ابو ظہبی کے شیخ نے ہندوستانی علماء کی اعتدال پسندی کو سراہا ۔

وسیم احمد
p-8اگست کے مہینے میں جب وزیر اعظم نریندر مودی نے ابو ظہبی کا درہ کیا تھا تو وہاں ان کا زبردست استقبال ہوا تھا ۔34 سال کے طویل عرصہ کے بعد کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا ابو ظہبی کے لئے یہ پہلا دورہ تھا۔اس دورہ کے موقع پر وزیر اعظم مودی نے ابو ظہبی کے تعلق سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات ’منی انڈیا‘ ہے اور یہ ملک ان کے دل کے کافی قریب ہے اور وہ نہ صرف دہشت گردی سے مقابلے کے لئے بلکہ کاروبار اور سرمایہ کے میدان میں بھی اسے ہندوستان کا فعال شراکت دار بنانا چاہتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے دو روزہ دورے پر روانگی سے پہلے انہوں نے اپنے ان جذبات کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کیا تھا ۔وزیر اعظم نے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات( یو اے ای) ان کے لئے ایک ‘منی انڈیا’ کی طرح ہے کیونکہ وہاں رہنے والے 26 لاکھ غیر مقیم ہندوستانی شہری اپنے ملک کی بولیاں اور زبانیں بولتے ہیں۔ ان ہندوستانیوں نے امارات کے ساتھ ہمارے رشتوں کو مضبوط بنانے میں مثبت رول ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہندوستانی برادری نے نہ صرف متحدہ عرب امارات کی ترقی و نشوونما بلکہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملک میں جس طرح سے اقتصادی ترقی ہو رہی ہے ، اسے دیکھتے ہوئے ہندوستان ، متحدہ عرب امارات کے لئے ایک پرکشش اور محفوظ مقام بن سکتا ہے ۔وزیر اعظم مودی کے دل میں ابو ظہبی کے تعلق سے جو جذبات ہیں اس کا اظہار ابو ظہبی کے کراؤن پرنس کے نئی دلی پہنچنے پر پر جوش استقبال سے بھی ہوتا ہے۔
فروری کے دوسرے ہفتہ میں ابو ظہبی کے کراؤن پرنس محمد زاید النہیان ہندوستان کے دورہ پر آئے تو نئی دلی ایئر پورٹ پر وزیر اعظم مودی نے ان کا پرجوش استقبال کیا ۔ وہ النہیان کو دیکھ کر اتنے جذباتی ہوگئے کہ انہوں نے تمام پروٹوکول کو بالائے طاق رکھ کر ان کے گلے مل گئے ۔یہ مودی کا اپنا مزاج ہے کہ وہ کسی انسان سے ملتے وقت پروٹوکول پر زیادہ دھیان نہیں دیتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی وہ افغانستان سے لوٹتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی نتنی کی شادی کی مباکباد دینے کے لئے اچانک ان کے گھر چلے گئے تھے۔ دراصل ان کی نگاہ میں انسانیت کی عزت افزائی کسی بھی پروٹوکول سے بلند ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت یو اے ای میں تقریباً 26 لاکھ ہندوستانی روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں اور اس خلیجی عرب ملک میں مقیم غیرملکی تارکین وطن میں ان کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ان میں کاروباری لوگ ،مڈل کلاس اور مزدور شامل ہیں جو بڑے تعمیراتی منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔
اس دورے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس موقع پر متحدہ عرب امارات نے باضابطہ طور پر ہندوستان سے یہ درخواست کی ہے کہ داعش کے خطرے کو روکنے اور اسلام کے اعتدال پسند نظریہ کے فروغ کے لئے ہندوستانی علماء کی ایک ٹیم متحدہ عرب امارات بھیجی جائے۔شیخ محمد بن زائد النہیان نے اپنے ملک میں داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لئے ہندوتان کی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے ملک سے ائمہ کی ایک ٹیم کو بھیجیں جو کہ متحدہ عرب امارات میں مساجد کے ائمہ کو اسلام کے اعتدال پسند نظریات کے بارے میں ٹریننگ فراہم کرے ۔شیخ زائد نے وزیر خارجہ سشما سوراج سے بھی ملاقات کی ا ور دہشت گردی ، انتہا پسندی اور شام میں خانہ جنگی سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیا ل کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اپنی ملاقات میں دہشت گرد تنظیم داعش سے پیدا ہونے والے خطرات اور ان سے باہمی طور پر نمٹنے کے سلسلہ میں بھی تفصیلی بات چیت کی۔وزیر خارجہ سوراج نے انتہا پسندی سے نمٹنے میں بین االاقوامی دہشت گردی کے خلاف جامع معاہدہ ( سی سی آئی ٹی) کو حمایت دینے کے لئے بھی متحدہ عرب امارات کے کردار کی تعریف کی۔ خیال رہے کہ شہزادہ کے ہندوستان پہنچنے کے فوری بعد وزیر خارجہ سشما سوراج نے ان سے ملاقات کی اور باہمی مفادات کے کئی مسائل پر تبادلہ کیا۔ ہندوستان کو امید ہے کہ متحدہ عرب امارات اپنے 800ارب ڈالر کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ میں سے ہندوستان کے توانائی اور بنیادی شعبے میں سرمایہ کاری کرے گا۔ ریلوے ، بندرگاہ اور سڑکوں سمیت اپنے بنیادی ڈھانچے کے لئے ہندوستان کی نظریں ابو ظہبی سرمایا ا کاری اتھارٹی کی طرف سے انتظام والے فنڈ پر ہیں۔ دفاعی سازو سامان کی مشترکہ تیاری ایک اور اہم شعبہ ہے جس میں دونوں ممالک کوشاں ہیں۔
محمد بن زائد النہیان کے بارے میں وزیر اعظم نے ٹویٹ پر لکھا ہے کہ وہ ایک دور اندیش رہنماہیں۔ان کے دورہ سے دونوں ممالک کے درمیان مجموعی طور پر اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی طاقت اور رفتار ملے گی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان سوروپ نے کہا کہ خاص مہمان کے لئے خاص احترام ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *