ٹرسٹوں میں کشواہا نے دلیپ سنگھ اور سیرج دھوج سنگھ کو خاص جگہ دی تھی۔ دلیپ اور سیرج کو انہوں نے کئی ریئل اسٹیٹ کا مالک بھی بنایا تھا۔ باندہ میں چل رہے بالو اور پتھر نکالنے کے پٹہ ہولڈروں میں دلیپ سنگھ اور سیرج دھوج سنگھ کے نام اہم رہے ہیں۔ علاقے میں انہیں سابق کانکنی وزیر بابو سنگھ کشواہا کا ڈمی ٹھیکہ دار بھی کہا جاتا رہا ہے۔ کانکنی کے دھندے سے ہونے والی ہزاروں کروڑ روپے کی موٹی کمائی پر مذکورہ مافیاؤں کا راج جوں کا توں قائم ہے۔لوک آیوکت کی جانچ میں بھی پایا گیا ہے کہ مہوبا اور باندا میں بڑے بڑے رقبہ کی کانکنی کے پٹے کشواہا نے دلیپ کمار سنگھ، سیرج دھوج سنگھ اور گردھاری لال کشواہا جیسے اپنے لوگوں کو دے دیئے تھے ۔فرضی ناموں سے چلنے والے کشواہا کے کانکنی دھندے کی دیکھ ریکھ دلیپ اور سیرج ہی کرتے تھے۔ ان کے بالو نکالنے کے دھندے سے بوندیل کھنڈ کے باندہ ، حمی پور، چتر کوٹ ، اورئی اور فتح پور بیندا گھاٹ کی ندیوں کا سینہ چھلنی ہو چکا ہے۔بوندیل کھنڈ کو ریگستان بنانے کی سازش میں سرکار اور مافیا دونوں شامل ہیں۔ تمام عدالتی پابندیوں کے باوجود کانکنی بے تحاشہ جاری ہے۔ ماہرین کو اندیشہ ہے کہ اومنس کے ذریعہ کانکنی مافیاؤں کو دولت کے بہت زیادہ ذرائع والے انرجی سیکٹر میں گھسنے کی سازش تیار کی جارہی ہے۔
اکھلیش سرکار بھی مہربان 
باندہ بوندیل کھنڈ کے کان کنی کے شہنشاہ اور اومنس انفرا پاور لمیٹیڈ کے ڈائریکٹر سیرج دھوج سنگھ پر سماج وادی سرکار بھی اتنی ہی مہربان ہے ۔پانچ اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے ٹھیکے لینے کے بعد بھی کام شروع نہ کرنے والی کمپنی کے ڈائریکٹر کا کانکنی دھندہ جاری رہے، اس کا سرکار پورا خیال رکھتی ہے۔ریاستی سرکار نے سیرج دھوج سنگھ کے نام ایک اور کانکنی پٹہ جاری کرنے کے لئے اپنی طرف سے ہری جھنڈی دی تھی، جس پر انوائرونمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بھی اپنی باضابطہ منظوری دے دی۔ اس منظوری کے بعد سیرج دھوج سنگھ کے آفیشیل کانکنی کے دائرے میں مہوبا کا جوجھار گاؤں ( سروے نمبر 2/4،پارٹ 01) بھی شامل ہوگیا ہے۔
پارٹی کی حدیں توڑ کر کماتے اور کمواتے ہیں لیڈر
اگر غیر جانبدار جانچ کرائی جائے تو اتر پردیش کے انرجی سیکٹر کا گھوٹالہ ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ ثابت ہوگا۔ جس میں لیڈر، نوکر شاہ، انجینئر، جج، سرکاری وکیل اور سی بی آئی کے افسران یعنی سب ملوث ہیں۔ اتر پردیش میں یہ بھی ہوتا ہے کہ اربوں کی انرجی گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کا باضابطہ حکم ہو جانے کے بعد بھی اسے عدالت دبا کر رکھ دیتی ہے یا پھر بعد میں سی بی آئی ہی جانچ کرنے سے منع کر دیتی ہے۔ سی بی آئی کے اس غیر قانونی طر ز عمل پر نہ مرکزی سرکار کچھ بولتی ہے اور نہ ریاستی سرکار۔ گھوٹالے کی رقم اتنی بڑی تھی کہ اس نے ریاست اور مرکز کے اقتدار میں بیٹھے لیڈروں، نوکرشاہوں،ججوں اور سی بی آئی کے افسروں تک کو اپنے اثر میں لے لیا۔ تبھی سی بی آئی نے سرکار کی نوٹیفکیشن کو طاق پر رکھ کر یہ رپورٹ دے دی کہ معاملہ جانچ کے قابل نہیں ہے ۔سی بی آئی نے پہلے ٹال مٹول کی، اسے تکنیکی معاملہ بتایا اور اپنی تکنیکی بے چارگی کا حوالہ دیا۔ پھر اس نے کہا کہ گھوٹالے کا کوئی بین الاقوامی پھیلاؤ نہیں ہے۔سی بی آئی کی یہ رپورٹ جھوٹی تھی،کیونکہ پانچ ہزار کروڑ روپے کا حوالہ انرجی گھوٹالہ ہونڈئی جیسی غیر ملکی کمپنی کے ساتھ ملی بھگتسے انجام دیا گیا تھا۔ مذکورہ گھوٹالے کا اثر اتنا وسیع تھا کہ اس نے عدالت کو بھی اپنے گھیرے میں لے لیا۔ گھوٹالے کی جانچ کرانے کے بجائے عدالت سے گھوٹالاہ اجاگر کرنے والے وہیسل بلوور نند لال جیسوال کے خلاف ہی عدالت کی توہین کا معاملہ شروع کر دیا ۔ یہ عمل ابھی جاری ہے، جبکہ الٰہ آبادہائی کورٹ کی ڈبل بینچ نے یہ فیصلہ دے رکھا ہے کہ پانچ ہزار کروڑ کے گھوٹالے کی جانچ کے بعد ہی توہین معاملے پر سنوائی کی جائے گی،لیکن اس ہدایت کو طاق پر رکھ کر کارروائی چلائی جارہی ہے۔ وہیسل بلوور کا منہ بند کرنے کی سازشیں عدالتوں میں بھی رچی جارہی ہیں، سپریم کورٹ چاہے کچھ بھی تشویش کا اظہار کرتا رہے۔
گھوٹالہ اور اس کی لیپا پوتی کرنے میں وہ ساری سیاسی پارٹیاں شامل ہیں جو صوبہ کے اقتدار میں رہی ہیں۔ اس میں بہو جن سماج پارٹی سرکار اور سماج وادی پارٹی سرکار کی برابر حصہ داری ہے۔ بہو جن سماج پارٹی اور سماج وادی پارٹی دونوں ہی جب جب اقتدار میں آتی ہیں تو ایک دوسرے کے گھوٹالے دبانے کا کام کرتی ہیں۔ مخالفت اور احتجا ج سب دکھاوا ہے۔ وہ صرف عام لوگوں کو دکھانے والا عمل ہوتا ہے۔ بہو جن سماج پارٹی کی سرکار کے وقت 30 ہزار کروڑ روپے کا بجلی گھوٹالہ ہوا تھا، مذکورہ گھوٹالے کے دستاویز لوک آیوکت این کے مہروترا کو دیئے گئے تھے۔
لوک آیوکت نے اسے نوٹس میں لیا، لیکن اقتدار کے دباؤ میں کارروائی آگے نہیں بڑھ پائی۔ اتر پردیش پاور کارپوریشن نے پانچ نجی پاور ٹریڈنگ کمپنیوں کے ساتھ دو طرفہ سمجھوتہ کیا تھا۔ پاور کارپوریشن نے مذکورہ کمپنیوں سے مہنگے ریٹ پر پانچ ہزار کروڑ یونٹ بجلی خریدنے کا سمجھوتہ کیا تھا۔ حیرت انگیز بات دیکھئے کہ اس معاہدے کی شرط تھی کہ سستی بجلی ملنے پر بھی الکٹری سٹی کارپوریشن کو کہیں اور سے بجلی خریدنے کا حق نہیں ہوگا۔ چاہے وہ مرکزی گریڈ کی این ٹی پی سی اور دوسری کمپنیاں ہی کیوں نہ ہوں۔ اس عجیب و غریب خرید سے اتر پردیش کو بڑا نقصان ہوا۔ اس طرح کی عجیب خرید سماج وادی پارٹی سرکار میں بھی جاری ہے۔ بہو جن سماج پارٹی کی سرکار سے پہلے سماج وادی پارٹی کے دور کار میں راجیو گاندھی رورل الکٹریفکیشن پروجیکٹ میں 1,600کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا تھا۔ اس وقت بھی صرف جانچ ہی چلی، نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ اقتدار پر قابض ہونے کے بعد سماج وادی پارٹی سرکار کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا تھا کہ مایا وتی سرکار 25 ہزار کروڑ روپے کا نقصان چھوڑ کر گئی ہے۔ لیکن انہوں نے اس نقصان کی وجہ جاننے یا اس کی باضابطہ جانچ کرانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ یہاں تک کہ اسٹیٹ الکٹری سٹی ریگولیٹری کمیشن کے صدر راجیش استھوی کو ہائی کورٹ کے حکم سے برخاست ہونا پڑا، پھر بھی سرکار نے گھوٹالے کو لے کر کوئی قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھائی ۔اسی طرح اتر پردیش ہائیڈوپاور کارپوریشن میں بھی 750 کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا،لیکن اس میں ملوث اس وقت کے سی ایم ڈی آئی اے ایس آلوک ٹنڈن سمیت دیگر افسروں اور انجینئروں کا کچھ نہیں بگڑا۔ سماج وادی پارٹی کے موجودہ دور کار میں بجلی کے بلوں میں فرضی واڑا کرکے ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ کئے جانے کا معاملہ سامنے آیا، گھوٹالے در گھوٹالے ہو رہے ہیں۔گھوٹالہ کرنے میں لیڈر پارٹی کی حدیں پار کرکے کماتے اور کمواتے ہیں۔
گھوٹالوں کا پنڈورا باکس
اتر پردیش کا انرجی ڈپارٹمنٹ اور اس سے جڑے مختلف محکمے گھوٹالوں کا پنڈورا باکس ہے، جسے کھولیں، تو تہہ در تہہ گھوٹالے ہی گھوٹالے ملیں گے۔ پچاس ،سو کروڑ کے گھوٹالوں کی تو بات نہ کریں۔ چار پانچ سو یا ہزار کروڑ اور اس سے اوپر کے گھوٹالے دیکھنے ہوں تو اتر پردیش کے انرجی سیکٹر میں جھانکیں، مایاوتی سرکار کے دوران اتر پردیش پاور کارپوریشن میں پانچ ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا ہو یا ملائم سرکار کے دوران راجیو گاندھی رورل الکٹریفکیشن پرو جیکٹس میں 1,600کروڑ روپے کا گھوٹالہ، الکٹری سٹی ریگولیٹری کمیشن کی شہہ پر جے پی گروپ سمیت پرائیویٹ بجلی گھرانوں کو فائدہ پہنچانے میں کیا گیا 30ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہو یا اسٹیٹ ہائیڈرو الیکٹرک کارپوریشن میں ہوا 750کروڑ روپے کا گھوٹالہ، اتر پردیش پاور کارپوریشن کے مدھیانچل پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن کے ذریعہ تلنگانا کی ویری گیٹ پروجیکٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ نام کی فرضی کمپنی کو دیا گیا تقریباً ہزار کروڑ کا ٹھیکہ گھوٹالہ ہو یا اتر پردیش سرکار کے ذریعہ ہماچل پردیش کے کھودی میں ٰ ہائیڈرو پلانٹ بنوانے اور اس کا مالکانہ حق چھوڑنے میں کیا گیا چھ ہزار کروڑ کا گھوٹالہ، ان میں سے کسی بھی معاملے میں سرکار نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اتر پردیش کی اسی طرح ترقی ہوتی رہی اور اب انرجی سیکٹر میں کانکنی مافیاؤں کی دخل اندازی کراکر اتر پردیش کی ترقی کا راستہ ہموار کیا جارہا ہے۔
جب ایسے دینا تھا ٹھیکہ تو کیوں بلایا نامور کمپنیوں کو 
یوپی ہائیڈرو الکٹرک کارپوریشن کی مختلف اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے لئے طلب کئے گئے ٹنڈروں میں ملک کی کئی نامور کمپنیاں شامل ہوئی تھی۔ کئی ایسی کمپنیوں نے ٹنڈر ڈالی تھی، جن کا ہائیڈرو پاور پروجیکٹس میں بڑا نام ہے۔ لیکن اتر پردیشن سرکار نے کانکنی مافیاؤں کو ٹھیکے دینے کا پہلے سے ہی فیصلہ کر رکھا تھا، اس لئے ٹنڈر طلب کرنے سے لے کر اسے طے کرنے کے لئے میٹنگ بلانے سمیت تمام ضابطوں کی نوٹنکی کی گئی، لیکن پانچ اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے ٹھیکے اس کمپنی کو دے دیئے گئے، جو ٹنڈر طے کئے جانے کی تاریخ تک حقیقت میں موجود ہی نہیں تھے۔ بے ضابطگی کا اتنا اثرتھا کہ ساری نامور کمپنیوں کے نمائندے تماشا دیکھتے رہ گئے اور اومنس جیسی کمپنی ٹھیکہ کا مڈل لے کر کامیاب ہوگئی۔
اتر پردیش میں اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لئے آندھرا پردیش کی ناگارجن کنسٹرکشن لمیٹیڈ جیسی مشہور کمپنی بھی شامل ہوئی تھی۔ اس کمپنی کو توانائی کے میدان میں آندھرا پردیش اور اڑیسہ سمیت ملک بھر میں کام کرنے کا پرانہ تجربہ ہے۔ چین کی مشہور ناردرن ہیوی انڈسٹریز گروپ کمپنی لمیٹیڈ کے ساتھ مل کر ناگارجن کنسٹرکشن مدھیہ پردیش کے ساسن علاقے میں بہت بڑا کام کررہی ہے۔ بجلی کی پیداوار کے میدان میں اڑیسہ میں 350 میگاواٹ کا نیلانچل پروجیکٹ ناگارجن کی دیکھ ریکھ میں بن رہا ہے۔ آندھرا پردیش کے راجا مندری میں سو میگاواٹ کا پانڈو رنگ پروجیکٹ، پیڈا پورم کا 469 میگاوا ٹ کا گوتمی پاور پروجیکٹ اور نیلور کے کرشن پٹنم میں 1,320 میگاواٹ کا تھرمل پاور پروجیکٹ بھی ناگارجن کنسٹرکشن کمپنی بنا رہی ہے۔ اس کے علاوہ کرنول کے رچیرلا سیمنٹ پلانٹ کے سولر ریڈیئشن ، تیروپتی کے ہائی ولٹیج ڈسٹری بیوشن سسٹم ، آسام کے نو گاؤں میں سب ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن سمیت کئی دیگر صوبوں میں ناگارجن کنسٹرکشن کے کام چل رہے ہیں۔
اتر پردیش کی اسمال پاور پروجیکٹس کے ٹھیکے حاصل کرنے کی دوڑ میں انڈیا بولس جیسی کمپنی بھی شامل تھی۔ سب جانتے ہیں کہ ریئل اسٹیٹ کے میدان میں انڈیا بولس کے ملک بھر میں کام چل رہے ہیں۔ ناسک میں اسپیشل ایکونومک ژون ڈیولپ کرنے اور ہریانہ کے گڑ گاؤں میں ٹکنالوجی پارک بنانے میں انڈیا بولس کا کافی نام ہوا ہے۔ انرجی کے سیکٹر میں داخل ہونے کے ارادے سے یہ کمپنی اتر پردیش آگئی تھی۔ نوئیڈا میں قائم کمپنی اکشینی انرجی بھی اتر پردیش میں اسمال پاور پروجیکٹس کا کام حاصل کرنا چاہتی تھی۔ 2007 کی یہ کمپنی اترا کھنڈ کے منشیاری میں مندا کنی اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کا کام کر رہی ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت 4.50 میگا واٹ پاور پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی چار یونٹیں قائم ہو رہی ہیں۔ منداکنی پروجیکٹ کا کام بھی اسی کمپنی نے حاصل کیا، جس کے تحت 5.25 میگا وا ٹ کی چار یونٹیں قائم ہورہی ہیں۔ اس کے علاوہ ہماچل پردیش کے کُلو ضلع میں کالا ناؤ ہائیڈرو پروجیکٹ بھی اکشینی انرجی کی دیکھ ریکھ میں بن رہاہے۔ سکم میں بھی کچھ پروجیکٹس پر یہ کمپنی کام کررہی ہے۔
سمپلیکس انفراسٹرکچر لمیٹیڈ جیسی پرانی کمپنی بھی اس دوڑ میں شامل تھی۔1924 سے توانائی کے ساتھ ساتھ کئی دیگر تکنیکی میدان میں کام کرنے والی یہ کمپنی ملک بھر میں تقریبا تین ہزار بڑ ے پروجیکٹس قائم کر چکی ہے۔ انرجی کے سیکٹر میں اس کمپنی نے 1960 میں قدم رکھا تھا اور تب سے لے کر آج تک یہ تھرمل، ہائیڈرو نیو کلیئر اور الٹرا میگا پاور پروجیکٹس قائم کرنے کی مہارت حاصل کر چکی ہے۔ سمپلیکس کے ذریعہ انرجی سیکٹر کے اہم کاموں میں مندرا میں ٹاٹا پاور کا چار ہزار میگا واٹ کا الٹرا میگا پاور پروجیکٹ رائے چور ، شعلہ پور لائن اور کنیا کماری کا مشہور کوڈن کولم نیو کلیئر پاور پروجیکٹ سمیت کئی بڑے پروجیکٹس شامل ہیں۔ اتر پردیش میں اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے لئے 1980 میں قائم کمپنی گو گول ہائیڈرو بھی آئی تھی۔ ہائیڈرو پروجیکٹس میں اس کمپنی کا خاصہ کام ہے۔ اس کمپنی کو دلی میں’ ادھیوگ رتن ‘ کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ یہ کمپنی اترا کھنڈ اسمال ہائیڈروالکٹرک کارپوریشن کی طرف سے بھی ایوارڈ پاچکی ہے۔ اتراکھنڈ کے مختلف پروجیکٹس کے علاوہ کئی قومی اور عالمی کمپنیوں کے ساتھ مل کر یہ کمپنی ملک بھر میں انرجی کے سیکٹر میں کام کر رہی ہے۔
مذکورہ کمپنیوں کے علاوہ پیرا ماؤنٹ کنسٹرکشن کمپنی ، کارلوسکر سسٹیک لمیٹیڈ، اورو میرا انرجی پرائیویٹ لمیٹید چنئی، ایلے او منالی ہائیڈرو پروجیکٹس لمیٹیڈ ، رانا شوگر ، اوم انرجی جنریشن پرائیویٹ لمیٹیڈ اور ویلسپن انرجی لمیٹیڈ جیسی کمپنیاں بھی ٹھیکے لینے کی دوڑ میں شامل تھیں۔ پیرا ماؤنٹ کمپنی کا ہماچل پردیش میں اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹس میں کام چل رہا ہے۔ کیلوسکر انجینئرنگ کے میدان کی نامور کمپنی ہے اورو میرا انرجی پرائیویٹ لیمیٹیڈ کو بھی ہائیڈرو پاور پیداوار کے میدان میں مہارت حاصل ہے۔کرناٹک میں قائم بھیما ندی پر بنے سوناتھی بیراج پر ہائیڈرو پروجیکٹ اورو میرا کا بنایا ہوا ہے۔ کرناٹک کے علاوہ ہماچل پردیش، مدھیہ پردیش اور اڑیسہ میں بھی میرا انرجی کا کام ہے۔ ایلے او منالی ہائیڈرو پروجیکٹ لمیٹیڈ ہماچل پردیش ، اترا کھنڈ، جموں و کشمیر ، سکم اورنارتھ ایسٹرن میں اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا کام کرر ہی ہے۔ رانا شوگر کو چینی ملوں میں پاور پیدا کرنے کا تجربہ ہے اور اوم انرجی جنریشن پرائیویٹ لمیٹیڈ کو اسمال ہائیڈرو پاور پیدا کرنے کا۔ اوم انرجی ہماچل پردیش کے کئی پروجیکٹس پر کام کررہا ہے۔ ویلسپن انرجی لمیٹیڈ کو خاص طور پر سولر انرجی کے میدان میں مہارت حاصل ہے۔ اس کا کام نہ صرف ہندوستان بلکہ امریکہ ،مشرقی وسطیٰ کے ممالک اور جنوبی مشرقی ایشیا میں بھی ہے۔
یہ سب لکھنے کا مطلب ہے کہ اتر پردیش سرکار کے مشروط کام کرنے والے اسٹیٹ ہائیڈرو الکٹری کارپوریشن لمیٹیڈ نے ٹندر طلبی اور درخواستوں پر میٹنگ کرنے کا ناٹک کرکے ان نامور کمپنیوں کا وقت اور پیسہ برباد کیا، جو صوبہ میں اسمال ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے ٹھیکے پروفیشنل طریقے سے حاصل کرنے کے لئے دوڑ میں شامل ہوئی تھی۔ ان کمپنیوں کی صلاحیت ، مستحکم مالی پس منظر رکھنے والے لیڈر ،مافیا گٹھ جوڑ کے آگے فیل ثابت ہوئی ۔ایسے ہی گھوٹالے کرتے ہوئے مایاوتی پورے پانچ سال تک اتر پردیش کے اقتدار کا استعمال کرتی رہیں اور ایسے ہی گھوٹالے کرتے ہوئے اکھلیش یادو سرکار پانچ سال پورے کرنے جارہی ہے۔ اس طرح اتر پردیش کے دس سال گڑھے میں چلے گئے۔اتر پردیش کی ترقی کب ہوگی؟اس سوال کا جواب آگے آنے والی سرکار دے گی، ایسا نہیں لگتا ۔سیاسی روایت اور تجربہ تو یہی بتاتا ہے کہ مستقبل کی حکومت بھی گھوٹالوں اور بد عنوانیوں سے اقتدار کا مزہ لے گی اور ہم ہر دن گنتے رہ جائیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *