ملبوسات پر سیاست

لباس کا استعمال تن ڈھانکنے کے لئے ہوتا ہے۔مگر کبھی کبھی یہی لباس سیاسی ایشو بن جاتا ہے اور یہ ایشو اتنا بڑا بن جاتا ہے کہ دو ملکوں کے بیچ وقار کا مسئلہ بنا لیا p-8bجاتا ہے اور سوشل میڈیا پر کھیل شروع ہوجاتاہے ۔ ابھی حال ہی میں ترکی میں روس کے ایک فٹبالر کی قمیص پر صدر پوتن کی تصویر کی نمائش نے ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔ دونوں ملکوں کے بیچ شام و ترکی سرحد پر ایک روسی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد دنوں ملکوں کے بیچ شدید اختلاف چل رہا ہے۔ اب روسی فٹبالر کی قمیص نے اس اختلاف کو مزید ہوا دے دی ہے۔ہوا یہ کہ ترکی کے شہر استنبول میں ایک میچ کھیلا جارہا تھا۔ اس میچ میں ایک روسی فٹبالر دمتری تاراسو کے بنیان پر روسی صدر پوتن کی نیوی کی ٹوپی والی تصویر بنی ہوئی تھی۔ روسی فٹبالر نے اپنی قمیص اْتار کر نیچے زیبِ تن صدر پوتن کی تصویر والی بنیان دِکھا کر ترک شائقین کومشتعل کردیا۔ اس بنیان پر روسی صدر پوتن کی نیوی کی ٹوپی والی تصویر بنی ہوئی تھی، اور اْس کے ساتھ ’سب سے مہذب صدر‘ بھی تحریر تھا۔
کہا جاتا ہے کہ جس طرح سے جنوب ایشیا میں ہندو پاک کے مابین سیاسی چیقلش کی وجہ سے دونوں ملکوں کے بیچ ہونے والی ہر میچ دلچسپ ہوجاتی ہے اور شائقین ان میچوں کو ملکی وقار کا مسئلہ بنا کر دیکھتے ہیں ،اسی طرح استنبول میں ہونے والی یہ میچ وقار کا مسئلہ بنا ہوا تھا۔ ہر آدمی اپنے پسندیدہ ٹیم کو ہر صورت میں جیت دلانا چاہتا تھا۔ لیکن ترکی کی ٹیم نے اس مقابلہ کو جیت لیا۔ البتہ صدر پوتن کی پرنٹ قمیص نے شائقین کو ایک دلچسپ موضوع بنا دیا ہے ۔ترکی سے شائع ہونے والا ایک اخبار ’’ ینی شفق‘‘ نے اِس حرکت کو ’پوتن کی اشتعال انگیزی‘ قرار دیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ دمتری تاراسو کو اِس واقعے کے بعد سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ یورپ کی فٹبال کی گورننگ باڈی میچ کے دوران سیاسی بیانات کی اجازت نہیں دیتی۔بعد میں تاراسو نے اپنے عمل کا دفاع کیا۔ اْنہوں نے روس کے خبر رساں ادارے آر سپورٹ سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ میرے صدر ہیں۔ میں اْن کی عزت کرتا ہوں اور میں نے فیصلہ کیا کہ میں دکھاؤں کہ میں ہمیشہ اْن کے ساتھ ہوں اور اْن کی حمایت کے لیے تیار ہوں۔’قمیص پر ہر وہ بات تحریر تھی جو میں کہنا چاہتا ہوں‘
اس سے قبل لباس کے انتخاب کو لے کر ترکی میں ایک ٹی وی میزبان پروگرام کے دوران کھلے گلے والے کپڑے پہننے کی وجہ سے نوکری گنوا چکی ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹی وی میزبان گوزدے کانسو کو حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے ترجمان حسین سیلیک کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔حکمران جماعت کے ترجمان کے مطابق ‘ہم کسی کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتے مگر یہ معاملہ حد سے گزر گیا ہے اور ناقابل برداشت ہے۔
پاکستان کی پہلی خاتون وزیر خارجہ، جو اپنے نت نئے فیشن اور ڈیزائن کے لباس اور ہینڈ بیگز کی وجہ سے بھی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی رہی ہیں۔جب وہ2011 میں ہندوستان کے دورہ پر آئیں اور دہلی ہوائی اڈّے پر قدم رکھا تو سب کی نظریں ان پر مرکوز ہوگئی تھیں۔ موسم کے لحاظ سے زیب تن کیے ہوئے اْن کے نیلے رنگ کے لباس میڈیا میں خوب سرخیوں کی زینت بنے۔پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے لباس کو بھی میڈیا میں خوب اچھالا جاتا ہے ان کے بارے میں پاکستان میڈیا میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے اسٹائل پر کافی خرچہ کرتے ہیں ۔
گزشتہ سال سوڈان میں بھی ایک طالبہ کے لباس نے سیاسی رخ اختیار کیا تھا ۔دراصل وہاں کی ایک عدالت نے ایک 19 سالہ مسیحی خاتون کو جینس پہننے پر 20 کوڑے مارنے کی سزاسنا دی۔ فردوس التوم ان 10 خواتین طالبات میں سے ایک تھیں جنہیں جینز اور لمبی شرٹ پہننے پر ایک چرچ کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔فردوس التوم کے وکیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوڑے مارنے کی سزا کیخلاف اپیل کی ہے لیکن اس پر مزید کارروائی نہیں ہوسکی اور کارروائی سے متعلق کوئی شیڈول بھی سامنے نہیں آسکا۔
لباس کو سیاسی رنگ دینے والا ایک فیصلہ مصر میں بھی کیا گیا تھا۔فیصلہ یہ تھا کہ جو عورتیں نمائشی لباس پہن کر ووٹ ڈالنے آئیں گی انہیں ووٹ نہیں دینے دیا جائے گا۔ کیونکہ انتخابات فیشن شو یا ثقافتی میلہ نہیں کہ اس میں رنگا رنگ لباس پہن کر نمائش کی جائے۔مصر میں ہی مرسی کے دور اقتدار میں چینلوں پر ہر اینکر کے لئے یہ لازمی قرار دیا گیا تھا کہ وہ پروگرام کے وقت اپنے سرکو ڈھک کر رکھیں۔
گزشتہ سال جب وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر باراک اوباما کے دورہ کے موقع پر کڑھائی کی ہوئی قیمتی شیروانی زیب تن کی تھی تو اپوزیشن اور دیگر سیاسی پارٹیوں کی طرف سے ان کی شیروانی پر زبردست تنقید کی گئی۔اس کے کچھ دنوں بعد ہی وہ پیرس کے دورہ پر گئے۔ وہاں انہوں نے جو شال استعمال کیا اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر یہ بحث چھڑ گئی کہ جو شال پیرس پہنچنے پر اپنے شانے پر ڈال رکھی تھی کیا وہ واقعی مشہور غیر ملکی برانڈ لوئی ویتان کی ہے؟۔
بہر کیف لباس جن کا مقصد ہوتا ہے جسم کو ڈھانکنا اب یہی لباس عوام اور سیاست دانوں کے لئے گفتگو کا موضوع بنتا جارہا ہے۔ کوئی لباس پہننے والے پر تنقید کرتا ہے تو کوئی تائید اور کوئی اسے وقار کا مسئلہ بناتا ہے تو کوئی قومی توہین کا سبب کہتا ہے۔جب نریندر مودی نے شیروانی زیب تن کیا تھا تو مخالفین کہتے تھے کہ و لاکھوں کا سوٹ پہن رہے ہیں اور عوام تن ڈھانکنے سے محروم ہیں۔ لیکن مودی نے اس سوٹ کو بیچ کر فلاحی کاموں میں لگا کر سب کا منہ بند کردیا تھا۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *