اترپردیش کے ضمنی انتخاب نے بگاڑا حساب کتاب

پربھات رنجن
p-4اتر پردیش کی تین اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخاب کے نتیجے سے سیاسی حساب کتاب کو لے کرکی جارہی تمام پیش گوئیاں زمین بوس ہوگئیں۔ ریاست میں برسر اقتدار سماجوادی پارٹی اپنے قبضے کی تینوں سیٹوں میں سے کسی طرح ایک سیٹ بچاپائی۔ ایک سیٹ بھارتیہ جنتا پارٹی او ردوسری سیٹ کانگریسنکال لے گئی۔ پنچایت کے انتخابات میں قائم ہوا سماجوادی پارٹی کا جلوہ کچھ ہی دن بعد اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں حلوہ ثابت ہوا۔ضمنی انتخابات کے نتائج سے ایس پی اس قدر بوکھلائی کہ پارٹی کی طرف سے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اس چھوٹے نتیجے میں 2017 کے بڑے نتیجے کا اشارہ ملا ہے۔ دیوبند میں کانگریس نے ایس پی کودھکا دیا، تو بی جے پی نے مظفر نگر میں ایس پی کو دھکیلا۔بیکا پور میں بڑی مشقتوں سے ایس پی اپنا وقار بچاپائی۔ اسے لے کر تازہ حساب کتاب بنائے اور بگاڑے جانے لگے ہیں۔ مظفر نگر کے نتیجے پر سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ مذہبی پولرائزیشن کے سبب بی جے کو فائدہ ملا، تو دوسری طرف دیوبند کے بارے میں وہ تجزیہ نگار یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلم ووٹر ایس پی سے کھسک کر کانگریس کی طرف جارہا ہے۔ یعنی مذہبی پولرائزیشن کا مسلم فرقہ کا فائدہ اب ایس پی کو نہیں مل رہا ہے۔ لیکن اتنا طے ہے کہ 2017 کے اسمبلی انتخاب میں اترپردیش سیاست کی ایسی تجربہ گاہ بننے والا ہے، جہاں کئی نایاب قسم کی سیاسی کیمیا ملاکر نئے نئے فارمولے نکالے جائیں گے اور عوام پر اس کیمیکل کا ٹرائل کیا جائے گا۔
سابق وزیر اعظم وشو ناتھ پرتاپ سنگھ کے نزدیکی رہے سینئر سیاستداں او ر کسان منچ کے قومی صدر ونود سنگھ کہتے ہیں کہ اترپردیش کی موجودہ سیاست منجدھار میں ہے۔ ایک طرف بی جے پی کے خلاف ماحول ہے، تو دوسری طرف سماجوادی پارٹی کے خلاف ۔ ایک طرف ایک مذہب کی پارٹی ہے اور دوسری طرف ایک ذات کی پارٹی۔ مسلم ووٹر آر ایس ایس کے ہندوتو ایجنڈے پر چلنے والی بی جے پی کے خلاف ہے۔ غیر یادو پسماندہ بھی سماجوادی پارٹی سے ناراض ہے اور متبادل دیکھ رہا ہے،جیسے اترپردیش میں مسلم ووٹر بہتر متباد ل کی تلاش میں ہے۔اگریوپی میں بھی بہار کی طرح کوئی مہا گٹھ بندھن کھڑا ہوگیا،تو مسلم ووٹر پوری طرح اس طرف شفٹ ہوجائے گا۔ ونود سنگھ مانتے ہیں کہ مسلم ووٹر بی ایس پی کی طرف بھی جانے سے ڈرتا ہے، کیونکہ کئی مواقع پر بی جے پی سے ہاتھ ملا لینے کے سبب وہ بی ایس پی کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دیوبند میں کانگریس کی جیت کے باوجود ونود سنگھ اس میں مسلمانوں کارجحان نہیں،بلکہ بے بسی دیکھتے ہیں۔ سنگھ کہتے ہیں کہ وہاں کانگریس کے علاوہ مسلمانوں کے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں تھا۔ بہار انتخاب کے بعد مسلم ووٹر نتیش کمار کو قابل قبول سیکولر چہرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں،لہٰذا اگر جنتا دل یونائٹیڈ کے ساتھ دیگر پارٹیوں کو جوڑ کر ایسا کوئی مہا گٹھ بندھن بنتاہے،تومسلم اس کی حمایت کریں گے۔ایسے میں ایس پی کو اپنی کرسی بچانی مشکل ہوجائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ ضمنی انتخاب میں مظفر نگر سے بی جے پی امیدوار کپل دیو اگروال، دیوبند سے کانگریس کے معاویہ علی اور فیض آباد کی بیکا پور سیٹ سے ایس پی کے آنند سین یادو کی جیت ہوئی ہے۔ دیوبند میں کانگریس نے ایس پی کے مینا رانا کو ہرایا۔ کانگریس وہاں تقریباً تین دہائی بعد اپنی جیت حاصل کرپائی ہے، لہٰذا اس جیت سے کوئی بامعنی نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا۔ مظفر نگر میں بی جے پی نے ایس پی کے گورو سروپ کو ہرایا او رفیض آباد میں ایس پی نے آر ایل ڈی کے منا سنگھ چوہان کو ہرایا۔ اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے بھی بیکا پور میں مسلمانوں کا خاصا ووٹ کاٹ کر اپنی موجودگی درج کرائی۔ اس موجودگی سے کئی سیاسی پارٹیاں پریشان ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم بیکاپور میں چوتھے نمبر پر رہی۔ اس نے دلت امیدوار میدان میں اتارا تھا۔اویسی کی نگاہ مستقبل پر ہے اور اسی ارادے سے اویسی نے یوپی میں دلت، مسلم اجلاس بلاکر اور مایاوتی پر تیکھے حملے کرکے بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کے امکانات کو آخری منظر دے دیا۔ راہل گاندھی نے مایاوتی پرذاتی حملہ کیا ۔ انھوں نے مایاوتی کو دلتوں کو نظر انداز کرنے والی او ردلت قیادت کو کچل کر رکھنے والی لیڈر کہا۔ اس پر ناراض مایاوتی نے آزادی کے بعد سے آج تک کانگریس کے دلت مخالف طرز عمل اور پالیسیوں کی بخیہ ادھیٹری۔ ایسے حالات میں ایسا اتحاد ممکن دکھائی نہیں دیتاہے، جس میں بی ایس پی اور کانگریس ساتھ میں ہو۔
بہرحال، سماجوادی پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی، تینوں کے لیے 2017 کا اسمبلی انتخاب اہم ہے۔ 2012 میں اقتدار پر قابض ہوئی ایس پی اپنا اقتدار بچائے رکھنے کی جدوجہد میں ہے۔ یہ الیکشن اکھلیش یادو کی ساکھ کا لٹمس ٹیسٹ بھی ہے۔ پانچ سال ریاست کے وزیر اعلیٰ کے طور پر اکھلیش نے جو کیا، اسے ریاست کے لوگوں نے کس شکل میں لیا، یہ انتخابی نتیجہ بتائے گا۔ایس پی کے لیڈر پڑوسی ریاست بہار میں دوبارہ اقتدار میںآئے نتیش کمار کو لے کر بھی تشویش میں مبتلا ہیں، کیونکہ مہا گٹھ بندھن سے الگ ہوکر بہار میں ایس پی نے کیا پایا اور اترپردیش کے انتخاب میں کیا پائیں گے، اس کا حساب کتاب پارٹی میں چل ہی رہا ہے۔ایس پی کے وزیروں او رلیڈروں کے طرز عمل سے ناراض ایس پی کے سپریمو ملائم سنگھ یادو کئی سبھاؤ ں میں عوامی طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ایس پی اپنی سرکار نہیں بچا پائی، تو طویل عرصہ تک کے لیے اقتدار سے دور ہوجائے گی۔ دوسری طرف بی جے پی کے لیے اترپردیش کا الیکشن وقار کا مسئلہ ہے،کیونکہ 2014 کے پارلیمانی انتخاب میں بی جے پی ریکارڈتوڑ جیت حاصل کرچکی ہے،لہٰذا 73 ارکان پارلیمنٹ کی بھاری کمک کے ہوتے ہوئے بھی اگر بی جے پی اسمبلی انتخاب ہار گئی، تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ بی جے پی کے سیاسی مستقبل پر گہن لگ جائے گا۔ ویسے بھی اترپردیش میں بی جے پی طویل عرصہ سے اقتدار سے دور ہے، اسی لیے وہ 1992 کے حالات کو واپس لاکر اقتدار پاناچاہتی ہے۔ 2007 کے اسمبلی انتخاب میں مکمل اکثریت سے اقتدار میںآنے والی بی ایس پی 2012 کے الیکشن میں ایس پی کے ہاتھوں بری طرح ہار گئی تھی۔ یہ ایسی مایوس کن ہار ثابت ہوئی کہ اس کے بعد بی ایس پی پارلیمانی انتخاب میں بھی کچھ حاصل نہیں کرپائی۔ اسی مایوسی میں پنچایت کے انتخابات میں اور ضمنی انتخابات میں بی ایس پی نے اپنی موجودگی درج نہیں کرائی۔ بی ایس پی کے لیڈر کہتے ہیں کہ پارٹی قیادت اسمبلی انتخاب پر اپنی توجہ مرکوز کر رہی تھی۔حالات خواہ کتنے بھی مایوسی کے رہے ہوں، لیکن بی ایس پی کسی بھی طرح یوپی کا انتخاب جیتنا چاہتی ہے او راسے وہ اپنے وجود کی لڑائی مان کر چل رہی ہے،یہ حقیقت ہے۔اسی وجہ سے بی ایس پی یوپی کے موجودہ لاء اینڈ آرڈر کو لے کر زیادہ حملہ آور ہورہی ہے او روہ مایاوتی کے سخت ایڈمنسٹریشن اور اکھلیش کے خراب ایڈمنسٹریشن کے فرق کی لگاتار نشاندہی کر رہی ہے۔
خیر ، بہار انتخاب کے بعد مہا گٹھ بندھن کی سیاست کا جو بھوت سیاست کے ماتھے پر ناچ رہا ہے، اس کے امکانات اب اترپردیش میں کمزور ہوگئے ہیں۔ کم سے کم اب بڑی پارٹیوں کے بیچ کسی اتحاد کی کوئی امید تو دکھائی نہیں دے رہی۔ بڑی پارٹی کا مطلب ایس پی، بی ایس پی، بی جے پی اور کانگریس۔ یہ پارٹیاں اپنے اپنے طریقے اور اپنی اپنی سہولتوں سے چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ کوئی تال میل کرلیں، تو یہ الگ بات ہوگی، لیکن ان حالات میں اگر جنتا دل یونائٹیڈ ، کانگریس، راشٹریہ لوک دل، ریاست کی دیگر علاقائی پارٹیوں کو ساتھ ملا کر بڑا اتحاد تیار کرلیں، تو ایک بڑی متبادل سیاسی طاقت کی شکل میںیہ کنبہ کھڑا ہوسکتا ہے۔ بہار انتخاب میں مہا گٹھ بندھن میں شامل جے ڈی یو اور کانگریس کو جو کامیابی ملی، اس کا فائدہ وہ متحد ہوکر یوپی میں اٹھا سکتی ہیں اور مسلمانوں اور ایس پی، بی ایس پی او ربی جے پی سے پرہیز رکھنے والے یا ناراض ووٹروں کا ووٹ یہگٹھ بندھن حاصل کرسکتا ہے۔ اتحاد بنانے کی اس کوشش میں جے ڈی یو اور آرایل ڈی کی قربت خاص طور سیتذکروں میں ہے۔ دونوں پارٹیوں کے لیڈر مل رہے ہیں اور بات چیت چل رہی ہے۔ سیاسی حلقوں میں تو جے ڈی یو اور آر ایل ڈی کے انضمام کے بھی تذکرے ہیں۔ انضمام کے بعد نئی پارٹی کی تشکیل ہوگی،جس کا نیا نام اور نیا جھنڈا ہوگا۔ ویسے ابھی اس کی سرکاری طور پر کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ابھی حال ہی میں جے ڈی یو لیڈر کے سی تیاگی کے گھرپر آر ایل ڈی کے لیڈر چودھری اجیت سنگھ کے بیٹے جینت چودھری کے ساتھ ہوئی بات چیت اس نقطہ نظر سے اہم مانی جارہی ہے۔
باکس:
بی جے پی میں تو گرمی دکھائی نہیں دے رہی 
اسمبلی انتخاب کو لے کر ریاست کا ماحول گرما رہا ہے، لیکن بی جے پی میں گرمی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ پارٹی انتخاب کی تیاریاں کیا کرے گی، اسے ریاستی صدر چننے میں ہی کسرت کرنی پڑ رہی ہے۔ امت شاہ کے پھر سے قومی صدر بننے کے بعد یہ لگا تھاکہ اب یوپی کا صدر جلدی طے ہوجائے گا، لیکن قیادت اب تک نکتے ہی تلاش کررہی ہے۔ قومی صدر کی طرح ریاستی صدر کو بھی جاری رہنے دیاجائے ،یہ فیصلہ لینے میں بھی پارٹی قیادت جھجھک رہی ہے۔ا س کے بعد پارٹی کو الیکشن میںیوپی کا چہرہ کون رہے گا، اسے بھی طے کرنا ہے۔ ریاستی صدر چنے جانے کے بعد تنظیمی ڈھانچے کو بھی ساز گار کرنے کی قواعد کرنی ہوگی۔ رام مندر کاماحول تیار کرکے مشتعل ہندو پولرائزیشن کی کوششوں کو بیکا پور ضمنی انتخاب کی مثال دے کر روکنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ فیض آباد کی بیکا پور سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخاب میں بی جے پی نے تیسرامقام حاصل کیا، لیکن ایک خیمہ ایسا بھی ہے،جومظفر نگر اسمبلی سیٹ پر بی جے پی کو ملی جیت کا حوالہ دے کر مشتعل ہندو پولرائزیشن کی پالیسی کی حمایت کررہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *